New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 06:02 PM

Urdu Section ( 7 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Islam is Not the Enemy اسلام دشمنی کے دروازے نہیں کھولتا

 

 

 

 

 

 

سارہ ارکل

05 مارچ 2014

1979 کو اقوام متحدہ نے کونوینشن آن دی ایلمنیشن آف آل فارم آف ڈسکریمنیشن اگینسٹ وومن (CEDAW) کا قیام کیا تھا۔ اس وقت ان سات: ایران، صومالیہ، ساؤتھ سوڈان، سوڈان، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، پلاؤ، اور ٹونگا کے علاوہ تمام ممالک نے اس پر دستخط کئے۔ جن ممالک نے (CEDAW) کی حمایت کی انہوں نے بھی قرار داد اور تحفظات کو مسترد کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ ان ممالک پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے صرف دکھاوے کے لیے CEDAW کی قرار داد کی حمایت کی ہے اس لیے کہ انہوں نے ناموس کے نام پر قتل، جبری شادی اور عصمت دری کے متاثرین کے لیے قید کی سزا کو روا کر رکھا ہے۔

11 ستمبر 2011 کے بعد سے مغرب اور خاص طور پر امریکہ میں اسلامو فوبیا شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے مسلم مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ عورتوں کے خلاف تشدد کی گنجائش نہ تو قرآن میں ہے اور نہ ہی اسلام میں ہے، بلکہ قرآن کی انفرادی تشریحات میں ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جن میں عورتوں کے خلاف تشدد کی گنجائش نکلتی ہے، جن کی وقعت بہت کم ہے۔ قرآن سے زن مخالف قوانین کا انتساب بے شمار مغربی باشندوں کے دلوں میں موجود اسلام کے تئیں خوف اور ڈر میں شدت کی وجہ ہے۔

تہذیب و ثقافت، مذہب اور رنگ و نسل سے قطع نظر انسانوں کے درمیان ایک قسم کا اتحاد پیدا کرنے کے لیے بارہا معاہدے اور صلح نامے پر دستخط کئے جا چکے ہیں۔ اس سے ایک معاشرتی احساس پیدا ہونا چاہیے اور کسی نہ کسی سطح پر یہ بھی احساس بیدار ہونا چاہیے کہ ہم سب ایک سماجی ربط کے ممبران ہیں۔ اسلام اور مغرب کے درمیان تناؤ اور افتراق کو مزید مضبوط کرنا کسی بھی طرح اختلافات کو روکنے والوں، عالمگیر سیاست اور تناؤ اور مشرق اور مغرب کے درمیان نازک رشتے کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔

تاہم خاص بات یہ ہے کہ ممکنہ طور پر یہ غلط انتساب حقوق نسواں کے علم برداروں کے درمیان تقسیم کا باعث ہے۔ مغربی حقوق نسواں کے حامی عورتوں کو ثانوی درجہ دینے کے لیے اسلام کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور اس کے بدلے میں غضب ناک اسلامی حقوق نسواں کے علم بردار جو اپنا مذہب اور اپنی تہذیب و ثقافت چھوڑنا نہیں چاہتے وہ ان کی اپنی حالت زار کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے مغربی عورتوں کی طرف انگشت نمائی کرتے ہیں۔

