New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 09:46 AM

Urdu Section ( 18 Feb 2019, NewAgeIslam.Com)

Understanding Creator and Creation from the Perspective of Vedanta and the Quran خالق کائنات اور کائنات ویدانت اور قرآن کے افکار کے تناظر میں


سہیل ارشد

قدیم زمانے سے ہی فلسفیوں اور مفکروں نے کائنات اور اس کے وجود میں آنے کے اسباب پر غور وفکر کیاہے ۔ اور خالق اور اس کی تخلیق کے متعلق اپنے نظریات اور افکار پیش کئے ۔500ق م میں یونانی مفکر و فلسفی ایم پی ڈوکلس نے یہ نظریہ پیش کیاتھا کہ کائنات چار عناصر ۔۔ آگ ، پانی ، ہوا اور مٹی ۔۔۔ سے بنی ہے ۔ اس کا یہ خیال تھا کہ خلا ء ا،ثر نام کے ایک لطیف مادے سے پر ہے ۔ ایک اور یونانی فلسفی اینگزی مانڈر کا خیال تھا کہ کائنات کسی لاعنصریا کیس ’’ابتدائی خام عنصر‘‘ سے بنی ہے جس کی شناخت ابھی نہیں ہوپائی ہے ۔ ویدانت کے مطابق کائنات کا خالق ایک ایسی طاقت ہے جس کا کوئی form نہیں ہے ۔اسی formless اور nameless نے اپنی ذات سے برہما یا ہرنیہ گربھی کی تخلیق کی اور پھر اسی ہرنیہ گربھ نے سے مادی کائنات کی تخلیق ہوئی ۔ یہ لاعنصر جدید سائنس کے مطابق Vaccum ہے جو بالکل خالی نہیں ہوتابلکہ اس مین Zero point energy ہے ۔اسی Vaccum میں توانائی بہت ہی مخفی حالت میں رہتی ہے ۔

انگزی مینڈر کے استاد تھیلس کا یقین تھا کہ کائنات کی تخلیق پانی سے ہوئی ۔ اس کا یہ بھی خیال تھا کہ یہ کائنات ایک عظیم قوت یا وجود حقیقی کی مظہر ہے ۔ بعد میں اس کے خیال کی تائید ویدانت سے ہوئی جس میں کائنات کو خدا کا مظہر قرار دیاگیاہے ۔ یونانی فلسفیوں کے آگے چلکر آسمانی صحیفوں اور پھر موجودہ زمانے میں سائنس کے ذریعہ صحیح ثابت ہوئے ۔

ویدانت جو ایک قدیم آسمانی صحیفہ ہے اور وجود اور تخلیق کے مسئلے پر گہرائی سے بحث کرتاہے ’’وحدت میں کثرت ‘‘ کا نظریہ پیش کرتاہے ۔ تیتریہ اپنشد (2.7.1 ) میں کہاگیاہے :

’’ابتدا میں سب کچھ غیر نمایاں تھا۔ اس غیر نمایاں سے وجود ظاہر ہوا۔ برہمن (وجود حقیقی ) نے خود سے خود کی تخلیق کی ۔ لہذا، اسے خالق خود کہاجاتاہے ۔ ‘‘

کائنات کی تخلیق کے بارے میں اپنشد نے اپنا نظریہ پیش کیا جس کی قرآن نے اور بعد میں جدید سائنس نے تائید و تصدیق کی ۔ چھندوگیہ اپنشد (3.19.1) کہتاہے :

’’ّآدتیہ ہی برہمن ہے ۔ آگاز میں یہ کائنات بے ہئیت ، بے نام ، غیر نمایاں مگر لطیف حالت میں تھی ۔ اس کے بعد جس طرح بیج سے پودا ظاہر ہوتاہے رفتہ فرتہ اسی طرح کائنات نے بھی نمایاں روپ اختیار کیا اور انڈے کی شکل اختیار کی ۔ یہ اسی حالت میں ایک برس تک رہی ۔ اس کے بعد انڈا دوحصوں میں بٹ گیا۔ ایک حصہ چاندی کے رنگ کا اور دوسرا سنہراتھا ۔ ‘‘

