New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 10:42 PM

Urdu Section ( 6 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

The Unbearable Heaviness of Being Muslim مسلمان ہونے کا ناقابل برداشت بوجھ

 

 سیف شاہین، نیو ایج اسلام

27 مئی 2013

( انگریزی سے ترجمہ۔ نیو ایج اسلام)

چیکوسلووہکیا کے  ناول نگار میلن کندیرا نے  Unbearable Lightness of Being’ میں کہا کہ  زندگی اور اس میں وقوع پذیر ہونے والی  تمام چیزیں  صرف ایک بار واقع ہو تی ہیں دوبارہ   کبھی نہیں۔ یہ فلسفی نطشے کی تجویز کی مخالفت کی ‘نزاکت ’ کی تشکیل کرتا ہے کہ انسانوں کی زندگی پر ایک بوجھ یا ‘ دشواری’ مسلط کرتے ہوئے  اس کائنات میں ہر چیز عود کرتی رہتی ہے  جنہیں اس بات کا علم ہے کہ انہوں نے زندگی کی گردش کی ہمیشہ مذمت کی ہے ۔

اس زمانے میں  ایک مسلمان ہونا یقینا نطشے کی مثال کی تائید کرتا ہے ۔ ہر دوسرے دن، آپ لندن یا بوسٹن یا کہیں اور دہشت گردی کے واقعات  کے بارے میں سنتے ہیں ۔ آپ کو ڈر لگتا ہے  کہ کہیں  قصوروار یہ کارنامے مسلم کی حیثیت اسلام کے نام پر انجام نہ دے رہے ہوں۔ آپ دعا کرتے ہیں کہ معاملہ ایسا نہ ہو ، لیکن بے شک معاملہ ایسا ہی ہوتا  ہے ۔ مجرمین مسلمان ہیں  اور بلکہ وہ فخر کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ کی خاطر بے گناہ لوگوں کو قتل کیا اور معذور بنا یا ہے ۔ اور پھر آپ  اپنے وجود کو ایک ناقابل برداشت بوجھ تلے دبا ہوا محسوس کرتے ہیں صرف اپنے خوف کی تصدیق کی وجہ سے نہیں  بلکہ اس  علم اور یقین کی وجہ  سے کہ یہ دوبارہ ہو گا ۔

 کبھی نہ ختم ہونے والے اس سانحے کا تازہ ترین مظاہرہ  لندن کی سڑکوں پر گزشتہ ہفتے دیکھنے کو ملا ۔ نائجیریا نژاد دو مسلم نوجوانوں نے گوشت کاٹنے والے چھرے سے ایک نوجوان برطانوی فوجی کا سر قلم اور پیٹ چاک کر دیا  اور ان میں سے ایک نے یہ اعلان کر کے راہگیروں کو حواس باختہ کر دیا کہ جب تک برطانوی فوجی بیرون ملک مسلمانوں کو قتل کرتے رہیں گے  وہ محفوظ نہیں رہیں گے ۔ ہفتوں پہلے، چیچینیا نزاد  دو امریکی نوجوانوں نے بوسٹن میراتھن پر بمباری کی تھی جس میں  تین افراد جاں بحق ہو ئے  اور 200 سے زائد زخمی۔ ان کا یہ کارنامہ  بھی واضح طور پر عراق اور افغانستان میں مسلمانوں کی موت کا انتقام تھا ۔

 یہ پاگلپن اب کئی سالوں سے جاری ہے ۔ بالی سے بنگلور تک اور  میڈرڈ سے مین ہٹن تک ۔ اس سے  کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کہاں پیدا ہوئے تھے اور اب کہاں رہتے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ دنیا بھر میں  مسلم نوجوان مرنے اور مارنے کے لئے خون  کے پیاسے ہو گئے ہیں۔ بیشک اس طرح کے مسلمان ایک چھوٹی اقلیت ہیں۔ بیشسک  Michael Adebolajo اور Tamerlan Tsarnaev کے لئے ہزاروں دوسرے مسلم نوجوان ہیں جو اس طرح کے واقعات کے بعد فاتح کے بجائے خود کو مظلوم محسوس کرتے ہیں  جو مسلمان ہونے کے ناقابل برداشت بوجھ  میں مبتلا ہوتے ہیں ، اور اپنے ساتھیوں اور دوستوں کو  یہ کہہ کر اپنا  بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ حقیقی اسلام نہیں ہے اور یہ حقیقی مسلم نہیں ہیں ۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا: پھر چند دنوں میں  کوئی دوسرا Tsarnaev یا Adebolajo انہیں میں سے ابھرے گا  یہ اتنا ہی یقینی ہے جتنا  کہ گذشتہ واقعہ  ۔ یہ ایک  نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے ۔

