New Age Islam
Wed Oct 20 2021, 02:58 PM

Urdu Section ( 16 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Forerunner of Our National Journalism ہماری قومی صحافت کا نقّاشِ اوّل

  صفدر امام قادری

16 ستمبر، 2021

ہندستان میں مغربی حکمرانوں کے توسط سے مختلف علمی وسائل ان کے سامراجی منصوبوں کا حصّہ بن کر کبھی اعلانیہ طور پر یا کبھی چپکے سے ہمارے سماج اورزندگی کا حصّہ بن گئے ۔اسکول ،کالج اور یونی ورسٹیوں کے متوازی پریس اور اخبارات و رسائل کی باضابطہ اشاعت اس متعین جدید کاری کا ایک حصّہ تھا جس کے زیرِ اثر نئے ہندستان کی تعمیر و تشکیل کے بعض پیمانے وضع ہوئے۔انگریزی مقاصد سامراجی نقطۂ نظر کے ساتھ واضح جبر اور استحصال کے حربوں سے لیس تھے جسے ہندستانی سماج کے فروغ کی بنیاد تو ہرگز نہیں کہا جا سکتا مگر یہ سچائی بھی پیشِ نظر ہونی چاہیے کہ اس محدود فیضان سے بھی ہندستانی عوام وخواص کو تھوڑے بہت ایسے مواقع حاصل ہوئے جن سے وہ آزادانہ طور پر خود کو کھڑا کر سکتے تھے۔ بےشک ان اشخاص میں اکثریت نے ذاتی استعداد کی بنیاد پر خود کو آراستہ کیاہوگا۔مگر اس سے کیسے انکار کیا جائے کہ یوروپی قوم کے اپنے مخصوص مقاصد کے لیے قائم کردہ اداروں سے ہی دیسیوں نے چنگاری چن کر ایک عالَم کو روشن کرنے میں کامیابی پائی۔

ہندستان میں صحافت کی بنیاد انگریزی حکمرانوں کی کوششوں سے پڑی۔جیمس اگسٹس ہکی نے 29 جنوری 1870 ء کو’’ ہکیز بنگال گزٹ‘‘ کے عنوان سے جو چار صفحات کا ایک پرچہ شایع کیا،اسے اس ملک میں صحافت کا پہلا نمونہ تسلیم کیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ اس سے ڈیڑھ سو سال پہلے فرانس اور انگلینڈ سے اخبارات شایع ہونے لگے تھے جس سے اہالیانِ یورپ کی جدید تعلیمی سرگرمیوں میں اوّلیات بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ہکّی کے گزٹ نے ہندستان میں صحافت کے بہت سارے اصول و ضوابط متعئن کر دیے ۔ہکی کے نقطۂ نظر کو اس کے ان جملوں سے واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے:

ــ’’میری پرورش بھی اس طرح کی نہیں ہوئی ہے کہ میں محنت و مشقت کی غلامانہ زندگی کا عادی بن سکوں  لیکن ان سب باتوں کے باوجود روح و دماغ کی آزادی خریدنے کے لیے میں اپنے جسم کو بہ خوشی غلام بنا رہا ہوں۔‘‘

’’ یہ ہفتہ وار سیاسی وتجارتی اخبار ہے جس کے صفحات ہر پارٹی کے لیے کھلے ہیں لیکن اخبارکو کسی پارٹی سے تعلق نہیں ہے۔‘‘

یہ دونوں اصول اس بات کے شاہد ہیں کہ ہندستانی سماج میں جو پہلا اخبار شایع ہوا، اس کے مدیرکے سامنے آزادیِ اظہار اور حکومتی نابستگی کے اصول واضح تھے۔ہندستان میں صحافت کے مورخین نے اس عہد کے یوروپین افراد کی زندگی اور کلکتے کے معاشرتی ماحول کے نشیب وفراز کو سمجھنے کے لییاس نقشِ اوّل واضح کی ہے۔ خاص طور پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے اہل کاروں کے سلسلے سے ایک تنقیدی رائے رکھنے کی وجہ سے اِس اخبار کو اُس سماج کا آئینہ تسلیم کیا گیا ہے۔ ہکی کی صحافیانہ شخصیت میں ایک بے اعتدالی بھی تھی اور بعض مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ وارن ہیسٹنگز کے مخالفین کہیں نہ کہیں ہکی اور اس کے اخبار کو حسبِ ضرورت آلۂ کار بنا رہے تھے۔

