New Age Islam
Sat Nov 27 2021, 10:00 AM

Urdu Section ( 12 Nov 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Qur'an Teaches A Simple Way of Life قرآن سادہ طرزِ زندگی کی تعلیم دیتا ہے

سہیل ارشد ، نیو ایج اسلام

13 نومبر 2021

قرآن انسانوں کو سادہ اور طرزِ زندگی اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ نام و نمود کی تمنا، شان و شوکت کی نمائش اور بے جا اسراف غیر اسلامی طرز زندگی ہے ۔ یہ دنیا مومن کے لئے ایک عارضی قیام گاہ ہے ۔ اسے اس جہانِ فانی میں آزمائش اور امتحان کے لئے بھیجا گیا ہے ۔ یہاں اسے آخرت کی تیاری کرنی ہے اور خدا اور رسولؐ کے احکام کے مطابق ہی زندگی گزارنی ہے ۔ خدا اور رسول مومنوں کو اسرافِ بیجاس سے پیوبند کرنے کی تلقین کرتے ہیں ۔ قرآن کہتا ہے ۔

’’ اور بے جا خرچ نہ کرو ، اس کو پسند نہیں بے جاخرچ کرنے والے ۔‘‘

فضول خرچ زندگی کے کسی بھی شعبے ‘ میں ہو وہ اللہ کو ناپسند ہے ۔چاہے وہ لباس پر ہو ، شادی کی تقریب میں ہو ، مکانوں کے نقش و نگار پر ہو یا کھانے پینے کی چیزوں پر ہو ۔ اللہ نے ضروریات زندگی پر ، بچوں کی تعلیم پر ، ا کی پرورش اوررہائش کی تعمیر پر معقول طور پر خرچ کرنے کی اجازدی ہے مگر کسی بھی کام میں ضرورت سے زیادہ روپئے خرچ کرنے کو ناپسند کیا گیا ہے ۔ اکثر تقریبات میں بہت سا کھانا برباد ہوجاتا ہے ۔

کچھ لوگ لباسوں پر صرف اپنی دولت کی نمائش کے لئے اور تفاثر کے اظہار کے لئے بیجا خرچ کرتے ہیں ۔ فیشن کے نام پر اور لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کی غرض سے قیمتی ملبوسات زیب تن کرتے ہیں ۔ اس سے غرور اور خودنمائی اور خود ستائی کا مظاہرہ ہوتا ہے ۔ یہ سراسر غیر اسلامی طرز زندگی ہے ۔حضور پاکؐ اور صحابہ کرام ؓ معمولی اور سادہ لباس پہنتے تھے ۔ اکثر ان کے لباس پر پیوبند لگے ہوتے تھے ۔

آج کل مکانوں کی تعمیر میں بھی مسلمانوں میں فضول خرچی کا ر حجان بڑھتا جا رہا ہے مکانوں کی تعمیر اور تزئین پر غیر ضروری طور پر دولت خرچ کی جاتی ہے ۔ ان پر نقش و نگار اور رنگ و روغنی پر فضول خرچی کی جاتی ہے ۔ قرآن مسلمانوں کو مکانوں اور دیگر مقاصد کے لئے تعمیر کی گئی عمارتوں کو خوبصورت بنانے کے لئے غیر ضروری رقم خرچ کرنے کو ناپسندیدہ قرار دیتا ہے ۔

’’ کیا بناتے ہوہر اونچی زمین پر ایک نشان کھیلنے کو اور بناتے ہو کاریگریاں‘ شاید تم ہمیشہ رہوگے ۔‘‘ (الشعراء ۱۲۹)

محض تفریح کے لئے بڑی بڑی عالیشان عمارتیں اور مکانوں پرقیمتی رنگ و روغن اور نقش و نگار نمائشی زندگی کے غماز ہیں ۔ آج کل مکانوں میں سنگ مرمر اور قیمتی ٹائیلز کے فرش بنانے کا چلن بھی عام ہے ۔ ایسے میں فرش پر بہت سنبھل کر چلنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ایسے فرش پر چلتے ہوئے گھر کے لوگ گر بھی جاتے ہیں اور زخمی ہوجاتے ہیں ۔ ایسے فرش سے حادثات کا امکان رہتا ہے ۔ سنگ مر مر ٹائیلز کا فرش اسرافِ بے جا میں شمار ہوتا ہے ۔

قرآن مومنوں کو سادہ اور فطرت سے قریب زندگی گزارنے کی تلقین کرتا ہے ۔ نمائش، تکبر ، دکھاوا، اور مصنوعی طرز حیات قرآن کے نزدیک ناپسندیدہ ہے ۔ اپنے گھر ، لباس اور طور طریقوں میں سادگی کو اپنانا اسلامی روش ہے ۔ قرآن زیب و زینت سلیقہ اور ڈسپلن کی ترغیب دیتا ہے مگر اسی حد تک جہاں تک فضول خرچی اور غیر ضروری اخراجات نہ ہوں ۔ قرآن کہتا ہے ۔

’’ تو کہہ کس نے حرام کیا اللہ کی زینت کو جو اس نے پیدا کی اپنے بندوں کے واسطے اور ستھری چیزیں کھانے کو ۔        (الاعراف ۳۲)

پس یہ واضح ہوگیا کہ اسلام صفائی ،پاکیزگی اور جائز طور پر زیب و زینت کی اجازت دی ہے مگر صرف نمائش ،تکبر اور نام و نمود کے لئے لباس ، مکان اور رہن سہن میں اسرافِ بے جا سے مسلمانوں کو پرہیز کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/quran-teaches-simple-life/d/125761

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..