New Age Islam
Sun Oct 02 2022, 06:24 AM

Urdu Section ( 16 Jun 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Stop Arguing In A Circle فضول کی بحث کرنا بند کریں

 سمت پال، نیو ایج اسلام

 14 جون 2022

 کچھ صحیفوں کے جانکاری اس بے بنیاد یقین کے حامل ہو سکتے ہیں کہ قرآن کی کچھ آیات کائنات کے پھیلاؤ اور بگ بینگ تھیوری کی بات کرتی ہیں (جو کہ 7ویں صدی کی کسی کتاب میں نہیں ہے) ، جبکہ وہ اسی غلطی کا اعادہ کر رہے ہیں جو انتہائی متعصب ہندو ماضی میں کر چکے ہیں۔

 -----

ماہرین نفسیات اور سائنس کے مورخین نے تخلیقی سوچ میں علامتیت کے کردار کو واضح کرنے کے لیے جتنے بھی معاملات کا حوالہ دیا ہے، ان میں سے کوئی بھی اگست کیکولے کے somnolent vision of a snake biting its tail سے زیادہ مشہور نہیں ہے، جو کہ ایک ایسا خواب ہے جس میں بینزین رنگ کی حقیقی ساخت کو جرمن کیمیا دان کے سامنے ظاہر کیا گیا ہے۔

 جب میں فلسفہ اور الہیات کا مطالعہ کر رہا تھا، تو میں نے اکثر دیکھا کہ تمام مذاہب اور ان کے صحیفوں کے مفسرین اور ترجمان دراصل سانپ کے اپنے ہی دم کاٹنے والی نام نہاد علامتیت کو استعمال کر رہے تھے۔ دوسرے لفظوں میں، وہ سب ایک دائرے میں بحث کر رہے تھے (لاطینی: Petito Principii)۔ میں اس کی وضاحت کرتا ہوں: کلاسیکی زبان اور استدلال میں، سوال کرنا یا نتیجہ اخذ کرنا (لاطینی: Petitio Principii) ایک عام غلط فہمی ہے جو اس وقت سرزد ہوتی ہے جب دلیل کا مقدمہ اس کی حمایت کرنے کے بجائے اس نتیجے کی سچائی بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ بیان کہ، "سبز بہترین رنگ ہے کیونکہ یہ تمام رنگوں میں سب سے سبز ہے" دعویٰ کرتا ہے کہ سبز رنگ سب سے بہتر ہے کیونکہ یہ سب سے زیادہ سبز ہے - جسے وہ سب سے بہتر تصور کرتا ہے۔ یہ سرکلر استدلال کی ایک قسم ہے: جو کہ دلیل کی ایک ایسی قسم ہے جس کا تقاضا ہے کہ مطلوبہ نتیجہ درست ہو۔ یہ اکثر بالواسطہ طور پر ہوتا ہے مثلاً غلط فہمی کی موجودگی کا پوشیدہ ہونا، یا کم از کم اس کا ظاہر و باہر نہ ہونا۔

یہ دو عملی مثالیں تمام مذہبی مباحثوں اور مناظروں کی فطری بگاڑ اور خامیوں پر زور دے سکتی ہیں، جنہیں انا پرست مذہبی 'علماء' نے چھیڑ رکھا ہے۔ بے بس جین اور بدھ راہبوں اور اسکالروں سے بحث کرنے والے قدیم ہندوستان کے ہندو اسکالرز (ہمیشہ برہمن) کا ایک اہم اعتراض یہ ہے کہ: برہمن برہما (برہمسیا پرتیروپم برہمن) کا مظہر تھا۔ لہذا، اگر آپ پہلے ہی یہ مان چکے ہیں کہ برہمن برہما کا مظہر ہے تو بحث کیسے کسی بھی منطقی انجام تک پہنچ سکتی ہے؟ یہ دوسرے تمام تصورات اور مقدمات کا دروازے ہی بند کر دیتا ہے۔

اسی طرح، کچھ صحیفوں کے جانکاری اس بے بنیاد یقین کے حامل ہو سکتے ہیں کہ قرآن کی کچھ آیات کائنات کے پھیلاؤ اور بگ بینگ تھیوری کی بات کرتی ہیں (جو کہ 7ویں صدی کی کسی کتاب میں نہیں ہے) ، جبکہ وہ اسی غلطی کا اعادہ کر رہے ہیں جو انتہائی متعصب ہندو ماضی میں کر چکے ہیں۔ اس کے سامنے (غلط) حوالہ جات ہیں  اور وہ انہیں صحرائی بدوؤں کی قدیم ترین 'حکمت' سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سب لوگ بغیر کسی منطقی انجام پر پہنچے ایک دائرے میں جھگڑتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے فضول اور بالکل بے بنیاد دلائل سے کسی کی مذہبی انا کی تسکین کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔

 اب سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ: اس دنیا کو ایک بہتر جگہ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ کوئی مذہب، خدا یا کتاب کسی کام کے نہیں۔ کائنات کے ماہرین اور فضول مفسرین کو یہ قیاس کرنے دیں کہ یہ کائنات کیسے وجود میں آئی۔ کسی بھی مذہب کے عام انسانوں کے پاس ایسے انتہائی پیچیدہ مسائل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے جو ہمیں کسی بھی نتیجے تک نہ پہنچائے اور اس کی عملی اہمیت صفر ہو۔ عملی نقطہ نظر اختیار کریں اور انسانیت کے لیے اپنا کام کریں۔ پانینی نے سنسکرت کو گرامر دیا اور اسے 'لسانیات کا باپ' کہا جاتا ہے، لیکن جب اس کا سامنا ایک شیر سے ہوا، تو وہ لسانیاتی گرائمر کی الجھن میں الجھ کر رہ گیا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اسے بھوکا شیر کھا گیا تھا۔ ایسا دردناک انجام آپ کے ساتھ نہ ہو۔

English Article: Stop Arguing In A Circle

 URL: https://newageislam.com/urdu-section/scripture-verses-quran-hindu-theologies/d/127262

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..