New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 01:48 AM

Urdu Section ( 17 Apr 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

‘Muslims Attack’ another Revered Shrine in Damascus یہ کیسی درد ناک ستم ظریفی ہے

 

سعید نقوی

15 اپریل، 2013

آئندہ چند دنوں میں کروڑوں مسلمان، اپنے اپنے طور پر جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خاتون  جنت حضرت فاطمہ الزہرا علیہ السلام  کے یوم وفات اور یوم پیدائش  پر ان کی یاد میں خصوصی مجالس  منعقد کریں گے ۔ لیکن دوسری جانب اسی دوران ، ملک شام کے دارالسطنت دمشق کے آس پاس آپ کی صاحبزادی حضرت زینب علیہ السلام بنت علی علیہ السلام کی عالمی شہرت یافتہ ‘مقدس یادگار’ یعنی  آپ کا روضہ مبارک بھاری خطرات کی زد میں ہوگا۔ یہ حیرت انگیز الزام لندن کے اخبار ‘انڈی پنڈنٹ’ کے رابرٹ فسک کا ہے جو اس خطرہ  کو سلفیوں کے مورٹار حملوں سے منسوب کرتا ہے۔

یہ پریشان کن خبر چند دنوں قبل گردش کررہی تھی لیکن جیسا کہ سخت گیر عناصر کا دعوی ٰ ہے ، روضہ مبارک کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ فسک کا کہنا ہے کہ ‘ مورٹا ہمارے ارد گرد گرج رہے تھے، لیکن ان حملوں میں  چوکور پتھر وں سے تعمیر  روضہ جوں کا توں محفوظ رہا۔ باہر سڑک کے کنارے T-72 ٹینک اور حکومت  کےفوجی جوان  کھڑے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ تصور آج کی ہے۔ کل کیا ہوجائے گا کچھ یقین کے ساتھ نہیں  کہا جاسکتا ۔ یہ شرارت  ، جس کی منصوبہ  بندی دمشق میں ہو رہی ہے، اس سلسلہ کی کڑی ہے جس کے سبب بامیان  بدھا اور ٹمبک ٹو کی یادگار وں کو تباہ کیا  گیا۔ لیکن یہاں ایک بڑا اور واضح فرق بھی ہے۔ بامیان اورٹمبک ٹو ک واقعات  تھے ۔ جب کہ دنیا کا قدیم ترین اور تسلسل  کے ساتھ جاری رہنے والا شہری مسکن  دمشق  ، کچھ  عرصہ سے طوفان کی زد میں ہے۔

اور یہ سب کچھ اس وقت ہورہا ہے جب اقوام متحدہ  کی سلامتی کونسل کے ‘امراء ’ گزشتہ  دو سالوں سے کھلی آنکھوں سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ کیا عالمی برادری  کے قائدین اس وقت بھی اسی طرح غیر حساسیت  کا مظاہرہ  کرتے اگر  اسپین میں سینٹیاگو کمپو سٹیلا محاصرہ میں ہوتا ؟ یقیناً نہیں۔ آپ دیکھئے کہ جب ایک انتہا  پسند خیالات  کے حامل  آسٹریلیائی نے 1960 کی دہائی میں مسجد اقصیٰ میں آگ لگائی تھی تو یروشلم  کی بلدیہ  نے غیر ملکی صحافیوں  کے ایک وفد کو مشاہدہ  کے لئے بلا کر یہ دکھایا تھا کہ اسرائیل نے مسجد  اقصیٰ  کا کس طرح تحفظ  کیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے مسجد  کی بھرپور حفاظت کی تھی۔ جب اٹلی  کی نشاۃ ثانیہ  کے  معروف مجسمہ  ساز اور شاعرہ  انجینئر مائیکل اینجلو کے شاہ کار کی سینٹ  پیٹرس میں بے حرمتی کی گئی توپوری  دنیا میں اس پر بلا تفریق  مذاہب،  زبردست غم و غصہ ظاہر کیا گیا۔ اب کیا وقت  آگیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم  کی نواسی کی یادگار کی بے حرمتی  پر مجرمانہ خاموشی  کا مواز نہ  کیسے کیا جائے؟ کیا مسلم دنیا کے ایک بڑے طبقہ میں پائی جانے والی یہ خاموشی ہمیں  متحیر  کرتی ہے؟  ایک خوفناک حقیقت کو دھندلا نہیں ہونے دیا  جانا چاہئے : دمشق  کی بے حرمتی کے مرتکبین ، مسلمانوں  کے اس طبقہ  سے ہونے کا دعویٰ  کرتے ہیں کہ جس کو جنت کی حوروں کیلئے تخلیق  کیا گیا ہے۔کیا آپ کو وہ مافوق الفطرت مخلوق یاد ہے کہ جس نے دھمکی  دی تھی کہ اگر شہر میں بسنت کے تہوار کو رنگوں اور پتنگوں  کے ذریعہ منایا گیا تو لاہور  کو جہنمی  پتھروں  کی بارش  سے تباہ کردیا جائے گا۔ اس رواج  کو اسی طرح کے مختلف الخیال لوگوں نے غیر اسلامی قرار دیا تھا جو ‘شام ’ ‘ عراق’ لیبیا’ افغانستان او رمالی میں  سرگرم ہیں۔ میرے ایک شاعر دوست اس حقیقت سے راحت محسوس کرتے ہیں کہ اس قسم کے  گروپ ، ادب  کو کبھی  متاثر نہیں کرسکیں گے، سوائے دہشت گردی کے واقعات  پر مبنی خوفناک قسم کی فلموں کے ۔ جب کہ 680 عیسوی  میں ساحل فرات پر کربلا کی جنگ میں اپنے بڑے بھائی حضرت امام حسین  کے ساتھ حضرت زینب کے واضح کردار نے اردو ادب میں عظیم  شاعری  کو متاثر کیا۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے محض  48 برس بعد  ظہور پزیر  ہونے والا معرکہ کربلا ایک  افسانہ کی حیثیت  سے نہیں بلکہ حق و باطل  کے درمیان  ہونے والے معرکہ  میں حق کی فتح  کے طور پر زندہ  تابندہ  ہے۔ اس معرکہ  نے سلطنت  او رنمونہ عمل کے درمیان  فطری  تنازعہ  کے تجسس کے دروازے کھول دئے ۔ جوش ملیح آبادی جیسے روایت شکن  او رمادہ  پرست شاعر نے کربلا کے مفہوم  کو انتہائی جامعیت ساتھ  یوں بیان کیا ہے:

