New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 08:47 AM

Urdu Section ( 20 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Drunken School Of Sufism Intoxicated With Divine Love محبت الہی سے مخمور مکتبہ تصوف

 

سعدیہ دہلوی

24ستمبر  2011

ایک  مشہور فارسی صوفی اور سرشار ، مخمور مکتبہ  تصوف  کے بانی تیفور بسطام کے بایزید ہیں۔

انہیں عام طور پر با یزید  کہا جاتا ہے، خدا  کے ساتھ مکمل جذب کے ان کے بر ملا  اظہار کی وجہ سے  وہ راسخ الاعتقادی کا شکار ہو گئے ۔ فارس میں بسطام  میں پیدا ہوئے  با یزید   ایک معروف زرتشتی کے  پوتے تھے جو  مذہبی عالم، فلسفی، صوفی اور شاعر بن گئے ۔ ان کی وفات  877 عیسوی میں ہوئی ، اورانہیں  ایک ہرے گنبد کے نیچے ایک  خوبصورت مزار میں ایک درگاہ کمپلیکس میں دفن کیا گیا جو انہیں  کے نام سے جانا جاتا ہے۔

با یزید   کی ماں کا  ان پر گہرا اثر تھا  اور ان کے دل میں ہمیشہ ان کی الفت رہی۔ وہ یاد کیا کرتے تھے  کہ انہوں نے قرآن پڑھنے کے  لئے  انہیں  کس طرح مکتب  بھیجا ۔ جب انہوں نے والدین کی شکرگزاری اور اطاعت گزاری  پر زور دینے والے  باب کو  پڑھا تو  نوجوان لڑکے نے گھر جانے کی اجازت مانگی۔ انہوں نے اپنی  ماں سے کہا  کہ چونکہ  اللہ تعالی نے دونوں کی خدمت کا حکم دیا ہے ، وہ دونوں نہیں کر سکتے یہ  کہتے ہوئے کہ ، یاتو خدا سے میرے لئے آپ دعا کریں تا کہ میں مکمل طور پر آپ کا ہو سکوں ، یا مجھے اس کی خدمت میں لگا دیں  تا کہ میں اس میں  مکمل طور پر سکونت  اختیار کر سکوں ۔  ان کی ماں نے جواب دیا، میرے بیٹے، میں تمہیں خدا کے سپرد کرتی ہوں ، اور میرے لئے تمہارے  فرائض سے آزاد کرتی ہوں ، جاؤ اور خدا کے بن جاؤ۔ جب ان کی ماں نے انہیں آزاد کر دیا  ،بایزید نے 30 سال تک اطراف و اکناف عالم میں گھونتے ہوئے،  مسلسل شب بیداری اور  بھوک کی خود کو تربیت دیتے ہوئے  بسطام  کو چھوڑ دیا ۔انہوں نے سو سے زائد صوفیوں کی سرپرستی حاصل کی ، جن  کے درمیان قابل احترام امام جعفر صادق تھے ۔

صاحب عرفان اس سرشار صوفی کو اس طور پر دیکھتے ہیں جن کے ذریعہ  خدا بات کرتا ہے ۔ ایک مشہور صوفی بغداد کے امام جنید نے تبصرہ کیا کہ ، 'ہمارے درمیان با یزید   کا مقام ایسا ہی ہے  جیسا  فرشتوں میں جیبریل کا مقام ہے ۔ با یزید   نے ایک غیر معمولی طریقے سے خدا کے ساتھ اتحاد کا اظہار کیا ‘30 سال تک  خدا میرا عکس تھا اور جو میں تھا اب نہیں ہوں ،"میں" اور "خدا" خدا کی وحدت سے انکار ہیں۔ چونکہ اب میں نہیں ہوں، خدا  خود  اپنا عکس ہے۔ اب وہ میری زبان سے وہ بولتا ہے اور میں چل بسا ۔

