New Age Islam
Wed Jun 10 2026, 07:21 AM

Urdu Section ( 3 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Muslims Needn’t Tell Hindus Who, Or What, They Are مسلمانوں کو ہندؤں کے بارے میں یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ کون ہیں ، اور کیا ہیں

سیف شاہین   ،   نیو ایج اسلام

30 دسمبر2012

( انگریزی سے ترجمہ  ۔   مصباح الہدیٰ  ،   نیو ایج اسلام )

حال ہی  میں  ایمن ریاض نے یہ ثابت کیا  ہے کہ مسلم ، یہودی اور عیسائیوں کی طرح ہندو بھی ‘‘ اہل کتاب ’’ ہیں ، یا اہل کتاب  کمیونٹی ہیں  ، جن تک وحی الٰہی پہونچی ہے  ۔ اس رائے زنی  کو محمد یونس کی دلیل سے اور وسعت  ملتی ہے جو ایک سال پہلے اس سرخی کے ساتھ شائع ہوئی تھی کہ ‘ ہندؤں کو قرآن میں ‘ مشرکین  ’  ( جو خدا کے ساتھ کسی  اور کو شریک کرتے ہیں  )نہیں کہا گیا ہے ۔ اس تحریر اور اس طرح کی دوسری  تحریر کا مقصد اسلام کو زیادہ جامع بنانا اور مسلمانو ں کو دوسرے مذاہب  ، خاص کر  ، ہندؤں کے تئیں زیادہ رودا ر نبانا ہے  ۔

میں اس قسم کی تجاویز اور مقاصد کی  بے  حد داد دیتا ہوں  ، اور اگر اس قسم کے دلائل  اور مباحث ان مقصد کے حصول میں معاون ثابت ہوں  جو انہوں نے متعین کیا ہے تو مجھے تعجب ہو گا ۔ دراصل مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اس کا نتیجہ بالکل بر عکس بھی ہو سکتا  ہے ۔

یونس صاحب نے اپنی  بحث کی بنیاد دو مقدمات پر رکھی ہے ۔ سب سے پہلے انہوں نے یہ ظاہر کرنے کے لئے  کہ وحدانیت  کا تصور مذہب میں غیر مانوس نہیں  ہے ،   اس لئے ‘‘قدیم سنتوں میں سے کسی نہ کسی کو خدا کے تصور کا الہام ضرور ہوا ہو گا  ، دوسرے لفظوں میں ، انہیں خدا کی وحی پہونچی ۔’’

دوسرا، انہوں نے آج کے ہندؤں کو نزول وحی کے زمانے کے بت پرستوں کے برا بر ظاہر کرتے ہوئے ، سوال کیا ہے  ، جن کے لئے درحقیقت قرآن میں ‘‘ مشرکین کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے  ، یہ  ظاہر  کرتے  ہوئے  کہ  منافقانہ کردار والے مسلم الگ نہیں ہیں ۔ جیسا کے ایسے مسلمان ‘‘  مشرک  ’’نہیں سمجھے جاتے ،اسی لئے ہندؤں کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

ریاض صاحب نے بھی اپنے دعویٰ کی دلیل میں دو بنیادی دلائل پیش کئے  ہیں ۔ پہلا ، گر چہ صرف چند  انبیاء کا ذکر قرآن میں ہے  ، یہ بات پوری وضاحت  کے ساتھ بیان  کی گئی ہے کہ پیغمبر تمام امت کی طرف بھیجے گئے تھے ۔ دوسرا یونس صاحب کی طرح ، ریاض صاحب نے بھی ، ہندؤں اور مسلمانوں کی مقدس کتابوں کے درمیان  بے شمار مماثلت  کا انکشاف کیا  ۔ ان کی دلیل ہے کہ ، یہ تمام مشابہات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہندو بھی اہل کتاب ہیں ۔

میں  اسلام کے بارے میں   اپنے محدود علم اور ہندوازم کے تعلق سے تھوڑی سوجھ بوجھ  کی بنیاد پر  نہ  ہی میں اس دعویٰ کی حمایت کر سکتا ہوں اور  نہ ہی اسے چیلنج  کر سکتا ہوں  ۔ لیکن  بہت ساری وجوہات کی بناء پر ، مجھے اس بات میں شک ہے  کہ وہ   ہندو  مسلم  تعلقات  کی بہتری میں معاون ہوں ۔

