New Age Islam
Fri Sep 24 2021, 06:01 PM

Urdu Section ( 26 Aug 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Understanding the Talibani Sharia: Does Islam Push For Complete Gender Segregation? طالبانی شریعت : کیا اسلام مکمل صنفی علیحدگی پر زور دیتا ہے؟

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

 25 اگست 2021

طالبان کے اس فرمان کے ساتھ کہ افغانستان میں خواتین کو اب اسلامی شریعت کے تحت زندگی گزارنی پڑے گی، اسلام میں خواتین کی حیثیت کا تنازعہ ایک بار پھر عوامی شعور میں آگیا ہے۔

 کیا مکمل صنفی علیحدگی ممکن ہے؟

 اہم نکات:

1.      قرآن اخلاقی پردے اور پھر جسمانی نقاب پر زور دیتا ہے۔

2.      قرآن مردوں اور عورتوں دونوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے۔

3.      اسلام مرد و عورت دونوں کو مسجد میں ایک مرد امام کے پیچھے نماز ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

4.      عورتوں کو مرد حاضرین کے ساتھ بات چیت کرنے کی اجازت ہے۔

 ----

طالبان کے اس فرمان کے ساتھ کہ افغانستان میں خواتین کو اب اسلامی شریعت کے تحت زندگی گزارنی پڑے گی، اسلام میں خواتین کی حیثیت کا تنازعہ ایک بار پھر عوامی شعور میں آگیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برسوں سے مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں ایک عمومی رائے یہ قائم رہی ہے کہ اسلام تمام شعبہائے حیات میں صنفی علیحدگی کی تعلیم دیتا ہے۔ بہت سے علماء کی رائے ہے کہ عورتوں کو مکمل پردہ میں رکھنا چاہیے۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ عورت کے برقعے میں اس کی آنکھ کے سامنے صرف ایک سوراخ ہونا چاہیے۔ کچھ علماء یہاں تک کہتے ہیں کہ مردوں کو گھر میں اپنی بیٹی یا بہن کو بھی نہیں دیکھنا چاہیے۔ علماء کا ایک طبقہ جس کی طالبان جیسی انتہا پسند تنظیمیں پیروی کرتی ہیں یہ کہتا ہے کہ خواتین کو اسکول جانے یا گھر سے باہر کام کرنے کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ نازک ہوتی ہیں اور اس لیے بھی کہ وہ ایک بری طاقت ہیں کیونکہ اگر عوامی سطح پر انہیں اپنا چہرہ بے نقاب کرنے کی اجازت دے دی جائے تو وہ مردوں کے اندر فساد پیدا کر دیں گی۔

پاکستان میں ایک یونیورسٹی کے پروفیسر کو کیمپس میں جنسی اختلاط کی وکالت کرنے پر قتل کر دیا گیا۔ ملالہ یوسف زئی پر اسی وجہ سے گولیاں برسائی گئیں کہ جب وہ تعلیم حاصل کریں گی تو ان کے اندر بگاڑ پیدا ہو جائے گی۔

لیکن کسی مسئلے کے پر فیصلہ کرنے کے لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ سب سے پہلے قرآن میں اور پھر سنت میں جواب تلاش کریں، اگر قرآن اس پر خاموش ہو۔ سورہ نور کی آیات 30 اور 31 سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہم سے کس قسم کے پردے کا مطالبہ کرتا ہے:

"اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں، اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ"۔

 قرآن مسلم مردوں کو حکم دیتا ہے کہ جب عورتوں کا سامنا ہو تو وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں۔ پھر اگلی آیت میں قرآن عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ مردوں کے سامنے ہوں تو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ لہٰذا، اگر خواتین کو عوام میں نکلنے کی ہی اجازت نہ ہو تو انہیں مردوں سے اپنی نظریں نیچی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئے گی۔ قرآن جانتا ہے کہ مکمل طور پر صنفی علیحدگی پر مبنی معاشرے کا تصور نہیں کیا جاسکتا لہٰذا مردوں اور عورت کو اپنے سماجی، معاشی اور مذہبی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران ایک دوسرے کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ قرآن جسمانی پردے پر زیادہ زور نہیں دیتا بلکہ روحانی یا اخلاقی پردے پر زور دیتا ہے۔ اور اس کی ذمہ داری صرف عورتوں پر ہی نہیں بلکہ مردوں پر بھی ہے جیسا کہ سورہ نور کی آیت 30 ظاہر ہے۔

