New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 08:33 PM

Urdu Section ( 19 Jul 2020, NewAgeIslam.Com)

Madrasa, Donation and Benefit of Lockdown مدرسہ ،چندہ اورلاک ڈاون کافائدہ


صادق رضامصباحی، نیو ایج اسلام

20جولائی،2020

چندہ کسی بھی بحران سے اُبھرنے کے لیے کیاجاتاہےاس لیے چندے کی حیثیت استثنائی،وقتی اورجزوی ہوتی ہے مگربدقسمتی سے اسے دائمی سمجھ لیاگیااوریوں چندہ ،ایک کاروبارکی شکل اختیارکرگیااورمعاشرہ بے شمارمسائل کی زدمیں آگیامدارسِ اسلامیہ دین کے قلعے ہیں اور ان کے ذمے داران، قلعے دار۔اس لیےاگرقلعےکوکسی بھی طرح کانقصان پہنچتا ہے تو سب سے زیادہ فکر مندی قلعے دارکوہوتی ہے اوراس نقصان کاذمے داربھی وہی ٹھہرایاجاتاہےکیوں کہ اگراس نےوقت سے پہلےہی احتیاطی اقدامات کرلیے ہوتےتوشایدیہ حادثہ ہی رونمانہ ہوتا۔فطری بات ہےکہ کوئی بھی امیر،صدر،ناظم،سربراہ ،مہتمم(یااسے کوئی اوربھی نام دےلیں)جب ادارے کی فتوحات کواپنی فتوحات سمجھتاہے اوردوسرے لوگ بھی یہی سمجھتے ہیں اوران فتوحات وکمالات کو موصوف کی کلاہِ افتخارمیں سجاتےہیں تواخلاقی اوراصولی طورپرادارے کی شکستگی ،بدحالی،بحران،ناکامی اورہرطرح کے مسائل کابھی اسی کو ذمے دار ٹھہرانا چاہیے اور اسے خودبھی یہ ذمے داری قبول کرنی چاہیے ۔یہ نہیں ہوسکتاکہ جب ہوا موافق ہو تو سارا کریڈ یٹ اپنےنام کرلیں اورجب ہوامخالف ہوتواسے عوام کے سرتھوپ دیں۔یہ اصول اوراخلاقدونوں کے خلاف ہے اورامانت ودیانت کے بھی۔کامیابی یاناکامی دونوں صورتوں کاذمے دار وہی ہےاسی لیے بازپرس اسی سے ہوگی۔ذمے داری، سربراہی ،امارت،صدارت اور نظامت کامطلب ہی یہی ہےکہ کسی بھی ادارے کواچھی طرح چلانا،اس کی مشکلات حل کرنا،ہرطرح کے مسائل کامقابلہ کرنااورممکنہ خطرات کےپیش نظرمستقبل کے لیے پلاننگ کرنا تاکہ کسی بھی ہنگامی دوراوربحرانی کیفیت میں ادارے کی بنیادیں صحیح وسالم کھڑی رہیں اورمسائل اس سے ٹکراکرواپس چلےجائیں۔یہ اصول سامنے رکھیے اورلاک ڈاون کی وجہ سے مدارس پرآئے معاشی بحران کی وجوہات اور ذمے داران کی شکایات کاجائزہ لیجیےتوآپ یہ سوچنےپرمجبورہوجائیں گےکہ مہتمم ،صدر، امیر، سربراہ ،ناظم صاحب ادارے / کمپنی کوچلانے کی اہلیت رکھتے بھی ہیں یانہیں۔آخران حضرات نےاپنی ’’اہلیت‘‘کیڈگری کہاں سے حاصل کی اورمدارس اس لاک ڈاون کے ہنگامی دورسے ابھرنے میں ناکام کیوں ثابت ہوئے،آئیے اس پرمل کرسوچتے ہیں اورکسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہندوستان میں مدارس کی تاریخ کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔آزادی سے پہلے اورآزادی کے بعد۔تقسیم ہند سے قبل یعنی مسلم حکمرانوں کے دور میں مدارس ، خانقاہیں اوراہل علم کی ضرورتیں حکومت پوری کرتی تھی لیکن جب انگریزملک پرقابض ہوگئے تویہاں کی ریاستوں اورجاگیرداروں نے یہ ذمے داری اٹھالی۔بہت سے مقامات پر ریاستو ں نے اپنے علاقے کے مدارس کوگودلے لیا مگر ۱۹۴۷میں تاریخ نے اتنی زورسے پلٹاکھایاکہ مسلمانوں کوبےشمارمحاذوں پرشکست خوردگی کاسامناکرناپڑا۔ ریاستوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئےاورزمین داروں اور جاگیر داروں کے بخیے اُدھڑ گئےجس کالازمی نتیجہ یہ ہواکہ مدارس کے لیے عوام کے چندوں اوراہل ثروت کی خصوصی عنایتوں کی طرف دیکھنامجبوری بن گیا ۔یوں مدارس خود بخود عوامی چندے کی دلدل میں دھنستے چلے گئےاورپھر ایسے پھنسے کہ ُابھرنہ سکے۔ ہندوستان کے شرق سے غرب تک ہر چھوٹے بڑےمدرسے نے خودکوعوام کے چندے پر منحصر کر لیا اور اس بہتی گنگامیں بہت سے ’’تقدس مآب کاروباری‘‘حضرات بھی کود پڑےجس نے اس چندے کودھندےاورکاروبارکی شکل دے دی۔ہمارے دورتک آتے آتے صورت حال یوں ہوگئی کہ جوجتنا زیادہ چندہ لائے گااسی کے مطابق اس کاکمیشن بینک کھاتے کاحجم بڑھاتاچلاجائے گا۔کمیشن کا یہ زور اتنا بڑھا کہ پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ فیصدتک جاپہنچابلکہ کہیں کہیں توستر ستر فیصد تک ۔اس کا بھیانک انجام تو ایک دن ہونا ہی تھاچنانچہ ایک دن کوروناآپہنچااورکوروناکے لاک ڈاون نے سب کی بنیادیں ہلاکررکھ دیں۔ لاک ڈاون نے مدارس کے اربابِ حل وعقدکویہ اچھی طرحباورکرادیاکہ مدارس کی معیشت دراصل کچی ڈور سے بندھی تھی۔ جب یہ ڈورٹوٹی تویہ معیشت اپنی بنیادوں سمیت نیچے آرہی ۔مدارس کا اربوں روپے کا نقصان ہوااوراس نے چھوٹے چھوٹےبلکہ متوسط درجے کے مدارس کی بھی کمرتوڑکررکھ دی ۔

