New Age Islam
Fri Apr 16 2021, 05:03 PM

Urdu Section ( 9 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Forcible Conversion to Islam Injuring the Soul of Islam مسلمان بنانے کی پرتشدد تحریک اسلام کی روح کوگھائل کررہی ہے

 

صابررضارہبرمصباحی

10 جولائی ، 2014

عالم اسلام آج تاریخ کے جس نازک دورسے گزررہاہےوہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ کل تک پوری دنیامیں اہل اسلام کوغیور،امن پسند اور منصف مزاج کے طورپرجاناجاتا تھاآج تخریب کار، انتہاپسند،قاتل اورغیرانسانی سلوک ‏روارکھنے والے کےطورپراس کی شناخت قائم ہوتی جارہی ہے۔کچھ نام نہاداسلامی تنظیموںکی تخریب کاری نے نہ صرف اسلام بلکہ مسلمانوں کوپوری دنیامیں رسواکردیاہے۔ اسلامی وضع قطع کودقیانوسیت اورسفاکیت سےتعبیر کیاجا نے لگاہے۔ دعوت وتبلیغ کی من گڑھت تعبیرات نے مسلمانوں  کے خون کوہی جائز قراردیدیاہے۔وہ اسلام جو ‏غیروں پر زوروجبرکی اجازت نہیں دیتا بلکہ اس کاہرطرح کاخیال رکھنے کی تاکیدکرتاہے آج اسی کے ماننے والے ‏مسلمانوں کے خون کوصرف اس بنیادپرجائز قراردے رہے ہیں کہ وہ ان کے من گڑھت تعبیرات پرمبنی نظریات کوقبول کرنے کیلئے تیارنہیں ہے۔‏‎ ‎

پاکستان ،افغانستان ،عراق اورشام میں برسرپیکارتنظیموں کا تعلق اسی گروہ سے جو اپنے مخصوص نظریہ توحید پرپوری ‏دنیاکوجمع کرنا چاہتا ہے۔اس کے نزدیک ان کے وضع کردہ توحیدخالص کامنکردائرہ اسلام سے خارج ،ان کاخون ‏جائزاوران کے اموال مال غنیمت ہیں۔مقامات مقدسہ شرک کے اڈے ،اپنے نبی پاک پر مؤدب اندازمیں تسلیم پیش کرنے والا مشرک اورمصیبت کی گھڑی میں مسیحائے کونین ﷺکو پکارنے والا غیرمؤحدہے۔پاکستان وعراق میں ‏مقامات مقدمہ کی بے حرمتی ،عیدمیلادالنبیﷺ کے جلوس میں بم دھماکے ،مسجدوںمیں نمازیوں کی لاشیں ‏بچھادینا اورراہ چلتے علمائے کرام کوگولیوں اوربموںسے اڑادینا آخرکس اسلام کی تبلیغ ہے ؟اسلام نے توجانوروں کے ساتھ ‏بھی حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم دیاہے ،پڑوسی یہودی کا اس درجہ خیال رکھنے کا حکم دیاکہ اگر وہ رات میں ‏بھوکاسوجائے اوراس کا پڑوسی مسلمان شکم سیرہوکرسوئے تو اس کا کھانا اس وجہ سے حرام ٹھہراکہ اس نے اپنے پڑوسی ‏کا خیال نہیں رکھا۔

برما،افریقہ اورسری لنکاسمیت غیرمسلم ممالک میں مسلمانوں کوتہہ تیغ کیاجاتاہے تو ہم چیخ اٹھتے ہیں لیکن اس کا ‏کیاجواب ہے کہ خودمسلم ممالک میں مسلمان غیرمحفوظ ہیں؟وہاںمسجدوں میں دھماکے کیوںہوتے ہیں ؟وہاں خون ‏مسلماں کی ارزانی کیوں ہے؟

پاکستان کی صورت حال تو اتنی نازک ہے کہ وہاں لوگوںکا گھرسے نکلنا مشکل ہوگیا ہے ۔مسلکی تشددایک ناسورکی ‏حیثیت اختیارکرچکا ہے ۔موقع ملتے ہی ایک دوسرے مسلک کے افرادکی جان لےلینا معمول کی بات ہوگئی ‏ہے۔گھرسے نکلتے وقت یقین کے ساتھ اہل خانہ سے یہ کہنا مشکل ہوجاتا ہے کہ شام تک سلامت گھرلوٹ ‏آئوں گاکیوں کہ ؎