جب کسی نے اس بزرگ صوفی کی عمر دریافت کی ، تو با یزید   نے  یہ وضاحت کرتے ہوئے  چار سال بتا یا کہ ‘ میری عمر  70 سال ہے، لیکن میں نے چار سال تک اسے دیکھا ہے اس لئے کہ جس مدت میں  خدا کو نہیں دیکھا وہ زندگی کا حصہ نہیں ہے ۔' ایک دن، صوفی کی تلاش میں، کسی نے ان کے دروازے پر دستک دی، اور با یزید   نے جواب دیا، 'میں بھی گزشتہ 30 سال سے با یزید   کی تلاش میں ہوں، لیکن مجھے بھی ان کا کوئی پتہ  نہیں ملا ۔'

فنا فی اللہ

جب یہ بات صوفی ذالنون مصری کی بارگاہ  میں پہنچی تو انہوں نے کہا کہ " میرے بھائی با یزید پر  ائے خدا رحم کر! وہ ان لوگوں کی صحبت میں کھو گیا ہے جو خدا میں کھو گئے ہیں ۔ ایک بار مکہ مکرمہ کے لئے ایک سفر میں  ایک غریب آدمی سے سامنا ہوا جس نے پوچھا کہ ان کے کتنا مال ہےبایزید نے کہا کہ 200 درہم ہیں  ۔ اس شخص نے  اپنے بچوں کو بھوک سے بچانے کے لئے با یزید   سے ان روپیوں  کو دینے کی درخواست کی۔

یہ جان کر کہ صوفی سفر کی سہولت کے لئے رقم کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ، انہوں نے تجویز پیش کی کہ  با یزید   کعبہ کے بجائے اس کے ارد گرد سات بار طواف کرو۔ با یزید   نے اسی کے مطابق کیا اور یہ پکارتے ہوئے وجد کی حالت میں چلے گئے : سبحانی : پاک ہے میری ذات ۔ میری ذات  کیا ہی  عظیم ہے! ' جلد ہی با  یزید   پر الحاد کے الزامات عائد کئے گئے  اور انہیں بسطام  سے باہر کر دیا گیا ۔ با یزید   کے  شاگردوں نے ، اسی طرح کی ایک کیف آور بولی  کے لئے کہ ‘‘میری لباس کے اندر  خدا کے سوا  کچھ بھی نہیں’’ ان  پر حملہ کیا، جب انہوں نے انہیں  قتل کرنے کی کوشش کی تو ان کے خنجر  گھوم گئے  اور بایزید کے  بجائے انہیں ہی زخمی کر دیا ۔ با یزید   نے کامل صوفی کی اس حالت کا مظاہرہ کیا جب   عشق ، عاشق اور محبوب ایک ہو جاتے ہیں۔ ان کی مشہور دعا یہ ہے  'اے خدا! اس  حجاب کو ختم کر دے  جو تیرے اور میرے درمیان میں موجود ہے اس لئے کہ تیرے جوہر سے الگ میرا  کوئی وجود نہیں ہے ۔ اے رب، غربت اور روزہ  نے مجھے تیرے قریب کر دیا ہے ۔ مجھے  صرف تیرے فضل و کرم کے ذریعے تیری معرفت ملی ۔ '

با یزید   نے لکھا ہےکہ : " اگر تم خدا سے ہم کلامی کا شرف حاصل کرنا چاہتے ہو  تو اپنے ساتھی انسانوں کے لئے مہربان، فیاض اور منصف  بنو،اگر تم صبح کی طرح تاباں ہونے کی  خواہش ہے تو سورج کی طرح سب کے لئے سخی بنو۔"

ماخذ: The Times of India, New Delhi     

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/-drunken--school-of-sufism--intoxicated-with-divine-love/d/5612

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/sadia-dehlvi,-tr-new-age-islam--سعدیہ-دہلوی/drunken-school-of-sufism-intoxicated-with-divine-love--محبت-الہی-سے-مخمور-مکتبہ-تصوف/d/12198

 

Loading..

Loading..