New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 10:27 PM

Urdu Section ( 15 Feb 2013, NewAgeIslam.Com)

Muhammad’s prophetic model and his teachings محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوی ماڈل اور ان کی نصیحت

 

سعدیہ دہلوی

24 جنوری، 2013

(انگریزی سے ترجمہ  ۔  مصباح الہدیٰ  ، نیو ایج اسلام )

جیسا کہ حضرت محمدصلی اللہ وعلیہ وسلم  کی پیدائش کا مہینہ  ربیع الاول، ہمیں دوبارہ نصیب ہوا ، یہ ان کی زندگی اور تعلیمات پر غور کرنے کا موقع ہے ۔ مسلمانوں کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی نعمت ہیں جنہیں خدا نے  انسانیت کو عطا  کیا ہے، اس کے لئے کہ قرآن نے انہیں رحمت اللعالمین یعنی تمام کائنات  کے لئے رحمت قرار دیا  ہے۔

نبوت کی صرف 23 سالہ مدت  میں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے  جنگجو  خانہ بدوش عرب قبائل کو ایک خدا کے حضور سر تسلیم خم کرنے پر متحد کر دیا ۔ انہیں صرف قرآن کی آیتوں نے  تبدیل نہیں کیا تھا اس لئے کہ ان میں سے  زیادہ تر ان پڑھ تھے۔ بنیادی طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار تھا جس نے  عرب کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔ بر سوں تک ان کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کر نے اور ان کے ساتھ جنگ کرنے  کے بعد، انہوں نے ان  کی شفقت ، عاجزی، انصاف، سخاوت ، ایمانداری کی خصوصیات کو پہچاننے کے بعد اپنے قلوب ان کے حوالے کر دئے ۔

 محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ‘‘ میں اعلی اخلاقی کردار کے ساتھ متصف ہوں ’’۔ ان کے وصال کے بعد جب ان  کی اہلیہ محترمہ حضرت  عائشہ صدیقہ سے ان  کے کردار کے بارے میں  پوچھا گیاتو  انہوں نے جواب دیا  کہ ‘‘ ان کا کردار قرآن تھا’’۔ انہوں نے اس چیز کو پسند کیا جسے  قرآن نے پسند کیا اور اس چیز کو  ناپسند کیا جسے  قرآن نے  نا پسند کیا ۔

 جب کسی  شخص نے خدا کے رسول سے محبت کا اعلان کیا ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، 'غربت کے لئے تیار رہو'۔ غریبوں سے محبت اور ان کے ساتھ وابستگی  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا راستہ ہے ، ان کو عزت دینے کی وجہ سے ہم ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرتے ہیں ۔ ایک ایسے وقت میں جہاں ایک کامیاب  زندگی بتدریج  خواہشات  کا منظم حصول ہوتی جا رہی ہے  غربت کے بارے میں یہ وصیت یاد رکھنے کے قابل ہے ۔

 مالداری پر غربت کو ترجیح دیتے ہوئے، محمد صلی اللہ ولیہ وسلم نے کہا، ‘‘غربت میرا فخر ہے’’۔ وہ فرش پر بچھے ہوئے کھجور کے چھالوں  سے بھرے  توشک پر سوتے اور  مہمانوں کے لئے ان کے کمرے میں دو تکیے تھے  ۔ وہ اکثر بہت دنوں تک بھوکے رہ جاتے ، کھانا پکانے ، جھاڑو لگانے  اور گھر کے دیگر کاموں میں  ابنی  بیویوں کا ہاتھ بٹا تے ،  وہ  اپنے پھٹے ہوئے جوتے اور کپڑے خود درست کرتے ۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے  کہ ‘‘انہیں و ہ کھانا کھلاؤجو تم خود کھاتے ہو اور انہیں وہ پہناؤ  جوتم خود  پہنتے ہو ’’ ان لوگوں کو  نصیحت کی جو غلاموں  پر ظلم  کے ساتھ پیش آتے ہیں  ۔ کبھی بھی ایک رات سے زیدہ ان کے  گھر میں چاندی یا سونے کا سکہ نہیں رہا ، اس لئے کہ وہ  اس وقت تک نہیں سوتے  جب تک اسے خود سے دور نہیں کر دیتے ۔ انہوں نے کنجوسی کو ناپسند کیا ، اور صدقہ میں گھٹیا  اور ادنیٰ چیز  دینے کو منظور نہیں کیا۔ انہوں نے عوام کو یاد دلایا کہ قرآن نے اعلان کیا ہے کہ  "آپ اس وقت تک  نیکی نہیں حاصل کر سکتے  جب تک کہ آپ اسے خرچ نہ کریں جس سے آپ محبت کرتے ہیں ۔

 تصوف کے لحاظ سے، غربت کو خدا کے سامنے انسان کی فروتنی اور  انکساری بھی سمجھا جاتا ہے، خدا کی مرضی پر توکل و قناعت اورمصیبت اور رحمت دونوں  پر  مرض الہی پر  مسلسل شکریہ بجا لانے تک ۔

 تمام عظیم مذہبی رہنماؤں کی طرح، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے متبعین کے درمیان اخلاقی اقدار کی سر بلندی کے  لئے جدوجہد کی ۔ انہوں  نے سکھایا کہ خدا تک پہنچنے کا راستہ مہربانی، نیکی، صبر، معافی اور اعتدال پسندی کا راستہ  ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کا احترام کیا جائے، یہ  اعلان کرتے ہوئے ماؤں کو  ایک اعلی درجہ عطا  کیا کہ ‘‘ جنت ماؤں کے قدموں  کے نیچے ہے ’’۔

 دل کی  صفائی  پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، ‘‘ انسان کے سینوں میں گوشت کا ایک لوتھڑا  ہے، اگر وہ صحیح ہے تو سارا جسم صحیح  ہے، اور اگر وہ خراب ہے تو  تو سارا جسم خراب ہے۔ کیا یہ دل نہیں ہے ؟ ، جب نیکی کے بارے میں سوال کیا  گیا تو آب نے جواب دیا کہ اس کے لئے اپنے دل سے پوچھو۔ جب روح امن محسوس کرتا ہے تو یہ نیکی ہے، ، اور جو کام روح میں بیچینی پیدا کر دے  اور دل میں جھنجھلاہٹ تو یہ  گناہ ہے ۔

 ایک اور موقع پر  جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا  کہ سب سے بہتر اسلام کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جواب دیا، 'بہترین اسلام بھوکوں  کو کھانا کھلانا اور ان لوگوں کے درمیان جنہیں آپ جانتے ہیں اور جنہیں  نہیں جانتے سلام  کو پھیلانا  ہے ۔ سب سے بڑا دشمن انانیت  ہے، خود کے خلاف جنگ کرنا  'سب سے بڑا جہاد ' ۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاکہ خدا کی صفات کے ساتھ اپنے آپ کو متصف کرو  '۔ نبوی ماڈل کا وجود ہمیں خود پرستی  سے خدا پرستی  کی طرف منتقل کرنے کے لئے ہے، تب  ہی جا کر  ہم قدرت کا  آئینہ بن سکتے ہیں۔

ماخذ: ۔۔http://www.newageislam.com/urdu-section/sadia-dehlvi--tr-new-age-islam-سعدیہ-دہلوی/muhammad’s-prophetic-model-and-his-teachings--محمد-صلی-اللہ-علیہ-وسلم--کا-نبوی--ماڈل-اور-ان-کی-نصیحت/d/10442 

Loading..

Loading..