New Age Islam
Thu Apr 30 2026, 04:10 AM

Urdu Section ( 8 Jul 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sacrifices of the Children of Amir al-Muminin in Karbala کربلا میں اولادِ امیرالمومنین ؑ کی قربانیاں

مولانا فیروز علی بنارسی

5جولائی،2025

حضرت علی علیہ السلام نے دعوت ذوالعشیرہ میں تحفظ ونصرت دین کا جو وعد ہ فرمایا تھازندگی کے لمحہ لمحہ اس کو وفا کرتے رہے اورجہا ں سب اسلام ورسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر جان بچا کر بھاگ رہے تھے آپ نے وہاں پر ثبات قدم کو ایمان اور فرار کو کفر سے تعبیر کیا۔

مولائے کائنات نے اپنے بعد کے لئے بھی ایسے ایسے محافظین وناصرین کاانتظام و اہتمام کیا کہاجنہوں نے 61ہجری میں اسلام کا تحفظ کرکے اسے حیات نوعطاکردی۔ واقعہ کربلا میں فرزندان امام علی علیہ السلام میں سرفہرست امام حسین علیہ السلام اور آپ کے بعد حضرت عباس علیہ السلام کانام نامی آتاہے۔

لیکن واقعہ کربلامیں دیگر فرزند ان علی علیہ السلام بھی موجود تھے جنہوں نے جام شہادت نوش کرکے دین کی حفاظت کی۔ذیل میں انہی اولاد علوی کاتذکرہ کیا جاہاہے:

جناب عبداللہ ابن علی علیہ السلام: ۔آپ کو عبداللہ اکبر ،عبداللہ اصغر کے ناموں او رابومحمد کی کنیت سے ذکر کیا گیاہے۔ بربنائے قول مشہور آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی فاطمہ بنت حزام (ام البنین) تھا۔ اس قول کے مقابلہ میں ایک دوسرا قول بھی ہے کہ آپ کی والدہ گرامی کانام لیلیٰ بنت مسعود نہشلی تھا ۔ جناب عبداللہ اپنے برادربزرگوار حضرت عباس علیہ السلام سے آٹھ سال چھوٹے اور دوسرے بھائیوں سے بڑے تھے۔ اس طرح آپ نے اپنے پدر بزرگوار حضرت علیؑ کے زیر سایہ چھ سال زندگی بسر کی۔ واقعہ کربلا میں آپ کی موجودگی او ردرجہ شہادت پرفائز ہونے کے بارے میں کوئی شک نہیں جیسا کہ ابن سعد، ابن قتیبہ ، ابوالفرج اصفہانی، خوارزمی ، شیخ طوسیؒ اور دیگر بہت سے مورخین نے آپ کو شہدائے کربلا کی فہرست میں لکھا ہے۔بعض مورخین نے جناب عبداللہ کو اپنے بھائیوں میں سب سے پہلا شہید لکھا ہے۔تاریخی واقعات میں بھی اس بات کی حکایت موجود ہے کہ وہ اپنے بھائی جعفر کی شہادت کے بعد درجہ شہادت پر فائز ہوئے ہیں۔

جناب عبداللہ بن علی علیہ السلام کی شہادت کی کیفیت کے بارے میں آیاہے کہ جب سارے اصحاب امام حسین علیہ السلام او راہل بیتؑ کے کئی افراد درجہ شہادت پرفائز ہوگئے تو جناب عباس علیہ السلام نے انہیں بلایا او رکہا: جاؤ میدان جنگ میں قدم رکھو کہ ہم بھی تمہاری شجاعت ودلیری دیکھیں اور تمہارے غم کواجر وثواب کا سبب جانیں اس لئے کہ تمہاری کوئی اولاد نہیں ہے۔

جناب عبداللہ نے برادربزرگ جناب عباس علیہ السلام کی آواز پرلبیک کہتے ہوئے، میدان جنگ میں قدم رکھا اور اس طرح رجز پڑھتے ہوئے دشمن کی فوج پر حملہ آور ہوئے:

اناابن ذی التجدۃ الافضال

ذاک علی الخیر ذوالفعال

سیف رسول اللہ ذو النکال

فی کل قوم ظاہر الاھوال

میں اس کا فرزند ہوں جو دلیر اور صاحب جو دوسخا ہے اور وہ علی برتر وافضل ہیں جو نیک سیرت و کردار والے ہیں۔ وہ خدا کی بھیجی ہوئی تلوار ہیں جو انتقام لینے والی ہے اور اس کی ہیبت ہر قوم وقبیلہ کے درمیان واضح وآشکار ہے۔ (الفتوح ، ابن اعشم کوفی،ج 5ص 114)