جانے کب کون کسے ماردے کافرکہہ کے

شہرکاشہرمسلمان ہواجاتاہے

مملکت خدادادمیں ایسی ناقابل یقین صورت حال سے گزررہے اہل اسلام پرجوقیامت ٹوٹ رہی ہے اسے آسانی کے ‏ساتھ محسوس کیاجاسکتا ہے لیکن وہاں کاحکمراں طبقہ ان کے زخموںکے علاج کیلئے سنجیدہ نظرنہیں آرہا ہے۔بے گناہ ‏افرادایک ساتھ مسلکی تشدداورسیاست کے بھینٹ چڑھ رہے ہیں اورسامراجی قوتیں اپنی کامیابی پرمسکرارہی ہیں۔پاکستان کےوزیرستان میں جاری فوج کے آپریشن نے لاکھوں افرادکے سروں سے سایہ چھین لیا، کتنے بچے اورمریض ‏آب ودانا کے بغیردم توڑدے جبکہ فوج کی کارروائی میں طرفین سے نہ جانے کتنی لاشیں گریں گی۔سوال یہ ہے کہ ‏مملکت خدادادمیں ایک خالص اسلامی گروپ (جیساکہ طالبان کادعویٰ ہے) کے خلاف اتنا سخت فیصلہ لینے ‏کی ضرورت کیوں پڑگئی ؟وہاں تو سب کچھ اسلامی احکام کے مطابق ہوناچاہئے تھا۔مسلم معاشرہ کی پاگیزگی کی ‏اوراتحادامت کی پوری دنیامیں قسم کھائی جانی چاہئے تھی ۔

یہ بہت بڑی کم نصیبی کی دلیل ہے کہ پیغمبراسلام اوران کے جانشینوں نے قیادت ورہنمائی کاعملی نمونہ پیش کردیا ‏،پوری دنیاکوقیادت کے مفہوم سے آشنا کیا لیکن ان کے پیروکارآج خودفریبی میں اس قدراندھے ہوگئے ہیں کہ ‏انہیں پانی وخون میں فرق بھی نظر نہیں آتا۔اسلام میں مسلکی تنازع کی تفریق توحضرت ابوبکرکے زمانے میں ہی ‏پڑچکی تھی لیکن حضرت علی کے زمانے میں جنم لینے والے خارجیت پسندگروہ نےاسلام کوسب سے زیادہ نقصان ‏پہنچایااورآج بھی اسلام کےنام پرپوردنیا میں خارجیت کی یلغارجاری ہے۔

اسلام توامن وآشتی کاپیامبربن کرجلوہ گرہوا اورہرطرح ظلم وزیادتی کے شکارانسانوں کیلئے نہ صرف مسیحابلکہ ‏مسیحاگرثابت ہوا۔اونچ نیچ اورکالے گورے کے مابین پائی جانے والی خونی لکیروں کومٹاتے ہوئے انسانیت اورتقوی کی ‏بنیادپرشخصیت کی امتیازکاخاکہ پیش کیا۔جغرافیائی تصادم ،قبیلہ اوررنگ ونسل کی بنیادپرانسانی معاشرے میں پائی ‏جانے والی نفرتوں کاقلع قمع کرتے ہوئے امن وانصاف کا پرچم لہرایا ۔فاران کی چوٹی سے طلوع ہونے والا سورج اپنے ‏ساتھ ایساسویرالایا جس نے اپنی کرنوں سے دنیائے انسانیت کے ذرے ذرے کوروشن کردیا۔یہی وہ لیلائے حقیقت تھی ‏جس نے اپنے اوربیگانے کوبڑی تیزی کے ساتھ اسلام کے زلف گرہ گیر کا اسیربنادیاتھا۔محض 23؍برس کی قلیل ‏مدت میں مذہب اسلام کاعرب کےحدودکوپارکرجانا اس کی حقانیت کی بین دلیل ہے۔

اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جس نے اپنی وسعت کیلئے طاقت وقوت کے استعمال کوممنوع قراردیا۔ انسانی عظمت کا ‏اتنالحاظ کہ آقاوغلام کے درمیان تفریق کواس طرح ختم کرنے کی کوشش کی کہ آقاجب کھاناکھانے بیٹھے توغلام کواپنے ‏ساتھ کھلائے خواہ ایک ہی لقمہ کیوں نہ ہو۔راہ سے تکلیف دہ چیز کوہٹانااسلامی ایمان کا ادنیٰ درجہ ٹھہرا۔ایک دوسرے ‏کومعافی پرابھارنےاورباہمی تعاون کےنسخہ کیمیاکورواج دینے کیلئے آخرت کا محسوساتی تصورپیش کیا ۔اسلام کے تصورآخرت پر اگر غور کیاجائے تو یہ بات ازخودمنکشف ہوجاتی ہے کہ اس نے آخرت کا ایسا تصورپیش کیا جس کے آئینے ‏میں انسان اپنے ہاتھوں اپنی تقدیرلکھتا نظرآتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس مسلمان کے دل میں اسلام کی سچی روح بستی ہے ‏وہ کسی انسان توانسان جانورکوبھی بےسبب تکلیف نہیں دیتا ۔جنگ میں بھی بچوں،عورتوں اورضعیفوں کوقتل نہ کرنے ‏اورہرے بھرے کھیتوں کوبربادنہ کرنے کی تلقین نے ہی اسلام کی عظمت کوغیروں کے دلوں میں بھی گھرکردیاتھا ۔

