New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 04:06 AM

Urdu Section ( 17 May 2018, NewAgeIslam.Com)

Why Should We Be Grateful To God? خدا کی شکر گزاری کیوں ضروری؟

 

 

 

 

سنت راجندر سنگھ جی

2 مئی 2018

سب سے پہلے ہم ان متعدد چیزوں کا شمار کرتے ہیں جن کے لئے ہم خدا کے شکر گزار ہیں۔ سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ہماری روح ایک انسانی جسم کے اندر ودیعت کی گئی۔ تمام قسم کے مختلف جاندار حیوانات کا جائزہ لینے پر ہم یہ پاتے ہیں کہ ان کی زندگی کتنی مشکل ہے۔ اگر چہ بہت سے لوگ اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ اپنے فیملی ممبر جیسا سلوک کرتے ہیں لیکن پھر وہ پالتو جانور ہوتے تو غلام ہی ہیں۔ اگرچہ اب پالتو جانوروں کے لئے بیوٹی سیلون، معالج اور یوگا کلاس دستیاب ہیں ، لیکن ان پالتو جانوروں کے پاس وہ استعداد نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر ہمیں اپنی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ ان کی زندگی صرف احساس اور زندہ رہنے کے لئے ضروری حیوانی فطرت تک ہی محدود ہے۔ وہ یہ سوچنے اور سمجھنے سے عاری ہیں کہ وہ کون ہیں ، وہ یہاں کیوں ہیں ، اور کہاں جا رہے ہیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم ایک ایسی مخلوق کی شکل میں پیدا ہوئے کہ خود کو جان سکتے ہیں اور خدا کو بھی پہچان سکتے ہیں۔ اور اس کے لئےہمیں خدا کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔

کتنے لوگ صحت پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔ جب ہم کسی خطرناک بیماری کی زد میں آتے ہیں یا کسی حادثے کا شکار ہو کر سخت درد اور کلفت میں مبتلاء ہو جاتے ہیں تو ہم خدا سے مدد کے لئے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے درد کو دور کر دے اور ہمیں شفا بخش دے۔ لیکن صحت مندی کی حالت میں ہم میں سے کتنے لوگ خدا کا شکر بجا لاتے ہیں۔ جب ہماری بیماری یا ہمارا درد ختم ہوجاتا ہے تو ہم اپنی زبان سے کہہ سکتے ہیں کہ "خدا کا شکر ہے"، لیکن اس کے بعد اکثر ہم اس بات پر ہر روز خدا کا شکر ادا نہیں کرتے کہ ہم صحت مند ہیں۔

ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ خدا صرف تبھی ہے جب ہمارے ساتھ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ جسمانی ، دانشورانہ اور جذباتی تحفوں کی شکل میں خدا نے ہمیں جو اچھی چیزیں ہمیں عطا کی ہے ہم انہیں نظر انداز کرتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ خدا کی جانب سے ہے۔ اس کے بجائے ہم یہ ایک شرط قائم کر لیتے ہیں کہ ہم خدا کے وجود پر صرف اسی وقت یقین رکھیں گے جب ہمیں وہ سب کچھ حاصل ہو جائے گا جو ہم چاہتے ہیں۔ ہمیں جو خدا نے عطا کیا ہے ہم اس سے بے فکر ہو جاتے ہیں اور جو اس نے ہمیں عطا نہیں کیا ہے اس پر اپنی نظر جمائے رکھتے ہیں۔

