New Age Islam
Fri May 01 2026, 01:21 AM

Urdu Section ( 15 Nov 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Maulana Abul Kalam Azad: Indian Languages Must Find Their Legitimate Position in Education مولانا ابوالکلام آزاد: ہندوستانی زبانوں کو تعلیم میں ان کا جائز مقام حاصل ہونا چاہیے

 ثاقب سلیم، نیو ایج اسلام

  11 نومبر 2022

 آج 11 نومبر کو ہمارا ملک آزادی کے نامور رہنما اور پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کو، قومی یوم تعلیم کے طور پر منا کر خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ عوامی مقامات پر ان کے مجسمات کی نمائش اور ان کے نام پر اداروں کے نام رکھنے کے علاوہ، ایک ہندوستانی ہندوستان کی تعلیم کے بارے میں ان کی بصیرت کے بارے میں کتنا جانتا ہے؟ کیا ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ موجودہ تعلیمی پالیسی آزاد کے بیان کردہ خیالات سے مطابقت رکھتی ہے؟

Maulana Abul Kalam Azad as India's first Education Minister

------

  وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد مولانا آزاد نے اپنے مقاصد کے اعلان کے لیے ایک پریس کانفرنس کی۔ انگریزوں کے تیار کردہ تعلیمی نظام کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ’’اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس نظام نے ہندوستانی عوام سے الگ ایک محدود تعلیم یافتہ طبقے کی تخلیق کی ہے۔ اس نے بعض اوقات پڑھے لکھے طبقے کو ہندوستان کی روایتی زندگی کے دھاروں سے الگ کرنے کا رجحان بھی پیدا کیا ہے۔ مغرب کی کامیابیوں سے حیرت زدہ ہو کر، اس نے بعض اوقات ہمارے قومی ورثے کو مسترد کرنے یا اسے حقیر سمجھنے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔"

 کچھ مہینوں بعد پٹنہ میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے آزاد نے کہا، “ہمارے پڑھے لکھے نوجوان انگریزوں کی تقلید، ان کی زبان، لباس، آداب وغیرہ میں خود کو غرق کر چکے ہیں۔ وہ اپنے ورثے کا خیال نہیں رکھتے۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہیں اپنے ہی ہم وطنوں سے اپنی زبان میں بات کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ وہ شیکسپیئر، ملٹن، گوئٹے اور ورڈز ورتھ کا حوالہ دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں لیکن انھیں والمیکی، کالیداسا، خسرو یا انیس سے کوئی لگاؤ نہیں۔

تاریخ کا ایک ٹکڑا

 آزاد نے پریس کو بتایا، "یہ آج عالمی سطح پر ایک مسلم حقیقت ہے کہ قومی تعلیم کا نظام ان بنیادی کاموں میں سے ایک ہے جس کا سامنا کسی بھی حکومت کو کرنا پڑتا ہے۔ نہ صرف معاشرے کی موجودہ حالت کا تعین افراد کے معیار سے ہوتا ہے بلکہ اس کا مستقبل بھی خاکہ انہیں سے تیار ہوتا ہے۔ کسی بھی چیز کا فرد کے معیار پر اتنا اثر نہیں ہوتا جاتا اس کی تعلیم کا اس کے اوپر ہوتا ہے"۔

 اس نے استعماری قوتوں کے قائم کردہ تعلیمی نظام پر حملہ کیا۔ پٹنہ یونیورسٹی کے کان ووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے آزاد نے کہا، ''میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو انگریزی یونیورسٹیوں کی پیداوار ہیں۔ میں ان سے مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہوں اور اس طرح کا ایک الگ نقطہ نظر اختیار کر سکتا ہوں اور آپ کی ضروریات اور تقاضوں کو سمجھ سکتا ہوں۔"

Maulana Abul Kalam Azad planting a sapling at IARI campus, New Delhi

------

  آزاد کا خیال تھا کہ ہندوستان کے استعماری تعلیمی نظام کو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے اور اس کی جگہ ایک ایسا قومی تعلیمی نصاب تیار کرنا چاہیے جو ہندوستانی تہذیب پر فخر سےبھر پور ہو۔ انہوں نے کہا، ’’تمہارے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ تم اپنے آپ کو مغربی تہذیب یا ادب کی غلامانہ محبت میں اس حد تک کھو دو کہ تم اپنے ملک کی عظیم الشان اور قابل فخر تہذیب کو بھول جاؤ‘‘۔