چھندوگیہ اپنشد کے نظریہ کی تصدیق قرآن سے بھی ہوتی ہے جس میں اس انڈے یا Cosmic egg اور Big Bang کی طرف اشارہ موجود ہے ۔ جسکے نتیجے میں زمین و آسمان اور کائنات کی پیدائش ہوئی ۔ قروآن کی یہ آیت ملاحظہ کیجئے :

’’کیاوہ لوگ جو منکر ہیں نہیں جانتے کہ زمین اور آسمان منہ بند تھے (جڑے ہوئے تھے)پھر ہم نے ان کو الگ کیا اور ہم نے پانی سے ہر جاندار کو پید اکیا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لائینگے ؟‘‘ (الانبیاء : 30)

ایک دوسری آیت میں بھی زمین اور آسمان کے الگ ہونے کا ذکر ہے :

’’ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں ہورہاتھا اور اس سے اور زمین سے کہا، کیا تم ؤتے ہوخوشی سے یا جبر سے ، وہ بولے ہم آئے خوشی سے ۔‘‘ (حم السجدہ : ۱۱)

بگ بینگ تھیوری کے مطابق بیضہ ء آفاق (Cosmic Egg) میں دھماکے کے نتیجے میں زمین اور آسمان وجود میں آئے جس کا زکر اپنشد اور قرآن میں بھی ہے ۔ قرآن کہتاہے کہ آغاز میں زمین اور آسمان تونائی کی شکل میں منہ بند تھے اور خالق حقیقی کے ھکم پر الگ ہوئے ۔ یہی چھندوگیہ اپنشد میں بھی کہاگیاہے ۔ قرآن کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں گیس اور بخار کے نتیجے میں پانی وجود میں آیا اور تمام کائنات پانی سے بھر گئی ۔ قرآن کا یہ نظریہ (بائبل کا بھی یہی نظریہ ہے کہ کائنات کی تخلیق پانی سے ہوئی ) حال ہی میں سائنس دانوں کی ایک دریافت سے صحیح ثابت ہوگیاہے ۔حال ہی میں NASA کے سائنس دانوں کی دو ٹیموں نے کائنات میں پانی کے سب سے بڑے ذخیرے کا پتہ لگایاہے جو زمین سے بہت ہی زیادہ فاصلے پر واقع ہے ۔ کائنات میں موجود پانی کا یہ ذخیرہ زمین کے تمام سمندروں کے پانی سے 140کھرب گنا زیادہ ہے اور ایک بلیک ہول گو گھیرے ہوئے ہے۔ یہ بلیک ہول زمین سے بارہ ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے ۔ ناسا کے سائنسدان میٹ ربریڈفورڈ نے کہا کہ یہ اس بات کا چبوت ہے کہ پانی کائنات میں ایک غالب عنصر کی حیثیت سے آغاز پیدائش سے ہی موجود ہے ۔ ماہرین نجوم کو اس بات کا تو اندازہ تھا کہ زمین سے قریب کے خلاء میں پانی موجود ہے مگر اس سے قبل انہیں زمین سے اتنے بڑے فاصلے پر پانی کے وجود کا پتہ نہیں چلاتھا ۔ سائنس دانوں نے یہ بھی بتایا کہ کہکشاں میں پانی کا بھاپ ہے اگرچہ اس میں بلیک ہول کے پانی سے 4000گنا زیادہ پانی ہے مگر اس کا زیادہ تر پانی برف کی شکل میں منجمد ہے ۔

