New Age Islam
Sat May 02 2026, 09:20 AM

Urdu Section ( 28 Apr 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Thergatha-Therigatha: Origin of mystic poetry in India تھیر گاتھا-تھیری گاتھا : بھارت میں صوفی اور بھکتی شاعری کا نقطہء آغاز

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

28 اپریل 2025

ہندوستان میں عہد وسطی میں بھکتی اور صوفیانہ شاعری نے عوام میں ایک فکری انقلاب برپا کردیا تھا۔ ان صوفیوں اور سنتوں نے ذات پات ، اونچ نیچ ، مذہبی تنگ نظری اور نمائشی مذہبیت کے خلاف عوام میں بیداری پیدا کی۔ کبیر ، سنت روی داس ، میرا بائی ، لالن فقیر ، چنڈی داس امیر خسرو ، بابا فرید اور دیگر صوفیوں اور سنتوں نے اپنی بھکتی اور,صوفیانہ شاعری سے گنگا جمنی تہذیب کو پروان چڑھایا اور ہندوستان کے ناخواندہ عوام میں اپنی فکروفلسفے سے روشن خیالی اور رواداری کی روشنی پھیلائی۔

بہرحال ، ہندوستان میں بھکتی شاعری کی تاریخ بہت پیچھے جاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان میں تصوف یا بھکتی یاخانقاہی اور درویشانہ طرز زندگی کا آغاز بودھ مذہب سے پانچویں -چھٹی قبل مسیح سے ہوا بودھ سادھو وہاروں یعنی خانقاہوں میں رہتے تھے اور گھریلو اور دنیاوی جھمیلوں سے دور عبادت وریاضت میں مشغول رہتے تھے اور گرو کی رہنمائی میں معرفت کی منزلیں طئے کرتے تھے۔ آگے چل کر اسلامی تصوف نے بھی بودھ فکروفلسفہ سے بہت کچھ اثر قبول کیا۔

بودھ مذہب نے بودھ فکروفلسفہ کی تبلیغ واشاعت کے لئے فنون لطیفہ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی ۔ شاعری اور ناٹک کے ذریعے گوتم بدھ کی تعلیمات کو پیش کرنا بودھ مذہب میں مستحسن سمجھا جاتا تھا۔ بودھ عالم۔اشوا گھوش کے تین ناٹک مشہور ہیں۔لہذا ، بودھ شاعروں نے اپنے روحانی تجربات کو شاعری میں پیش کرنا شروع کیا۔ اس شاعری کو تھیر گاتھا اور تھیری گاتھا کہا جاتا ہے۔تھیر کا معنی بزرگ مرد اور تھیری کا معنی بزرگ خاتون ہے۔ بودھ وہاروں میں عبادت و ریاضت میں مشغول یوگیوں اور یوگنیوں نے بودھ مذہب کی تعلیمات اور ذاتی روحانی تجربات پر جو نظمیں تخلیق کیں وہ تھیر گاتھا اور تھیری گاتھا کہلائیں۔ ان گیتوں یا گاتھاؤں کی تاریخ قبل۔مسیح دور تک جاتی ہے۔ گوتم بدھ کے بیٹے راہل ، ان کی دوسری بیوی مہا پرجا پتی گوتمی اور مشہور سادھوی امبا پالی اور دیگر سینکڑوں سادھوؤں اور سادھویوں کی گاتھائیں محفوظ ہیں اور ہندوستان میں بھکتی یا صوفیانہ شاعری کے قدیم ترین نمونے ہیں۔یہاں کچھ گاتھاؤں کا اردو ترجمہ پیش ہے۔

جنگل میں پھینکی ہوئی لکڑی کی طرح

ہم اکیلے جنگل میں باس کرتے ہیں

بہت سے لوگ مجھ پر اسی طرح رشک کرتے ہیں

جس طرح دوزخی لوگ اہل جنت پر کرتے ہیں

(شاعر: وجی پوت)

بے انتہا پریم سکھ کا لمس پاکر

میرا جسم۔ ہلکا ہوگیا ہے

ہوا میں اڑنے والی روئی کی طرح

میرا جسم بھی آکاش میں چلتا ہے

(شاعر : کِھتّک)

جس طرح چھید والے تختے پر چڑھنے سے

انسان سمندر میں ڈوبتا ہے

اسی طرح کاہل شخص کی صحبت میں آکر

نیک شخص بھی ڈوبتا ہے

(سوم پت)

!ہارِت

خود کو سیدھا کرو اوپر کی طرف

اور اپنے ذہن کو یکسو کرو

ایک تیر کی طرح

جہل کو تار تار کردو

(ہارِت)

