New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 12:48 AM

Urdu Section ( 17 Apr 2014, NewAgeIslam.Com)

The Forgotten Inheritance of Maulana Abul Kalam Azad مولانا ابوالکلام آزاد کی فراموش کرداہ وراثت

 

 ایس عرفان حبیب

22 فروری 2014

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مولانا آزاد نے 19ویں صدی کے آخر میں اپنی تعلیم کے تناظر میں تعلیمی نظام اور نصاب پر وسیع تبصرے اور تجربات و مشاہدات پیش کئے۔ اوپر تصویر میں وزیر اعظم جواہر لال نہرو، سید محمود اور کیلاش ناتھ کاٹجو کے ساتھ(درمیان میں) میں مولانا آزاد 1955۔

مولانا آزاد کا اسلام دور حاضر کے چند جنگجو اور متشدد اسلام پسندوں سے کہیں زیادہ معتدل اور ہم آہنگ تھا۔

مولانا ابوالکلام آزاد کا انتقال 22 فروری 1958 کو ہوا تھا۔ یہ صرف ایک غیر معمولی انسان کی موت نہیں تھی بلکہ ایک ایسے نظریہ کی موت تھی جس نے کئی کئی نسلوں کو روشنی بخشی تھی اور وہ ایک غیر منقسم ہندوستان کا نظریہ ہے جہاں ہندو اکثریت کے ساتھ مسلمان خوشی خوشی زندگی گزار سکیں۔ مسلمان صدیوں پہلے ہندوستان میں آکر آباد ہوئے اور مولانا آزاد کے مطابق نظریہ ہند میں مسلمانوں کا بہت بڑا تعاون تھا۔ تاہم مولانا آزاد کے نظریہ کو اس وقت دھچکا لگا جب 1947 ء تباہ ہندوستان کا بٹوارا ہوا۔ مولانا آزاد بکھرے اور زخمی نئے ہندوستان کی تعمیر نو کے لئے اور ایک دہائی تک  زندہ رہے۔

مولانا آزاد کی زندگی کے مختلف گوشے تھے۔ جن میں سے کچھ اچھی طرح مشہور و معروف ہیں جبکہ ان کی زندگی کے کچھ پہلو ایسے بھی ہیں جو اب تک پردہ خفا میں ہیں اور لوگ ان سے ناواقف ہیں۔ اور عوامی سطح پر ان کے بارے میں زیادہ نہ تو  لکھا گیا اور نہ ہی اکثر لوگ ان پہلوؤں کو جانتے ہیں۔ ان کی زندگی کے ابتدائی ادوار میں دس سال ایسے تھے کہ جب انہیں موروثی اسلامی معتقدات سے ابھرنا اور چند مشکل اور پریشان کن سوالوں کو حل کرنا تھا۔

اس صورت حال پر پہنچنے سے بھی پہلے انہیں بچپن میں ہی بغاوت کرنی پڑی اس لیے کہ انہوں نےاپنے والد کے اسلامی اصول و معتقدات سے اختلاف کیا، سر سید کی جدت پسندی کے بڑے قائل ہوئے جسے ان کے والد مولوی خیر الدین پسند نہیں کرتے تھے اور خاموشی کے ساتھ ستار سیکھنے کا فیصلہ کیا اس لیے کہ ان کے والد موسیقی کے خلاف تھے۔ انہوں نے موروثی اور روایتی اسلام کی اس حد تک مخالفت کی کہ وہ ایک ملحد (دہریہ) بن گئے اور صرف مادہ پرستی اور عقلیت پسندی پر ہی بھروسہ کیا۔ 14 سے 20 سال کی عمر تک انہوں نے صرف ایمان کا دکھاوا کیا جبکہ اس مدت کے دوران اندرونی طور پر وہ ایمان سے بالکل خالی رہے۔

ایک مختلف اسلام

ان کی زندگی کا یہ مختصر سا عرصہ بے ثبات اور عارضی تھا اس لیے کہ وہ جلد ہی اسلام کی طرف واپس لوٹ آئے تھے لیکن اب بھی ان کا اسلام کیفیت اور نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہی رہا۔ اور اس معاملے میں مولانا آزاد کا موقف واضح طور پر ہر کسی سے مختلف تھا۔ اور وہ اس حقیقت سے بھی واقف تھے کہ بہت سارے لوگوں نے ان کی حمایت نہیں کی جب انہوں نے کہا کہ:"میں جب بھی مذہب، ادب، سیاست اور فلسفہ کے راستوں پر چلا اکیلا ہی چلا۔ وقت کے قافلوں نے میرے کسی بھی سفر میں میرا ساتھ نہیں دیا۔"

مولانا آزاد نے اپنی پوری زندگی اصل روح کے ساتھ قرآنی نصوص پر غور و فکر کرنے پر زور دیا جو کہ تمام مومنوں کو دستیاب تھے۔ انہوں نے روایت پسند اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا؛ اس کی بجائے انہوں نے ایمان کی تشریح و تعبیر کرنے کے لیے آزادانہ استدلال یا اجتہاد کی حمایت کی۔ انہوں نے قرآن مجید کو اس سے زیادہ پڑھنے سے خبردار بھی کیا کہ جتنا پہنچانا قرآن کا مقصد تھا۔ یہ عصر حاضر کے تناظر میں پیغمبرانہ نظریہ لگتاہے جہاں بہت سارے لوگ اسلام سے وہ بولنے کا مطالبہ کرتے ہیں جو وہ کتاب سے بلوانا چاہتے ہیں۔

