ثاقب سلیم،
نیو ایج اسلام
27 فروری 2023
صنوبر حسین، شیر علی، عبدالرحمن
ریا، عبداللہ اور عبدالعزیز فروری 1929 میں پشاور میں ایک خفیہ میٹنگ کر رہے تھے۔ ان
کا ماننا تھا کہ ہندوستان کی آزادی کی جنگ کو ازسر نو جوان کرنے کی ضرورت ہے۔ صنوبر
کی صدارت میں انہوں نے انجمن جمعیت نوجوانانِ سرحد (انجمن فرنٹیئر یوتھ) کی بنیاد رکھی۔
اس کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کو اکٹھا کرکے اور انہیں انقلابی سرگرمیوں میں شامل
کرکے پشاور میں قوم پرستی کو زندہ کرنا تھا۔
-----
Kissa
Khani bazar of Peshawar
--------
تاریخ کا
ایک ٹکڑا
عبدالرحمٰن ریا نے زیادہ سے زیادہ
لوگوں تک اپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے ایک اخبار شروع کیا۔ ستمبر میں انجمن نے جتندرا
ناتھ داس کے اعزاز میں ایک اجلاس منعقد کیا، جنہوں نے لاہور جیل میں طویل بھوک ہڑتال
کے بعد اپنی جان قربان کر دی تھی۔ اس میٹنگ میں کہ جس میں ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں
نے شرکت کی، بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو بھی داد تحسین دی گئی۔ خان عبدالغفار خان
نے مسلمانوں کو تاکید کی کہ وہ جتندر ناتھ اور بھگت سنگھ کے نقش قدم پر چلیں۔ مجلس
احرار کے رہنما عطاء اللہ شاہ بخاری نے انجمن کے رہنماؤں سے پوچھا کہ کیا آپ کی تنظیم
کے مقاصد پنجاب کی نوجوان بھارت سبھا کی طرح ہیں؟ اس سبھا میں بھگت سنگھ اور دیگر انقلابی
ممبران تھے۔ بخاری نے تجویز پیش کی کہ اس تنظیم کو پنجاب میں قائم تنظیم کی ایک شاخ
کی حیثیت سے نوجوان بھارت سبھا کا نام دیا جانا چاہئے۔
عبدالرحمن ریا نے لاہور کا سفر
کیا اور نوجوان پارٹی سے وابستگی حاصل کی۔ 1930 کے آغاز میں رسالہ نوجوان سرحد کا آغاز
ہوا۔ یہ تنظیم اب نوجوان بھارت سبھا، پشاور کے نام سے جانی جاتی تھی جس میں عبدالرحمن
ریا، فقیر چند، عبدالحئی، اچرج رام، عبدالغفار، سعید، چنی لال، اللہ بخش، سوہن لال،
اور امیر سنگھ بطور ایگزیکٹو ممبر تھے۔ تنظیم نے سرخ پرچم اور ہتھوڑے کی درانتی کا
نشان اپنایا۔
26 جنوری 1930 کو، قوم پرست
ہندوستان کا یوم آزادی منا رہے تھے، جیسا کہ کانگریس کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا۔
تقسیم کے بعد کے پشاور میں یہ تصور کرنا ناممکن ہے کہ ہندو، سکھ اور مسلمان ہندوستان
کی آزادی کا مطالبہ کرنے والی مختلف تنظیموں کے جھنڈوں تلے متحد ہو کر جلوس نکالیں
گے۔ پاکستان کا نام بھی اس وقت ایجاد نہیں ہوا تھا۔
یوم آزادی کے جلوس کی قیادت کانگریس
کے ایک گروپ نے کی جس میں کانگریس کا ترنگا جھنڈا تھا۔ اس میں لالہ بادشاہ، علی گل
خان، قاسم جان، عبدالجلیل، لالہ رادھا کشن، وکیل، عبدالرحمن ندوی، ڈاکٹر جواہر سنگھ،
غلام ربانی سیٹھی، اللہ بخش، رحیم بخش، محمد عثمان، حاجی کرم الٰہی، ملاپ سنگھ، امر
سنگھ اور کئی دیگر ہستیاں بھی شامل تھیں۔
کانگریس کے پیچھے نوجوان بھارت
سبھا گروپ تھا جو سرخ جھنڈے اٹھائے انقلاب کے نعرے لگا رہے تھے۔ عبدالرحمن ریا، عبدالعزیز،
روشن لال، صنوبر حسین، اچراج رام، چمن لال، عبدالحئی، فقیر چند، کشن چند، ہری رام،
امر سنگھ، اور دیگر نے بھگت سنگھ، اشفاق اللہ خان، بی کے دت اور دیگر کے پوسٹروں کے
ساتھ اس جماعت کی قیادت کی۔
تیسرا گروہ خدائی خدمتگاروں کا
تھا جس کے پاس سفید جھنڈا تھا جس کی قیادت سرفراز، نقیب اللہ اور پردل کر رہے تھے۔
خالصہ نوجوان جاتھا کے گروپ نے
متحدہ ہندوستان کا شاندار تماشا پیش کیا۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ ہردیت سنگھ کی قیادت
میں ایک سکھ تنظیم میں یعقوب جیسے کئی مسلم انقلاب کے نعرے لگا رہے تھے۔
اب تک سرگرمیوں نے رفتار پکڑ لی
تھی۔ قوم پرستی کے پروپیگنڈہ کی اشاعت کے لیے اپریل تک سبھا کے پاس چار اخبار تھے۔
رسالۂ نوجوان سرحد، نوجوان سرحد، نوجوان سرفروش، اور پیام جنگ کو بڑے پیمانے پر پڑھا
جا رہا تھا جس سے برطانوی حکام میں خوف و ہراس کا ماحول قائم ہو چلا تھا۔ تنظیم پر
انقلابی سرگرمیوں کو مضبوط کرنے کا الزام لگایا گیا۔
برطانوی انٹیلی جنس نے مقامی لوگوں
میں استعماری حکمرانوں سے لڑنے کے بڑھتے ہوئے عزم کے پیچھے سبھا کی سرگرمیوں کو ذمہ
دار ٹھہرایا جس کے نتیجے میں قصہ خوانی بازار میں قتل عام ہوا جہاں سینکڑوں ہندوستانیوں
کو برطانوی فوجیوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ بھی مانا جاتا تھا کہ یہ سبھا کے
پروپیگنڈہ کی ہی کرشمہ سازی تھی کہ رام چندر گڑھوالی نے ہندوستانیوں پر گولی چلانے
کے برطانوی حکم کی نافرمانی کی۔ یہ ایک نادر و نایاب واقعہ تھا جہاں انگریزوں کے ہندوستانی
سپاہیوں نے ہندوستانیوں پر گولی نہیں چلائی اور کورٹ مارشل کو ترجیح دی۔
کوئی تعجب کی بات نہیں کہ 3 مئی
1930 کو انگریزوں نے نوجوان بھارت سبھا پر پابندی لگا دی اور ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں
کا اتحاد ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔
-------------
English
Article: Hindus, Muslims & Sikhs Fighting the British
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism