New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 01:46 PM

Urdu Section ( 2 May 2018, NewAgeIslam.Com)

Qatar in the Eyes of Qaradawi قرضاوی کی نگاہ میں قطر کی حیثیت

 

 

 

سوسن الشاعر

23 اپریل 2018

قطر کے لئے سابق روسی سفیر نے یوسف القرضاوی کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے جو کہا اس پر ہم نے قطرہ کے رہنماؤں سے کوئی تبصرہ نہیں سنا ہے۔

قطر کی حکومت کے بارے میں یوسف القرضاوی کی رائے پر روسی سفیر کے ریمارکس کے حوالے سے قطری "اخوان المسلمین" کی جانب سے بھی ہمیں کوئی جواب سننے کو نہیں ملا ہے۔ کیا وہ یوسف القرضاوی کے نقطہ نظر سے اتفاق رکھتے ہیں، جیسا کہ سابق روسی سفیر نے واضح کیا ہے کہ "خلیجی حکومتیں جابرانہ ، خونریز اور ظالمانہ ہیں جن میں قطر کی حکومت بھی شامل ہے- اور ان حکومتوں کا خاتمہ ضروری ہے"۔

انتہائی اہم سوال یہ ہے کہ کیا یوسف القرضاوی اور الثانی کے موقف اور ان کی رائے نے قطری اخوان المسلمین کو حیران کر دیا ہے؟ کیا وہ اس سے حیران و ششدر ہوئے تھے؟ یا وہ ان کے اس موقف سے آگاہ تھے اور اس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے خاموشی سے ان کے ساتھ کام کیا ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا الثانی کی حکومت کو اس کا یقین تھا کہ قطر میں اخوان المسلمین اس کے تئیں وفادار تھی یا اسے یہ معلوم تھا یہ جماعت اپنے رہنما کی وفاداری کر رہی تھی؟

زوال کا ایک سبب

بین الاقوامی تنظیم اخوان المسلمین اور قطری حکومت کے درمیان تعلقات عجيب ہیں - یہ ایک شیطانی اتحاد ہے جس میں ہر فریق دوسرے کو زوال کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ ہاں یہ ایسا ہی ہے لیکن یہ دونوں فریق ایک ایسے اتحاد کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جس میں ہر فریق کا خیال ہے کہ وہ دوسرے فریق کا استحصال کر رہا ہے۔

حماد بن خلیفہ کو یہ لگتا ہے کہ انہوں نے اخوان المسلمین کا استحصال کیا ہے اور عرب دنیا پر حکومت کرنے کے لئے ان کا استعمال ایک آلہ کار کے طور پر کیا ہے۔ انہیں یہ لگا کہ عرب حکومتوں کو کمزور کرنے اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے انہیں بااختیار بنانے اوران کی مدد کرنے کے بعد وہ اقتدار کی کنجی ان کے حوالے کر دیں گے۔

دریں اثنا سچ وہ ہے جو القرضاوی نے سابق روسی سفیر سے کہا ہے کہ وہ قطر کا استعمال کر رہے ہیں اور اپنا کردار ادا کرنے لینے کے بعد الثانی حکومت کا زوال یقینی اور ناگزیر ہے۔ لہذا اس معاملے میں زوال کا ذریعہ کون بنا اخوان المسلمین یا حماد بن خلیفہ؟

جواب آسان ہے۔ وہ حماد بن خلیفہ اور سادہ لوح خلیجی اخوان المسلمین عملہ اور خاص طور پر قطری اخوان المسلمین ہی ہیں جو خود اپنے ممالک کی حکومتوں کو کمزور کرنے کے منصوبہ میں اس تنظیم کی مدد کر رہے ہیں جس کے بعد یہاں کی حکومتیں اخوان المسلمین کی قیادت کے پاس چلی جائیں گیں۔ پھر وہ اور خلیج کے لوگ بے گھر ہو جائیں گے - یا کیا وہ یہ سوچتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلیفہ کی طرف سے وہ اپنے ممالک میں حکمرانی کریں گے؟

