سعید نقوی
3دسمبر،2023
جب اسرائیل غزہ کی جنگ
ختم ہوجائے گی تو اسرائیل کو اپنے وجود کے سوال کا سامنا کرنا پڑے گا کہ اسے خطے کے اندر وباہر ہم آہنگ ہونے کے لئے
اپنا روپ تبدیل کرنا چاہئے یا پرانے طریقہ کار پر عمل جاری رکھنا چاہئے، یہ اس کے
لئے بڑا سوال ہے؟ 15/دنوں کی بمباری میں اسرائیل کے ذریعہ ایک دانت کے بدلے ایک
جبڑا کا انتقام صرف امریکہ کے مکمل مدد سے ہی ممکن ہوسکا ہے۔آج برکس میں اس کے
ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے جب کہ جی 7 /اسرائیل۔غزہ تنازعہ کے معاملے پر بھی ٹوٹ پھوٹ
کا شکار ہے۔جی 7/ کو بے چین رکھنے کے لئے کیا ہدف ہوسکتاہے؟ کون جانتا ہے کہ
اسلامی دہشت گردی غزہ کی راکھ سے اوپر کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ یہ قیاس آرائی قابل فہم
ہے۔ نئی دہلی میں اسرائیلی سفیر نور گیلون کے ذریعہ اسلام کے خطرے کو دوبارہ زندہ
کرنے کا اقدام پہلے ہی کر چکا ہے۔کافی تگ ودو کے بعد اسرائیلی سفیر نے اس منصوبے
کے لئے ہندوستان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس نے لشکر طیبہ کو ایک دہشت گرد
تنظیم کے طور پر تسلیم کرلیا۔ اس طرح اس نے پاکستان کی آنکھوں میں دو انگلیاں ڈال
دیں۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ اس سے نئی دہلی اس قدر خوش ہوجائے گا کہ اسے حماس کو
دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر مجبور کیا جاسکتاہے۔ دوسرے الفاظ میں اسرائیل پاکستان
کے لشکر طیبہ کو دہشت گرد قرار دیتا ہے لیکن ہندوستان حماس کے لئے اسی طرح کے
الفاظ سے گریز کرتاہے۔ میڈیا، خاص طور پر مغربی میڈیا سے اس موجودہ شکل میں یہ
توقع نہیں کی جانی چاہئے کہ وہ نئی دہلی کے اس ابہام کے بے شماردلائل پیش کرے گا۔
اسرائیلی سفیر کا اقدام یوکرین کے سفیر کے ذریعہ یوکرین میں روسی فوجیوں کی موجودگی
کو بیان کرنے کیلئے تفصیلات سے بہت کم ہے۔
اسرائیلی اقدام ایک ایسے
وقت میں سامنے آیا جب حماس پہلے سے کہیں زیادہ خبروں میں تھی اور غزہ بھی اسی طرح
خبروں میں ہے جس کانظارہ اس قدر خوفناک ہے کہ اسرائیل کے ذریعہ اپنے بیانیہ کو
فروخت کرنے کو ناقابل یقین حد تک غیر حساس بنادیا۔ پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد
میں ٹیلی ویژن کے ناظرین حماس اور فلسطینی مزاحمت کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ
سب فلسطینی اتھارٹی کے رہنما محمود عباس کے لیے انتہائی شرمناک ہونا چاہئے، جسے امریکہ او راسرائیل
رہنما کے طور پر تھوپنا چاہتے ہیں۔غزہ میں زخمی بچوں کو اپنے بازوں میں اٹھائے
ہوئے مرد اور معمولی سامان لے کر نقل مکانی کرنے والی خواتین ہسپتالوں پر بمباری
کے خوفناک مناظر غزہ کی بے کسی بیان کرتے ہیں۔ ان مصائب کا سامنا کرنے والے محمود
عباس کو نہیں جانتے۔
عالمی نظام کو تباہ کرنے
کی آخری کوشش کے طور پر ’اسلامی دہشت گردی کو زندہ‘ کرنے کے خیال کے کئی حامی
موجود ہیں،لیکن اس کی ابتداء کا سہرا سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو
جاتاہے۔ وہ روس کے ساتھ جھگڑے کے سخت مخالف تھے،کیونکہ ان کی دلیل کے مطابق یورپ
اس سے تقسیم ہو جائے گا۔ اسلامی انتہا پسندی ایک وسیع اتحاد کو راغب کرتی ہے جس
میں ان کے مطابق روس او ر چین شامل ہوں گے۔آخر کار، مؤخر الذ کر دوممالک کے قفقاز
اور سنگیانگ میں اپنے ’مسلم مسائل‘ تھے۔
عراق میں جنگ کے لئے
بلیئر نے سرکاری دستاویز میں جعلسازی کی او راس میں کامیاب رہے۔بلیئر نے خبر دار
کیا تھا کہ مغرب، شام میں جنگ میں داخل نہ ہونے کی بھاری قیمت ادا کرے گا۔ بلیئر