حیرت ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے بڑے حضرات کبھی اس خیال کوعملی جامہ نہ پہناسکے کہ مدارس کو عوامی چندوں پر منحصر کرنے کے بجائے خود کفیل بناناچاہیےمگربھلاہو کورونا کا کہ اس کے ایک جھٹکے نے انہیں یہ راہ سجھادی ۔راہ توسُجھادی ہے اب اس پرچلناان کاکام ہے ۔سوچنایہ ہے کہ اس راہ پران کی چلت پھرت ہوگی بھی یانہیں۔ملک میں بہت شور برپا ہے کہ کورونانے مدارس کے اعصاب پربری طرح وارکردیاہے لیکن کیاواقعی ایساہے یایہ کوئی اشارۂ غیبی ہے اورہماسے سمجھ نہیں پارہے ہیں۔ہمیں سمجھناچاہیے کہ مدارس کے لیے یہ ایک عبوری دور ہے،یہ دوربھی گزرجائے گا البتہ اگراس پرغورکریں تواندازہ ہوگاکہ اللہ نے اس لاک ڈاون کے ذریعے مسلمانوں خاص طورپراہل مدارس کواپنی مشکلات پرقابوپانے کاایک بہترین دائمی حل کاپتہ بتادیاہے اور مدارس کے غیرعملی طریقہ کارسے عملی طریقہ کارکی طرف ہماری رہ نمائی کی ہے ۔اللہ کے ہرکام میں حکمت ہوتی ہے بس دیکھنے والی آنکھ ، سوچنے والادماغ اورسننے والاکان ہوناچاہیے ۔ہم اسے اگرخدائی پیغام ،تنبیہ یااشارہ سمجھ لیں تویہ مدارس کےہی حق میں ہے ۔لاک ڈاون سے وقتی طورپرتوایسالگتاہے کہ مدارس کوواقعی خسارہ برداشت کرناپڑامگرمیں اسے قطعی بھی نقصان نہیں سمجھتاکیوں کہ یہ سراسرخیرکےپہلولیے ہمارے پاس آیاہےاور اس نے ہمیں ایک ایسی راہ دکھادی جو واقعی مدارس کی راہ ہے اورمدارس کواسی پرچلناچاہیے ۔ لاک ڈاون نےہمیں بھولاہواسبق یاددلایاکہ مدارس کو خود کفیل بناناہی ان کااصل حق ہےاورعوامی چندے پرانکا انحصار مدارس کی توہین ہے ۔ ہمیں سوچناچاہیے کہ ہم انہیں محض عوامی چندوں پرلٹکاکراپنے دین کی توہین تونہیں کررہے۔؟ مدارس کے جس نقصان پرہنگامہ برپاہے ۔ہم اسے اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھ کر اپنے ردعمل کااظہارکررہےہیں۔ہم اپنے اندرکی آنکھ استعمال نہیں کررہےاورکریں بھی کیسے ۔ ہم ٹھہرےظاہربیں لوگ ۔ہماری بصیرت کی آنکھ سے اللہ نے روشنی چھین لی ہےاس لیے ہمیں پردے کے پیچھے کے حقائق نظرنہیں آتے۔ہم بس سامنے کی چیزوں پر چیخ و پکارکر کے مطمئن بیٹھ جاتے ہیں۔واقعی ہم بڑی عجب قوم ہیں۔اس طرح کے ہنگامی حالات میں ہم سب کی ایسی مت ماری جاتی ہے کہ منظردیدنی ہوتاہے۔