قطر کے اخوان المسلمین اور قطری قائدین کب بیدار ہوں گے؟ وہ صرف ان کے زوال کا ایک ذریعہ ہیں۔ وہ خلیج میں اپنے لوگوں کو کھو چکے ہیں ، اور وہ ایسے رہنماؤں کی خاطر اپنی عربی شناخت کھو چکے ہیں جو انہیں صرف آلہ کار کے طور پر دیکھتے ہیں۔

آخر کار جیت اخوان المسلمین کی ہی ہے

جو قیمت وہ ایک ایسی تنظیم کو ادا کرنے والے ہیں جو ان کے زوال کی راہیں ہموار کر رہی ہے ، وہ بہت بڑی ہے۔ یہ ایک غیر معقول اور غیر منطقی سودا ہے۔ قرضاوی کی نظروں میں الثانی صرف ایک حکمران خاندان ہے جو کہ خلیج میں دیگر حکمران خاندانوں سے کسی بھی صورت مختلف نہیں ہے۔ اخوان المسلمین کے لئے الثانی کچھ بھی نہیں ہیں ، اسی لئے اخوان المسلمین الثانی سے جو بھی وعدے کر رہی ہے وہ محض ایک فریب ہے۔ دریں اثنا، قطر اپنے بھائیوں کو اپنی قدرتی زمین میں ایک ایسے دشمن اور ایک ایسے سرکش کے لئے اپنا مقام کھو چکا ہے جو خود اسی کی سرزمین پر اپنے ہاتھ پاؤں پسار رہا ہے۔

قطر اخوان المسلمین کا استحصال نہیں کررہا ہے بلکہ سچائی اس کے برعکس ہے۔ لہٰذا ، سوال یہ ہے کہ کون سا جھٹکا قطر کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہو گا تاکہ اسے حقیقت کا ادراک ہو سکے؟ قطری اخوان المسلمین کو اور کون سی جانکاری اور کیسی شہادت چاہئے کہ جس سے اس کے عملہ کو اس بات کا احساس ہو سکے کہ وہ صرف قرضاوی اور ان کی تنظیم کے غلام ہیں اور وہ ان کا استعمال کر رہے ہیں ، انہیں بلیک میل (blackmail) کر رہے ہیں اور انہیں دھوکہ دے رہے ہیں؟

روسی سفیر کا اعتراف ان دیگر ہزاروں ثبوتوں میں ایک نیا ثبوت ہے جسے وہ نظر انداز کر رہے ہیں۔

قرضاوی نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا جو ہم اس تنظیم کے بارے میں پہلے سے ہی نہیں جانتے ہیں۔ ہمیں روسی سفیر کے اعتراف کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم نے مختلف تاریخی مراحل میں اپنی آنکھوں سے اخوان المسلمین کے موقف کا مشاہدہ کیا ہے جب وہ ہمارے خلاف ایران کے ساتھ کھڑے تھے۔

قرضاوی کے ساتھ روسی سفیر کی ملاقات کہ جس سے الثانی کے بارے میں قرضاوی کی رائے سامنے آئی ہے- ایسی آخری شہادت نہیں ہوگی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قطر ، اس کی حکومت ، اس کی دولت اور اس کے عوام صرف اخوان المسلمین کا بیت المال بن کر رہ گئے ہیں۔

بنیادی طور پر قرضاوی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ قطر ان کے لئے توانائی حاصل کرنے کا ایک مرکز تھا اور اب بھی ہے جسے اس کی توانائی کا آخری قطرہ ختم ہو جانے کے بعد نظر آتش کر دیا جائے گا۔

ماخذ:

 english.alarabiya.net/en/views/news/middle-east/2018/04/23/Qatar-in-the-eyes-of-Qaradawi.html

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-politics/sawsan-al-shaer/qatar-in-the-eyes-of-qaradawi/d/115027

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/sawsan-al-shaer,-tr-new-age-islam/qatar-in-the-eyes-of-qaradawi--قرضاوی-کی-نگاہ-میں-قطر-کی-حیثیت/d/115123

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..