یہ گیت بودھ صحیفے تری پیٹک میں شامل ہیں۔ اس سے ان کی مذہبی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ہندوستانی شاعری میں تھیر گاتھا تھیری گاتھا کی اہمیت اسی لئے ہے کہ یہ گیت ہندوستان میں شاعری کے قدیم ترین نمونے ہیں بلکہ خواتین کی شاعری کا اس سے پہلے دنیا کی کسی زبان میں ثبوت نہیں ملتا۔ ان گیتوں کا اسلوب پیچیدہ نہیں ہے لیکن ان میں تشبیہوں اور استعاروں کا استعمال ملتا ہے۔ان گیتوں کی شعری خصوصیات کا مطالعہ کرنے پر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا کہ ان گیتوں کے خالق فن شاعری سے بھی گہری واقفیت رکھتے تھے۔ ان گیتوں کا اسلوب جدید شاعری کے اسلوب سے بہت حد تک مماثلت رکھتا ہے۔

گاتھاؤں کی کل تعداد 180 ہے جن میں تھیر گاتھا 107 اور تھیری گاتھائیں 73 ہیں۔ تھیر گاتھا تھیری گاتھا تری پیٹک کے باب خدک نکائے کی آٹھویں اور نویں کتابیں ہیں۔یہ گیت مختصربھی ہیں اور طویل بھی۔ مختصر ترین گیت تین سطروں پر مشتمل ہیں جبکہ طویل ترین گیت 73 سطروں پر مشتمل ہے۔ کچھ گاتھاؤں کے موضوعات تری پیٹک۔میں شامل دھم پد (گوتم بدھ کی منظوم تعلیمات )سے لئے گئے ہیں۔ اور زیادہ تر گیتوں میں نفسانی خواہشات پر فتح اور شیطان کے شر سے نجات پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔

ان بودھ نغموں کی قدامت کی بنیاد پر یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ تھیر گاتھا تھیری گاتھا کی شاعری دنیا کی قدیم ترین بھکتی یا صوفیانہ شاعری یا بھکتی یا روحانی شاعری کا نقطہء آغاز ہے۔ نغمہ ء سلیمانی یاسونگ آف سولومن ان سے بھی قدیم ہے لیکن وہ خالص روحانی شاعری نہیں ہے بلکہ اس میں عاشقانہ یا رومانی خیالات پیش کئے گئے ہیں۔ اس طرح تھیر گاتھا تھیری گاتھا دنیا کی قدیم ترین روحانی شاعری کا درجہ رکھتی ہے ۔ عربی زبان میں عرب صوفیوں کی صوفیانہ شاعری بھی تھیرگاتھا تھیری گاتھا کے تقریباًایک ہزار سال بعد وجود میں آئی۔ عربی میں رابعہ بصری کے صوفیانہ اشعار صوفیانہ شاعری کے قدیم ترین نمونے ہیں۔حضرت رابعہ بصری آٹھویں صدی کی صوفی ہیں۔ عرب صوفی حضرت یحی معاز رازی (متوفی 258 ھ) نے نویں صدی عیسوی میں باقاعدہ طور پر اپنے متصوفانہ افکار کوشاعری میں پیش کرنا شروع کیا۔ وہ عربی کے پہلے صوفی شاعر ہیں۔ فارسی میں صوفیانہ شاعری کا آغاز گیارہوں صدی میں ہوا ۔ افضل کوہی شیرازی اور خواجہ عبداللہ انصاری اس دور کے عظیم صوفی شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں۔

لہذا، یہ بات پائے ثبوت کو پہنچتی ہے کہ تھیر گاتھا تھیری گاتھا کی روحانی یا بھکتی شاعری نہ صرف ہندوستان کی بلکہ دنیا کی قدیم ترین روحانی یا صوفیانہ شاعری ہے اور عربی ، فارسی کی صوفیانہ شاعری اور ہندوستانی بھکتی شاعری تھیر گاتھا تھیری گاتھا کے بعد وجود میں آئی۔تھیر گاتھا تھیری گاتھا سے ہی متاثر ہوکر بودھ سادھوؤں نے آٹھویں صدی سے بارہویں صدی کے درمیان روحانی اور مذہبی گیت لکھے جنہیں چریہ گیت یا چریہ پد کہا جاتا ہے۔ ان گیتوں کا اسلوب بہت پیچیدہ ہے کیونکہ یہ ایک خاص اسلوب سندھیابھاشا میں لکھے گئے ہیں۔ چریہ پدوں سے عہد وسطی کےہندستانی بھکتی گیت فکری اور اسلوبیاتی سطح پر متاثر ہیں۔ بابا فرید ، گورکھ ناتھ ، امیر خسرو ، لالن فقیر ، چنڈی داس اور بعد کی وشنو شاعری نے

ثریہ پدوں سے گہرا اثر قبول کیا۔ اس طرح تھیر گاتھا تھیری گاتھا نے ہندوستان کی روحانی شاعری کو ہی نہیں بلکہ فنی طور پر جدید ہندوستانی شاعری کو بھی متاثر کیا۔

----------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/thergatha-therigatha-mystic-poetry-india/d/135344

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..