مدارس کوخودکفیل بنانے کاایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ چندے کی رقوم کاجو نصف حصہ کمیشن کی شکل میں سفرا کے مابین تقسیم کیاجاتاہے ،وہ مسئلہ ہی جڑسے ختم ہوجائے گا ۔ یہ خود مختاری اور خود کفیلی مختلف طریقوں سے ہوسکتی ہے۔ارباب دانش اس پرغورکرسکتے ہیں مثلاً اس کی ایک صورت یہ ہے کہ مدارس کے اپنے باغات ہوں ،کھیت ہوں ،مارکیٹس ہوں ، شاپنگ مالس ہوں یااس طرح کی دیگر چیزیں ہوں جن سے سالانہ یاماہانہ مستقل آمدنی ہوتی رہے۔اب چوں کہ مسلمانوں کے مجموعی حالات پہلےسے بہت بہترہیں اس لیے مستطیع طلبہ سے فیس وصول کی جاسکتی ہےیاطلبہ کی حسب استطاعت فیس کاکچھ فیصدلیاجاسکتاہے۔مدارس کواسکولوں کی طرح فیس اورڈونیشن پرچلایاجاسکتاہے۔مستقل آمدنی کے لیے سرمایہ داروں کوتیارکیاجاسکتاہے۔وہ خوداپنے طورپریامشترکہ طور پر املاک خریدکرمدارس کوعطیہ کرسکتے ہیں۔اس کے ذریعے مدارس اپنے پیروں پرکھڑے ہو جائیں گےاورچندے کےآزارسے نجات حاصل کرلیں گے ۔ ظاہر ہے یہ بہت مشکل کام ہے لیکن اگر عزم پختہ ہو تو مشکلات کی صلابتیں ریزہ ریزہ ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے۔