 ' مسلمان ہونا '

 اس شیطانی گردش کا  محرک کون ہے ؟ وہ کیا ہے جو کبھی  ختم نہ ہونے والے  اس سفاکانہ قتل کو تحریک دیتا ہے ؟ کس طرح دنیا کے مختلف خاندانوں اور مختلف مقامات پر پیدا ہونے والے  اور بالکل  مختلف سوسائٹی اور  کلچر میں نشو نما پانے والے اتنے سارے لوگ ایک ہی طرح کے  غصے کا شکار ہیں اور عین مطابق برتاؤ کرہے  ہیں اگر یہ خود اسلام نہیں ہے، تو پھر کیا ہے؟، شاید یہ ایک بار پھر مسلمان ہونے کی دشواری ہے ۔

 "ہونا" صرف ایسا کچھ نہیں ہے جو ہمارے اندر  مخفی  ہے۔ "ہونا" ہمارے وجود کی سرگرمی ہے ۔"ہونا"  وہ محیط سوچ، جذبات، اور اس کے اندر برتاؤ ہے جو ہم کرتے ۔ اور جو  ہم کرتے ہیں اس کا ظہور اس سے ہوتا  ہے جسے  ہم خود "ہونا" سمجھتے ہیں  دوسرے الفاظ میں ہم جس طرح اپنا تعین کرتے ہیں اور اس ‘ہونے ’ کا  فلاں فلاں معنیٰ ہمارے لئے  ہے  ۔ ہم میں سے ہر ایک  بہت ساری مختلف چیزیں نہیں "ہو" سکتا : طالب علم، آدمی، ایک راجستھان رائلز کا فین، ہندوستانی ، ایشیائی، یا مسلم ۔ بے شک، ہم مختلف سماجی سیاق و سباق میں ان چیزوں میں سے ہر ایک ہیں جو ایک سیاق و سباق میں متعلقہ شناخت کے مطابق کارنامے انجام دے رہے ہیں  ۔

 لفظ "عمل " اہم اشارہ ہے جو نہ صرف عمل کی حقیقت کا مفہوم رکھتا ہے  بلکہ ایک کردار بھی ادا کرتا ہے ، جیسا کہ ڈراموں میں ہوتا ہے ۔ ہمارے تشخص کے "عمل " میں یہ دونوں معنوں  میں بیک وقت درست ہے۔ جیسا ایک ڈرامہ کے  کیریکٹرز  پہلے سے لکھے گئے کردار کے مطابق اپنا کردار نبھا تے ہیں ، لہٰذا  ہم زندگی کے تھیٹر میں شناختی تحریر  پر منبی  اپنا کردار ادا کرتے ہیں، یا فلاں فلاں کے ‘ہونے ’ کی سمجھ پر مبنی  ۔ چنانچہ  ایک "مرد " ہونا انسان کو  جسمانی طور پر مضبوط بناتا ہے  ، شرٹ اور پتلون میں ملبوس  کرتا ہے  اور  جب زخمی ہو جائے تو  رونے سے روکتا ہے، خاندان کے افراد پیدا کرنے والا بناتا ،اور بیوی کے  گھر جانے کے بجائے اسے  اپنے گھر لانے والا بنا تا ہے  وغیرہ ۔ اگر وہ ان چیزوں میں سے کسی میں  بھی ناکام ہوتا ہے تو اسے اس کےدوستوں اور خاندان والوں کی طرف سے کہا  جاتا ہے کہ "ایک مرد  کی طرح کام کرو" ۔ وہ خود کو شرمندہ  محسوس کرتا اگر وہ اپنے کردار کے کسی بھی پہلو کو انجام دینے میں ناکام ہوتا  ہے،  اور کبھی کبھی تو اتنا ہوتا ہے کہ  اپنی  زندگی کو بے کار سمجھتا  ہے  اور خود کشی کے بارے میں سوچتا ہے ۔ اگر وہ ایک "مرد " نہیں ہو سکتا اور اس کی شناخت کے ساتھ منسلک معنی کا اظہار نہیں کر سکتا تو اس کا ‘ہونا ’ بے معنی ہو جاتا ہے ۔