پہلی بات ہے کہ روایتی طور پر تسلیم شدہ اہل کتاب یعنی یہودیوں  عیسائیوں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات بہت خراب ہیں ۔ یہی وہ مذہبی گروہ ہیں جن کے ساتھ مسلمانوں نے اپنی پوری تاریخ میں انتہائی خونی جنگیں لڑی ہیں  ۔ صلیبی جنگ سے لے کر اسرائیل ۔فلسطین جنگ  تک ۔ دوسرے اہل کتاب کے غلبہ والے معاشرے میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ مسلم زیادہ  تر دہشت گردانہ کاروائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ یہ بات بھی یہودیوں اور عیسائیوں میں  زبان زد عام و خاص ہے کہ مسلمان اسلاموفوبیا کی بد ترین صورت حال  میں مبتلاء ہیں ۔ اس کے بر عکس تاریخی  اعتبار سے ایسی معاشروں کے ساتھ ان کے تعلقات   اچھے رہے ہیں جنہیں رویتی طور پر اہل کتاب نہیں کہا جاتا ، مثلاً ہندو اور بودھسٹ  ۔یہ مسئلہ ہنوز  ہے ۔

ان کے اپنے بد ترین دشمن

دوسری وجہ یہ ہے کہ ، اکثر  مسلمان  اپنے دشمن خود  ہوتے ہیں ۔فرقہ وارانہ تشدد مسلم معاشرے کے لئے ، یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ  جنگ سے زیادہ بڑی مصیبت  ہے ، اور یہ تسلسل کے  ساتھ جاری ہے ۔غیر مسلموں سے زیادہ سنیوں کے ہاتھوں شیعوں کا قتل ہوا ہے ۔ اسی طرح کے فرقے ، مثلاً احمدیہ کو اسلاموفوبیا یا دوسری قسم کے مذہبی تعصب سے کہیں زیادہ مسلم فرقوں کی دست درازیوں کا سامنا ہے ۔ یہاں تک کہ اسی سے ملتے جلتے پر امن معاشرے میں فرقہ وارانہ خونریزی جاری رہی ، جیسا کہ اس کا ظہور  عراق میں صدام حسین کے زیر ہو جانے کے بعد  ہوا  ۔پاکستان جسے مکمل اسلامی معاشرہ  سمجھا جاتا تھا  ،اب وہ اس بات کی مکمل مثال ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے کتنی سخت نفرت کر سکتا ہے  ۔اور ہم یہاں صرف مذہبی اختلافات کی باتیں کر رہے ہیں : جب ہم مسلمانوں کے درمیان نسلی تفریق پہدا کر دیتے ہیں تو  چیزیں اور بھی بری لگتی ہیں ۔

اہل کتاب ہونا مسلمانوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی کوئی  ضمانت نہیں ہے ۔ بلکہ خود مسلم ہونا اس قسم کی  امید نہیں جگاتا  ۔اس لئے ہندؤں کو خلاف قیاس اہل کتاب ثابت کر نا  ہندو مسلم  تعلقات میں  بہتری لانے کے  لئے ہے ۔در حقیقت اس  سے حالات اور بد تر ہو سکتے ہیں ۔اگر عام طور پر مسلمان یہ  یقین کرنا شروع کر دیں کہ  ہندو ‘‘ مشرکین  ’’ نہیں ہیں بلکہ وہ ‘‘ اہل کتاب  ’’ ہیں ،تو وہ ان سے یہ بھی امید لگا نا شروع  کر دینگے کہ وہ بتوں کے آگے عبادت  نہ کریں ، مزید برآں وہ ہندؤں سے یہ بھی مید لگا بیٹھیں  گے کہ  وہ شرک چھوڑ دیں اور‘‘  ایک سچے خدا ’’ میں یقین کرنا شروع کر دیں ۔