کوئی کہہ دے یہ حکومت  کے نگہبانوں سے

کربلا ایک ابدی جنگ ہے سلطانوں سے

کربلا پر زیادہ صاف ستھری رزمیہ  شاعری، مرثیہ نگاری  کی شکل میں  موجود ہے جو حضرت امام حسین، حضرت زینب اور ان کے اہل  قافلہ کے احوال  بیان کرتی  ہے۔ اس معرکہ  میں مردوں  کو تو شہید  کردیا گیا لیکن  عورتوں کو ، بہ شمول حضرت زینب  ’زنجیروں میں جکڑ کر ایک طویل سفر کے ذریعہ  دمشق میں اموی  دربار تک  لے جایا گیا۔ اس طویل ، دشوار گزار  او رمصائب  سے بھر پور سفر نے حضرت زینب  کو اپنے فن خطابت اور اپنی کرشماتی شخصیت  کو ظاہر کرنے کا سنہری  موقعہ دے دیا۔یقینی طور پر معرکہ کربلا’ عراق میں ساحل فرات  پر دفن ایک کہانی بن جاتا لیکن  حضرت زینب  کے استثنائی جوش خطابت کے سبب  واقعہ  کربلا اسلامی  تاریخ  کا ایک اہم باب بن گیا۔ اس معرکہ نے حضرت  زینب  کو دنیا کی اولین  جنگی مورخ خاتون کا اضافی لقب بھی عطا کردیا۔ معرکہ کربلا کو ہر سال محرم کے طور پر جس انداز  میں منایا جاتا ہے  ، کو سووا کی 1389 کی جنگ کی یاد کو سربوں  کے ذریعہ  منائے جانے میں اس کی مماثلت  پا ئی جاتی ہے۔ ان دونوں مثالی واقعات  میں شکست  کو دراصل اعلی او رماورائی  فتح  تصور کیا جاتاہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بنوامیہ کی فوج کے ہاتھوں  حضرت حسین کی شہادت نے ان گمراہ عقائد  کی تطہیر کردی جوابدی پیغام کے آنے کے محض  چالیس  برسوں میں در آئے تھے ۔ سربیائی اس لئے معرکہ کو سووا کا جشن مناتے ہیں کہ ظاہری  طور پر شکست  کھا جانے کے باوجود  انہوں نے یوروپ  میں داخل ہونے کی ترک افواج  کی پیش قدمی کو روک  دیا تھا۔ یہ تھی  ان کی فتح ۔

کوسووا’ آج حالانکہ ایک آزاد مسلم ملک ہے مگر وہاں  سربیائی  یادگاریں  اور کچھ نادر قسم کی عبادت  گاہیں’  جیسے دیچان  وغیرہ، کو سووا  کے شہریوں  اور یوروپی  فوج کی نگرانی میں پوری طرح محفوظ  ہیں۔ اگر دیچان کو محض ایک خراش ہی آجائے تو نہ صرف سربیا  بلکہ پورے مشرقی قدامت پرست  چرچ  میں اس باز گشت  سنی جائے گی۔ تو پھر سید ہ زینب جیسی شجاع شخصیت کے عقیدت  مندوں میں اتنی بے بسی کیوں ہے؟ ایک آخری نکتہ: اس بہادر  خاتون اسلام نے دنیا کو اپنے بھائی حسین کی شہادت  سے روشناس کرایا۔ لیکن آج اسی کی آخری آرام گاہ  پر ہونے والے حملوں کی خبر کو زیادہ تر عرب  ممالک  کی ویب سائٹوں سےحذف  کردیا گیا ہے ۔ کیسی دردناک ستم ظریفی  ہے یہ!

15 اپریل، 2013  بشکریہ:روز نامہ  قومی سلامتی ، نئی دہلی

URL for English article:

https://www.newageislam.com/the-war-within-islam/saeed-naqvi/‘muslims-attack’-another-revered-shrine-in-damascus/d/11133

URL for this article:

https://www.newageislam.com/urdu-section/saeed-naqvi--سعید-نقوی/‘muslims-attack’-another-revered-shrine-in-damascus--یہ-کیسی-درد-ناک-ستم-ظریفی-ہے/d/11189

 

Loading..

Loading..