جناب عبداللہ رجز خوانی کرتے جاتے تھے اور دشمن پر حملہ کرتے جاتے تھے۔ آپ نے فوج دشمن کے کئی سپاہیوں کو واصل جہنم کیا ۔ بھوک پیاس کی حالت میں کب تک او رکتنا لڑتے ۔آخر کار زخموں سے چو ر ہوکر زمین پر تشریف لائے ۔ آپ کے قاتل کے بارے میں دو سے زیادہ ظالموں کانام آیا ہے۔بعض مورخین نے لکھاہے کہ بانی بن ثبیت حضرمی نے جناب عبداللہ کے سرپر ضربت لگاکر شہیدکیا اوربعض مورخین نے لکھاہے کہ پہلے تو خولی بن یزید نے انہیں اپنے تیر ظلم کا نشانہ بنایا، اس کے بعد بنی تمیم کے ایک نابکار نے آپ کو شہید کیا۔

شہادت کے وقت آپ کی عمر مبارک 25سال تھی اور آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔ آپ کی قبر گنج شہیداں میں ہے۔

امام ز مانہ علیہ السلام نے زیارت ناحیہ میں اس طرح درودود سلام بھیجا ہے:

السّلام علی عبدالله بن امیرالمؤمنینمبلی البلاء و المنادی بالولاء فی عرصة کربلاء المضروب مقبلاً و مدبرا؛ لعن الله قاتله هانی بن ثبیت الحضرمی

مصباح الزائر، ص ۲۷۹

جناب جعفر ابن علی علیہ السلام: بعض مورخین نے آپ کااسم گرامی جعفر الاکبرذکر کیاہے اور آپ کی کنیت ابوعبداللہ ۔چونکہ امام علی علیہ السلام اپنے برادر بزرگوار جناب جعفر ابن ابی طالب علیہ السلام سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اسی لئے آپ نے اپنے اس فرزند کانام ان کے نام پررکھا۔

جناب جعفر اپنے بھائی جناب عثمان سے دوسال چھوٹے تھے لیکن بعض کتابوں میں آیاہے کہ جناب جعفر اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔

بہت سے مورخین اور مقتل نویسوں جیسے بعقوبی ، ابن سعد ، ابولفرج، اصفہانی، شیخ طوسیؒ وغیرہ نے آپ کو شہدائے کربلا میں ذکر کیا ہے اور کی شہادت کو جناب عبداللہ ابن علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد قرار دیا ہے۔

شیخ مفیدؒ نے تحریر کیا کہ نویں محرم کی شام جب شمر ملعون جناب ام البنین کے فرزندوں کے لئے ابن زیاد کی طرف سے امان نامہ لے کر آیا تو اس وقت جناب جعفر بھی اپنے برادر بزرگ جناب عباسؑ کے ہمراہ موجود تھے او ر انہوں نے بھی اس منحوس امان نامہ کوٹھوکرمار دی تھی ۔( الارشاد، ج 2ص 89)

کہا گیا ہے کہ شمر اور عبداللہ ابن ابی محل چونکہ جناب ام البنین کے ہم قبیلہ تھے اس لئے وہ ان کے فرزندوں کے لئے امان نامہ لائے تھے۔ (وقعۃ الطف ،ص 195)

شمر او رعبداللہ ابن محل نے عمر سعد سے کہا کہ ام البنین کے فرزندوں کیلئے امان نامہ لکھ دے لہٰذا اس نے ان کے لئے امان نامہ لکھا تھا۔

بعض مورخین نے لکھا ہے کہ عبداللہ ابن ابی محل جناب ام البنین کا بھتیجا تھا۔ اس نے ابن سعد سے درخواست کی کہ اس کی پھوپھی کے فرزندوں کیلئے امان نامہ لکھ دے ۔ اس نے عبداللہ کی درخواست منطور کرلی لیکن جناب عباس علیہ السلام اور آپ کے بھائیوں نے اس امان نامہ کو ٹھکرا دیااور اسے قبول نہیں کیا۔ (قاموس الرجال، ج 5، ص244)

جیسا کہ شمر کاامان نامہ جناب عباس علیہ السلام اورآپ کے بھائیوں کے سخت عکس العمل سے روبرو ہوا ،امام نامہ لانے کے پیچھے مقصد یہ تھا کہ وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا ساتھ چھوڑ دیں، لیکن ان حضرات نے ارشاد فرمایا: تجھ پراور تیرے امان نامہ پر لعنت! کیا ہمارے لئے توامان رہے اور فرزند رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کوئی امان نہ رہے۔( وقعۃ الطف،ص 190)

روز عاشور جناب جعفر نے بھی اپنے بھائی جناب عبداللہ کی طرح اپنے برادر بزرگ جناب عباس علیہ السلام کی آواز پرلبیک کہی اور میدان جنگ کی طرف روانہ ہوئے۔ نہایت شجاعت ودلیری کے ساتھ دشمن کی فوج پر حملہ کیا۔ و ہ اس طرح رجز پڑھتے جاتے تھے:

ابن علی الخیر دوالنوال

ذاک الوصی ذو السناوالوال

حسبی بعمی جعفر والخال

احمی حسیناً ذی الندیٰ المفضال

میں جعفر ہوں۔ میں صاحب شرافت و عظمت وبزرگوار ی ہوں۔ میں فرزند علی ہوں کہ جو صاحب جود وسخا اور سب سے برتر وبہتر تھے۔ میرا شرف میرے چچا او رماموں کی وجہ سے ہے۔ میں حسین علیہ السلام کی حمایت کروں گا کہ وہ جوانمرد اور صاحب فضیلت ہیں۔(الفتوح،ج 5، ص 113)جناب جعفر کی جنگ کی کیفیت او ریہ کہ آپ نے کتنے یزیدیوں کو واصل جہنم کیا،تاریخ میں کوئی خاص چیز نہیں ملتی لیکن مشہور یہ ہے کہ آپ کا قاتل وہی ہے جس نے آپ کے بھائی عبداللہ ابن علی علیہ السلام کو قتل کیاتھا یعنی ہانی ابن ثیبت الحضرمی۔(معالی السبطین، ج2 ، ص 234)

وقت شہادت جناب جعفر کی عمر کتنے برس تھی، اس سلسلہ میں مورخین کے درمیان اختلاف ہے۔ ابوالفرج اصفہانی کی کتاب مقاتل الطالبیین او ربہت سی دوسری کتابوں میں آیا ہے کہ آپ کی عمر مبارک 19 سال تھی۔ یہاں پر ممکن ہے کہ نسخہ برداری کرنے والوں نے 29 کے بجائے 19لکھ دیا ہو اور بعض مورخین نے 23سال لکھی ہے لیکن اس بات کے پیش نظر کہ جناب عبیداللہ حضرت علی علیہ السلام کے سب سے چھوٹے فرزند تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جناب جعفر کو 23سال سے کم نہیں ماننا چاہئے۔

یہ قول اس روایت کے مطابق ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ کے بھائی جناب عثمان ابن علی، آپ سے دو سال چھوٹے تھے اور وقت شہادت ان کی عمر 21 سال تھی۔

 جناب جعفر علیہ السلام کا اسم گرامی زیارت رحبیہ اورامام ز مانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف منسوب زیارت ناحیہ میں بھی آیاہے او راس طرح آپ پر درود وسلام بھیجا گیا ہے:

السلام علی جعفر بن امیر المومنین، الصابر بنفسہ محسسبا، والنائی عن الاو طان مغتربا، المستسلم للقتال ، المستقدم للنزال ، المکور بالر جال ، لعن اللہ قاتلہ ھابیی بن ئبیت الحضر می (مصباح الزائر،ص 279)

سلام ہو فرزند امیر المومنین جعفر پرکہ انہوں نے اپنی جان کو خدا کے حساب میں رکھا، غربت و بے وطنی کو منتخب کیا، آمادہ پیکار ہوئے او رہر پہلو ان کو زمین پر دے مارا اور آخر کار بہت سے دشمنوں کے درمیان گھر گئے کہ خدا آپ کے قاتل ہانی بن ثبیت الحضرمی پرلعنت کرے۔

جناب عثمان ابن علی علیہ السلام:۔ مشہور مورخ مقریزی نے اپنی کتاب میں ان کا نام عثمان الاکبرذکر کیا ہے۔ ( ایقاط الحنفا، ج 4، ص 339)

بعض مورخین نے آپ کی کنیت ابوعمر بتائی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے اپنے فرزند کانام عثمان رکھنے کے بارے میں بتایا ہے:

میں نے اس کا نام اپنے برادر (دینی) عثمان ابن مظعون کے نام پر رکھا ہے۔ (مقاتل الطالبین، ص 84)

عثمان ابن مظعون اسلام کے ابتدائی دور میں ایمان لانے والوں میں سے تھے او ران لوگوں میں سے تھے جنہوں نے دوبار ہجرت کی۔ آپ نے جنگ بدر میں شرکت کی اور جنگ عہد کے بعد دارفانی سے کوچ کرگئے۔

جناب عثمان ابن علی علیہ السلام کی ولادت جناب جعفر کی ولادت کے بعد ہوئی ، بعض مورخین نے ان کے اور جناب عبداللہ کے درمیان دوسال اور بعض نے چار سال کا فاصلہ بتایا ہے۔ تاریخ میں آیا ہے کہ جناب عثمان علی علیہ السلام نے بھی اپنے سگے بھائیوں کی طرح نویں محرم کی شام کو شمر کے امان نامہ کو ٹھکرا دیا اور شب عاشورہ دشمن سے ایک رات کی مہلت طلب کرنے کے واقعہ میں اپنے برادر بزرگ جناب عباس علیہ السلام کے ہمراہ گئے تھے۔

آپ روز عاشور اپنے برادر بزرگ جناب عباس علیہ السلام کی اجازت سے میدان کا رزار کی طرف روانہ ہوئے اور اس طرح رجز پڑھتے ہوئے فوج دشمن پر حملہ کیا:

انی انا عثمان ذوالمفاجر

شئخی علی ذوالفعال الطاھر

و ابن عم النبی الطاھر

اخو حسین خیرۃ الاخائر

وسید الصغار والاکائر

بعد النبی والو صیی الناصر

( الفتوح، ج 5 ، ص 206)

