New Age Islam
Sat Mar 14 2026, 02:57 PM

Urdu Section ( 23 Dec 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Religion and Poetry مذہب کی اشاعت کے لئے شاعری کا استعمال

سہیل ارشد ، نیو ایج اسلام

23 دسمبر،2022

شاعری فنون لطیفہ میں سب سے مقبول اور مؤثر فن ہے۔ اسے ادب عالیہ بھی کہا گیا ہے کیونکہ اسے تمام ادبی اصناف میں افضل اور اعلی قرار دیا گیا ہے۔

شاعری انسانی دماغ اور دل دونوں پر اثر ڈالتی ہے ۔ فنون لطیفہ کے ساتھ شاعری کی پیشکش سے اس کا اثر دوبالا ہوجاتا ہے۔ اس لئے زمانہء قدیم میں شاعری کو غنا اور موسیقی کے ساتھ پیش کیا جا تا تھا۔ شاعری کا فن ایک قدیم فن ہے اور یونان و روم سے لیکر ہندوستان تک شاعری کی قدامت کے آثار موجود ہیں۔ سب سے قدیم شعری تخلیق قدیم میسوپو ٹامیہ یعنی مصر میں ملتی ہے۔۔ایپک آف گلگمیش کا زمانہ تخلیق 2100 قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔اس طویل نظم یا مثنوی میں بادشاہ گلگمیش ابدی زندگی کا راز ڈھونڈنے کے لئے ایک لمبے سفر پر روان ہوتا ہے۔ راستے میں وہ خطرات کا سامنا کرتا ہے اور کئی مہمات سر کرتا ہے۔ لیکن اس نظم میں کوئی مذہبی پہلو نہیں ہے۔

اس کے بعد ہمیں ہومر کی دو رزمیہ نظموں کا پتہ چلتا یے جو 650 سے 850 قبل مسیح کی تخلیق ہیں۔ان نظموں کے نام ایلیڈ اور اوڈیسی ہیں۔اس نظم کا ہیرو اوڈیسی جنگ ٹروجن سے واپسی کے سفر کے دوران کئی مہنمات سر کرتا ہے, کئی خطرات کا سامنا کرتا ہے اور نئے ملکوں کا سفر کرتا ہے۔

اس نظم میں بھی کوئی مذہبی پہلو نہیں ہے۔ ایپک آف گلگمیش سے لیکر ایلیڈ اوڈیسی تک شاعری میں بادشاہوں اور مہم جو نوجوانوں کے بہادری کے کارنامے ہی شاعری کا موضوع معلوم ہوتے ہیں۔

ایلیڈ اور اوڈیسی کے بعد ایک معرکہ آرا منظوم کہانی مہابھارت ہے جو 400 قبل مسیح کی تصنیف مانی جاتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب مذہب انسانی زندگی میں مرکزی اہمیت کا حامل ہوچکا تھا اور نیکی اور بدی کا تصور واضح ہو چکا تھا۔ معاشرے میں نیکی اور بدی کا تعین ہوچکا تھا اور اسی تصور کی بنیاد پر اصولوں کا تصادم رونما ہوریا تھا۔ مہابھارت اسی تصادم۔کی کہانی ہے۔ اس میں ایپک آف گلگمیش اور ایلیڈ کی طرح بادشاہوں یا نوجوانوں کی مہم جوئی کی داستان نہیں ہے بلکہ ایک پیچیدہ اور ترقی یافتہ معاشرے میں نیکی اور بدی کا تصادم ہے۔ یہ نظم دولاکھ اشعار پر مشتمل ہے۔

مہا بھارت کے بعد جو سب سے مشہور نظم دستیاب ہے وہ ہے اینیڈ جو 19-29 قبل مسیح کی تخلیق ہے جو روم کے شاعر ورجل نے لکھی یے۔ اس نظم میں بھی ایلیڈ کی ہی طرح کی مہم۔جوئی کی داستان ہے۔

انگریزی کی مشہور نظم بے وولف انگریزی زبان کی اولین نظم مانی جاتی ہے جس کا زمانہء تخلیق 975 سے 1025 ء مانا جاتا ہے۔

اس میں بھی بے وولف نامی نوجوان کی خوفناک عفریت سے لڑنے اور آخر میں مارے جانے کی داستان ہے۔ اس میں بھی مذہب کا پہلو نییں ہے مگر ناقدین ادب کا خیال ہے کہ بعد کے دور میں اس میں عیسائی مذہب کی تعلیمات کو داخل کردیا گیا ہے۔

ان نظموں کے سطحی جائزے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں شاعری کو مذہبی افکار کی اشاعت کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔شاید اس وقت مذہب انسانی معاشرے میں زیادہ اہمیت کا,حامل نہیں تھا۔ انسانی صفات جیسے بہادری ، انسان دوستی ، صبرو تحمل اور زندگی میں کچھ بڑا کرنے کی جستجو ہی کسی انسان کو بڑا بناتی تھی۔

