New Age Islam
Sat Sep 18 2021, 07:40 AM

Urdu Section ( 12 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Who is an adult in Islam اسلام کے مطابق بالغ کون ہے

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

 22 مارچ 2021

 ہر معاشرے میں لوگوں کو بالغ قرار دیے جانے کے لیے ایک اقل مدت متعین ہے۔ ایک انسان صرف عمر کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کے لحاظ سے بھی بالغ ہوتا ہے۔ ہر ملک میں ایک فرد کو بالغ قرار دینے کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور عمر کے تعین میں ملکوں کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے۔ تاہم، کسی شخص کو تمام شعبوں میں یا تمام مقاصد کے لیے بالغ سمجھے جانے کے لیے عمر کا کوئی عام معیار نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے کم از کم عمر 18 سال ہے لیکن لڑکوں کے لیے شادی کی عمر 21 سال اور لڑکیوں کے لیے 18 سال ہے۔ اور اسمبلی یا پارلیمانی الیکشن میں حصہ لینے کے اہل ہونے کی عمر کم از کم 25 سال ہے لیکن ہندوستان کے صدر کے عہدے کے امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کے لیے کم از کم عمر 35 سال ہے۔

عام طور پر ہر معاشرے میں ایک شخص کو بالغ اس وقت سمجھا جاتا ہے جب وہ بلوغت کو پہنچتا ہے۔ چونکہ بلوغت کی عمر ہر شخص کی مختلف ہوتی ہے جس کی اقل مدت 10 سال ہے، سن بلوغت کو کسی بھی ملک میں بلوغت کی قانونی عمر نہیں مانا جاتا ہے۔

 جب ہم اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بالغ کون ہے تو ہمیں اس کا کوئی قطعی جواب نہیں ملتا۔ وجہ وہی جو بیان ہوا۔ جو شخص صرف بلوغت کو پہنچتا ہے وہ ذہنی اور جسمانی طور پر ہر طرح سے بالغ نہیں ہوتا۔ اس لیے قرآن نے اس پر عمل کی کوئی قید نہیں رکھی ہے۔ بلوغت کی عمر کا فیصلہ معاشرے کی ضروریات کے مطابق کیا جانا چاہیے۔ قرآن نے کچھ رہنما اصول بتائے ہیں کہ کسے بالغ سمجھا جائے۔

"اور یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقہ سے جب تک وہ اپنی جوانی کو پہنچے"(الانعام:152)

"اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انہیں سپرد کردو۔" (4: 6)

پہلی آیت میں یتیم کی جائیداد کی(فروخت یا خرید کے لیے) شرط یہ ہے کہ یتیم جسمانی اور ذہنی طور پر بالغ ہو اور دوسری آیت میں یتیم کی جائیداد اس کے سپرد کرنے کی شرط شادی کی عمر تک پہنچنا ہے۔ یہاں قرآن بالغ ہونے اور شادی کی عمر کے درمیان بھی فرق کرتا ہے۔ ایک بچہ 12 سال کی عمر میں بلوغت کو پہنچ سکتا ہے لیکن حکومت شادی کی عمر 21 سال مقرر کر سکتی ہے۔ دوسری آیت میں یتیم کی جائیداد کے نگہبان کو یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ جائیداد اس کے حوالے کرنے سے قبل یتیم کی صلاحیتوں کی جانچ کرے حتیٰ کہ شادی کے قابل ہونے کے بعد بھی اس بات کا پتہ لگائے کہ آیا اس نے اس سے پہلے درست فیصلے لیے ہیں یا نہیں۔ تاکہ وہ اپنی جائیداد کو خود سنبھال سکے اور اس کی حفاظت کر سکے۔

سورہ نور میں بالغ ہونے والے بچوں کو بھی اجازت کے بعد ہی بڑوں کے کمرے میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا ہے:

 "اور جب تم میں لڑکے جوانی کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اذن مانگیں جیسے ان کے اگلوں نے اذن مانگا"۔ (24:59)

 یہاں بھی بلوغت کی اصل عمر مراد ہے۔

 اس سے بلوغت کے مسئلے پر قرآن کا نقطہ نظر واضح ہوجاتا ہے۔ اسلام حکومت وقت پر یہ ذمہ داری رکھتا ہے کہ وہ کسی شخص کو بالغ قرار دینے اور کسی خاص خدمت یا ڈیوٹی کے اہل سمجھنے کے لیے ایک اقل عمر متعین کرے۔ اگرچہ قرآن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عام طور پر بلوغت کی عمر میں ایک بچہ بالغ سمجھا جائے گا، لیکن اس کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو جانچنا چاہیے تاکہ اسے کسی خاص حق یا ڈیوٹی یا سرکاری عہدے کے لیے اہل قرار دیا جا سکے۔ اس سلسلے میں، ایک حدیث کسی شخص کو بالغ سمجھنے کے لئے عمر کا تعین کرنے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔

عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے ابو اسامہ سے سنا، انہوں نے عبید اللہ سے سنا، انہوں نے نافع سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر سے سنا۔ انہں نے کہا کہ میں احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت میری عمر 14 برس تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فوج میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس کے بعد میں جنگ خندق کے دن آپ کی بارگاہ میں پھر حاضر ہوا اس وقت میری عمر 15 سال تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دیدی۔ نافع نے کہا کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز سے ملاقات کی جب وہ منصب خلافت پر فائز ہوئے اور ان سے یہ حدیث بیان کی۔ اس پر عمر بن عبد العزیز نے کہا کہ اب اسی عمر کو سن بلوغت مانا جائے گا اور اپنے تمام حکام کو حکم جاری کردیا کہ 15 برس کے تمام لوگوں کو فوج میں شامل ہونے کی اجازت دیدی جائے۔ "(کتاب الشہداء جلد 1 حدیث نمبر 2485 ، صحیح بخاری)

اس حدیث کے مطابق بالغ ہونے کی اقل عمر 15 برس ہونی چاہیے۔ تاہم، حکومت وقت کسی عہدے یا خدمات کی ضروریات کے مطابق مختلف سرکاری خدمات کے لیے مختلف عمر کا تعین کر سکتی ہے۔ ہندوستان میں نئے جوینائل جسٹس ایکٹ کے تحت 16 سال سے اوپر والے شخص پر بطور بالغ کے جنسی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے گا حالانکہ اس کی شادی کی عمر 21 سال ہے۔

 لہذا، بالغ ہونے کے معاملے میں قرآن کا نقطہ نظر انتہائی عملی اور لچکدار ہے اور جدید جمہوری ریاستوں کے قوانین سے متصادم نہیں ہے۔

Related Article:

Who is an adult in Islam

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/s-arshad-new-age-islam/-adult-islam/d/125351

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..