میں صاحب فخر ومباہات عثمان ہوں۔ میرے سید وسردار علی ہیں جس کاکردار پاک وطاہر اور ظاہر اور آشکار ہے۔میرے بھائی حسین علیہ السلام ہیں جو سب سے بہتر اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے وصی ناصر کے بعد ہر چھوٹے بڑے کے سید وسردار ہیں۔

جناب عثمان ابن علی علیہ السلام کی شہادت کی کیفیت کے بارے میں تاریخ میں آیاہے کہ خولی ابن یزید نے انہیں اپنے تیر ظلم کا نشانہ بنایا ۔ وہ گھوڑے سے زمین پر آئے اور درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ (انساب الاشراف، ج 3، ص 407)

آپ کا قاتل کون تھا، اس بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف پایاجاتاہے ۔بعض روایتوں میں خولی ہی کو آپ کا قاتل بتایا گیا ہے لیکن بعض دوسری کتابوں میں آپ کا قاتل قبیلہ ابان بنی دارم کا ایک نابکار کو بتایا گیا ہے۔ اس ملعون نے جناب عثمان کے قتل کے بعد آپ کے سرمبارک کو بدن سے جدا کیا اور انعام حاصل کرنے کیلئے اسے عمر سعد کے پاس لے گیا او رانعام طلب کیالیکن عمر نے انعام دینے سے انکار کردیا اور کہا: اپنے اس کام کا انعام عبیداللہ ابن زیاد سے طلب کر۔( مقاتل الطالبین ،ص 83)مورخ ابن فندق ہے (الباب الانساب ، ج 1 ،ص 398)

شہادت کے وقت جناب عثمان علیہ السلام کی عمر مبارک 21سال تھی۔ زیارت ناحیہ میں آپ پر امام زمانہ عجل اللہ فرجہ اس طرح سلام بھیجتے ہیں:

السلام علی عثمان بن امیر المومنین ،سمئی عثمان بن مظعون لعن اللہ رامیہ بالسھم خولی بن یزید الاصبحی الابادی الداحی ۔سلام ہوفرزند امیرالمومنین عثمان پر جو عثمان ابن مظعون کے ہم نام تھے ۔خدا خولی پر لعنت کرے کہ اس نے تیرسے ان کانشانہ لیا اور ابان ابن دارم کے ایک شخص نے اس کام میں اس کی مدد کی۔

محمد ابن علی علیہ السلام :۔ وہ محمد اصغر کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی ماں کے نام او راس بارے میں کہ وہ امام علی علیہ السلام کی کنیز تھیں یا آزاد خاتون تھیں اختلاف ہے۔ ابن سعد، طبری اور شیخ طوریؒ نے آپ کی ماں کو کنیز بتایا ہے اور ان کانام لکھا ہے۔

جب کہ بلاذری نے بھی انہیں کنیز بتاتے ہوئے نام بھی لکھا ہے کہ ان کا نام ورقاء تھا۔( انساب الاشراف ، ج 2 ، ص 413)

بعض کتب تاریخ میں ان کو آزاد خاتون کہا گیاہے۔ مورخ یعقوبی نے ان کانام امامہ بنت ابی العاص بتایا ہے ۔(تاریخ بعقوبی ، ج 2 ، ص 213) بعض دوسرے مورخین نے ان کا نام اسماء بنت عمیس یا یعلیٰ بنت مسعود وارمی لکھا ہے۔ ( الارشاد، ج 1، ص 354 ،تاریخ طبری ،ج 5، ص 154) یعقوبی کے قول کے برخلاف محقق مامقانی نے محمد الاوسط کی والدہ کا نام امامہ ذکر کیا ہے ۔( تنقیح المقال ،ج 2، ص 83) اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام کے تین فرزندوں کا اسم گرامی محمد تھا۔محمداکبر (محمد حنفیہ) محمد اوسط ا رمحمد اصغر۔

جناب محمد اصغر واقعہ کربلا میں موجود تھے اور درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ اس بات کوبہت سے مورخین نے لکھا ہے جیسا کہ اہل سنت کی کتابوں اور شیعوں کی کتابوں میں بھی انہیں بہ عنوان شہید ذکر کیا گیاہے۔

ابن شہر آشوب واقعہ کربلا میں محمد اصغر کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کی یاددہانی کرتے ہیں کہ وہ کسی بیماری کی وجہ سے شہید نہیں ہوئے تھے ۔(مناقب ، ج 4، ص 122)

جناب محمد اصغر اذن وغالے کرمیدان میں آئے اور اس طرح رجز خوانی کرتے ہوئے حملہ آور ہوئے:

شینخی علی ذو الفحار الاطول

من ھاشم الخیر الکریم المفضل

ھذا حسین ابن النبی المرسل

عنہ نحامی بالخسام المضقل

تقدیہ نفسی من اخی مبجل

(ذخیرۃ الدارین،ص 162)

میرے سیدوسردار علی ہیں جو بہت سربلند ہیں ۔ بنی ہاشم کی نسل سے نیک مرد،کریم اور سخی یہ حسین فرزند نبی مرسل ہیں۔ میں شمشیر بُتراں کے ذریعہ ان کی حمایت ونصرت کرتا ہوں۔ میری جان قربان اس بھائی پر جو بہت بزرگوار ہے۔ جناب محمداصغر ایک دلیرانہ جنگ کے بعد جام شہادت نوش کرتے ہیں۔