ویدانت اوعر قآن اس موضوع پر بھی متفق ہیں کہ خالق حقیقی تخلیق کو دہرائیگا یا کائنات کو بار بار تحلیل اور تخلیق کرے گا۔ اپنشد وں میں کہاگیاہے کہ برہما کائنات کی تخلیق کرتاہے اور ایک معینہ مدت مے بعد اسے تحلیل کردیتاہے ۔ پھر اس کی تخلیق کرتاہے اور تخلیق اور تحلیل کا یہ سلسلہ جاری رہتاہے ۔ شویتاشور اپنشد (استوتر ۷۔۷) میں کہاگیاہے کہ تخلیق اور تحلیل یعنی کائنات کا غائب ہوجانا اور پھر نمایاں ہونا ازل سے جاری ہے ۔ برہما کائنات کو عدم سے وجود میں لاتاہے پھر ایک معنیہ مدت کے بعد اسے عدم میں بھیج دیتاہے یا تحلیل کردیتاہے ۔ تحلیل کرنے سے مراد تحریب نہیں ہے یا ابدی تباہی نہیں ہے بلکہ وجود کو تحلیل کرکے غیر نمایاں ہئیت میں واپس بھیج دینا ہے ۔ قرآن میں بھی اس مفہوم کی کئی آیتیں ہیں جس میں کہاگیاہہے کہ خدا کائنات کو ایک مقرر مدت پر تباہ کردیتاہے اور پھر تخلیق کو دہراتا ہے :

’’اس دن ہم کائنات کو ایسے لپیٹ لیں گے جیسے طومار میں کاغذ۔ جس طرھ ہم نے پہلے تخلیق کی تھی ہم اسے دہرائیں گے ۔‘‘ (الانبیاء: 104)

یہ آیت اس عقیدے کی نفی کرتی ہے کہ خدا نے اس کائنات کو ایک ہی بار کے لئے تخلیق کیاہے ۔ خدا کہتاہے کہ وہ تخلیق کو دہرائیگا۔ کائنات اپنی پہلی حالت مییں یعنی عدم کی حالت میں بھیج دی جائیگی جیسا کہ پہلی بار تخلیق سے قبل تھی ۔ اسی موضو ع کو مندرجہ یل آیت میں پیش کیاگیاہے ۔

’’اور وہ اللہ کی قدر ویسی نہیں کرتے جیسا کہ اس کا حق ہے ۔ اس دن جبکہ ساری زمین اس کی مٹھی میٰں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپتے ہوئے ہونگے ۔‘‘ ( الزمر : 67)

یہ آیت کائنات کے لپیت لئے جانے یا تحلیل کردئیے جانے کا مفہوم پیش کرتی ہے ۔

اپنشد میں برہما کو ہئیت اور صفات سے آزاد ہستی کے روپ میں پیش کیاگیاہے۔ جو لاانتہا طاقت ور ہے ۔ مگر اس کی کوئی ہئیت و صفت نہیں ہے ۔ قرآن بھی خدا کو لطیف کہتاہے یعنی کسی بھی ہئیت سے آزاد ۔

’’اسے آنکھیں نہیں پاسکتیں مگر وہ پاسکتاہے آنکھوں کو۔ وہ لطیف ہے اور خبر رکھنے والاہے ۔‘‘ (الانعام : 103)

خدا کا طبعی وجود نہیں ہے مگر اس کا لطیف وجود ہرجگہ ہے وہ خبیر اور قادر مطلق ہے ۔

ویدانت اور قرآن دونوں خدا یا وجود حقیقی کو تمام وجود پر محیط تسلیم کرتے ہیں ۔ اپنشد میں خدا کو تمام کائنات میں موجود اور محیط کہا گیاہے ۔ رگ وید میں کہاگیاہے :

اسا بھاسیم ایدم سروم (خدا ہرچیز کومحیط ہے )

قرآن کہتاہے

الا انہ بکل شئی ء محیط (سنو، وہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے ) حم السجدہ : 54)

خدا کی دو اہم صفات ظاہر اور باطن ہیں ۔ ظاہر سے مراد یہ ہے کہ مادی دنیا جو ظاہر ہے وہ خدا کے وجود کا مظہر ہے۔ باطنب سے مراد یہ ہے جو کچھ بھی پوشیدہ ہے یا اشیاء کے باطن میں بھی خدا سمایاہواہے ۔ اس طرح خدا اشیاء کے ظاہر اور باطن میں سمایاہواہے ۔منڈک اپنشد میں باطن کے لئے سرو بھوت انترآتما کا لفظ آیاہے یعنی تمام مادی اشیاء کی روح ۔اپنشد پھر کہتاہے

