New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 03:34 PM

Urdu Section ( 23 Jul 2015, NewAgeIslam.Com)

How to Tackle Radical Islam اسلام میں بنیاد پرست کا مقابلہ کس طرح کیا جائے

 

 

 

 سدانند دھومے

23 جولائی، 2015

پیر کے روز، وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اسلامی انتہا پسندی کے خلاف شروع کی گئی ایک حکومتی مہم کا ذکر کرتے ہوئے برمنگھم میں ایک قابل ذکر تقریر کی۔ ہندوستان ان کے اس خطاب سے سچائی سے چہرا پھیرے بغیر اور غفلت میں پوری کمیونٹی کو خطرے میں ڈالے بغیر ایک حساس مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں ایک دو چیزیں سیکھ سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ، اسلام ازم کے ساتھ برطانیہ کے جو مسائل ہیں اس سے اسلام ازم کے ساتھ ہندوستان کے مسائل کی عکاسی نہیں ہوتی ہے۔ اور نہ ہی اسلام ازم کی سب سے زیادہ پر تشدد شکل دہشت گردی کے ساتھ دونوں ممالک کے تجربات ایک جیسے ہیں۔ بہر حال، لشکر طیبہ اور داعش کے دور میں تمام تکثیریت پسند جمہوریتوں کو اس نظریہ کی جانب سے ایک چیلنج کا سامنا ہے جسے کیمرون نے "جمہوریت، آزادی اور جنسی مساوات جیسے بنیادی لبرل اقدار کا دشمن" قرار دیا ہے۔

اس سے اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اسلام پسندی کا مقابلہ کرنے کے کون سے ایسے اصول ہیں جو لندن اور لکھنؤ، پیرس اور پٹنہ، بوسٹن اور بنگلور جیسی ان تمام جگہوں لئے یکساں طور پر قابل نفاذ ہیں؟ کس طرح آپ کیمرون کے تجربات پر ایک ہندوستانی تناظر میں عمل درآمد کر سکتے ہیں؟

اسلام پسندی کے نظریہ اور اسلامی عقیدے کے درمیان زیادہ امتیاز نہیں پیدا کیا جا سکتا۔ اسلام ازم ایک ایسا علیحدگی پسند نظریہ ہے جس سے غیر مسلموں، ملحد مسلمانوں اور سیکولر مسلمانوں کو بھی یکساں طور پر خطرہ لاحق ہے۔ اسلام دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک مذہب ہے، جس پر آج 1.6 لوگ عمل پیرا ہیں جس میں اکثریت اعتدال پسند لوگوں کی ہے۔ ہندوستان میں بائیں بازو کی جماعت نے اسلام پسندوں کی جانب سے لاحق ہونے والے خطرات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جب کہ اعتدال پسند جماعت اکثر اسلام پسندوں اور عام مسلمانوں کے درمیان فرق ظاہر کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے، جو خلافت کے احیاء اور اپنی روز مرہ کی زندگی میں اسے نافظ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

اسلام کے بارے میں جائز تحفظات کو ہندو انتہاء پسندوں کی زیادتیوں سے چشم پوشی کا عذر نہیں بنایا جانا چاہئے۔ ایک سیاستدان یا سرکاری دانشور کو مغربی بنگال کی باغی مصنفہ تسلیمہ نسرین اور وشو ہندو پریشد کے پروین توگڑیا کے زہریلے بیانات دونوں کی مذمت کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔ برمنگھم میں، کیمرون نے اسلامی انتہا پسندوں کو اپنے ملک کے "ذلیل انتہاء پسندوں" کے مثل قرار دیا۔ ہندوستان میں، بدقسمتی سے، ذمہ دار اعتدال پسندوں اور ذلیل انتہاء پسندوں کے درمیان کا ربط اکثر داغدار ہے۔

اس کا مقصد ان دونوں کے درمیان مماثلت ظاہر کرنا نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہر مذہب میں انتہا پسندی پائی جائے، لیکن اس امر کو نظر انداز کرنے کے لیے یا تو اندھا ہونا ضروری ہے یا سی پی ایم کا ممبر ہونا ضروری ہے کہ خاص طور پر آج اسلامی دنیا بحران کا شکار ہے۔ نہ کیمرون نے، نہ بارک اوباما نے اور نہ ہی فرینکوئس ہولانڈے نے اپنے ہندو، بدھسٹ یا یہودی ہم وطنوں کے بارے میں غصہ کرنے کی ضرورت محسوس کی، جنہوں نے ہوائی جہاز میں سوار ہو جنت کی تلاش میں ایک دور میدان جنگ میں خود کو اڑا لیا تھا۔

اس سے ہمیں ایک سادہ اصول یہ ملتا ہے کہ ان معاملات میں افکار و نظریات کا عمل دخل ہوتا ہے، مغرب اور ہندوستان دونوں میں، اسلامی انتہا پسندی کی وکالت کرنے والے استعماریت،مغربی خارجہ پالیسی یا غربت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن وہ اس بات کی وضاحت نہیں کر سکتے کہ کیوں ماضی میں استعماریت کے دور سے گزرنے والے​​برما اور کمبوڈیا کے باشندے خودکشی پر کیوں آمادہ نہیں ہو رہے ہیں۔ یا کیوں اسلام پسند دہشت گردوں نے جارج ڈبلیو بش کے عراق پر حملہ کرنے سے بہت پہلے 1993 میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ یا کیوں ارب پتی اسامہ بن لادن سے لیکر جرمن میں تعلیم یافتہ 9/11 کا سرغنہ محمد عطا تک بہت سے ممتاز دہشت گرد غیر مراعت یافتہ نہیں تھے۔