بعض مورخین نے آپ کے قاتل کو قبیلہ بنی تمیم کے خاندان ابان بن دارم کا ایک تابکار بتایاہے جبکہ بعض مورخین نے عقبہ غنومی یا زجرین بدر نخعی کو آپ کا قاتل لکھا ہے ۔(مناقب ج 4، ص 122 ،لباب الانساب ج 1 ، ص 399 )

جناب محمد اصغر علیہ السلام کی عمر شہادت کے وقت 22 سال تھی۔(لباب الانساب ج 1 ،ص 399)

آپ کی نسل سے کوئی باقی نہیں بچا۔ اس سلسلہ میں مورخین اور ارباب مقاتل کے درمیان اتفاق نظر ہے۔

زیارت ناحیہ میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف آپ پر اس طرح درود وسلام بھیجتے ہیں:

السلام علی محمد بن امیر المومنین قتیل الایادی الذارمی، لعنہ اللہ وضا عف الہ العذاب الائیم و صلی اللہ علیک یامحمد وعلی اھل بیتک الصابرین،

درود وسلام ہو محمد ابن امیرالمومنین پر کہ جنہیں ایادی داری نے قتل کیا ہے۔ خدا ان کے قاتل پر لعنت کرے اور اس پر دردناک عذاب میں زیادہ سے زیادہ اضافہ فرفائے۔

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر اور آپ کے صابر خاندان پر خدا کا درود وسلام ہو۔

ابوبکر بن علی علیہ السلام:۔ آپ کااصلی نام معلوم نہیں ہے۔بعض مورخین نے عبداللہ ،بعض نے عبیداللہ اوربعض نے محمداصغر لکھاہے۔

قول مشہور یہ ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ کااسم گرامی لیلیٰ بنت مسعود نہشیلی تھا جب کہ بعض کتابوں میں آپ کی مادرگرامی ام البنین بنت حزام کلبی کو قرار دیا گیا ہے۔

بہت سے مورخین نے آپ کانام شہدائے کربلا میں ذکر کیا ہے۔ شیخ مفیدؒ نے آپ کاذکر شہدائے کربلا میں کرتے ہوئے محمد اصغرؑ کی کنیت ابوبکر بتائی ہے۔( الارشاد ج1 ، ص 355)

مورخ ابن اعثم کوفی اور علامہ محسن الامین نے آپ کو فرزندان علی علیہ السلام میں سب سے پہلا فرزند جانا ہے جوامام حسین علیہ السلام سے اذن وغالے کر میدان جنگ میں آئے ۔آپ کے قاتل کے بارے میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ قبیلہ ہمدان کے کے ظالم نے آپ کو شہید کیا۔( مقاتل الطالبین ،ص 86)

جب کہ ایک دوسری روایت میں زجر ابن قیس نخعی یا عقبہ غنوی کو آپ کا قاتل بتایا ہے۔ (مقاتل الطالبین ، ص 86) بعض مورخین نے لکھاہے کہ جناب ابوبکر بن علی کی لاش نہر فرات کے اندر سے ملی اور آپ کا قاتل معلوم نہیں ہے۔آپ کی قبر اطہر امام حسین علیہ السلام کے پائینتی گنج شہیداں میں ہے۔آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔

جناب ابراہیم ابن علی علیہ السلام:۔ امام علی علیہ السلام کے ایک فرزند جناب ابراہیم بھی تھے۔ ابن قتیبہ ، خوارزمی، ابن عبداللہ اور بہت سے مورخین نے جناب ابراہیم کی کربلا میں موجودگی اور شہادت کاذکر کیا ہے۔ (الامامہ والسیاسۃ ، ج 2 ، ص 6، عقد الفرید، ج5، ص136، مناقب ، ج 4،ص 112)

ابوالفرج اصفہانی اور دیگر مورخین نے لکھا ہے کہ جناب ابراہیم کی والدہ امام علی علیہ السلام کی کنیز تھیں۔( معالی السبطین ، ج 2، ص 234)

روز عاشور آپ نے امام حسین علیہ السلام سے اذن جہاد حاصل کرکے ایک دلیرانہ جنگ کی اور بہت سے دشمنوں کو واصل جہنم کیا۔آخر کار اپنی جان راہ خدا میں قربان کردی اور جام شہادت نوش کرلیا۔آپ کا قاتل زید ابن دفاف تھا۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر بیس سال تھی۔ (لباب الانساب ج1، ص 400)

آپ کی قبر مطہر گنج شہیداں میں ہے۔

جناب عمر ابن علی علیہ السلام: بعض مورخین نے لکھا ہے کہ آپ کا نام عمر اکبر اور کنیت ابوالقاسم یا ابوحفص تھی۔