تت شرشٹوا نوپروشت (دنیا کی تخلیق کرکے کے بعد وہ اس کے اندر سماگیا)

لفظ باطن یا سرو بھوت انترآتما ویدانت کے فلسفے ادویت واد یا اسلامی فلسفے وحد ت الوجود کی بھی تصدیق کرتے ہیں یعنی خدا کا وجود ایک ہی ہے اور تمام کائنات اسی ایک خدا کے وجود کا ھصہ ہے ۔ اپنشد کہتاہے ،‘’ ایکم سد وپرا بہودھا ودنتی ۔‘‘ (وجود حقیقی ایک ہی ہے عارف اسے مختلف ناموں سے پکارتے ہیںَ ‘‘)۔

اس کا فلسفے کے لحاظ سے انسان بھی وجود حقیقی ہی کا حصہ ہیں ۔ لہذا، اپنی ذات میں دھیان اور مراقبے کے زریعہ وجود حقیقی کا عرفان حاصل کیاجاسکتاہے ۔ برہد ارنیک اپنشد (۵۔۴۔۲) میں کہاگیاہے :

’’آتما رے وا درشٹویہ ‘‘ (اپنے آپ کو پہچانو)

ایک عربی کہاوت کا مفہوم بھی وہی ہے

اعرف نفسک بنفسک (پانے نفس کو پہچانو)

ایک قول جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے اس میں بھی ویدانت کے اس فلسفے کی بازگشت سنائی دیتی ہے ۔

من عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہّ (جس نے اپنے نفس کو پچان لیا اس نے رب کو پہچان لیا)

ابن عربی کا قول ہے

’’لامحدود سے کوئی شئے باہر نہیں ہے ‘‘

منڈک اپنشد میں کہاگیاہے

’’تمے ویکم جانت آتمنم ‘‘ (وجود حقیقی کو اپنے ہی اندر تلاش کرو) ۵۔۲۔۲

قرآن بھی خدا کے انسان کے بہت قریب اور اس کے باطن میں موجود ہونے کی بات کہتاہے :

’’اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی تم ہو ۔‘‘ (الحدید: ۴)

’’اللہ دنوں کی بات جانتاہے ۔‘‘ (التغابن : ۴)

ایک موضوع جس پر ویدانت اور قرآن میں بظاہر اختلاف معلوم ہوتاہے وہ ہے جائنات کی نوعیت یا صداقت کا معاملہ ۔ویدانت میں کائنات کو مایاکہاگیاہے ۔ مایاکا مفہوم یا ترجمہ وہم یا غیر حقیقی وجود کے طور پر لیاگیاہے۔ ویدانت کے مفسرین نے وجود حقیقی صرف خدا یا برہما کا مانا ہے اور اس کے علاوہ باقی تمام مادی وجود یا کائنات کو وہم یا حیر حقیقی کہاہے ۔ جبکہ اس کے برعکس قرآن کئی مقام پر کہتاہے کہ کائنات کا وجود حقیقی ہے یہ وہم نہیں ہے ۔ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں یامحسوس کرتے ہیں اس کا ٹھوس اور حقیقی وجود ہے ۔ یہ کائنات محض طلسم یا عالم خیال نہیں ہے ۔ اس مفہوم کی کئی آیتیں قرآن میں ہیں ۔

خلق السموت االارض بالحق (الجاثیہ : ۲۲)

(زمین اور آسمان کو حق یعنی حقیقی طور پر بنایا)

ماخلقناالسموات والارض ا مابینہما بالحق و اجل مسمیّ ( الحاقہ : ۲)

(جو بنایا آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے حق (حقیقی طور پر) اور ایک مدت کے لئے ۔)

