New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 09:41 PM

Urdu Section ( 29 Aug 2019, NewAgeIslam.Com)

You Are the Best People Evolved For Mankind تم بہترین امت ہو

 

 

 

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

قرآن نے قوم مسلم کے متعلق کہا ”تم بہترین امت ہو کیونکہ تم لوگوں کونیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو۔اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔“(آل عمران:110)

۔ اس آیت میں لفظ ”للناس“ (انسانوں کے لئے) سے اس بات کی طرف اشارہ ہے مسلمانوں کو بہترین امت اسی لئے کہاگیاہے کہ وہ صرف مسلمانوں کی فکر نہیں کرتے بلکہ پوری انسانیت کی فکر کرتے ہیں۔

اس جملے کی  وضاحت قرآن کئی موقعوں پر کردیتاہے کہ کس طرح مسلمان تمام قوموں سے افضل ہیں۔افضل ہونے کا پیمانہ قرآن آگے یہ بیان کرتاہے۔

”وکذلک جعلنکم امتہ و سطالتکونو شہداء علی الناس و یکون الرسول علیکم شہیدا۔ (البقرہ: 143)

اور اسی طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایاہے تاکہ تم انسانوں پر گواہ رہو اور رسول تم پر گواہ  ہو۔

مندرجہ بالا آیت میں لفظ ”شہداء“ کا معنی  نگراں لیاجائے تو بات زیادہ واضح ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو انسانوں کا نگراں بنایاگیاہے۔ وہ انہیں بھلائی کی ترغیب دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ان  آیات کی رو سے قوم مسلم کی دو بنیادی خوبیاں ہیں جن کی بناپر اس کو بہترین امت قراردیاگیا۔ پہلی خوبی یہ ہے کہ مسلم صرف اپنی بھلائی کے کام اور اپنی عبادت و ریاضت کو ہی کافی نہیں سمجھتی بلکہ وہ  سماج کے تمام افراد کی فلاح کے لئے کوشاں رہتی ہے۔ مسلمانوں کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ تمام لوگوں کو نیکی کی ترغیب دین اور بدی سے پرہیز کرنے کی تلقین کریں۔  دوسری خوبی یہ ہے کہ قوم مسلم معتدل  قوم (امتہ وسطا) ہے۔ اس آیت کی تفسیر لکھتے ہوئے مولانا شبیر عثمانی لکھتے ہیں۔

”معتدل کا مطلب ہے کہ یہ امت ٹھیک سیدھی راہ پر ہے جس  میں کچھ بھی کجی کا شائبہ نہیں۔ اور افراط و تفریط  سے بالکل بری ہے۔“

معتدل کا مطلب صرف یہی نہیں کہ اس قوم میں کجی نہیں بلکہ اس قوم کے مزاج میں اعتدال ہے۔ انتہاپسندی، مبالغہ پسندی  اور جارحیت نہیں ہے۔ ایک طرف تو اس قوم کو توحید اور انسانی اور سماجی اقدار کی اشاعت کی ذمہ داری دی گئی اور ساتھ ہی ساتھ اس پر یہ بھی لازم کردیاگیا کہ اشاعت دین  اور نیکی کی طرف بلانے کا کام اعتدال کے ساتھ کرے گی۔ مسلمانوں کو یہ ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ صرف اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچادیں اورباقی کام اللہ پر چھوڑدیں۔ حساب لینے کا ذمہ انسانوں کانہیں ہے۔ اللہ کا ہے۔ یہ آیت اس ضمن میں ملاحظہ فرمائیں:

”سو تیرا ذمہ ہے پہنچادینا  اور ہمارا ذمہ ہے حساب لینا۔“ (الرعد:  40)

اگر کوئی ان کا پیغام نہ قبول کرے اور جھگڑاکرنے لگے  یا تشدد پر اترآئے تو مسلانوں سے کہاگیاہے کہ وہ ان سے کنارہ کرلیں۔ ان سے نہ الجھیں۔ قران کی یہ آیت ملاحظہ کریں

”اور جب سنیں لغو بات  تو اس سے کنارہ کریں  اور کہیں ہم کو ہمارے کام اور تم کو تمہارے کام، سلامت رہو ہم کو نہیں چاہئیں  بے سمجھ لوگ۔“ (البقرہ:  55)

بلکہ مسلمان اپنے تمام سماجی معاملات میں اپنے اس رتبے کا خیال رکھتاہے کہ وہ بہترین امت کا فرد ہے۔ اس لئے  اس کے ہاتھ یا زبان سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔اور اگر کوئی اس کے ساتھ زیادتی کرتاہے تو وہ اس کے لئے صلہ رحمی کا معاملہ کرتاہے۔

”اور بھلائی کرتے ہیں  برائی کے جواب میں اور ہمارے دئیے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں۔“ (البقرہ:  45)

دین کی اشاعت کے لئے قرآن نے جو طریقہ ء کار بتایا ہے وہ یہی ہے کہ پرامن طریقے سے حکمت کے ساتھ کیاجائے۔ اس کے لئے تشدد اور جبر و اکراہ کی کوئی گنجائش اسلام میں نہیں ہے۔ اشاعت دین کے  لئے جبر و تشد اللہ اور رسول کو پسند نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن بار بار کہتاہے کہ ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور صرف اللہ کو معلوم ہے کہ کون راستے پر آئیگا اور کون بہکارہے گا۔ اس لئے اسلام کی اشاعت کے لئے تشدد کا استعمال خدا کو قطعی نا پسند ہے۔ قرآن کہتاہے،۔

”اور کو پسند نہیں  حد سے بڑھنے والے۔“ (الاعراف:  54)

قرآن یہ بتاتاہے کہ اللہ کیسے لوگوں کو پسند کرتاہے۔

”اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتاہے۔“ (الحجرات:  9)

”عادت کر درگزر کرنے کی اور ہدایت کر نیک کام کرنے کی  اور کنارہ کر جاہلوں سے۔“(الاعراف: 199)

قوم مسلم کے لئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ قرآن انہیں بہترین امت کا درجہ دیتاہے مگر اس کے لئے وہ مسلمانوں کے لئے ایک طرز حیات متعین کرتاہے۔ اس میں وہ سب برائیاں نہیں ہونگی جو پچھلی امتوں میں تھیں۔ یعنی ان میں فرقہ بندی نہیں ہوگی، وہ منتشر نہیں ہونگے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہونگے۔ وہ اپنے سماجی اور ذاتی معاملات میں اعتدال اور نرمی کا رویہ اختیار کریں گے۔وہ غیر مسلموں کو اسلام کا پیغام پرامن اور نرمی سے پہنچائیں گے۔ ان پر جبر نہیں کرین گے۔ وہ سماج میں لوگوں کی طرف اپنے گال نہیں پھلائیں گے یعنی ان سے خوش مزاجی سے پیش آئینگے۔ ایک دوسرے کی مدد کرینگے، پڑوسیوں کا حق اداکرینگے۔ اپنے والدین  کی خدمت کرینگے، عزیزوں اور رشتہ داروں کے حقوق اداکرینگے۔دین میں مبالغہ سے کام نہیں لینگے۔ یہی طرزحیات مسلمانوں کو بہترین امت کہلانے کا مستحق بناتاہے۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/s-arshad,-new-age-islam/you-are-the-best-people-evolved-for-mankind--تم-بہترین-امت-ہو/d/119603

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..