آ پ کے والدہ ماجدہ کے نام کے سلسلہ میں اختلاف پایا جاتاہے۔ مورخ ابن سعد اور یعقوبی نے آپ کی والدہ کانام صہبا (ام حبیب) بنت ربیعہ تغلبی بتایا ہے۔

تاریخ میں آیاہے کہ ان خاتون کو خالد بن ولید نے عین التمر میں قیدی بنایا اور مدینہ لایالیکن یہ کہ امیرالمومنین نے کس سن میں ان سے شادی کی، اس کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ (طبقات الکبریٰ ،ج 3، ص 114)

بلاذری نے لکھاہے کہ عمر بن خطاب نے اسے بھی اپنا ہم نام قرار دیا او راسے ایک غلام بخشا۔( لباب الانساب ج 2، ص 413)

فخر رازی جناب عمر ابن علی کو حضرت علی علیہ السلام کا سب سے چھوٹا فرزند بتایاہے۔ (معالی السبطین، ج 2، ص 234)

آپ واقعہ کربلا میں موجود تھے اور روز عام عاشور امام حسین علیہ السلام سے اذن دغا لے کر میدان میں آئے اور اس طرح رجز خوانی کرتے ہوئے دشمن پر حملہ آور ہوئے۔

آضر لکم ولا اری فیکم ذخو

ذاک الشقی بالقبی فد کفر

یا زحز ایا زحز قدان من عفر

تعلّک البوم تبوامن مسقر

شر مکان فی حرابی ومسعر

لائک الجاحد یا شرّ البشر

میں تلوار چلاؤ ں گا اور میں تمہارے درمیان زحر (قاتل ابوبکر بن علی علیہ السلام) کو نہیں دیکھ رہاہوں ، وہی شقّی وبخت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کافر ہوگیا۔ اے زحر ! اے زحر ! ذرا عمر کے قریب تو آ کہ شاید آج جہنم تیرا ٹھکانا بن جائے۔ وہ ٹھکانا جو جلنے او ربھرکنے میں بدترین جگہ ہے اور اے بدترین انسان تو انکار کرنے والاہے۔( مقتل الخوارزی ، ج 2، ص 28) ناسخ التواریخ میں آیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے دو فرزندوں کا نام عمر تھا۔ ایک عمر الاکبر جن کی ماں ام حبیبہ تھیں وہ واقعہ کربلا کے بعد موجود نہ تھے۔ دوسرے عمر اصغر جو کربلا میں موجود تھے او راپنے برادر بزرگوار جناب ابوبکر بن علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔( معالی السبطین ، ج 2، ص 234) تاریخ میں آیا ہے کہ دشمن نے پہلے آپ کے گھوڑے کو لے لیا اس کے بعد آپ کو شہید کرڈالا۔( ذخیرۃ الدارین)

امام علی علیہ السلام کی طرف منسوب شہدائے کربلا: ۔تاریخ کربلا میں کچھ ایسے بھی شہدا ہیں جو امام علی علیہ السلام کی طرف منسوب ہیں جن کا ذکر مورخین نے آپ کی اولاد میں کیا ہے وہ شہدائے کربلا مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ عبیداللہ ابن علی علیہ السلام:۔ مورخ طبری نے ان کی والدہ ماجدہ کانام لیلیٰ بن مسعود نہشلی ذکر کیاہے او رلکھا ہے کہ ہشام بن محمد کے بقول وہ واقعہ طف( کربلا) میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔( تاریخ طبری ،ج 5 ، ص 153)

ابوالفرج اصفہانی نے بھی ابوبکر بن عبیداللہ طلحہ سے روایت ہے کہ جناب عبیداللہ کربلا میں شہید ہوئے۔( طبقات الکبریٰ ،ج 5، ص 98)

قول مشہور تو یہی ہے کہ جناب عبیداللہ کی والدہ کانام لیلیٰ بنت مسعود نہشلی تھا لیکن خلیفہ نے ان کی ماں کانام رباب بنت امرؤ القیس بھی لکھا ہے۔( تاریخ خلیفہ ،ص 145)

عباس اصغر علیہ السلام: ابن حز م اور عمری نے ان کی والدہ کانام صہبا تغلبی ، مورخ خلیفہ نے لبابہ بنت عبیداللہ ابن عباس بتایا ہے اور بعض مورخین نے ان کی والدہ کو کنیز بتایا ہے۔

ایک قول کے مطابق اپنے بھائیوں میں وہ پہلے تھے جو میدان میں جانے کے لئے تیار ہوئے۔ جب اجازت حاصل کرنے کے لئے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا:

بھائی! کیا موت کے لئے تیار ہوگئے ہو!