 لاک ڈاون کاایک اور فائدہ یہ ہوا کہ جو مدارس کسی کام کے نہیں یاجو محض کاغذوں اور رسیدوں پر چلتے ہیں ان کا کاروبار بند ہو گیااورسچی بات یہ ہے کہ اچھاہی ہوا۔ غیر ضروری اورکاغذی مدارس کام کرنے والے مدارس کو بہت سخت نقصان پہنچاتے ہیں۔لوگ رسیدیں اوررودادیں چھپوا کر ہر سال کروڑہاکروڑکاچندہ کرتے ہیں اوریوں وہ اصل حق دار مدارس کاحق مارتے ہیں۔میرےاس خیال سے آپ متفق ہوں گے یانہیں مجھے نہیں معلوم، البتہ میں مدارس کی اس بھیڑمیں نصف تعدادکوغیرضروری سمجھتاہوں کہ اگر یہ نہ ہوتے تو بہترہوتا ۔ان کی موجودگی معاشرے سے زیادہ ان کے ذمے داروں کوفائدہ پہنچارہی ہےاورقوم کاایک بہت بڑاسرمایہ ضائع کررہی ہے۔ نیزیہ اصل حقدارمدارس کاچندہ بھی غصب کررہی ہے۔ہمارا آپ کا عام مشاہدہ ہے کہ کسی مدرسے کے کسی استاذ کا مہتمم یا پرنسپل سے جھگڑا ہوا تو جناب نے اپنا الگ مدرسہ قائم کرلیا اور اپنےحلقے کی عوام کے چندے کا رخ اپنے نوزائیدہ مدرسے کی طرف کرالیا ۔یہ بھی ہوتاہے کہ جناب نے اخلاص کے جذبے یاکسی اورجذبےکے تحت اپنی ذاتی رقم سےمدرسے کے لیے زمین وغیرہ خریدی اورپھرچندہ کرکے اس پرعالی شان عمارت تعمیرکردی ۔اس طرح کے مدارس عام طورپرعوامی سے زائدہ موروثی اورشخصی ثابت ہوتے ہیں ۔ان میں سے نہ جانے کتنے مہتمم کروڑوں کی املاک کے مالک بن بیٹھےہیں۔

یہ ہماری مذہبی تاریخ کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ چندے کی اس روایت نے مدرسے قائم کرنا معمول اورکھیل بنادیاہے۔دنیاکے ہرچھوٹے بڑے کھیل کے کچھ نہ کچھ اصول اورضابطے ہوتے ہیں مگریہ دنیاکاایساانوکھا’’مذہبی کھیل‘‘ہےجس کاکوئی اصول نہیں۔کوئی بھی آتاہےاوراس ’’کھیل ‘‘میں شامل ہوجاتاہے ۔بسم شرع ہوناشرط ہے۔اس کھیل نے جگہ جگہ مدارس کے نام پردوکانیں کھلوادیں کیوں کہ اپنی ذاتی جیب سے توکچھ لگانا نہیں پڑتا بلکہ ساراپیسہ عوام کی ہی جیب سےآتا ہےاوربہت آسانی سے مہتم کاعہدہ بھی ہاتھ لگ جاتاہے ۔اپنی محنت کی کمائی کاپیسہ صرف ہو تو کچھ احساس بھی ہولیکن جب معاملہ مالِ مفت دل بے رح موالاہوتواحساس کیسے پیداہوگااوریوں بھی اصل مدارس اورمستحقین کاحق مارنےوالے کے احساس وضمیردونوںہی مردہ ہوجاتے ہیں چاہے بظاہرداڑھی کتنی ہی نورانی ہو،ٹوپی کتنی ہی چمک داراورلباس کتناہی اُجلا۔دوسراغیرمعمولی المیہ یہ ہواکہ ایک ایک شہراورقصبے میں کئی کئی مدارس قائم ہوگئے اورجہاں مدارس کی ضرورت تھی اس طرف کسی نے بھی توجہ نہ دی ۔حالاں کہ آج بھی ہندوستان میں کئی مقامات ایسے مل جائیں گے جہا ں مدارس ومکاتب کی اشدضرورت ہے لیکن کوئی ادھرکارخ نہیں کرناچاہتا۔ ظاہرہےبنجرزمینوں کوکون عقل مندسیراب کرناچاہےگا۔چندے کے اس پورے دھندے پرآپ غور کریں تویہ کہنابجاہوگاکہ آزادی کے بعد ہندوستانی مدارس کی تاریخ دراصل اہل ثروت کے خصوصی تعاون اور عوامی چندے کی تاریخ ہے،ایسی تاریخ کہ دونوں کا تصورایک دوسرے کے بغیرممکن نہیں ۔اگرمدارس کامطالعہ خاص اس نقطہ نظرسے کیاجائے توہمارے زوال کے بےشماراسباب میں سے کسی اہم سبب کاسراغ یہا ں بھی مل سکتاہے۔واقعہ یہ ہے کہ یہ کم پڑھے لکھے عوام کی مذہبی حمیت اور دینی جذبہ ہی ہے جس نے ایک طرف مستحق مدارس کی رگوں کوخشک ہونے سے بچایااوردوسری طرف غیرارادی طورپربے شمار ’’دوکان داروں‘‘کا’’کاروبار‘‘مستحکم کردیا۔