لیکن مشرقی معاشرے میں 400 یا 500 قبل مسیح سے مذہب کو فضیلت حاصل ہونے لگی اور مذہب انسانی معاشرے کی ایک غالب قوت بن گیا۔ اور شاعری کی اثر پذیری کی وجہ سے اسے مذہبی افکار اور تعلیمات کی اشاعت کا ایک مؤثر اور طاقتور وسیلہ تسلیم کر لیا گیا۔ لیذا مہابھارت اور رامائن جیسی منظوم مذہبی متون تخلیق کئے گئے۔

غالباً مہا بھارت کی مقبولیت کو دیکھ کر ہی بودھ دھرم کے مذہبی صحیفوں تری پیٹک میں گوتم بدھ کی مذہبی تعلیمات کو دھرم پد کی شکل میں منظوم۔شکل میں محفوظ کیا گیا۔ یہ کام پانچویں صدی قبل مسیح میں بدھ کی وفات کے بعد کیا گیا۔ اس کے علاوہ بودھ بھکشوؤں اور بودھ بھکشونیوں کے روحانی نغموں کو تھیر گاتھا اور تھیری گاتھا کے نام سے تری پیٹک میں شامل کیا گیا۔ ان منظوم مذہبی متون کی مشرق میں مقبولیت نے مغرب میں بھی شاعری کو مذہبی افکار کی اشاعت کے مؤثر وسیلے کے طور پر فروغ دیا۔ 1320 ء میں مشہور انگریزی شاعر دانتے کی نظم ڈیوائن کامیڈی شائع ہوئی۔۔اس میں دانتے جہنم برزخ اور جنت کی سیر کرتے ہیں اور کئی مشہور شخصیات کو دیکھتے ہیں۔وہ مشہور اسلامی شخصیات ابن رشد ، ابن سینا اور صلاح الدین ایوبی کو جنت سے باہر دکھاتے ہیں کیونکہ وہ لوگ عیسائیت کو نہیں مانتے تھے۔ ظاہر ہے انہوں نے عیسائیت کے نقطہء نظر سے یہ نظم کہی۔انگریزی شاعر ملٹن کی نظم پیراڈائز لاسٹ بھی بائبل میں مذکور آدم اور حوا کی حکایت پر مبنی ہے۔

اسلام شاعری کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا اور حدیث میں شاعری کو پیٹ میں بھرے ہوئے پیپ سے تشبییہ دی گئی ہے۔۔اسلام صرف ایسی ہی شاعری کی قدر کرتا ہے جو اسلامی مقاصد کی تکمیل میں معاون ہو۔ لہذا عہد نبوی میں اسلامی شاعری کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔ اسلام سے قبل عرب میں شاعری کافی مقبول تھی اور وہاں امراء القیس، زہیر بن سلمی، النابغہ الذیبانی، الاعشی جیسے بڑے شعراء موجود تھے۔ ان کے علاوہ سینکڑوں چھوٹے بڑے شاعر پورے خطہء عرب میں سرگرم تھے۔ ان کے قصائد مرثیہ ہجو اور غزلیں آج بھی دستیاب ہیں۔ عرب کے لوگ بت پرست تھے اور سینکڑوں خداؤں کو مانتے تھے لیکن ان کی جو شعری تخلیقات دستیاب ہیں ان میں مذہبی شاعری کے نمونے مفقود ہیں۔جو قصائد دستیاب ہیں وہ یا تو بادشاہوں اور امراء کی مدح میں ہیں یا گھوڑوں ، اونٹنیوں پر یا معشوقاؤں پر یا پھر اپنے قبیلے کی تعریف و توصیف میں۔ کسی بھی دیوی دیوتا پر لکھا ہوا قصیدہ یا نظم دستیاب نہیں ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عربوں کے یہاں بھی قبل اسلام دور میں شاعری کو مذہب سے الگ رکھا جاتا تھا۔ اسلام کے آنے کے بعد عرب میں شاعری کو مذہبی افکار کی اشاعت کا وسیلہ سمجھا جانے لگا۔

آج شاعری مذہبی فلسفے اور افکار کی اشاعت کا ایک مؤثر وسیلہ بن چکی ہے۔ مغرب میں اگر دانتے اور ملٹن نے عیسائیت کے نظریات اور افکار کو شاعری میں پیش کیا تو مشرق میں اقبال حالی اور دیگر شعراء نے اسلامی افکار کو شاعری میں پیش کیا۔ ہندوستان میں بھکتی دور کے شاعروں نے تو اپنے افکار کو,صرف شاعری میں ہی پیش کیا۔ بودھ شاعروں اور ناتھ پنتھ کے شاعروں نے بھی اپنے مذہبی نظریات کو شاعری میں پیش کیا۔ اس طرح جیسے جیسے تہذیب ترقی کرتی گئی ویسے ویسے شاعری کو زیادہ سے زیادہ مذہبی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ اس کے باوجود مذہب کے ماننے والوں میں تشدد کا رجحان فروغ پاتا گیا۔شاید مذہب کے انتہا پسندانہ شور میں شاعری کی لطافت اور حلاوت دب کر رہ گئی۔ صرف کھوکھلے الفاظ گونجتے رہ گئے۔

-------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/religion-poetry/d/128695

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..