آزاد کا خیال تھا، "ہم فخر اور شان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہماری قدیم تہذیب کی بنیادی خصوصیت ہے اور ہم ہزاروں سالوں سے اس میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ دوسرے ممالک میں فکر اور عمل کے اختلافات باہمی جنگ اور خونریزی کا باعث بنے لیکن ہندوستان میں ان کو سمجھوتہ اور رواداری کے جذبے سے حل کیا جاتا ہے…. آج دنیا ہندوستانی فلسفے کی وسیع ہمہ گیر نوعیت پر حیرت زدہ ہے۔ فلسفیانہ فکر کا کوئی مکتب ایسا نہیں جو یہاں نہ پایا جاتا ہو۔ جو چیز ہمیں نظر نہیں آتی وہ صرف اختلاف رائے کی وجہ سے آراء کا تصادم یا سر توڑنا ہے۔

ایسا نہیں کہ آزاد جدیدیت کے خلاف تھے۔ انہوں نے کہا ’’خود کو اس لیے پنجرے میں بند رکھا غلط ہوگا کہ کہیں مغربی تعلیم اور تہذیب کی کوئی کرن ہمارے اندر داخل نہ ہو جائے۔ یہ نہ بھولیں کہ آپ اپنے دنیوی مال و متاع کو قومی اور جغرافیائی حدود میں رکھ سکتے ہیں لیکن علم اور تہذیب پر کوئی قید نہیں لگائی جا سکتی۔ وہ حدود و قیود سے آزاد ہیں، اور ان پر پہرے بٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انہیں علاقائی حدود میں قید نہیں کہا جا سکتا"۔

مولانا آزاد ہندی کو قومی زبان بنائے جانے کے زبردست حامی تھے۔ جب ان سے 1947 میں پٹنہ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں طلباء سے خطاب کرنے کو کہا گیا تو آزاد نے ہندی میں خطاب شروع کیا۔ اس وقت تک ہر کانووکیشن کا خطاب انگریزی میں ہوا کرتا تھا۔ رواج کو توڑتے ہوئے آزاد نے طلباء سے پوچھا کہ کیا مجھے رواج کو توڑنے اور ہندوستانی زبان میں خطاب کرنے پر آپ سے معافی مانگنا ہو گی۔ انہوں نے خود اپنی بات کا خواب دیتے ہوئے کہا کہ: "اگر معافی مانگنا ہی ہے تو ہمیں اس زبان کو اپنانے کے لیے معافی مانگنا چاہیے جو ہم تھوپی گئی تھی۔ یہاں تک کہ ہمارے اپنے ملک میں بھی ہمیں اپنی زبانوں کو چھوڑ کر کسی غیر ملکی زبان کو اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا"۔

 انہوں نے کہا کہ انگریزی کو ایک ذریعہ تعلیم بنا دینے سے طلباء ایک اجنبی زبان سیکھنے کے لیے محنت کرنے پر مجبور ہوتے ہے، "کوئی ہندوستانی زبان نہیں بلکہ انگریزی جو ہمارے لیے اجنبی تھی اسے ذریعہ تعلیم بنایا گیا، نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں جدید تعلیم کو غیر ہندوستانی انداز میں دیے جانے کا آغاز ہوا۔ ہندوستانیوں کو اپنے ذہنوں کی تشکیل قدرتی سانچوں میں نہیں بلکہ مصنوعی سانچے میں ڈھالنا پڑا۔ انہیں نہ صرف اپنی زبان بلکہ دماغ بھی بدلنا پڑا۔

 مولانا آزاد نے مزید کہا کہ آج انگریزی ہماری تعلیمی اور دفتری زندگی میں جو مقام رکھتی ہے وہ مستقبل میں برقرار نہیں رہ سکتی۔ ہندوستانی زبانوں کو اپنا جائز مقام ملنا چاہیے"۔ 

 آج جب حکومت سے اعلیٰ تعلیم میں ہندی کو فروغ دینے کے لیے کہا جا رہا ہے، ہمیں آزاد سے رجوع کرنا چاہیے جیسا کہ انھوں نے کہا تھا: ''پانچ سالوں میں ہندوستانی زبان کو اتنی ترقی کرنی ہوگی کہ وہ خود کو سرکاری زبان کے مطابق ڈھال سکے۔ اس کے استعمال کی بتدریج حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے تاکہ چھٹے سال یہ مکمل طور پر انگریزی کی جگہ لے لے۔ تعلیم کے شعبے میں، "چھٹے سال میں اعلیٰ تعلیم کے تمام شعبوں میں ہماری علاقائی زبانوں کو نافذ کر دیا جانا جانا چاہیے۔"