ہکی کو حکومت کے عتاب در عتاب میں مبتلا رہنا پڑا ۔کئی بار جیل کی سزا ، اخبار اور پریس کی ضبطی اور ضمانت کے مسائل نے ایسا الجھا دیا کہ انھیں اپنی صحافتی زندگی کو سمیٹ لینا پڑا۔ہندستانی اخبار نویسی کا یہ پہلا سبق کچھ اس قدر باعثِ ترغیب رہا جیسے یہ لازم تسلیم کیا جائے کہ اخبار نویسی اور حکومت سے ٹکراؤ لازم ہے ۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ صحافت آزادیِ اظہار اور حکومتی جبر سے آزادی کااگر ذریعہ ہے تو اسے نباہنا بے حد مشکل ہے۔شاید اسی وجہ سے اُس دور کے متعدد اخبارات سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے رشتے اچھے نہیں تھے اور جب جب کمپنی کے لیے گنجائش ہوتی، وہ انھیں اپنا شکار بنانے کی کوشش کرتی۔ اس میں یورپ سے تعلق رکھنے والے ایڈیٹر اصحاب بھی شامل تھے جنھیں ہکی کے بعد سرکار مخالف صحافت کے عوض جیل جانا پڑا ۔اسی مرحلے میں اس بات کے امکانات روشن ہوئے کہ ہندستان میں صحافت عوام و خواص کے تصّورات کی ترجمان بن کر اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے سامنے آ سکتی ہے۔

انگریزی کے ساتھ ہی ہندستان کی متعدد زبانوں میں صحافت کے امکانات بہ تدریج روشن ہوتے گئے۔ ہکی کے اخبار سے ’جامِ جہاں نما‘ تک؛ نصف صدی کا ایک مختصر عرصہ بھی گزرا تھا مگر ہندستان کے طول و عرض میں صحافت ایک باضابطہ پیشے کے طور پر اُٹھ کر سامنے آتی ہے۔ گجراتی، مراٹھی، فارسی کے ساتھ ساتھ اردو کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ آزادیِ اظہار اور مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے مادری زبان اور دیگر کاروباری زبانوں کی جانب لوگوں نے ہاتھ بڑھائے۔ اسے یوں نیک شگون کہا جاسکتا ہے کہ بعد کے عہد میں صحافت نے بالعموم اور اردو صحافت نے بالخصوص اپنا جو قومی مزاج ثابت کیا؛ اس کے لیے یہ لازم تھا کہ انگریزی زبان سے اور اس کی تربیت سے ہمارا راستہ تبدیل ہو۔ ہمیں معلوم ہے کہ’ جامِ جہاں نما ‘بھی اولاً اردو اخبار نہیں تھااور فارسی زبان میں ہی اس کی اشاعت ہوتی تھی مگر بہت جلد اخبار نے اس عوامی ضرورت کو سمجھنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی جس کی شناخت ہم اردو جیسی عوامی زبان سے کر سکتے ہیں۔ اخبار نے اولاً ضمیمہ جات شایع کیے اور پھر یہ ایک مقصود بالذات اردو اخبار کے طور پر شایع ہوکر مقبول ہونے لگا۔ ابتدا میں اس اخبار پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا ٹھپہ بھی لگا رہاجس کی وجہ سے صحافت کے مورخین نے اس کی آزادانہ شناخت پر کہیں کہیں سوالات بھی قائم کیے مگر محض پانچ چھے برسوں میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی بیڑیوں سے بھی یہ ادارہ آزاد ہوگیا۔ مختلف مورخین نے اس کے شماروں کے جو نمونے اور اندراجات کے جو اشاریے تیار کیے ہیں،اس کی روٗ سے عتیق صدیقی کے لفظوں میں کہیں تو یہ اخبار عمرِ نوح لے کر سامنے آیا تھا۔ ’’اخترِ شاہنشاہی‘‘کے مطابق اس کی تالیف کے وقت 1888ء میں یہ اخبار جاری تھا۔