پچیس سال تک نوکری کرنے کے بعد بھی جب ہم انحطاط پذیری کے باعث کسی کمپنی سے نکال دئے جاتے ہیں تو ہم یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ خدا ہے ہی نہیں۔ پچاس پچاس برسوں تک ہم کسی محبت اور سکون والی ایک فیملی کا حصہ ہوتے ہیں لیکن جب اس فیملی کا کوئی فرد اس دنیا سے گزر جاتا ہے تو ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم کتنے عرصے تک اس کی مصاحبت سے لطف اندوز ہوتے رہے اور اس کا الزام خدا پر لگاتے ہیں یا یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہماری زندگی میں کچھ بھی اچھا نہیں ہے۔ ہم چالیس چالیس برس تک صحت مند زندگی گزارتے ہیں لیکن جب کوئی ایک بھی بڑی بیماری ہمیں اپنی زد میں لے لیتی ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ "یہ میرے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ خدا ہے ہی نہیں ’’۔ ہم اپنے تمام کھیلوں میں فتح حاصل کرتے چلے جاتے ہیں لیکن جب ایک بار ہم شکست کا منھ دیکھتے ہیں تو یہ کہہ اٹھتے ہیں کہ "خدا کو میری کوئی فکر ہی نہیں ہے"۔ ذرا خدا کے بارے میں بھی سوچیں۔ یہ تمام نعمتیں اسی کی عطا کردہ ہیں لیکن جب کوئی ایک بات غلط ہو جاتی ہے تو ہم براہ راست خدا کو اس کا مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ ہمیں کیا لگتا ہے کہ جب بھی ایسا کچھ ہوتا ہے تو خدا کو کیا محسوس ہوتا ہے؟ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو نعمتوں پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں تاکہ جب ہمارے ساتھ کچھ غلط ہو تو ہم خدا کو یہ کہہ سکیں کہ " مولیٰ کوئی بات نہیں ہم اس حال میں بھی تجھ سے محبت کرتے ہیں ، ہم تیرے شکرگزار ہیں اور ہم یہ جانتے ہیں کہ تو ہے۔ جو کچھ میرے ساتھ پیش آیا ہے اس میں ضرور میری کوئی بھلائی پوشیدہ ہو گی ، یا اس کا سبب میرا ہی کوئی عمل ہوگا ، یا وہ فطرت اور زندگی کا حصہ ہے ، لہٰذا ، اگر تو اسی پر راضی ہے تو کوئی بات نہیں"۔ کتنے لوگ خدا کے تئیں ایسا شکر گزار رویہ اختیار کرتے ہیں؟

ایسے لوگ بھی ہیں جو دردناک تکلیف سے گزرتے ہیں لیکن اس کے باوجود جب ان کا دکھ درد کافور ہو جاتا ہے تو وہ خدا کا شکر بجا لاتے ہیں۔ اکثر لوگ اچھی صحت سے بے پرواہ ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمیں ہمیشہ کےلئے کوئی جسمانی پریشانی یا کوئی تکلیف لاحق ہو تب بھی ہم جس لائق ہوں اسی کے لئے ہمیں خدا کی شکر ادا کرنا چاہئے ، خواہ وہ صبح بیدار ہونا ، کام پر جانا یا اپنی زندگی میں خوشی و مسرت کے چند لمحات کا میسر ہونا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر ہم اپنی جسمانی معذوری کے بارے میں خدا سے شکایت کرتے ہیں اگرچہ ہم اس صورت میں بھی کسی کام کے ہو سکتے ہیں ، تو ہمیں ان لوگوں کو دیکھنا چاہئے جن کی معذوری زیادہ سنگین ہے اور جو دوسروں پر منحصر ہیں اور پھر ہم اپنی حالت کا دوبارہ جائزہ لیں۔ کچھ لوگ معذور ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس بات کے لئے خدا کے شکر گزار ہیں کہ وہ زندہ ہیں یا ان کی تکلیف بدترین نہیں ہے۔ ان کے پاس جو بھی نعمتیں ہیں وہ ان کے لئے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی صحت کے لئے خدا کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ہماری تکلیف ان کی تکلیف سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ہر اس دن کے لئے خدا کا شکر ادا کریں جب آپ کام کرنے ، اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ اچھے لمحات بسر کرنے اور مراقبہ کرنے کے قابل ہیں۔

ماخذ:

asianage.com/opinion/oped/020518/mystic-mantra-why-should-we-be-grateful-to-god.html

URL for English article: http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/sant-rajinder-singhji/why-should-we-be-grateful-to-god?/d/115116

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/sant-rajinder-singhji,-tr-new-age-islam/why-should-we-be-grateful-to-god?--خدا-کی-شکر-گزاری-کیوں-ضروری؟/d/115278

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..