عرض کیا: کیوں نہ تیار ہوجاؤں جب کہ آپ تنہا او ربے یارومددگار رہ گئے ہیں۔ امام علیہ السلام نے ان کے حق میں دعا کی۔ وہ میدان جنگ کی طرف روانہ ہوگئے ، شجا عانہ جنگ کی او رکئی دشمنان خدا کو واصل جہنم کیا۔ جب زخموں سے چور ہوگئے تو دشمن آپ پر ہرطرف سے حملہ آور ہوئے اور آپ کو شہید کرڈالا۔( معالی السبطین ،ج 2، ص 234)

بعض روایتوں میں آیا ہے کہ جناب عباس اصغر شب عاشور پانی لینے فرات کی طرف روانہ ہوئے او رنہر فرات پر شہید ہوئے ۔( وسلیۃ الدارین)

محمد اوسط بن علی علیہ السلام:۔ جناب محمد اوسط کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ آپ کی مادرگرامی امامہ بنت ابی العاص تھیں اورحضرت علی علیہ السلام نے جناب فاطمہ زہر اسلام اللہ علیہا کی وصیت کے مطابق بن سے شادی کی تھی۔( طبقات کبریٰ ، ج 3، ص 14) آپ امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ کربلا آئے اور روز عاشوہ آپ سے اجازت لے کر میدان کا رزار میں آئے اور دشمنوں سے جنگ کی، بہت دے دشمنان خداکو واصل جہنم کیا۔ آخر کار ابن زیاد کے لشکر نے آپ کو ہر طرف سے گھیر کروار پر وار کرنا شروع کردیا۔ آپ کے گھوڑے کو پئے کردیا ۔ اس کے بعد جب آپ زخموں سے چور زمین پر آئے تو آپ کو شہید کردیا۔ ( معالی السبطین ،ج 2، ص 234)

بعض مورخین نے آپ کی شہادت کو جناب عوان ابن علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد ذکر کیا ہے۔

مورخ مانرندرانی نے جناب محمد اوسط کوامام حسین علیہ السلام کے ان نو بھائیوں میں شمار کیا ہے جو آپ کے ارکاب میں موجود تھے اور مازندرانی کے بقول ان کی والد ہ ماجد ہ جناب امامہ بھی کربلا میں موجود تھیں۔ (معالی السبطین ، ج2 ص 234)

جب آپ نے میدان قتال میں قدم رکھا رتو اپنے تعارف میں اس طرح رجز خوانی کی:

شیخی علی دو الفخار الاطول

من ھاشم الخیر الکریم المفضل

ھذا حسین ابن لنبی المرشل

عنہ نحابی بالخسام الفضقل

تقدیہ لقبی من أخییل مبحل

یا رب فامنحی تواب الفجزل

میرے والد علی ہیں جو بلند وبالا افتخارات کے مالک،قبیلہ بنی ہاشم سے اور سچے عظیم المرتبت اور بافضیلت ہیں۔ یہ حسین ہیں جو فرزند رسول ہیں۔ ہم تیز تلوار سے ان کادفاع کریں گے۔ میری جان قربان اس بااحترام ولائق اکرام بھائی پر خدایا ! مجھے اجر عظیم وثواب جزیل عطا فرما۔

عون بن علی علیہ السلام : آپ کی ماں کا نام اسماء بنت عمیں حشعمی ہے۔ بہت سے مورخین نے آپ کو اسماء سے امام علی علیہ السلام کی اولاد نرینہ میں شمار کیا ہے۔ کچھ کتابوں نے آپ کے واقعہ کربلا میں موجود ہونے پر خاموشی اختیار کی ہے لیکن بہت سی کتابوں بالخصوص متاثرین کی کتابوں میں آپ کو شہدائے کربلا میں شمار کیا گیا ہے۔

ان کتابوں میں آیا ہے کہ آپ امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ مدینہ سے کربلا آئے ۔جناب عون وہ پہلے شخص تھے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ اصحاب حسینی میں سے کوئی نہیں بچا ہے تو امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور جنگ کی اجازت طلب کی۔ امام علیہ السلام نے ان سے فرمایا : دشمن کے اتنے بڑے لشکر سے کیونکر لڑوگے ؟!

عرض کیا: جو بھی آپ کی راہ میں جانثاری وفدا کاری کے لئے تیار ہوگیا کیا وہ دشمن کی کمی یا زیادتی کے بارے میں سوچتا ہے؟

امام علیہ السلام یہ سن کر روپڑے اور جناب عون کو جنگ کی اجازت مرحمت فرمائی۔

جناب عون کچھ دیر جنگ کرنے اور دشمنان خداکی ایک تعداد کو واصل جہنم کرنے کے بعد زخمی سروصورت لے کر امام علیہ السلام کی خدمت میں آئے۔امام حسین علیہ السلام نے ان کی تحسین کی اور فرمایا: ذرا ٹھہرو! عرض کیا : میرے آقا! میں تو چاہتا تھا کہ ایک بارپھر آپ کے وجود مبارک سے بہرہ مند ہوں او رآپ کی زیارت کرکے توشۂ راہ اکٹھا کرلوں۔ اب مناسب نہیں ہے کہ میں آپ کی خدمت میں رہوں کہ پیاس بے چین وبے تاب کئے ہیں۔ اجازت دیجئے کہ میدان میں واپس جاؤں اور آپ پر جان نثار کردوں۔