غبار خاطر 1942-45 تک ایام اسیری کے دوران احمد نگر جیل میں لکھے گئے ان خطوط کا ایک مجموعہ ہے جہاں مولانا آزاد نے چند انتہائی غیر روایتی اور دنیاوی مسائل کا جواب دیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک خط جس میں تا زیست چائے کے ان کےشوق کا ذکر ہے۔ انہوں نے اس خط میں لکھا ہے کہ وہ اپنا دن سفید چینی ياسمين چائے سے شروع کرتے ہیں جس کا استعمال صرف وہی کرتے ہیں اس لیے کہ کوئی اور اس جائے کے ذائقہ کو پسند نہیں کر سکتا۔ اکثر لوگ دودھ اور شکر سے ملاکر بنائی ہوئی چائے پینے کے عادی تھے جس کے بارے میں برطانوی لوگوں نے انہیں بتایا تھا کہ یہ چائے ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ‘‘صرف جواہر لال نہرو اصلی چینی چائے نہیں بلکہ بلیک ٹی پیتے تھے۔ ایک اور خط میں وہ خوشیوں کے بارے میں لکھتے ہیں۔ انہوں نے ایک چینی شخص کا حوالہ دیا جو یہ کہہ رہا تھا کہ " سب سے عقل مند انسان کون ہے؟ جواب یہ ہے کہ جو سب سے زیادہ خوش ہے۔ "دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے ایسے لوگوں کا مذاق بنایا ہے جو یہ مانتے ہیں اہل مذہب اور فلسفہ کو سنجیدہ اور ترش رو نظر آنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ عزت و احترام اور سیکھنے کے لئے ایک شرط نہیں بن سکتی۔

تعلیم میں اصلاحات

مولانا آزاد نے 19ویں صدی کے اواخر کے ہندوستان میں اپنی تعلیم اور خاص طور پر اسلامی مدرسوں کی تعلیم کے تناظر میں تعلیمی نظام اور نصاب پر اپنے تبصرے پیش کئے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے: " یہ ایک فرسودہ نظام تھا جو ہر نقطہ نظر سے بنجر بن گیا تھا جس میں طریقہ تعلیم ناقص، مضامین بیکار، کتابوں کے انتخاب میں نقص، پڑھنے اور لکھنے کے طریقوں میں نقص ہے۔" اگر سو سال سے بھی پہلے اسلامی مدارس کے بارے میں مولانا آزاد کی یہ رائے تھی تو ہم اچھی طرح یہ سمجھ سکتے ہیں کہ عصر حاضر کے نظام تعلیم میں فوری اور بنیادی اصلاحات کی کتنی سخت ضرورت ہے۔

انہوں نے جامعہ الازہر بھی تنقید کی اور اس کے نصاب کو کمزور قرار دیا۔ وہ اس بات پر کہ انہیں اپنی ابتدائی تعلیم کے لئے ان مدارس پر انحصار کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: "ذرا سوچیں کہ اگر میں وہاں رک جاتا اور ایک نئے تجسس کے ساتھ نئے علم کی تلاش میں نہیں نکلتا تو میری حالت زار کیا ہوتی! ظاہر ہے میری ابتدائی تعلیم سے مجھے جمود کا شکار ایک ذہن اور حقیقت سے مکمل نا وقفیت کے علاوہ اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔"

عصر حاضر کے اسلام پسندوں کو مولانا آزاد کی تقلید پسندی اور قدامت پرستی کے خلاف ان کی تحریروں سے اور ان کے اپنے ہی خاندان کی دانشورانہ اور مذہبی وراثت پر ان کے سوالات سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک اور خط میں وہ مزید لکھتے ہیں: "کسی بھی انسان کی شعوری اور عقلی ترقی میں قدامت پسند معتقدات سے بڑی رکاوٹ اور کچھ بھی نہیں ہو سکتی۔ کوئی اور طاقت انسان کو مقلّد محض نہیں بنا سکتی۔ کبھی کبھی موروثی عقائد کی گرفت اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ تعلیم اور ماحولیات سے بھی اس میں کوئی نرمی نہیں پیدا ہوتی۔تعلیم اس پر ایک نیا رنگ چڑھا سکتی لیکن وہ اندرونی عقیدہ کے ڈھانچے میں کبھی نہیں داخل ہوتی ہے کہ جہاں نسل اور خاندان پر مبنی اور صدیوں پرانی روایات کا اثر و رسوخ مسلسل عمل میں ہوتا ہے۔"

مولانا آزاد کی قیمتی اور تقریباً فراموش کردہ وراثت کو یاد کرنے اور اس پر اس ناحیہ سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد آزاد سوچ و فکر اور تکثرتیت پر مبنی ہو۔ خاص طور پر مولانا آزاد کا اسلام دور حاضر کے چند جنگجو اور متشدد اسلام پسندوں سے کہیں زیادہ معتدل اور ہم آہنگ تھا۔

اسی لیے اس طرح کبھی کبھی جب مذہبی خامیاں ہندوستان کے نظریہ کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں تو ہمیں مولانا آزاد کی وراثت پر توجہ دینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ایس عرفان حبیب دلی کی نیشنل یونیورسٹی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن میں مولانا ابوالکلام آزاد کے چیئر مین ہیں۔

ماخذ: http://www.thehindu.com/opinion/op-ed/the-forgotten-inheritance-of-azad/article5714121.ece?homepage=true

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-personalities/s-irfan-habib/the-forgotten-inheritance-of-maulana-abul-kalam-azad/d/35871

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/s-irfan-habib,-tr-new-age-islam/the-forgotten-inheritance-of-maulana-abul-kalam-azad-مولانا-ابوالکلام-آزاد-کی-فراموش-کرداہ-وراثت/d/66616

 

Loading..

Loading..