 آیت 31 میں خواتین کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے خاندانی رشتہ داروں اور اپنے خاندان کے مردوں کے ساتھ بغیر پردے کے بات چیت کریں۔

 سب سے اہم بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عورتوں کو بھی مسجد میں مردوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت تھی۔ لہٰذا  اسلام عورتوں کو مردوں کے ساتھ مسجد میں ایک ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت دیتا ہے مگر یہ کہ ان کی صف مردوں کی صف کے بعد شروع ہوگی۔ پس جب عورتوں کو مسجد میں آنے اور مردوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا جاتا تو انھیں زندگی کے دوسرے شعبوں میں صرف اس بنیاد پر کیسے روکا جا سکتا ہے کہ کچھ مرد یا کچھ خواتین نازک یا مفسد ہو سکتے ہیں۔ زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی مکمل علیحدگی پر اصرار کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان عورتوں کو بدی کا ایک محرک سمجھتے ہیں کہ اگر انہیں اسکول یا دفتر میں جانے کی اجازت دی جائے تو وہ معاشرے کو بگاڑ دیں گی۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں کچھ خواتین نے آپ ﷺ سے شکایت کی کہ ہمیں آپ سے مذہبی مسائل کے بارے میں سوالات کرنے کا موقع نہیں ملتا کیونکہ آپ اکثر مردوں سے گھرے ہوئے رہتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ہمیں وقت دیں تاکہ ہم آپ کے ساتھ بیٹھ کر دین سکیں۔ لہذا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقصد کے لیے خواتین کے لیے ایک خاص دن مقرر کیا۔ لیکن یہ علیحدگی اس لیے نہیں تھی کہ عورتوں کو مردوں سے ملنے سے ممانعت ہے بلکہ اس لیے کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ نہیں سکتی تھیں کیونکہ آپ ﷺ اکثر مردوں سے گھرے ہوئے ہوتے تھے۔

 ایک اور واقعہ جو صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کی جماعت سے باہر آئے کیونکہ آپ ﷺ کو یہ محسوس ہوا کہ خواتین کو میرا خطبہ سنائی نہیں دے رہا ہے۔ آپ ﷺ عورتوں کی جماعت کے قریب آئے اور انہیں صدقہ دینے کی تلقین کی۔ یہ سن کر عورتوں نے اپنی انگوٹھی یا دیگر زیورات صدقہ کے لیے دیدئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے انہیں جمع کیا.

ایک کثیر ثقافتی معاشرے میں کہ جس میں ہم رہتے ہیں مکمل طور پر صنفی علیحدگی انتہائی مشکل ہے۔ لہذا، ایک فطری مذہب ہونے کے ناطے اسلام زندگی کے تمام شعبوں میں صنفی علیحدگی پر نہ تو زور دیتا ہے اور نہ ہی اس پر اصرار کرتا ہے۔ اسلام صرف یہ چاہتا ہے کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے ساتھ ایک صحت مندانہ اخلاقی فاصلہ برقرار رکھیں۔ انہیں مل کر لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

 جدید اسلامی ریاستیں اس اسلامی روح کی پیروی کرتی ہیں جو قرآن نے پیش کیا ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ ﷺ کے مقدس صحابہ نے جس کی عملی تصویر پیش کی ہے۔ خواتین کو محصور رکھنا اور انہیں سر سے پاؤں تک ڈھانپنا اسلامی عمل نہیں ہے۔ علماء اور تنظیموں کا خواتین پر تعلیم یا ملازمتوں اور سماجی سرگرمیوں میں مکمل پابندی عائد کرنا دراصل مساوات کے قرآنی اصول کی خلاف ورزی ہے۔

عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے اور معاشرتی سرگرمیوں اور سیاست میں حصہ لینے کا موقع دیے بغیر گھر کے اندر محدود کر دینا مسلمانوں میں تعلیمی، سماجی اور معاشی پسماندگی کا باعث بنے گا۔

----------------

Related Article:

Understanding the Talibani Sharia: Does Islam Push For Complete Gender Segregation?

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/gender-multicultural-prophet/d/125284

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..