دراصل متشد مسلمان عام  طور  پر  ہندؤں کے خلاف ان کے عقائد اور معمولات پر جنگ نہیں کرتے ،بلکہ وہ مسلمانوں کو ہی مجرم گردانتے ہیں اور کچھ مسلمانوں کو ماردیتے ہیں  ، جیسے بریلوی ، ہندو معمولات پر عمل کرنے کی وجہ سے ، اس لئے کہ ہندؤں  کو  ایک مکمل دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والا سمجھا جاتا ہے ۔ہندوستان میں مسلم تشدد ، یہ یاد  ہونا چاہئے ، مسلمانوں کے خلاف حقیقی یا محسوس کردہ تفریق کی وجہ سے ہوا ہے کسی اور وجہ سے نہیں ۔ بہر کیف اگر  ایک بار مسلمانوں  نےیہ قبول کرنا شروع کردیا کہ ہندو ‘‘مشرکین ’’ نہیں بلکہ  اہل کتاب ہیں ، تو  مسلم معاشرے کے فرقوں  کو ہندؤں کو یہ بتاتے ہوئے کہ کس طرح  ابراہیمی عقائد کے مطابق انہیں اپنے مذہب پر عمل کرنا چاہئے  ، ہم آسانی کے ساتھ تصور کر سکتے  ہیں ۔ان کا ایسا نہ کرنا صرف مسائل کو طول دے گا اور غیر ضروری عداوت و دشمنی پیدا کرے گا ۔

جیسا کہ میں نے ابتداء میں ہی نشان دہی کی   کہ  ریاض اور  یونس صاحبان کا مقصد  مسلمانو ں کو  دوسرے مذاہب کے تئیں زیادہ ، اور ہندوازم کے تئیں خاص کر ،   روادار بنانا ہے ، جو کہ انتہائی قابل ستائش عمل ہے ۔ اسلام اور ہندوازم کے درمیان اصولی اور روحانی  خاکہ کھینچنا یکساں طور پر قابل تعریف ہے  ۔ لیکن ‘‘ مماثلت ’’  کا خاکہ کھینچنا اور   ‘‘ روابط ’’ کا خاکہ کھینچنا ایک جیسا نہیں ہے ۔ دونوں کے نتائج اور مطالب الگ الگ ہیں ۔ ایک مشابہت پیدا کر سکتا ہے ، اور  دوسرا یکسانیت ، یاکم ازکم یکسانیت کی امید پیدا کر سکتا ہے ۔ اگر  ان کی یہ امید پوری نہ ہوئی ، اور ہو بھی نہیں سکتی ، اس لئے کہ ہندؤں کو خود اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے  کہ وہ  ‘‘ اہل کتاب ’’  ہیں یا  ‘‘مشرکیں ’’ تو بغض  و  عداوت ، ظلم  و جبر اور خون ریزی پھوٹ پڑے  گا ۔

ہندؤں کے اہل کتاب نہ ہونے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔ اور ہندؤں کے ‘‘  مشرکین ’’ ہونے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔ ہندو کیا ہیں ، اور کیا نہیں  اس پر غور  و فکر  کرنا صرف انہیں کا کام ہے ۔ ہم جیسے مسلمانوں کو اس میں کچھ نہیں کہنا چاہئے ، اور نہ ہی یہ ہمارا کام ہونا چاہئے ۔

بہر کیف  ،  مسلمانوں کو یہ عقیدہ رکھنے میں  برائی  ہے کہ  انہیں تمام مشرکین یا غیر اہل کتاب یا تمام غیر مسلم یا  ایسے تمام مسلمانوں کو جن کا  تعلق  ایک خاص فرقہ سے نہیں ہے  ، ایک خاص مذہبی فریضہ کے طور پر مارنا ہے ۔ مجھ جیسے ، اور یونس اور ریاض صاحبان جیسے مسلمانوں کو  ان مسا ئل میں بولنا چاہئے ، اور مستقل ہمارا کام یہی ہونا چاہئے ۔

-----------

سیف شاہین یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن ، امریکہ، میں پالیٹکل کمیونی کیشن کے  ریسرچ اسکالر ہیں ۔ اور وہ نیو ایج اسلام کے لئے با قاعدہ طور پر مضامین لکھتے ہیں

URL for English article: https://newageislam.com/interfaith-dialogue/muslims-hindus/d/9837

URL: https://newageislam.com/urdu-section/muslims-needn’t-tell-hindus-who,/d/9871

Loading..

Loading..