 ہر تشخص کے معانی بالکل قطعی  یا عالمی طور پر مقبول  نہیں ہیں۔ "مسلم" ہونا اب تک ایک متناز ع فیہ مسئلہ ہے  مطلب مختلف لوگوں کے لئے مختلف چیزیں ۔ لیکن یہ عمر بکری محمد جیسے لوگوں کے ساتھ ایک مقابلہ ہےیہ وہی   بنیاد پرست عالم ہے جس نے ایک بار  اپنے طریقے سے Adebolajo کو یہ نصیحت کی  (یہ وہی ہے جو مبینہ طور پر اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ دشمن کے فوجی  جہاں کہیں بھی پائے جائیں ان کا  سر قلم کر دیا جائے ) ۔ ایک مسلمان ہونے کا معنی کہ وہ دیگر عقائد کے پیروکاروں پر روحانی تفوق  کا احساس رکھتے ہوئے، تمام مسلمانوں کی جانب سے اپنے آپ کو مغربی سامراج کے ظلم و ستم  کا شکار سمجھ رہے ہیں ، غیر مسلموں کا قتل کررہے ہیں  اور ساتھ ہی ساتھ ہر طریقے سے ان لوگوں کا قتل کررہے ہیں  جو ‘‘سچے مسلمان ’’ نہیں ہیں،  اگر ا س عمل میں  ضرورت ہو تو جان دے رہے ہیں  اور جنت کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔

 ایک مرتبہ  "مسلمان ہونے" کی ان الفاظ میں تعریف کر دی گئی  تو مدارس میں منفی ذہن سازی کی گئی  یا دہشت گرد کیمپوں میں جن کی تربیت کی گئی ہے  ان انتہا پسندوں  کا تشدد محدود نہیں رہ جائے جا گا ۔ ایک  کے بعد ایک مسلمان افریقہ کئ صحراء سے  یا امریکہ کی تنگ گلیوں سے  اٹھیں گے  اور ایسے جرموں کا ارتکاب کر کے ایک "مسلم" کے طور پر زندگی میں اپنا  کردار ادا کریں گے جسے دوسرے لوگ دہشت گردی سمجھتے ہیں  لیکن ان کے لئے  صرف وہ ہے  جو کہ  وہ ہیں ۔ انہیں  درجنوں کافروں کا قتل عام کر نے میں   یا کسی دوسرے انسان کا سر قلم کرنے میں کوئی اخلاقی پشیمانی نہیں ہو گی۔ در اصل، اس طرح کا  "عمل " ان کے لئے بہت عام ہو گا کہ ہو سکتا ہے کہ  وہ سڑکوں پر مٹر گشتی کریں اور راہگیروں سے گفتگو  کریں جیسا کہ Adebolajo نے کیا  ۔ بہر صورت ، وہ صرف وہی کر رہے ہوں گے جو  ان کے لئے ایک مسلمان ہونے کامطلب ہوتا ہے ،مسلمانوں سے جیسا  کرنے کی توقع کی جاتی ہے ۔

 اس طرح، صرف ایک مسلمان ہونا میرے لئے ایک دشواری کا باعث ہے ، تو یہ Adebolajos اور Tsarnaevs کے لئے ہوتا  ہے۔ وہ ایسا ہی کرتے ہیں جیسا  دوسرے "سچے مسلمان" ان سے پہلے کر چکے ہیں اور مزید  "سچے مسلمان" ان کے بعد ایسا ہی کریں گے۔ اور اس طرح نطشے کی گردش  جاری رہے گی ۔