امام علیہ السلام نے دوبارہ اجازت دی اور فرمایا: عون کو دوسرا گھوڑا دو۔ وہ دوسرے گھوڑے پر سوار ہوئے اور مصروف جنگ ہو گئے۔ اسی دوران صالح ابن بسار نے آپ کا راستہ روکا او رآپ کو زخمی کردیا لیکن آپ نے وار کرکے ہلاک کردیا۔ اس کے بعد آپ نے اس کے بھائی بدران یسار پرحملہ کیا، اسے بھی ہلاک کرڈالا۔ اسی دوران خالد ابن طلحہ نے کمین گاہ سے چھلانگ لگائی اور آپ پر تلوار سے حملہ کردیا۔ آپ زمین پر گرپڑے ۔وقت شہادت آپ کی زبان پریہ کلمات تھے:

بسم اللہ وباللہ ولی سبیل اللہ وعلی ملتہ رسول اللہ

عتیق ابن علی علیہ السلام:۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام تاریخ میں معلوم نہیں ہے۔ بعض مورخین نے کہاہے کہ آپ کی والدہ امام علیہ السلام کی کنیز تھیں۔

ابن عماد حنبلی ، دیار بکری ، ذہبی اور مظفر جیسے مورخین نے لکھا ہے کہ آپ واقعہ کربلا میں موجود تھے اور روز عاشور درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔( بطل العلقمی ،ج 3،ص530)

جعفر الاصغر علیہ السلام:۔ اگر چہ واقعہ کربلا میں آپ کی شہادت کے اوپر کوئی واضح عبارت نہیں پائی جاتی ہے لیکن شیخ مظفر نے ظن قومی کی بنا پر آپ کو شہدائے کربلا میں شمار کیا ہے اور اس پر ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے دو فرزند جو کربلا میں موجود نہ تھے ان کے موجود نہ ہونے کا واضح تذکرہ موجود تھا۔ مثال کے طور پر تاریخ میں آیا ہے کہ جناب محسن سقط ہوگئے او رجناب محمد حنفیہ مدینہ ہی میں رہ گئے۔ ان لوگوں میں جعفر اصغر کا نام نہیں دکھائی دیتا ہے اور یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے ایک فرزند کا نام جعفرالاصغر بھی تھا۔ ان دونوں باتوں سے نتیجہ یہ نکلتاہے کہ جناب جعفر الاصغر واقعہ کربلا میں موجو د تھے اورروز عاشور درجہ شہادت پر فائزہوئے۔(بطل العلقمی ،ج 3ص 514)

عبدالرحمن علیہ السلام:۔ بعض مورخین نے مذکورہ استدلال کی بنا پرآپ کو بھی شہدا ئے کربلا میں شمار کیا ہے۔

کہا گیاہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ امام علی علیہ السلام کی کنیز تھیں۔

آپ کے بارے میں تاریخ نے مزید کوئی اطلاع پیش نہیں کی ہے۔

عبداللہ الاصغر علیہ السلام:۔ آپ کا اسم گرامی گذشتہ کتابوں میں شہدا کی فہرست میں آیا ہے۔ کتاب اعیان الشیعہ اوربعض دوسری کتابوں میں بھی آپ کا تذکرہ موجود ہے او ر تاریخ میں آیا ہے کہ جناب عبداللہ امام حسین علیہ السلام کے فرزندوں کی شہادت کے بعد میدان کارزار میں گئے اور لشکر اعداء کے 21سپاہیوں کو واصل جہنم کرنے کے بعد زحربن قیس یا عبداللہ عقبہ غنوی کے ہاتھوں شہیدہوئے۔( مناقب ،ج 4، ص 122)

قاسم ابن علی علیہ السلام :۔ مشہور مورخ ابن شہر آشوب نے آپ کو شہدا ئے کربلا میں شمار کیا ہے او رلکھاہے کہ و ہ اپنے برادر بزرگوار جناب عبداللہ ابن علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد اس طرح رجز پڑھتے ہوئے دشمن پر حملہ آور ہوئے۔

یا عصبہ جارث علی بینہ

وکلرت من عیشھا ماقذنفی

فی کل یوم تقتلون شہدا

من اھلیہ ظلماو ذبحامن فضا

اے وہ جماعت جس نے اپنے نبی پرستم روا رکھا او راپنے پاک وصاف دنوں کو آلودہ کرلیا۔ ہر دن ظلم وستم کیا اور ان کے خاندان کے کسی سید و سرورا کو موت کے گھاٹ اتارا اورپشت سے اس کے سرکو قلم کیا۔

10۔ یحییٰ ابن علی علیہ السلام:۔ آپ کی والدہ گرامی کانام نامی اسماء بنت عمیں بتایا گیا ہے او ربہت سی کتابوں میں آپ کی شہادت کا ذکر آیا ہے او رلکھا ہے کہ آپ کا سرراہ کوفہ وشام میں عمیر ابن حجاج کندی یا عمیر ابن شجاع کندی اٹھائے ہوئے تھا۔ ( اسرار الشہادۃ، ج 3، ص 475)

5جولائی، 2025،بشکریہ: اودھ نامہ ، لکھنؤ

-----------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sacrifices-children-amir-al-muminin-karbala/d/136115

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..