1951 میں خطوط پر پہلی آل انڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد نے کہا، "ہمیں ہندی کے سوال پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ ہم نے اسے اپنی قومی زبان کے طور پر قبول کیا ہے، اور آئین یہ کہتا ہے کہ اسے 15 سالوں میں انگریزی کی جگہ لے لینی چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہندی کو اس اہم کردار کو ادا کرنے کے لیے مضبوط بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا: "جس زبان کو ہم نے اپنی قومی زبان بنایا ہے، اسے اس وقار کے مطابق درجہ دیا جانا چاہیے۔ ہندوستان کے شہری ہونے کے ناطے، ہمارا فرض ہے کہ ہم ہندی ادب کو تقویت بخشنے کی کوشش کریں اور دیکھیں کہ اس میں اول درجے کا ادب پیدا ہو۔

موجودہ حکومتوں کو مدرسہ کا سروے کرنے پر تنقید کا سامنا ہے وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ آزاد کی تعلیمی پالیسی سے ماخوذ ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ ہندوستان میں مذہبی تعلیم کو پرائیویٹ اداروں پر نہیں چھوڑنا چاہیے اور نہ ہی حکومت کی نگرانی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت خالصتاً سیکولر تعلیم دینے کا بیڑا اٹھاتی ہے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ فطری طور پر لوگ نجی ذرائع سے اپنے بچوں کو مذہبی تعلیم دینے کی کوشش کریں گے۔ یہ نجی ذرائع آج کس طرح کام کر رہے ہیں یا مستقبل میں کس طرح کام کرنے کا امکان ہے آپ اس سے اچھی طرح واقف ہیں۔ میں اس کے بارے میں تھوڑا بہت جانتا ہوں اور کہہ سکتا ہوں کہ نہ صرف دیہی علاقوں میں بلکہ شہروں میں بھی دینی تعلیم دینے کی ذمہ داری ایسے اساتذہ کے سپرد ہوتی ہے جو خواندہ ہوتے ہوئے بھی تعلیم یافتہ نہیں ہوتے۔ ان کے نزدیک مذہب کا مطلب تعصب کے سوا کچھ نہیں۔ تعلیم کا طریقہ بھی ایسا ہے جس میں وسیع اور آزادانہ نقطہ نظر کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

 آج قوم پرستانہ جذبے کے ساتھ تاریخ لکھنے کو ایک نازک مسئلہ مانا جاتا ہے۔ مولانا آزاد کا خیال تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان کو اپنی قومی تاریخ کی ضرورت ہے۔ کئی مقامات پر، اس نے علماء سے کہا کہ وہ نوآبادیاتی تناظر میں تاریخ لکھنے کے لیے پہلے سے استعمال شدہ تاریخی ماخذ کا دوبارہ جائزہ لیں۔

ان کے الفاظ میں، "ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کسی قوم کی تاریخ اور ثقافت کے بارے میں کوئی غلط نقطہ نظر نہ ہو اور نہ ہی قومی کردار اور تہذیب میں اعلیٰ ترین نظریات کی حوصلہ افزائی کرنے میں ناکامی ہو۔ بدقسمتی سے ہندوستان میں ایسا ہوا ہے۔ کہیں اور انہوں نے ہندوستانی مورخین سے کہا تھا، ''یہ آپ مورخین اور آرکائیوسٹ، کام کا ہے کہ ایک پروگرام تیار کریں۔ آپ کی محنتیں ہندوستان کی پوری تاریخ لکھنے کے لیے ہر زمانے میں مواد فراہم کرنے والی ہوں، جس میں تعاون اور مشترکہ کوششوں کی کہانی، تہذیب و تمدن کی ترقی، فنون، فلسفہ، مذہب اور انسانیت کی ترقی سب کچھ بہترین انداز میں بیان کیا جائے گا۔ صرف جنگوں، تنازعات، خاندانوں اور بادشاہوں کی روداد ہندوستان کی حقیقی تاریخ نہیں ہے۔

یہ سمجھنے کے لیے ایک سرسری نظر ہی کافی ہے کہ موجودہ تعلیمی پالیسی مولانا آزاد کے خوابوں کی تعبیر ہے اور اس طرح یہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کو حقیقی خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ ہندوستان تاریخ، تعلیم، ثقافت اور زبان کی استعماریت سے آزادی کی راہ پر گامزن ہے اور مولانا آزاد کے تصور کے مطابق اپنی قومیت کو یقینی بنا رہا ہے۔

ماخذ: Maulana Azad Wanted De-Colonization Of Indian Education

English Article: Maulana Abul Kalam Azad: Indian Languages Must Find Their Legitimate Position in Education

URL: https://newageislam.com/urdu-section/maulana-abul-kalam-azad-india-curriculum/d/128403

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..