’جامِ جہاں نما ‘سے ’دہلی اردو اخبار‘یعنی 1837-1836 ء تک کا سفر یوں تو پندرہ برسوں کا ہے مگر اس دوران ہندستان کی صحافت کی پوری دنیا بدل چکی تھی۔ قومی قوانین کی تبدیلی اور دیسی زبانوں کے آزادانہ فروغ کے مواقع اپنے آپ پیدا ہورہے تھے۔ اس دوران یہ بھی ہوا کہ اردو صحافت بنگال سے نکل کر ملک کے طول و عرض میں پھیلنے لگی تھی اور جغرافیائی اعتبار سے اس کا مزاج قومی ہونے لگا تھا۔ ان تمام تبدیلیوں کے لیے کسی ایک نمونے کی پہچان کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت ہمیں دہلی اخباراوردہلی اردو اخبار کی طرف توجہ کرنی ہوتی ہے جسے مولوی محمد باقر نے تقریباً بیس برسوں تک شایع کیا۔ ابتدائی دور کی وہ تمام بحثیں جن میں اس اخبار کے لیے اردو کا سب سے پہلا نقش تسلیم کیا گیا تھا، متعدد شہادتوں کے بعد باطل ہوچکی ہیں۔ مولوی محمد باقر کے صاحب ز ادے محمد حسین آزاد کے اولیت کے سلسلے سے دعوے کا لعدم قرار دیے جاچکے ہیں۔ مگر 1857ء سے پہلے کے اردو اخبارات کی تاریخ اس ایک بات کی لازمی شہادت دیتی ہے کہ مدیر کی حیثیت سے ان دو ڈھائی دہائیوں میں اگر کوئی ایک شخصیت قدِ آدم شبیہ کے ساتھ ہمارے پیشِ نظر ہوتی ہے تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ مولوی محمد باقرہی ہیں۔ اردو کے طالب علم کے لیے مولوی محمد باقر کی شناخت کے دو اور واضح پیمانے ہیں۔ ایک تو یہی کہ وہ ہماری زبان کے صاحبِ طرز ادیب محمد حسین آزاد کے والد محترم ہیں ؛ اسی کے ساتھ وہ شیخ محمد ابراہیم ذوق کے ہم مشرب بھی ہیں۔ دہلی کالج سے بہ طور طالب علم اور استاد مولوی محمد باقر کا تعلق اہمیت کا حامل ضرور ہے مگر غدر میں ان کی زندگی کا انجام کچھ ایسے سامنے آیا جس نے نئے سرے سے باقر کو ، ان کی صحافت اور دیگر سرگرمیوں کو سمجھنے کا پس منظر عطا کیااور اب تاریخی اعتبار سے یہی حیثیت سب سے مقدّم ہے۔

 دہلی کالج، ٹیلر اور مولوی محمد باقر

مولوی محمد باقر کی زندگی کے حوالے سے ایک انگریزشخص ٹیلرکا تذکرہ آتا رہاہے۔ٹیلر کا مکمّل نام فرانسس ٹیلر تھا۔دہلی کالج کے قیام اور اس کی ترقی کے معاملات میں ٹیلر کی بنیادی حیثیت تسلیم کی گئی ہے۔1825ء میں جب دہلی کالج کی بنیاد رکھی گئی، ٹیلر کو کالج کا سپرنٹنڈنٹ بنایا گیا۔ان کی تنخواہ ڈیڑھ سو روپے مقرر ہوئی۔1828 ء میں تین برس بعد ٹیلر کی تنخواہ میں ڈیڑھ سو روپے کا اضافہ کرکے اسے ماہانہ تین سو روپے دیے جانے لگے۔1825ء میں ہی مولوی محمد باقر بہ حیثیتِ طالب علم دہلی کالج میں داخل ہوئے ۔دونوں کے درمیان اسی دور میں ایک دوستانہ تعلق قایم ہوگیا ۔پھر 1828 ء میں وہ دہلی کالج میں بہ حیثیتِ مدرس منتخب ہوئے۔اس ملازمت میں بھی ٹیلر کی معاونت شامل رہی۔ٹیلر نے مولوی محمد باقر کی مدرسی کے دوران ان سے اردو اور فارسی زبانیں سیکھی تھیں۔

ٹیلر اور مولوی محمد باقر کے درمیان کی قربت اورخصوصی رشتے کوکئی ذرایع سے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔دہلی کالج میں قایم چھاپا خانہ فروخت کرنے کے لیے دفتری طورپر جب طے ہو گیا تو ٹیلر نے مولوی محمد باقر کو اُسے خرید لینے کا مشورہ دیا۔اصل قیمت سے بہت کم رقم پر یہ پریس بیچا گیا۔ٹیلر کے مشورے سے ہی مولوی محمد باقر نے ایک نیلام گھر بنوایا تھا ۔یہ نیلام گھر ہفتے میں ایک بار لوگوں کے لیے کاروباری طور پر کام کرتا تھا۔ اس روز تاجر اپنے نئے سامانوں کے ساتھ آتے، وہاں قیام کرتے اور پھر ملک اور بیرونِ ملک کے سامان بالخصوص عجائبات خریدے اور بیچے جاتے تھے۔مولوی باقر نے ٹیلر کے مشورے سے ہی اپنے صاحب زادے محمد حسین آزاد کا داخلہ دہلی کالج میں کرایا تھا۔