جارج ڈبلیوبش کے دور سے امریکہ کے واحد سپرپاور لمحہ کے باقیات کی مانند
تھے۔درحقیقت بش، بلیئر اور آسٹریلوی وزیراعظم جان ہاورڈ کا اینگلو سیکسن گروپ نے
نائن الیون کے بعد اسلامی دہشت گردی کے بیانیہ کو یونین کے متبادل کے طور پرفروغ
دیا۔آسٹریلیا،برطانیہ او رامریکہ پر مشتمل اتحاد آکس میں یہی ممالک ہیں۔ یہ تصور
2008 ء میں لیہمن برادرز کے زوال تک درست معلوم ہوتاتھا۔ فرانسس فوکویاما کی تاریخ
کا خاتمہ غلط ثابت ہوا۔
نائن الیون کے بعد کے
اسلاموفوبیا کے آثار 1973 ء کی یوم کپور جنگ سے مل سکتے ہیں جب عربوں نے تیل کی
قیمت کو چار گنا کرنے کے لیے خلیجی ریاستوں کو خود اعتمادی دلانے کے لیے بہت اچھا
اقدام کیا۔ پیٹروڈالر سے بھری جیبوں کے ساتھ عربی شیخ بارش دیکھنے لندن پہنچ
گئے۔سیووئے او رڈور چیسٹر جیسے ہوٹلو ں کی لابی میں مکمل بکنگ کے نوٹس لٹکے ہوئے
تھے، یہ سب شیخوں نے بک کروائے تھے۔ مارکس اور اسپینسر نے عربی میں سائن بورڈ
لگائے۔ساول رومہنگی قیمت فروخت ہوچکا تھا۔عیسائی دشمن قلعہ میں داخل ہوچکے
تھے۔انہیں پریشان کرنے کیلئے پبلشرز نے وی ایس نائپال اور سلمان رشدی کو پیشگی بڑی
رقم دے کر کتابیں لکھوائیں۔خلیجی ریاستوں کی ترقی پذیر معیشتوں نے بنیادی طور پر
کیرالہ سے ہندوستانی مزدوروں کو راغب کیا۔ ریاست کے صاف ستھرے افق پر دوبئی باؤس
بننا شروع ہوگئے۔ مسلمانوں کے ذریعہ خوشحالی کے حصول کی ناراضگی فرقہ واریت میں
تبدیل ہوگئی۔ یہ اس وقت ہوا جب جنرل ضیاء الحق نے پاکستان میں نظام مصطفی کو جنم
دیا۔میناکشی پورم سے تبدیلی مذہب کے جھٹکے آرہے تھے اور ان سب باتوں نے مقامی طور
پر فرقہ واریت کو فروغ دیا جو وقتاً فوقتاً عالمی اسلاموفوبیا کے ساتھ وابستہ او
رایک دوسرے کو تقویت دینے لگا۔ یہ گہرا ازعفران تھا جس پر اکتوبر 2001 ء میں
نریندر مودی گجرات میں اقتدار میں آئے۔اسی سال 18 /اکتوبر کو افغانستان میں امریکی
بمباری شروع ہوئی۔ کابل پر راکٹ حملوں کی خبر میڈیا میں بھری ہوئی تھی، جس نے
اسلاموفوبیا کے آسمان کو بلند کردیا۔ اسی سایہ میں فروری 2002ء کے گجرات قتل عام
کو بین الاقوامی سطح پر توثیق حاصل ہوتی نظر آئی۔ ہندوتوا نے سوچا کہ دہشت گردی کے
خلاف جنگ سے اس کو ترقی میں مدد ملے گی،لیکن جلد ہی یہ محسوس ہوا کہ دہشت گردی کے
خلاف جنگ نے مزید دہشت گردی پیدا کی۔ جامع عالمی تسلط کے خواہاں نو قدامت پرستوں
کی مدد سے واشنگٹن کی دہشت گردی کے خلاف تیز جنگ کا آغاز افغانستان سے ہوا۔لیکن امریکہ
کو اسی ملک سے رخصتی پر بڑے ہی برے طریقہ پر مجبور ہونا پڑا جس پر اس نے 20/سال سے
قبضہ کررکھا تھا۔اب تک امریکہ کا زوال،چین کا عروج، ایک کثیر قطبی دنیا کا ابھرنا،
جی 7/ کاکمزور ہونا او ربرکس کاپھیلاؤ یہ سب پریشانی کا باعث تھے۔ افغان شکست کے
بعد یوکرین۔روس سرحد تک نیٹو کی مغرب کی طرف توسیع ایک اور جنگ کے لئے اشتعال بن
گئی۔روس کو گھٹنو ں کے بل لانے،پوتن کی ناک کو زمین پر رگڑنے اور امریکی تسلط کو
زندہ کرنے کی باتیں کی گئیں، تاہم فتح ایک بار پھر امریکہ کے ہاتھ سے نکل گئی۔ یہ
سب اسرائیل اور غزہ کے درمیان موجود دور کو فوری طور پر نتائج کے ساتھ متاثر کرتے
ہیں۔ یا تو دوریاستی حل کی طرف آغاز اسرائیل کے بارے میں عربوں کے نقطہ نظر کو نرم
کرے گا۔ یا اسرائیل امریکی تسلط کی حمایت کا طلبگار رہے گا جو زوال کا شکار ہے۔
3دسمبر،2023، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی
--------------
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism