New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 11:34 PM

Urdu Section ( 8 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Ramzan: Time for Generosity سخاوت و بخشش کا مہینہ رمضان المبارک

 

 

 سعدیہ دہلوی

30جون ، 2014

نئے چاند کی رویت کے ساتھ رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے۔ مسلمان اس مہینے کا استقبال اور اس کی قدر دانی ایک مہمان کی طرح کرتے ہیں کیوں کہ اس میں اللہ کی رحمت و مغفرت کی بارش ہوتی ہے۔

"رمضان" ظہور اسلام سے پہلے عربی روایت میں نویں مہینے کا نام ہے؛ اس کا مادہ عربی لفظ ‘‘رمض’’ ہے جس کا معنیٰ شدید گرمی یا تپتی ہوئی زمین ہے۔ مسلمانوں کا ماننا ہے کہ رمضان میں روزے سے اللہ کی رحمت حاصل ہوتی ہے اور سارے گناہ خاکستر ہو جاتے ہیں۔

روزہ رکھنا ایک ابدی حکمت کے ساتھ انبیاء اور صالحین کی روایت رہی ہے۔ رومی لکھتے ہیں کہ "بھوک خدا کی نعمت ہے جس سے وہ نیکو کاروں کے اجسام کو تندرستی و توانا ئی بخشتا ہے۔9ویں صدی کے عارف شقیق بلخی نے کہا کہ 40 دنوں کے مسلسل روزے سے دلوں کی تاریکی نور سے بدل سکتی ہے۔ ابتدائے اسلام کے ایک اور صوفی سہل تستری  نے اس قدر تواتر کے ساتھ روزے رکھے کہ ان کا نام ہی ‘‘شیخ العارفین’’ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ "بھوک زمین پر خدا کا راز ہے"۔ ایک افریقی صوفی ابو مدین لکھتے ہیں کہ  "بھوکا شخص منکسر المزاج ہوتا ہے اور جو منکسر المزاج ہوتا ہے وہ التجا کرتا ہے اور جو شخص التجا کرتا ہے وہ رحمت خدا وندی کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔ لہٰذا برادرم پہلے روزہ رکھو اور اس پر متواتر عمل پیرا رہو  اس لیے کہ اس کے ذریعہ تم اپنی خواہشات کی تکمیل کرو گے اور اپنی امیدوں کو بھی پورا کرو گے۔"

روزہ مسلمانوں کے لئے ایک دینی فریضہ ہے اس لیے کہ قرآن کا فرمان ہے: ‘‘(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں۔’’  ایک اور آیت میں اللہ کا فرمان ہے : ‘‘مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو’’۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر یہ فرمایا کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ دار کو دو نعمتیں حاصل ہوتی ہیں ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے اور دوسرا  جب وہ اپنے رب سے ملتا ہے۔

رمضان سخاوت، عبادات اور مجاہدہ و مراقبہ کا ایک حسین موقع ہےجس کے نتیجے میں صفائے قلب و باطن حاصل ہوتا ہے۔ روزہ ایک با مشقت عمل ہے اس لیے کہ روزے کی حالت میں دن کے دوران کھانا، پانی پینا، تمباکو نوشی کرنا اور جنسی تعلقات قائم کرنا  سخت ممنوع ہیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ نیک اعمال کے اصول و ضوابط پر سخت توجہ دینے کا موقع ہے۔ جو لوگ رمضان المبارک کی قدر کرتے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بغض و عناد، غصہ اور کسی بھی خواہشات سے بچتے ہوئے ضبط نفس کا بھی خاص خیال رکھیں۔

8ویں صدی کے ایک صوفی عالم دین اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے جشم و چراغ حضرت امام جعفر صادق نے فرما یا کہ ‘‘تمہارے روزے کے دن عام دنوں کی طرح نہیں ہونے چاہئےجب تم روزہ سے ہو تو اس بات کا خیال رہے کہ تمہارے تمام حواس، آنکھیں، کان، زبان، ہاتھ، اور پاؤں بھی تمہارے ساتھ روزہ دار ہوں’’۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جو مومن کا روزہ توڑنے والی ہیں؛ جھوٹ بولنا، غیبت، بہتان، جھوٹی قسمیں اور ہوس۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان میں سب سے بہترین صدقہ ان دو لوگوں کے درمیان صلح کرانا ہے جو آپس میں مخاصمت رکھتے ہوں۔ اسلامی کتابیں اور مصادر و مراجع کا موقف اس معاملے میں بڑا واضح ہے کہ جو لوگ اپنے عزیز و اقارب سے قطع تعلق کر لیتے ہیں وہ اس وقت تک جنت میں نہیں جائیں گے جب تک کہ وہ آپس میں صلح نہ کر لیں۔

خطا کاروں کو معاف کرنا، صدقات و خیرات کرنا اور ضرورت مندوں میں خوراک، لباس اور دیگر ضروریات زندگی تقسیم کرنا رمضان کے اہم معمولات ہیں۔ روزہ رکھنے سے ایک حد تک انسان مفلوک الحال لوگوں کی بھوک کو محسوس کرتا ہے۔ یہ مقدس مہینہ مسلمانوں کو ہر لمحہ ذکر خدا میں رہنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہمیں یہ عزم مصمم کرنا چاہیے کہ ہمارے یہ نیک معمولات رمضان کے علاوہ ہر دن  ہماری زندگی میں اسی طرح جاری رہیں گے۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

سعدیہ دہلوی دہلی کی ایک معروف کالم نگار اور کتاب ‘‘Sufism: The Heart of Islam’’ کی مصنفہ ہیں۔

ماخذ:

 http://www.asianage.com/mystic-mantra/ramzan-time-generosity-317

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/sadia-dehlvi/ramzan--time-for-generosity/d/97872

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/sadia-dehlvi/ramzan--time-for-generosity--سخاوت-و-بخشش-کا-مہینہ-رمضان-المبارک/d/97982

 

Loading..

Loading..