ٹیلر کا 1825 ء سے 1840 ء تک بہ حیثیت سپرنٹنڈنٹ دہلی کالج سے تعلق رہا۔ اس کے بعد بھی وہ قایم مقام پرنسپل کے طور پر کئی بار دہلی کالج سے متعلق ہوا ۔جب تک دہلی کالج سے ٹیلر کا کسی نہ کسی جہت کا رشتہ قایم رہا، مولوی محمد باقر کا بھی کالج سے رسمی یا غیر رسمی تعلق قایم رہا۔محمد اکرام چغتائی نے واضح لفظوں میں لکھا ہے کہ اشپرنگر کے دورِ پرنسپلی میں مولوی محمد باقر کا کالج آنا جانا بند رہا۔ٹیلر کے بارے میں دہلی ارود اخبار میں متواتر خبریں شایع ہوتی رہتی تھیں۔ان اطلاعات سے دونوں کے دوستانہ مراسم پورے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔1853 ء میں جب فرانسس ٹیلر نے انگلینڈ جانے کے لیے کالج سے رخصت حاصل کی،اس وقت دہلی کالج کے اسٹاف اور طلبا کی جانب سے ایک اعزازی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقعے سے ٹیلر کی تعلیمی خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کیا گیا۔اس موقعے سے ٹیلر کے کارناموں کے بارے میں ایک مکمل عرض داشت پیش کی گئی۔ بعد میں وہ دہلی اردو اخبار میں تقریباً دو صفحات میں شایع کی گئی۔اس سے بھی ٹیلر اور ایڈیٹر دہلی اردو اخبار کے درمیان قریبی رشتے کو سمجھا جا سکتا ہے۔

مولوی محمد باقر بے شک دہلی کی تہذیبی و ثقافتی زندگی میں مرکزیت رکھتے تھے اور ان کا اخبار شمالی ہندستان کا پہلا اخبار تھا ۔ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی ان کا رُعب انگریزوں اور ہندستانیوں میں قایم تھا مگر شخصیت میں تعجیل پسندی اور زور آوری بنیادی حیثیت رکھتی تھیں۔کسی بھی کام میں بھڑ جانا اور مخالفین کو ان کے انجام تک پہنچا دینا ؛ان کے مزاج کا حصّہ تھا۔اس عہد میں صحافت واقعی بڑی چیز تھی اور اس سے ان کی سماجی حیثیت بھی بلند و بالا ہوئی۔مگر صحافتی کج رویاں اور حالات کے جبر میں ’’جوابِ آں غزل‘‘ پیش کرنے کی ان کی خصوصیت نے کئی بار صحافت کے غیر متوازن انداز کو آزمانے پر مجبور کیا ۔ممکن ہے، اس میں ٹیلر کی حکمتِ عملی کا بھی تھوڑا بہت دخل ہو مگر یہ سچائی مانی جائے گی کہ مولوی محمد باقر نے اپنی صحافیانہ زندگی میں کبھی کبھی صحیح راستے سے ہٹ کر مصلحت کو شی کو بھی اپنا شعار بنایا۔

دہلی اردو اخبار:اردو صحافت کا معیار ساز

یہ بات طے شدہ ہے کہ دہلی اردو اخبار نے اردو زبان کو صحافت کے آزادانہ طور پر معیار طے کرنے کے لیے مواقع فراہم کیے۔دہلی اردو اخبار سے پہلے جو اخبارات شایع ہو چکے تھے ،ان سب کے مقابلے میں اس اخبار نے معیار کا دعویٰ کیا۔اس زمانے کے سب سبے مہنگے اخبارات میں اس کا شمار ہوتا تھا ۔بیس روپے سالانہ اس عہد کے اعتبار سے بڑی رقم تھی۔شاید یہی وجہ ہو کہ یہ اخبار خواص میں اپنی زیادہ شناخت رکھتا تھا۔یوں بھی اخبار پڑھنے والا طبقہ غدر سے پہلے نہایت خاص اور بہ حیثیت طبقہ ہوتا ہوگا۔ہندستان میں تعلیم مٹھّی بھر لوگوں کے پاس تھی جو اخبار پڑھ سکتے تھے۔مولوی باقر کا اختصاص کئی اسباب سے واضح ہے۔ان کا خاندان تعلیم یافتہ تھا اور تصنیف و تالیف کا وہاں سلسلہ ان سے پہلے سے موجود تھا۔اس عہد کے مطابق اعلا تعلیم کے جو وسائل دہلی میں موجود تھے ،وہ اسی کے فیض یافتہ تھے۔ہندستانیوں کے ساتھ ساتھ انگریزوں سے ربط ضبط ہونے کی وجہ سے نئی دنیا کا ایک خاکہ ان کے ذہن میں رہا ہوگا۔تدریس کی ذمہّ داریوں سے فراغت اور سرکاری ملازمتوں سے بےرخی کے ادوار گزارتے ہوئے وہ پوری تیاری کے ساتھ میدانِ صحافت میں وارد ہوئے تھے۔پریس پہلے بٹھا لیا تھا ۔ہندستان کے سیاسی،سماجی اور تعلیمی ماحول سے بھی وہ پورے طور پر واقف تھے۔اس لیے جب مولوی محمدباقرمیدانِ صحافت میں آئے تو ان کے کام نو آموزوں کی طرح نہیں تھے۔

16 ستمبر، 2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/forerunner-national-journalism/d/125371

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..