’’اور ؂ہم نے نہیں بنایا آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے باطل (ص: 26)

قرآن واضح طور پر کہتاہے کہ زمین اور آسمان اور ان دونوں کے بیچ جوکچھ ہے اس کو اللہ نے واقعتہً بنایاہے او ر وہ باطل یعنی طلسم یا وہم نہیں ہے ۔ اس کا کائنات کو ٹھوس وجود ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔

ویدانت کے بعض مفسرین نے مایاسے مراد خیالی کائنات لی ہے ۔ انکے خیال میں کائنات ایک طلسم ہے ، اس کا ٹھوس وجود نہیں ہے جبکہ مایا کا اصل مفہوم وجود باری یعنی اکھشر پرس کی قوت تخلیق ہے ۔مایا برہما کی تخلیقی قوت کا نام ہے ۔جس طرح جلانا آگ کی طاقت ہے اور جلانے کی طاقت کے بغیر آگ کا تصور نہیٰں کیا جاسکتا اسی طرح تخلیق کی قوت کے بغیر برہما یا وجود باری کا تصور نہیں کیاجاسکتا۔مایا سبب ہے علت نہیں ہے ۔یہ یقین رکھنا کہ یہ کائنات ھقیقی نہیں ، طلسم یا وہم ہے اور اس کا ٹھوس وجود ہے یہ ظاہر کرتاہے کہ انسان کا خدا کی تخلیقی قوت پر ایمان نہیں ہے ۔ یہ عقیدہ خدا کو محض ایک جادوگر کے درجے تک گرادیناہے ۔کیونکہ جادوگر اپنی طلسمی قوت سے اپنے ہیٹ سے کبوتر وجود میں لانے کا کمال دکھاتاہے جو مستقل اور ٹھو س حقیقت نہیں ہوتی بلکہ وقتی طور پر نظر کا فریب ہوتی ہے ۔ جادوگر کوئی مسقتل اور ٹھوس چیز تخلیق نہیں کرپاتا۔ لہذا، یہ ایمان رکھنا کہ کائنات ایک وہم یا طلسم ہے اور اس کا ٹھوس وجود نہیں خدا کی تخلیق میں عدم ایمان ہے اور کفر ہے ۔ ویدانت جو خدا کی حقانیت اور وحدانیت کا پیغام دیتاہے ایسی بات نہیں کہہ سکتا ۔ ایسا اس کے بعدض مفسرین کے ذریعہ لفظ مایاکی غلط تفسیرو تشریح کی وجہ سے ہواہے ۔ لہذا، قرآن اور ویدانت دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ یہ کائنات خدا کی ٹھوس تخلیق ہے ۔ ویدوں کے عظیم مفکر اور مفسر شنکرآچاریہ بھی یہی یقین رکھتے تھے کہ کائنات کا وجود غیر حقیقی نہیں ہے ۔راجہ رام موہن رائے بھی ویدانت کے فلسفہ میں یقین رکھتے تھے اور اس کائنات کو حقیقی مانتے تھے ۔ قرآن ایک اور مقام پر کہتاہے :

’’وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے اور غور کرتے ہیں زمین اور آسمان کی تخلیق پر اور کہتے ہیں اے میرے رب تونے یہ سب باطل نہیں بنایا۔ ‘‘ (آل عمران : ۱۹۱)۔

ویدانت اور قرآن کے اس مختصر سے تقابلی جائزے سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ دونوں آسمانی صحیفوں میں کائنات اور خالق کائنات سے متعلق بہت سی باتیں مشترکہ ہیں اور ان سے وجود اور خدا کی اس کائنات کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے ۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/interfaith-dialogue/understanding-creator-and-creation-from-the-perspective-of-vedanta-and-the-quran/d/117745

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/s-arshad,-new-age-islam/understanding-creator-and-creation-from-the-perspective-of-vedanta-and-the-quran--خالق-کائنات-اور-کائنات-ویدانت-اور-قرآن-کے-افکار-کے-تناظر-میں/d/117785

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..