ہندوستان میں انڈین مجاہدین کا محمد منصور یاہو (Yahoo)کے لئے ایک کمپیوٹر پروگرامر کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس گروپ کے بانی، ریاض بھٹکل نے سول انجینرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ گزشتہ سال اپنی گرفتاری سے قبل اسلامی ریاست کا مداح مہدی مسرور بسواس جسے ٹویٹر پر خون کے پیاسے مداحوں کے لئے جانا جاتا ہے، بنگلور میں آئی ٹی سی کے ساتھ ایک اچھی تنخواہ پر کام کرتا تھا۔

واضح ہے کہ انسداد دہشت گردی عناصر کے لیے اسلام پسندی کی جانب ہندوستانی مسلمانوں کا اتنا گہرا جھکاؤ اور کس طرح نظر آ سکتا ہے؟ ابتداء کے لئے، لوگوں کو دہشت گردی کی انفرادی کارروائیوں کے مقابلے میں اس کے نظریات پر زیادہ توجہ دیکر اس کی شروعات کرنے کی ضرورت۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ جماعت اسلامی نے مصر کی اخوان المسلمین کے ساتھ مل کر ہندوستان میں اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ کو جنم دیا جس کی بنیاد پر انڈین مجاہدین جیسی تنظیم معرض وجود میں آئی۔

ان گروہوں کی حکمت عملی مختلف ہو سکتی ہے۔ لیکن وہ سب ایک ہی مشترکہ عقیدے میں بندھے ہوئے ہیں کہ اسلام محض ایک مذہب ہی نہیں ہے بلکہ نکاح سے لیکر سیاست اور بینکاری تک تمام معاملات میں ایک مکمل نظام حیات ہے۔ بہت سے جدید اسلام پسندوں نے ایک مقصد کے ایک ذریعہ کے طور جمہوریت کو قبول کر لیا ہے ، لیکن وہ بالآخر اسی بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ خدا کا قانون (شریعت) انسان کے قانون سے برتر ہے۔

اس پس منظر میں، 1950 کی دہائی میں جب شادی، وراثت اور بچوں کو گود لینے کے ہندو قوانین سے متعلق بڑے پیمانے پر جدید کاری کی گئی اس وقت مسلم پرسنل لاء کی اصلاح کرنے میں ہندوستان کی ناکامی کو انتہائی نتیجہ خیز غلطیوں میں شمار کیا جانا چاہیے۔ مغربی جمہوریتیں جمہوری لبرل ازم اور شریعت میں مذکور قرون وسطی کے معمولات کے درمیان ایک خط فاصل کھینچ کر اپنا دفاع کر سکتی ہیں۔ ہندوستان میں ریاست خود اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مسلمان سماجی معاملات میں شرعی قوانین پر عمل پیرا ہوں۔

تاریخی غلطیوں کے باوجود میڈیا انتہا پسندوں اور اعتدال پسندوں کے درمیان حالات سازگار بنانے میں بہت کچھ کر سکتا ہے۔ ٹیلی ویژن کی بدولت؛مجمع اکٹھا کرنے والے اکبر الدین اویسی اور بنیاد پرست مبلغ ذاکر نائیک جیسے لوگوں کو ہندوستانی عوام پر ایک زبر دست گرفت حاصل ہے۔ جبکہ چند لوگوں نے ہی سلطان شاہین اور طفیل احمد جیسے بصیرت شعار انتہا پسند مخالف اسکالز کو سنا ہو گا جو برصغیر میں عصر حاضر کے اسلام پسند نظریات کا مقابلہ قلت وسائل کے باوجود اپنے پورے عزم و استقال کے ساتھ کر رہے ہیں۔

المختصر، کیمرون نے جسے "ہماری نسل کی جدوجہد" قرار دیا ہے وہ محض گھریلو اسلامی انتہا پسندوں اور برطانیہ تک ہی محدود نہیں ہے۔ یہ ایک عالمی رجحان ہے جس کے تجربات و مشاہدات ہندوستان میں اسی طرح قابل انطباق ہیں جس طرح کسی بھی دوسری جمہوریت میں۔

سدانند دھومے واشنگٹن ڈی سی میں امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ میں ایک ریزیڈنٹ فیلو ہیں۔

ماخذ:

http://blogs.timesofindia.indiatimes.com/toi-edit-page/how-to-tackle-radical-islam-india-can-learn-from-the-frankness-of-political-discourse-in-the-west/?utm_source=TOInewHP_TILwidget&utm_campaign=TOInewHP&utm_medium=Widget_Stry

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-politics/sadanand-dhume/how-to-tackle-radical-islam--india-can-learn-from-the-frankness-of-political-discourse-in-the-west/d/103989

URL for this article: http://newageislam.com/urdu-section/sadanand-dhume,-tr-new-age-islam/how-to-tackle-radical-islam--اسلام-میں-بنیاد-پرست-کا-مقابلہ-کس-طرح-کیا-جائے/d/104007

 

Loading..

Loading..