New Age Islam
Fri May 20 2022, 09:33 AM

Urdu Section ( 20 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Rights of Orphans in Islam اسلام میں یتیموں کے حقوق

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

21 جنوری 2022

قرآن نے سماج کے تمام طبقوں کے حقوق واضح کردیئے اور ہر طبقے کے  فرائض بھی متعین کردئیے۔ قرآن نے خاص طور سے ان موضوعات و مسائل پر توجہ دی جونزول قرآّن کے دور میں عرب خصوصا مکہ میں اہم اور نمایاں تھے۔ انہیں مسائل و موضوعات میں ییتیموں کی دیکھ بھال اور ان کے حقوق کا تحفظ بھی تھا۔

قبل اسلام عرب معاشرہ بے شمار سماجی اور اخلاقی برائیوں مین مبتال تھا۔ اس وقت کی زندگی قبائلی زندگی تھی اور مکہ میں کوئی مستحکم سیاسی حکومت نہیں تھی۔ قبائل ایک دوسرے سے برسر پیکار رہتے تھے اور لوٹ مار اور خون خرابہ ان کی زندگی کا حصہ تھا۔ لوگ نسل در نسل ایکد دوسرے سے لڑتے تھے۔ ان لڑائیوں کے نتیجے میں بچوں کی ایک بڑی تعداد یتیم ہوجاتی تھی جن کی دیکھ بھال پرورش اور ان کی جائیداد اور مال کی حفاظت کا کوئی اجتماعی نظم نہین تھا۔ بے ایمان لوگ یتیموں کی جائیداد ہڑپ کرلیتے تھے اور ان کے مال کو ناحق کھاجاتے تھے۔

اسلام نے یتیموں کے حقوق واضح کئے اور ان کی دیکھ بھال اور پرورش اور ان کی جائیدار و مال کے تحفظ کو یقینی بنیا۔ مسلمانوں کو ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی اور ان کے ساتھ ناانصافی اور ان پر ظلم کو گباہ عظیم قراردیاگیا۔ مسلمانوں سے قیامت کے دن یتیموں کے بارے میں پوچھا جائیگا۔ جب رسول پاک ﷺ سے مسلمانوں نے یتتیموں کے بارے میں اسلام کے حکم کے بارے مین پوچھا تو یہ آیت اتری:

’’اور تجھ سے پوچھتے ہیں یتیموں کا حکم کہدے سنوارنے ان کے کام کا بہترہے اور اگر ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے  بھائی ہیں  اور اللہ جانتاہے خرچ کرنے والے اور سنوارنے والے کو  اور اگر اللہ چاہتا توتم پر مشقت نہ ڈالتا۔ اللہ زبردست ہے تدبیر والا۔‘‘(البقرہ: ۲۲۰)

اس آیت میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کی پرورش کی ہدایت قرآن دے رہاہے اور ان کے ساتھ اپنے بھائیوں جیسا سلوک کرنے کی تلقین کررہاہے۔

قرآن نے مسلمانوں کو یتیموں کے مال میں خیانت کرنے اور ان کے مال کو ہڑپنے سے منعی کیاہے اور ایسا کرنے کو ایک بڑا وبال قراردیاہے۔

’’اور دے ڈالو یتیموں کو ان کا مال  اور بدل نہ ڈالو  برے مال کو اچھے مال سے  اور نہ کھاؤ ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ ہے ہے برا وبال،‘‘ (النسا:۲)

قوآن مسلمنانوں سے کہتاہے کہ اگر یتیم نا بالغ ہو تو اس کے سن بلوغت تک پہنچنے تک اس کی پرورش تعلیم و تربیت اور دیکھک بھال کریں اور جب وہ نکاح کی عمر کو پپہنچ جائیں توان کا مال ان کے حوالے کردیں۔ اس دوران ان کی پرورش کے لئے ان کے مال میں سے مناسب رقم خرچ کرسکتے ہیں ۔

’’اور دھارتے رہو یتیموں کو جب تک پہہنچیں نکاح کی عمر کو پھر اگر دیکھو ان میں ہوشیاری  تو حوالہ کردو ان کے مال  ان کا اور کھا نہ جاؤ یتیموں کا مال  ضرورت سے زیادہ  اور حاجت سے پہلے  کہ یہ بڑے ہوجائیں اور جس کو حاجت نہ ہو تو مال یتیم سے بچتارہے اور جو کوئی  محتاج ہو تو کھاوے  موافق  دستور کے پھر جب ان کو حوالہ کرو ان کے مال تو گواہ کرلو اس پر اللہ کافی ہے حساب لینے کو۔‘‘(النسا:۶)

’’اور پاس نہ جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طرح پر کہ بہتر ہو یہاں تک کہ پہنچ جاوے اپنی جوانی کو۔‘‘ (الانعام : ۱۵۲)

سورہ النسا ہی میں خدا یتیموں کے مال میں خیانت کرنے والوں اور ان کے مال کو ناحق کھانے والوں کو جہنم کی آگکی بشارت دیتاہے۔

’’جو لوگ کھاتے ہین مال یتیمون کا ناحق وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھررہے ہیں  اور عنقریب داخل ہونگے  آگ میں ۔‘‘(النسا‘ ۱۰)

قرآن میں اور بھی کئی سورتوں میں خدا ان لوگوں کو تنبیہہ کرتاہے جو یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک نہیںکرتے ان پر ظلم کرتے ہیں اور ان کی مدد نہیں کرتے۔

’’کوئی نہیں پر تم عزت سے نہیں رکھتے  یتیم کو۔‘‘(الفجر: ۱۷)

سوجو یتیم ہو اس کو مت دبا۔(۰الضحی : ۹)

’’سو یہ وہی ہے جو دکھے دیتا ہے یتیم کو۔‘‘(الماعون : ۲)

مندرجہ بالا آیتوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن تیموں کے حقوق کا بیان کئی مقامات پر کرتاہے تاکہ مسلمانوں کے ذہن میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت روشن ہوجائے۔ انہیٰں کچھ لوگ گھر وں مین رکھتے بھی ہیں تو ان کے ساتھ نوکروں جیسا سلوک کرتے ہیںٰ اور ان پر ظلم کرتے ہیں ۔ قرآن ان لوگوں کو بھی یہ تلقین کرتاہے کہ وہ اگر یتیم کی پرورش کریں تو ان کے ساتھ حسن سلوک کریں ان کے ساتھ سوتیلا سلوک نہ کریں۔

موجودہ دور میں بھی یتیموں کے حقوق کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی کہ ساتویں صدی کے عرب معاشرے میں تھی۔ آج بھی جنگوں، خانہ جنگی ، فسادات ، بیماری اور قدرتی آفات کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں بچے یتیم ہوجاتے ہیں ۔ لہذا، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی پرورش و تعلیم و تربیت کے لئے قرآن نے پہلے سے ہی رہنما اصول وضع کردئیے ہیں ۔مسلم معاشروں میں آج یتیم خانے قائم کئے جاتے ہیں جہاں سماج کے ان بے سہارا بچوں اور بچیوں کے تحفظ تعلیم و تربیت اور سن بلوغت تک پہنچے پر ان کے نکاح کا انتظام کیا جاتاہے۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/rights-orphans-islam-/d/126205

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..