اس عوامی چندے کاایک اہم پہلواوراس کاپس منظربھی ذہن میں رکھناضروری ہے کہ جب مدارس پرمعاشی بحران منڈلانے لگاتواس بحران سے نکالنے کے لیے علمانے زکوٰۃ و فطرے کی رقوم،جودراصل غریبوں کاحق تھا ،کو حیلۂ شرعیہ کے ذریعے مدارس کے لیے جائزقراردےدیا۔یقیناًیہ ایک اجتہادی اقدا م تھااوراگربروقت اس طرف توجہ نہ دی گئی ہوتی توملت اسلامیہ ہند آج جس پوزیشن میں ہیں،شایدنہ ہوتی ۔اس وقت کے ذمےداروںکایہ بہت بڑاکارنامہ ہے کہ انہوں نے کم ازکم مدارس کے وجودکوجیسے تیسےبرقرار رکھا،لیکن ٹھہریے اس سکے کا دوسرا رخ دیکھیے۔یہ رخ اتناہولناک ہے کہ ا س نے پورے معاشرے پراپناگہرااثرچھوڑاہےاوراس نے مسلمانوں کی دینی ،مذہبی وسماجی ضرورتوں پرگہری ضرب لگائی ہے۔ہوایوں کہ اس شرعی حیلے نےاہل مدارس پرہمیشہ کے لیے چندے کا دروازہ کھول دیا۔زکوٰۃ وفطرے کی جورقم اللہ کی طرف سے غریبوں اور معاشی طورپرکمزوروں کے لیے مخصوص کردی گئی تھی ،اس کااکثروبیشترحصہ مدارس کے کھاتے میں چلاگیااوریوں بے چارے غریب مسلمان مسائل ومصائب کی گہری کھائیں میں گرتے چلے گئے ۔بعدکے علمانے اس سمت غورہی نہ کیاکہ اگر چندے کی روایت یوں ہی قائم رہی توا س کے معاشرے پرکیااثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔آج مالدارحضرات مدارس کوچندہ تودیتے ہیں مگراپنےبچوں کووہاں تعلیم کے لیے نہیں بھیجتے ۔وہ نہیں چاہتے کہ ان کے بچےزکوٰۃ وفطرے کی رقم پرپلیں ۔مدارس میں بمشکل دوتین فیصدمالداروں کے بچےپڑھتے ہوں گے ، وہ بھی ایسے بچے جن کامذہبی خاندانی پس منظرہوگا۔معاشرے کیاس کربناک صورت حال کے پیش نظرہمیں یہ تسلیم کرناہوگاکہ شرعی حیلے کے ذریعےزکوٰۃ و فطرے کی رقوم کومدارس کےلیے جوازکافتویٰ ایک اجتہادی اوروقتی حکم تھااوریوں بھی اجتہادوقتی ہی ہوتاہے ،دائمی نہیں ۔اُس دورکے حالات اوراِس دورکے حالات میں نمایاں فرق ہے۔آج کے تناظرمیں چندے کے نقصانات کے پس منظرمیں دوبارہ اس مسئلے پرغورکرناچاہیےورنہ حیلہ شرعی کی آڑمیں مدارس کےنام پر جوکروڑہا کروڑ کا کاروبار ہورہا ہے اس پرکبھی بندنہیں لگ سکےگا،غریبوں کاحق یوں ہی ماراجاتارہے گااورمسلم معاشرے کی ضروریات کبھی پورین ہیں ہوسکیں گی۔ہم اپنے زوال پرلمبی چوڑیں بحثیں ،تقریریں اورتحریریں توبہت پیش کرتے ہیں مگراس پہلوکی طرف توجہ کیوں نہیں دیتےجوہمارے بہت سارے مسائل کاحل ہے۔

