New Age Islam
Sun Dec 05 2021, 03:47 PM

Urdu Section ( 1 Dec 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Contentment: The Trait of a True Muslim قناعت:ایک مسلمان کا امتیازی وصف


By S. Arshad, NewAgeIslam.com (Translated from English by Samiur Rahman, NewAgeIslam.com)

Therefore, contentment teaches man patience and piety. The heart gets solace and spiritual peace with acknowledgment of God’s favors and bounties. A grateful person neither takes undue pride in his worldly possession nor expresses his disappointment at what he does not have.

“No torment befells a country or your life that is not already written in the Book. Verily, it is easy for Allah so that you do not complain about what you do not get and do not boast of what he gave you, and Allah does not like anyone who boasts.’ (Al Hadeed: 22-23)

Thus, the Quran emphasizes on contentment on four occasions. It forbids man from being jealous of others for their wealth and prosperity and at the same time it enjoins on him not to have a lust for more. God says:

“And if you have patience and piety, it requires courage.” (Al-i-Imran: 186)

Therefore, the Quran clearly teaches Muslims contentment because it makes man grateful to God and also helps him to shrug off greed and covetousness as greed compels man to resort to all the means, good and evil, for acquiring wealth and material prosperity whereas contentment makes man pious and considerate.

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/contentment--the-trait-of-a-true-muslim/d/6030

URL: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/civic-principles-in-the-quran/d/6048

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/contentment--the-trait-of-a-true-muslim--قناعت-ایک-مسلمان-کا-امتیازی-وصف/d/6049

 

قناعت: ایک مسلمان کا امتیازی وصف

 مصنف: ایس ارشد،نیو ایج اسلام ڈاٹ کام

قرآن کے مطابق قناعت ایک سچے مسلمان کاامتیازی وصف ہے۔صبر،خدا کا شکر او رتقوی قناعت کے جزاء ہیں۔ ایک سچا مسلمان ہر حال میں خدا کا شکر گزار رہتا ہے۔ جو کچھ بھی خدانے اسے عطا کیا ہے اس پر قناعت کرتا ہے اور زیادہ کالالچ نہیں کرتا ہے اور حد سے زیادہ کی دلی آرزو نہیں رکھتا ہے۔ خدا جسے چاہتا ہے بے شمار دیتا ہے او رجسے چاہتا ہے ضرورت کے مطابق دیتاہے۔ وہ ہم میں سے کچھ بندوں کو فاقہ کشی،مفلسی، دشواری، خوف اور کاروبار میں نقصان وغیرہ کی حالت میں رکھ کر ہمارا امتحان لیتاہے۔ ایک سچا مسلمان قناعت کی صفت کے سبب ہر آزمائش کو پار کرجاتاہے۔

پس خدا نے جو تم کو حلال طیب رزق دیا ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر کرو۔ اگر اس کی عبادت کرتے ہو۔(16:114) لالچ ہر آدمی کے دل میں بھرا ہے اور دوسروں کے مال و دولت، خوشحالی اور مادّی و سائل دیکھ کر آرزو کرتاہے۔ یہ آرزو اکثر غلط رخ پر لے جاتی ہے اور وہ دنیاوی آسائش حاصل کرنے کے لئے ہر حربہ طریقہ استعمال کرتاہے۔ قرآن ایسے برتاؤ کے خلاف انسانوں کو متنبہ کرتاہے:

’اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اس کو ہوس مت کرو۔(4:32)

قرآن فرماتا ہے کہ اگر خدا نے کسی کو مال و دولت اور مادّی وسائل عطا کئے ہیں تو اس میں خدا کی حکمت ہے۔ جس طرح غربت او ر فاقہ کی حالت میں رکھ کر خدا امتحان لیتاہے اسی طرح خدا لوگوں کو دولت دے کر آزمائش میں مبتلا کرتاہے۔ اس لئے کسی سے مقابلے میں دنیاوی آسائشوں کو دولت کی خواہش رکھنا حماقت ہے۔

خدانے سب کی قسمت پہلے سے مقرر کر دی ہے۔ اس لئے اپنی قسمت کی شکایت کرنا خدا کی نافرمانی اور ناشکری کرنے کے مترادف ہے۔ اور خدا کی ناشکری ایک سنگین جرم ہے۔ خدا نے ناشکری کے سبب ہی کئی ملکوں کو غرق کردیا۔ قرآن فرماتاہے:

’ہم نے تمہیں زمین دی اور تمہاری قسمت بھی اس میں طے کردی اور تم شکر ادا کرتے رہو‘

اس لئے قناعت انسان کو صبر اور تقویٰ سکھاتاہے۔ خدا کے احسانات اور عطیات تسلیم کرنے کے ساتھ ہی دل کو اطمینان او رروحانی سکون حاصل ہوتاہے۔ ایک شکر گزار بندہ نہ تو اپنی دنیاوی ملکیت میں غیر ضروری فخر کرتاہے او رنہ ہی جو اس کے پاس نہیں ہے اس پر مایو سی کا اظہار کرتاہے۔

’کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیش تراس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی)ہے (اور) یہ (کام) خدا کو آسان ہے۔ تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہوگیا ہو اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تم کو اس سے دیا ہو اس پر اتریا نہ کرو۔ اور خدا کسی اترانے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا (57:22-23)

اس طرح قرآن چار مواقع پر قناعت پر زور دیتاہے۔ کسی کے مال و دولت اور خوشحالی پر حسد کرنے سے قرآن منع فرماتاہے اور ساتھ ہی یہ حکم دیتاہے کہ اور زیادہ کی ہوس نہیں رکھنی چاہئے۔خدا فرماتاہے:

”اور تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہوگے تو یہ بڑی ہمت کا کام ہیں (3:186)

لہٰذا قرآن مسلمانوں کو قناعت کی تعلیم دیتاہے کیونکہ انسان کو خدا کا شکر گزار بناتا ہے اور یہ حرص او رلالچ کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے کیونکہ حرص مال و دولت اور مادّی خوشحالی حاصل کرنے کے لئے انسان کو تمام طریقوں اچھا یا برا کو استعمال کرنے کیلئے مجبور کرتاہے جب کہ قناعت انسان کو متقی اور دوراندیش بناتاہے۔

(انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمن،نیو ایج اسلام)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/contentment--the-trait-of-a-true-muslim--

Loading..

Loading..