New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 05:05 AM

Urdu Section ( 18 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Importance of Charity in Ramadan رمضان میں انفاق کی اہمیت

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

19 اپریل، 2022

اسلام میں توحید میں ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو بھی فرض کیا گیا ہے۔ مسلمانوں سے خدا یہ نہیں کہتا کہ میری وحدانیت پر ایمان رکھو اور اس کے بعد جو چاہے کرو۔ بلکہ توحید کے ساتھ ساتھ اسلام نے ہر مومن کو یہ بھی ذمہ داری دی کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ پر امن طریقے سے ادا کرے۔ ایک صالح سماج کی تشکیل کے لئے جدوجہد کرتا رہے اور ایک صالح سماج وہی ہے جس میں مساوات ہو، انصاف ہو، سماج کے افراد تعمیری اور اصلاحی فکر رکھتے ہوں اور رواداری، روشن خیالی اور وسعت نظری کا ثبوت زندگی کے تمام معاملات میں پیش کرتے ہوں۔

معاشرے میں امن وسکون، مساوات اور انصاف تب ہی قائم ہو سکتا ہے جب معاشرے کے تمام افراد مالی طور پر بھی آسودہ ہوں کیونکہ زندگی کی تمام ضروریات کی تکمیل کے لئے مال ناگزیرہے۔ اس لئے مومنوں کو صدقہ، زکوةاور خیرات کی بھی ترغیب دیتا ہے۔

قرآن میں کئی مقامات پر مسلموں کو محتاجوں، قرابت داروں اور مسافروں کو ان کا حق دینے کی تلقین کی گئی ہے۔ صدقہ اور خیرات قرآن کے مطابق محتاجوں، قرابت داروں اور ضرورت مند پڑوسیوں کا حق ہے جس کو ادا کئے بغیر مسلمان اپنے دینی فرائض سے دستبردار ہونے کا دعوی نہیں کرسکتا۔

قرآن میں کئی مقام پر انفاق پر زور دیا گیا ہے۔

سورہ البقرہ آیت نمبر 219 میں کہا گیا ھے۔

اور تجھ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں. کہہ دے جو بچے اپنے خرچ سے۔"

انفاق کے بغیر مسلمان نیکی میں کمال حاصل نہیں کر سکتا۔ خدا کو یہ پسند نہیں کہ بندہ صرف اس کی عبادت میں مصروف رہے اور اس کے محتاج بندے فاقہ کشی کریں اور پریشان رہیں۔لہذا خدا سورہ آل عمران آیت نمبر 92 میں کہتا ہے۔

۔"ہرگز حاصل نہ کرسکوگے نیکی میں کمال جب تک خرچ نہ کرو اپنی پیاری چیز میں سے کچھ۔ اور جو چیز خرچ کروگے وہ اللہ کو معلوم ہے"۔۔

انفاق دین ابراہیمی میں اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ جس طرح پچھلی قوموں پر نماز فرض کی گئی اسی طرح زکوة بھی فرض کی گئی۔ خدا حضرت موسی  علیہ السلام سے سورہ الاعراف آیت نمبر 156 میں فرماتا ہے:

۔"فرمایا میرا عذاب ڈالتا ہوں میں اس کو۔جس پر چاہوں اور میری رحمت شامل ہے ہر چیز کو۔ میں اس کو لکھ دوں گا ان کے لئے جو ڈر رکھتے ہیں اور دیتے ہیں زکوة اور جو ہماری باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔۔"۔

رمضان میں مسلمانوں پر روزوں کے ساتھ انفاق کو بھی فرض کیا گیا. روزہ داروں پر صدقہ فطر اور صاحب نصاب مسلمانوں پر زکوة فرض کردیا گیا تاکہ مومن روزہ اور ذکر ونماز کے ساتھ ساتھ اپنے سماجی فرائض سے بھی عہدہ برآ ہو۔ رمضان میں روزوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کی اخلاقی تربیت کے لئے بھی انہیں خواہشات نفسانی پر قابو رکھنے اور لغویات سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے لہذا اپنے مال میں سے کچ حصہ خرچ کرنے کو بھی حقوق العباد میں شامل کردیا گیا ہے۔ اپنے مال میں سے محتاجوں اور ضرورت مند قرابت داروں کو کچھ حصہ دینا نفس پر بار ہوتا ہے اس لئے نفس کی تربیت کے لئے بھی انفاق کو اسلام میں لازمی کیا گیا ہے۔ پچھلی اقوام نے انفاق کو ترک کردیا تھا اس لئے وہ خدا کے عتاب کے شکار ہوئے۔ ان کے انفاق کے ترک کرنے کی وجہ سے سماج میں عدم مساوات اور معاشی مسائل پیدا ہوئے۔ مالدار لوگ محتاجوں اور غریبوں کی مدد کرنے کے بجائے ان کے مال کو ناجائز طریقے سے ہڑپ لینے کو جائز سمجھنے لگے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی وفات کے بعد تو مدینے اور اطراف کے کچھ قبائل اسلام سے صرف اس لئے منحرف ہوگئے تھے کہ انہیں زکوة ادا کرنا بہت گراں گزرتا تھا۔ ان قبائل کے خلاف خلیفہ اول کو جنگ کرنی پڑی تھی۔ اس جنگ کو اسلامی تاریخ میں جنگ ردہ کہا جاتا ہے۔

رمضان میں صدقہ فطر اور زکوة کی ادائیگی کے پیچھے حکمت یہ ہے کہ سماج سے معاشی نا ہمواری دور کرنے اور مساوات کے نظام کو مستحکم کرنے کا ایک سالانہ نظام قائم کردیا جائےتاکہ مسلم معاشرے میں معاشی ناہمواری کا مسئلہ باقی نہ رہے۔

لہذا مسلماں رمضان کے مہینے میں نہ صرف یہ کہ اپنی اخلاقی تربیت کرتا ہے اور خدا کےحقوق ادا کرتا ہے بلکہ اپنے معاشرے کو بھی معاشی طور پر استحکام بخشنے مییں بھں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

URL:https://www.newageislam.com/urdu-section/importance-charity-ramadan/d/126820

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..