اگرہمارے علماومشائخ نے شروع سے ہی مدارس کو خود کفیل بنانے کی طرف توجہ دی ہوتی اورعوام کی ذہن سازی کی ہوتی تو آج انھیں ہرسال مالداروں کی چاپلوسی نہ کرنی پڑتی اورنہ ہی مدارس کےسفیروں کو ان کی دھتکارسننے کو ملتی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ذمے دارانِ مدارس کوکبھی کبھی اپنے خاص معاونین کی جانب سےبہت سی غیر مناسب باتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اوریہ حضرات ان باتوں کی برداشت کو’’حکمت ومصلحت‘‘کے خانے میں ڈال دیتے ہیں ۔ظاہرہےمالداروں کے ’’ محتاج‘‘ مدارس کے مہتمم صاحبان کے لیے ’’حکمت ومصلحت ‘‘ کیتاویل بھی ’’وقت کی ضرورت ‘‘ہےورنہ مالداروں کے چندے رخ کسی اورطرف بھی مڑسکتاہے۔لوٹ پھیرکرسوال پھربھی وہیں کاوہیں ہےکہ آخر یہ محتاجی کیوں ہے؟کیا اس کا اب کوئی عملی جواب مل سکے گا۔کیا لاک ڈاون نے ہماری توجہات کوانگیزنہیں کیا؟یا لاک ڈاون سے بھی کسی بڑے خطرے کاانتظارہےجومنہ کھولےہماری ہی طرف قدم بڑھانے والا ہے ۔ کیا ہم اس وقت جاگیں گے جب ایڈڈ مدارس کو حکومت سے ملنے والی مراعات بند ہو جائیں گی اوراساتذہ وملازمین کی تنخواہیں رو ک دی جائیں گی۔؟

اسلامی تاریخ کامطالعہ ہمیں بتاتاہےکہاسلام میں چندے کی روایت کبھی نہیں رہی ۔چندہ اس وقت کیاگیاجب بعض مواقع پرہنگامی حالات پیش آئے ۔عہدرسالت میں بھی اس طرح کاہنگامی دورآیاچنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حکم پرصحابہ کرام نے اس ہنگامی صورت سےنمٹنے کے لیے دولت کے انبارلگادیےمگربراہوہماری سہل پسندی کا،ہم نے اس ہنگامی اوراستثنائی نوعیت کی صورت حال کودائمی سمجھ کراپنالیا۔یہ بڑی ہولناک غلطی تھی جوہم سے سرزدہوئی ۔چندہ کرنایقیناًسنت ہےمگراس کی حیثیت استثنائی ،جزوی اورہنگامی ہے ، دائمی اورکلی نہیں۔اس سنت کوہم نے دائمی سمجھ کرنافذتوکردیامگراس کے نقصانات کوکنٹرول کرناہمارے بس سے باہرہوگیا۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ چندے کے اس نظام نے توکل علی اللہ کے تصورپربڑاکاریوارکیاہے۔میں نے اتنابڑادعویٰ کیوں کیا،آئیے اسے سمجھنے کے لیے اپنی زندگی کی معمولی معمولی چیزوں پرغورکریں مثلاًاگرآپ کسی جگہ کاسفرکرناچاہتےہیں تو پہلے زادِراہ کا انتظام کرتے ہیں۔آپ کسی بھی طرح کے ممکنہ مصائب سےمقابلےکے لیےاحتیاطی طورپرکچھ رقوم ضروربینک کے کھاتے میں محفوظ رکھتےہیں تاکہ وہ برے وقت پرآپ اور آپ کے اہل خانہ کے کام آسکیں ۔اگرآپ کوئی کاروبارکرناچاہتے ہیں تواس کے لیے پیسے کی فراہمی پرغورکرتے ہیں۔آپ شادی یانکاح کرتے ہیں تواس کے لیے پہلے سے ہی حسب استطاعت انتظام کرتے ہیں۔وغیرہوغیرہ ۔ایساتونہیں کرتے ناں کہ بغیرزادِراہ کے سفرشروع کردیں،بغیرپیسے کے ہی کاروبارمیں اترجائیں،بغیرانتظام کیے کسی کام میں کود پڑیں ۔ ایساکیوں کرتےہیں۔؟اس لیے کرتے ہیں کہ کام کرنے کاطریقہ یہی ہے ،یہی فطرت نے ہمیں سکھایا ہے اوراسی کانام خداپرتوکل ہےکہ پہلے اپنی طرف سے پوری کوشش کرلی جائے اس کے بعدنتائج اللہ پرچھوڑدیے جائیں۔دنیاکاکوئی بھی انسان ایسانہیں کرتاکہ بغیرکسی سابقہ تیاری کے میدان میں اترجائے اورپھربعدمیں دوسروں کیطرف ہاتھ پھیلائے اور المدد المدد پکارے۔ اگرکوئی ایساکرتاہے توآپ اسےبیوقوف کے سوااورکیاکہیں گے۔اب آپ مدارس کےذمے داروں کودیکھیے۔ان میں سےکتنے ہیں جنہوں نے مدرسہ کھولنے سے پہلے ہی منصوبہ بندی کی ہوتی ہے؟شایدایک فیصدبھی نہیں۔یہ حضرات مدرسہ پہلے کھولتے ہیں اوراس کی ضروریات کی تکمیل کےلیے بعدمیں سوچتے ہیں۔اس کی ضروریات کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتےہیں،رسیدیں شائع کرادیتے ہیں اورعوام سے امیدرکھتے ہیں کہ وہ ضرورت پوریکریں۔یاللعجب۔مجھے یہ کہنے میں شدیدتکلیف ہورہی ہے کہ زیادہ ترمدارس کےمہتمم،امیر،صدروغیرہ نان سینس واقع ہوئے ہیں۔ان بے چاروں کوپتہ ہی نہیں کہ اداروں کوچلایاکیسے جاتاہے۔آپ اگرمدارس کے اخراجات پران سے سوال کریں توجھٹ سے بڑے خشوع وخضوع سے بول پڑیں گے۔’’اللہ پرتوکل کرکے کام شروع کردیاہے‘‘،اللہ کاکام ہورہاہے تووہی انتظام کرے گا۔‘‘وغیرہ وغیرہ ۔ان سےپوچھاجاناچاہیے کہ آپ نے اپنے منصوبے کے لیے کتنی تیاری کی ہے؟ اللہ اسی وقت اپنے بندے کی مددکرتاہےجب بندہ پہلے اپنی مددکرکے خودکومستحق ثابت کرتاہےبصورت دیگراللہ کی کوئی مددنہیں آتی۔یادرکھناچاہیے کہ کسی کام کےلیے محض اخلاص ہوناکافی نہیں،اس کے لیے حکمت عملی اورمنصوبہ بندی کی رفاقت بھی ضروری ہے۔محض اخلاص کے بل پرکچھ ہواہے اورنہ ہو سکتا ہے ۔ اہلیان مدارس کی روش نے شعوری یاغیرشعوری طورپرتوکل کے تصورکوجس طرح نقصان پہنچایاہے،وہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔جرم توجرم ہے چاہے شعوری ہویاغیرشعوری۔

