New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 06:49 AM

Urdu Section ( 31 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Rewards of Patience and Endurance in Islam اسلام میں صبر وتحمل کی فضیلت

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

1جون 2022

صبر وتحمل ایک اعلی انسانی صفت ہے۔ یہ حیوانوں میں نہیں جاتی ۔ مصیبتوں, پریشانیوں اور دکھوں پر صبر کرنا اللہ کو بہت پسند ہے ۔صبر انبیاء کی صفت ہے۔ انبیاء کرام نے دکھوں اور رنج وغم پر ہمیشہ صبر کیا۔ ۔ قرآن میں جگی جگہ اللہ صبر کی تلقین کرتا ہے ۔ اور صبر پر اپنے کرم اور مدد کی خوش خبری سناتا ہے ۔

انسان پر جو بھی تکلیفیں اور پریشانیاں آتی ہیں وہ انسان کی اپنی ہی غلطیوں اور بداعمالیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اللہ کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا۔ اس لئے انسان دکھوں پر اپنے اعمال پر احتسابی نظر کرتا ہے اور اللہ سے توبہ استغفار کرتا ہے  تاکہ اس کے اعمال کی نحوست سے اس پر جو پریشانیاں اور تکلیفیں آگئی ہیں انہیں اللہ دور کردے۔

آنسانوں پر تکلیفوں اور پریشانیوں کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ کے جوبندے اپنے تقوی اور حب الہی کی وجہ سے اللہ کے محبوب ہوجاتے ہیں انہیں اللہ طرح طرح سے آزماتا ہے ۔جو لوگ اپنے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرکے اس آزمائش کے دور میں کامیاب ہو جاتے ہیں انہیں اللہ دنیا وآخرت میں سرخروئی عطا کرتا ہے ۔ جو انسان خدا کو جتنا زیادہ محبوب ہوتا ہے اس کی آزمائش بھی اتنی ہی سخت ہوتی ہے ۔ اس لئے جب صوفیائے  کرام پر تکلیفیں آتی تھیں تو وہ یہ سوچ کر خوش ہوتے تھے اللہ ان کی طرف زیادہ متوجہ ہے انبیائے کرام چونکہ اللہ کے بہت محبوب بندے ہوتے تھے اس لئے ان پر تکلیفیں اور آزمائشیں بھی بہت سخت ہوتی تھیں۔ اور انبیائے کرام بھی ان تکلیفوں پر صبر کرکے اپنی امت کے سامنے مثال پیش کرتے تھے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر تو دنیا میں ایک مثال بن گیا ہے۔

دیگر انبیاء کرام کی بھی حیات وسیرت مبارکہ کا مطالعہ کریں توہمیں ان کی زندگی میں بھی صبر وتحمل کی نظیر ملے گی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام, حضرت نوح علیہ السلام, حضرت موسی علیہ السلام حضرت عیسی علیہ السلام , حضرت یعقوب علیہ السلام, حضرت یوسف علیہ السلام اور دیگر انبیاء کرام کی زندگی میں بھی ہمیں صبر وتحمل کی اعلی مثالیں مل جائنگی۔ خود رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں صبر و تحمل کی سینکڑوں مثالیں مل جائینگی۔ آپﷺ نے دکھوں اور مصیبتوں پر ہمیشہ صبر کیا اور امت کو بھی صبر کرنے کی تلقین کی۔

قرآن میں درجنوں مقام پر اللہ اپنے بندوں کو صبر کی فضیلت بیان کرتا ہے اور صبر کرنے پر بڑے اعزاز واکرام کی بشارت دیتا ھے۔ ذیل میں چند آیتیں پیش ہیں۔

سورہ البقرہ کی آیت نمبر 153 ملاحظہ کریں۔

"اے مسلمانوں مدد لو صبر اور نماز سے۔بے شک اللہ صبر کرنت والوں کے ساتھ ہے ۔"

سورہ البقرہ کی ہی آیت نمبر 155 اور 156 ملاحظہ فرمائیں۔

۔"اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو تھوڑے سے ڈر سے اور بھوک سے اور نقصان سے مالوں کے اورجانوں کے اور میؤں کے اور خوش خبری دے صبر کرنے والوں کو کہ جب پہنچے ان پر مصیبت تو کہیں ہم تو اللہ ہی کا مال ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔"۔

اللہ کہتا ہے کہ صبر کرنا بزدلی یا کمزوری کی علامت نہیں ہے بلکہ یہ تو باہمت اور عالی ظرف لوگوں کی صفت ہے۔ اپنے نفس پر قابو رکھنا اور نقصان یا تکلیف پر صبر کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے ۔ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 186 ملاحظہ فرمائیں۔

۔" اور اگر تم صبر کرو اور پرہیزگاری تو یہ ہمت کے کام ہیں "۔

سورہ النحل کی آیت نمبر 96 میں صبر کی فضیلت یوں بیان کی گئی ہے۔

۔"اور ہم بدلہ دینگے صبر کرنے والوں کو ان کا حق اچھے کاموں پر جو وہ کرتے تھے۔ "۔۔

حضرت موسی علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو مصیبتوں پر صبر کرنی کی تلقین کی۔ سورہ الاعراف کی آیت نمبر 128 ملاحظہ فرمائیں۔

۔"موسی نے کہا اپنی قوم سے مدد مانگو اللہ سے اور صبر کرو بے شک زمین ھے اللہ کی اس کا وارث کردے جس وہ چاہے  اپنے بندوں میں اور آخر میں بھلائی ھے ڈرنے والوں کے لئے۔"۔

مندرجہ بالا چند آیات سے قرآن میں صبر کی فضیلت اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔ صبر خدا کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ صبر ابسانوں کی روحانی تربیت کی ایک صورت ہے۔ انبیاء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اولیاء صوفیوں اور تمام نیک بندوں نے صبر کو اپنا وطیرہ بنایا اور دنیا,اور آخرت دونوں جگہوں پر کامیاب و سرخرو ہوئے۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/rewards-patience-endurance-islam/d/127144

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..