ہمیں بین الاقوامی سطح پر تحریک حقوق نسواں کو فروغ دینے کا ایک ہدف متعین کرنا ضروری ہے۔ جس کا نفاذ پوری دنیا میں کیا جا سکے اور جسے پوری دنیا کی خواتین اختیار کر سکیں۔ اسلام کو زن بیزار اور ایک پیدرانہ نظام پر مبنی مذہب قرار دینے کے بجائے شاید ہمیں اسلام کی ایک ایسی تشریح و تعبیر کے لیے جو نعم البدل ہو ہمیں اسلامی علماء سے رجوع کرنا چاہیے جس میں مذہبی معتبریت کو برقرار رکھتے ہوئے خواتین کو مساوات سے نوزا گیا ہو۔ اگر عالمی برادری حقوق نسواں کی علمبردار تحریکوں کو مکمل طور پر سیکولر خانے میں ہی ڈال دیتی ہے تو مسلم خواتین کی ایک بڑی اکثریت اس سے الگ ہو جائے گی۔ اور یہ کسی بھی حقوق نسواں کے علمبردار کے مفاد میں نہیں ہے۔ مشرق وسطی میں حقوق نسواں کے مسائل کا حل پیش کرتے ہوئے میں فاطمۃ مرنيسي کا حوالہ پیش کرنا پسند کروں گی جنہیں مسلم حقوق نسواں کی حمایت کے لیے ایک اتھارٹی کی حیثیت حاصل ہے۔ فاطمۃ مرنيسی صنفی مساوات کی اسلامی فطرت کو مرکز توجہ بنا کر قرآن اور دوسری متعلقہ کتابوں کا دوبارہ مطالعہ کرنے کا مشورہ پیش کرتی ہیں، اس لیے کہ انہیں اکثر نظر انداز کیا گیا ہے اور چھپایا گیا ہے یا انہیں غلط طریقے سے سمجھا گیا ہے۔ فاطمۃ مرنيسی اور دوسرے مسلم علماء اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حقوق نسواں کے تئیں ایک اصلاح پسند رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے؛ جو لوگ قرآنی آیات کو اپنا حکم مانتے ہیں، مگر وہ اسلام اور مغرب کے درمیان خلاء کو پر کرنے کی کوشش میں سیکولر اور مغربی حقوق نسواں کی آواز کو ایک نقطہ آغاز سمجھتے ہیں۔

فاطمہ مرنيسی کہتی ہیں کہ ہم ان قرآنی آیتوں کو نظر انداز کرتے ہیں جن سے غیر واضح یا شاید واضح طور پر مردوں کے تسلط کو تقویت ملتی ہے اس لیے کہ ان آیات کے مضمرات اسلام کی مجموعی نوعیت سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ فاطمہ مرنيسی ان آیتوں کو اس مقام اور زمانے کا سماجی، سیاسی اور فوجی ڈھانچہ قرار دیتی ہیں کہ جب یہ آیتیں تحریر کی گئی تھیں اور وہ یہ کہتی ہیں کہ ہم ان آیتوں کو مزید مارڈن فریم ورک کو ملحوذ خاطر رکھتے ہوئے پیش کرتے ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اسلام نے ایک مرتبہ ایک ایسے معاشرے میں بہت ساری عورتوں کو ظلم و ستم سے آزاد کیا تھا جب ‘‘.....عورتوں کے ساتھ مال و متاع اور جائیداد کا سا سلوک کیا جاتا تھا جنہیں مکمل طور پر مردوں کے غلبہ والے معاشرے میں کسی بھی طرح کا کوئی حق حاصل نہیں تھا’’۔ یہ مفروضہ بھی قائم کرنے کے پیچھے ایک منطق کار فرما ہے کہ جس مذہب نے کسی زمانے میں عورتوں کو آزادی کا پروانہ دیا تھا ہو سکتا ہے کہ یکلخت اس نے عورتوں کو ستانے کا ارادہ کر لیا ہو۔

کبھی کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ قرآن و حدیث کی روایتی تشریحات سے مردوں کے تسلط کی تھیوری سمجھ میں آتی ہو، لیکن ماڈرن تشریحات کا مقصد صنفی مساوات کی طرف میلان پیدا کرنا ہے۔ میں یہ بات وثوق کے ساتھ کہنا چاہوں گی کہ قرآن و حدیث کی جو تشریحات جنسی مساوات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں مغربی اور اسلامی حقوق نسواں کے علمبرداروں کے درمیان کہ جن کا مقصد مزید متحد حقوق نسواں کی علمبردار تحریک کا قیام ہے، خلاء کو پر کرتے ہوئے حقوق نسواں کے لیے سود مند ہو سکتی ہیں۔ آئیے ہم سب مل کر اس مقصد کی جانب گامزن ہوتے ہیں۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ماخذ:  http://www.brownpoliticalreview.org/2014/03/islam-is-not-the-enemy

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/sara-erkal/islam-is-not-the-enemy/d/56011

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/sara-erkal,-tr-new-age-islam/islam-is-not-the-enemy-اسلام-دشمنی-کے-دروازے-نہیں-کھولتا/d/56034

 

Loading..

Loading..