یقیناًیہ دورِزوال ہے اورزوال بڑے چھوٹے ،عوام وخواص سبھی پرآتاہے،اس سے کوئی بچ نہیں پاتا۔اس دور زوال میں ہمارے دانش وروں اور مفکروں کوسمجھ نہیں آ رہی کہ مسلمانوں سے مختلف الجہات مسائل سے کیسے جان چھڑائی جائے ۔دورِزوال میں قائدین کی قیادت بھی کنارے رکھی رہ جاتی ہے اورزمانہ ٹھوکرمارکرآگے نکل جاتا ہے ۔ دور زوال میں مشورے توبہت پیش کیے جاتے ہیں اورمنصوبے بھی بہت بنائےجاتے ہیں مگروہ زمین پرکبھی نہیں اترپاتےکیوں کہ شہ دماغوں کواپنےسواکسی کا منصوبہ اورمشورہ اچھا نہیں لگتا۔ظاہرہے چھوٹوں اور جونیئروں کو منہ نہیں لگایاجاتا۔اللہ کے کرم سے ہمارےبڑے خودبہت عالی ذہن اورشہدماغ ہیں۔اسی اعلیٰ ذہنی اورشہ دماغی کانتیجہ ہےکہ نالے ، نوحے،مرثیے،شکوے،منصوبے،تجاویز،نعرےسب کتابوںاورمجلسوں تک محدود ہیں ۔مجلس ختم ،سب کچھ ختم اورسب اپنی اپنی زندگی میں مگن۔یہاں سوال یہ ہے کہ بلندبانگ دعووں کے اس دورمیں کیاکہیں سے امیدکی کوئی کرن بھی دکھائی دے رہی ہے؟یقیناًصاف دکھائی دے رہی ہے۔اس گئے گزرے دورمیں بھی بہت سارے مخلصین اسس مت میں سوچتے ہیں اورکڑھتے ہیں مگربے چارے کچھ کرنہیں سکتے کیو ں کہ وہ سسٹم سے ٹکرانے کی ہمت نہیں رکھتے۔دراصل سسٹم سے دیوانے ٹکراتے ہیں،فرزانےنہیں۔فرزانے لیت و لعل میں پڑجاتے ہیں،حکمت ومصلحت کی اوٹ میں اپنی جان بچالیتے ہیں مگردیوانے تودیوانے ہوتے ہیں اورتبدیلی یہی دیوانے لاتےہیں۔دنیامیں آج تک جہاں کہیں بھی کوئی تبدیلی آئی ہے،انہیں دیونوں کےذریعے آئی ہے۔اہل عقل محض تماشائی بنے رہے اورایک دن چل بسے۔

اس پوری گفتگوکالب لباب یہی ہے کہ خدارا لاک ڈاون کےاس خدائی پیغام کوسمجھیں۔اگرنہیں سمجھتے تونہ سمجھیں ، اپنی بلاسے۔ہم مدارس قائم کرکےخداپراحسان نہیں کر رہے بلکہ خودپراحسان کررہے ہیں۔اللہ کواپنے دین کاکام لیناہےوہ دشمنوں سے بھی لے لیگا۔وہ کوئی دوسری قوم لے آئے گا، وہ ہماری جگہ دوسرے افرادکوبراجمان کر دے گا ، اوریہ یقیناًہوکررہے گاکیو ں کہ یہ توخدائی قانون ہے ،جوکبھی بدل نہیں سکتا۔ذراپیچھے مڑکردیکھیے،اس خدائی قانون کی تعبیربن کرسسٹم سے ٹکرانے کی ہمت لیے دیوانے چلے آ رہے ہیں۔صبح نوقریب ہے ۔بہت جلد،ان شاء اللہ ۔

--

sadiqraza92@gmail.com

برقی رابطہ:abumisbahi@yahoo.com

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/sadique-raza-misbahi-new-age-islam/madrasa-donation-and-benefit-of-lockdown-مدرسہ-،چندہ-اورلاک-ڈاون-کافائدہ/d/122415


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..