اسلام نے مسلمانوں پردعوت وتبلیغ کولازمی قراردیالیکن اس میں جبرواکراہ کوجگہ نہیں دی بلکہ حکمت وبہترین ‏نصیحتوں کے ساتھ اسلام کی دعوت کا نظریہ پیش کیاجو اسلام کی دعوت قبول نہ کرے اس پرکسی طرح زوروزبردستی کی ‏گنجائش نہیں رکھی ۔لیکن یہ اسلامی تبلیغ کی کون سی شکل ہے جہاں منکرین کی گردن اڑانےدینے کی اجازت دیدی جاتی ‏ہے۔بموں اوردیگرمہلک ہتھیاروں سے شہرکاشہربربادکردیاجاتا ہے۔میں آج تک نہیں سمجھ سکاکہ یہ کون سی اسلامی ‏تحریک ہےجس کے نزدیک خواتین کوتعلیم حاصل کرنے کاحق حاصل نہیں ہے جبکہ اسلام نے مردوعورت دونوں پر ‏تعلیم کوفرض قراردیا۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے توطلب علم کی فرضیت میں مردوخواتین کویکساں طورپرشامل ‏کیاوہا ں تودینی ودنیاوی علوم کی تفریق بھی نہیں فرمائی ،پھریہ کون سااسلام ہے جس میں لڑکیوں کوزیورتعلیم سے آراستہ ‏ہونے کی اجازت نہیں ۔ملالہ یوسف زئی کےدماغ میں اسی لئے گولیاں اتار دی گئیں کیوں کہ وہ کچی عمرمیں ہی ‏لڑکیوں کوحصول تعلیم کیلئے ابھاررہی تھی اور لڑکیوں کوتعلیم سے محروم کرنے والے گروہ کی مخالفت کررہی تھی ۔

نظریات کا اختلاف فطری ہے لہٰذا سے مستردنہیں کیاجاسکتا ہے اس لئےہرشخص کواپنا نظریہ قائم کرنے کاحق ‏ہےلیکن اسے زبردستی کسی پرتھوپنے کی اجازت ہرگزنہیں دی جاسکتی ۔کیوں کہ سماج میں تصادم کی صورت اسی وقت ‏پیداہوتی ہے جب کوئی انسان یا گروہ اپنا مخصوص نظریہ دوسروں پرتھوپنا چاہتا ہے ،چوں کہ یہ طریقہ غیرفطری ہوتاہے ‏اس لئے یہ نظریاتی تصادم دھیرےدھیرے خونی جنگ کا روپ دھارلیتاہے۔میں اخیرمیں دعوت کے نام پر جان ‏نچھاورکرنے والے توحیدپسندوں سے گزارش کروں گاکہ آپ چوں کہ بنام اسلام اپنی شناخت کروارہے ہیں اسلئے کم ازکم ‏اسلام کے مکی ومدنی اصولوں کی توپاسداری کیجئے۔ جوآپ کے نظریات کومستردکردے بےشک انہیں اپنی جانب مائل ‏کرنے کیلئے اخلاقیات کے دائرے میں رہ کرہرنسخہ آزمائیے لیکن للہ کسی کاخون مت بہائیے ۔مسجدوں کومقام عبادت کی ‏بجائے انسانی لاشوں کی اجتماعی قبرمت بنائے۔اگروہ آپ کی نگاہ میں کافرہیں پھربھی اسلام میں اس کے خون کی حرمت ‏برقرارہے ۔دنیاتوصرف اتناجانتی ہے کہ مارنے اورمرنے والادونوں کاتعلق اسلام سے ہےاوران میں سےایک ‏دہشت گرد ہےیعنی ہرصورت میں بدنامی اسلام کی ہے۔

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/forcible-conversion-to-islam-injuring-the-soul-of-islam--مسلمان-بنانے-کی-پرتشدد-تحریک-اسلام-کی-روح-کوگھائل-کررہی-ہے/d/98017

 

Loading..

Loading..