 مسلم سے  بڑھ  کر ہونا

 کیا اس گردش کو روکا  جا سکتا ہے؟ کیا  مسلمان ہونے کے بوجھ کو کچھ ہلکا کیا جا سکتا ہے؟ دو طریقے میرے ذہن میں آتے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ"مسلمان ہونے" کی  ایک مربوط اور مکمل تعریف وضع کی جائے جو بکری محمد اور اس جیسے لوگوں کی  تعریف کے خلاف  ہو سکے ۔ یہ کافی نہیں ہے کہ قرآن مجید سے کچھ ممتاز عبارتوں کو علیحدہ کر دیا جائے اور یہ  دلیل دی جائے کہ اسلام تشدد کی تعلیم نہیں دیتا اس لئے  کہ مسلمانوں کو  شروع کرنے کے لئے سیاق و سباق میں مربوط زمانہ ساز قرآنی آیات پڑھنے کے ذریعہ  بنیاد پرست نہیں بنایا گیا ہے  جیسا کہ  بعض اوقات فرض کیا گیا ہے ۔ بکری محمد انتہا پسندوں کو ایک مکمل داستان پیش کرتا ہے: زندگی، موت اور آخرت کا  ایک طریقہ،  جو کہ اسلامی تاریخ کی منتخب داستانوں کے ساتھ ساتھ آج کی عالمی سیاست کے ساتھ بھی منسلک ہے  ۔ مسلمان اس داستان میں  یقین رکھتے ہیں کیونکہ یہ مربوط اور مکمل ہے۔ لہٰذا متبادل کا بھی ایک مکمل طور پر تیار کردہ داستان ہونا ضروری ہے، جو اسلام کی تکثیریت پر مبنی اور پرامن تشریح کو  زندگی کے ایک بامعنی طریقے کے ساتھ جوڑ دے  اگر نہیں تو موت اور  آخرت کا بھی  ۔

 دوسرا طریقہ اس خاموشی کو ختم کرنا ہے جو   ‘‘مسلم ہونے کی حیثیت سے ’’ آج مسلمانوں کے لئے پیدا ہوتی ہے ۔ اگر ہم سب کے پاس ایک سے زیادہ تشخص ہے، تو ان میں سے کوئی  ایک یا کئی تشخص کا ایک بامعنی مجموعہ ہماری زندگی کی داستان اتحاد قائم کر سکتا ہے۔ لیکن بکری محمد اور ان جیسے لوگوں کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک یہ  ہے کہ انہوں نے" مسلم ہونے "کو  مسلمانوں کے لئے سب سے نمایاں شناخت بنا دیا ہے۔ بنیاد پرست مسلمان بنیادی طور پر خود کو صرف مسلمانوں کے طور پر دیکھتے ہیں اور کچھ اور کم ہی ، اور وہ خود کو برطانوی، امریکی، ہندوستانی ، سیاہ، سفید، غریب، امیر  وغیرہ بھی نہیں سمجھتے  ۔ نقطہ نظر کی  یہ انفرادیت ان کی بنیاد پرستی میں جبلی ہے ، اس کی ایک مثال جسے  نظریہ ٔ وجودیت کے فلسفی سارٹر نے "برا ایمان" کہا ہے۔ اگر صرف مسلمانوں کو  ان دوسرے تشخصات کا احساس کرایا جائے جن کے وہ پہلے سے ہی حامل ہیں تو اس کو تبدیل کیا جا سکتا ہے جو زندگی اور اخلاقی اقدار پر  نقطہ نظر کے متبادل مجموعے  کے ساتھ واقع  ہوتے ہیں  اور ان تشخصات کو ان کے ‘‘وجود ’’ میں ضم کرتے ہیں ۔

 در حقیقت نام نہاد "اعتدال پسند" یا "مرکزی دھارے میں شامل " مسلمان وہ  ہیں جو مسلمان ہیں لیکن وہ خود کو  مخلوط معاشرے  کے ارکان کے طور، کثیر ثقافتی ممالک کے شہریوں کے طور پر یا صرف ایک انسان کے طور پر وسیع تر لحاظ سے دیکھتے ہیں  ۔ وہ احساس کرنا ہے اور ان میں پر امن طریقے سے  تکثیریت کے ساتھ رہنا ہی  ہے جو  بنیاد پرست مسلمانوں کو  خارجی دنیا کے تعلق سے  ایک پرامن اور تکثریت پر  مبنی نقطہ نظر کا حامل بنا سکتا ہے ۔

 نیو ایج اسلام کے مستقل  کالم نگار سیف شاہین، یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن، امریکہ میں پالیٹکل کمیونیکشن  میں ریسرچ سکالر ہیں۔

URL for English article:

http://newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/saif-shahin,-new-age-islam/the-unbearable-heaviness-of-being-muslim/d/11747

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/saif-shahin,-new-age-islam--سیف-شاہین/the-unbearable-heaviness-of-being-muslim--مسلمان-ہونے-کا-ناقابل-برداشت--بوجھ/d/11948

 

Loading..

Loading..