New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 06:27 PM

Urdu Section ( 15 Sept 2019, NewAgeIslam.Com)

Reflections of Quranic Thougth in Kabir's Dohas and Shabads کبیر کے دوہوں اور شبدوں میں قرآنی افکار کی بازگشت


سہیل ارشد ، نیو ایج اسلام

کبیر داس پندرہویں صدی میں ہندوستان  کے ایک عظیم بھکتی وادی شاعر گزرے ہیں۔ انہوں نے اپنے دوہوں اور شبدوں میں اپنے متصوفانہ افکار کا اظہار کیاہے۔ وہ ہندی زبان میں بھکتی وادی  کویوں میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔مسلم  صوفیوں کی طرح  وہ بھی مذہبی تعصب اور تنگ نظری، بدعقیدگی، ریاکاری  اور ذات پات  کے خلاف تھے۔  وہ تزکیہ نفس،  سادہ زندگی، خالق حقیقی کا ذکر اور انسان کی عظمت پر زیادہ زور دیتے تھے۔  انکے عقائد  ناتھ پنتھیوں  سے زیادہ متاثر تھے  جن کے یہاں شیو کو بھگوان کا اوتار سمجھاجاتاہے۔ ناتھ پنتھیوں کی طرح ہی  کبیر بھی بت پرستی میں یقین نہیں رکھتے تھے۔ وہ توحید پرست تھے  اور خالق حقیقی کی حمد و ثنا میں ہروقت مگن رہتے تھے۔  اسی طرح  وہ صوفیوں  کی طرح  راہ سلوک  میں مرشد کی اہمیت  میں بھی یقین رکھتے تھے۔  توحید پرست  ہونے کی وجہ سے  ان کے افکار اسلامی  افکار  سے بہت  حد تک ہم آہنگ ہیں  اور انکے کئی دوہوں اور شبدوں  میں قرآن کے افکار کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔  اس  لئے یہ قیاس کیاجاسکتاہے کہ کبیر  کو قرآنی تعلیمات و افکار سے تھوڑی بہت آگاہی ضرور تھی۔ کچھ دوہوں میں قرآنی تعلیمات  اور افکار کی مماثلت حیرت انگیز ہے۔ ذیل میں ان کے کچھ دوہوں اور شبدوں کو پیش کیاجاتاہے۔

”خدا کا رنگ اور کس کا رنگ ہے خدا کے رنگ سے بہتر۔“ (البقرہ:138)

اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک خاص رنگ کو خدا اور روحانیت سے منسوب کردیتے ہیں  اور اس رنگ میں لباس یا خود کو رنگ لینے میں ؎فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر قرآن کہتاہے کہ اصل رنگ عشق حقیقی کا رنگ ہے۔ جس انسان پر عشق حقیقی کا رنگ چڑھ گیاہے در اصل وہی اصل مذہب کا پیروکار ہے۔

کبیر کے ایک شبد میں اس خیال کو یوں پیش کیاگیاہے۔

جن کو سائیں رنگ دیاکبھی نہ ہوئے کرنگ

دن دن بانی آگری  چڑھے سوایا رنگ

اس دوہے میں قرآن کی مندرجہ بالا آیت کے خیال کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ کبیر کہتے ہیں کہ جس شخص  کو خدا نے اپنے رنگ میں رنگ لیا وہ کبھی بد رنگ نہیں ہوتا۔ بلکہ  روز بروز  اس کا رنگ اور گہرا ہوتاجاتاہے۔  دنیا وی رنگ تو دن گزرنے کے ساتھ پھیکا پڑتاجاتاہے مگر عشق حقیقی کا رنگ دن گزرنے کے ساتھ اور گہرا ہوتاجاتاہے کیونکہ سالک معرفت کی سیڑھی پر چڑھتاہی چلاجاتاہے۔

قرآن میں دو آیتوں میں خدا کی لامحدود صفات کا ذکر ہے۔ اس کے لئے قرآن نے ایک دلچسپ اور بلیغ تمثیل اکا استعمال کیا ہے۔

”اور اگر یوں ہو کہ زمین کے جتنے درخت ہیں قلم ہوں اور سمندر سیاہی ہو اور اس کے بعد سات سمندر اور سیاہی ہوجائیں تو بھی تو خدا کی باتیں ختم نہ ہوں۔“ (لقمن: 27)

”کہہ دو کہ اگر سمندر میر ے پروردگار کی باتوں کے لئے سیاہی ہوجائے تو قبل اس کے  کہ میرے پرورددگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائیں اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لائیں۔“ (الکہف   109)

اسی حقیقت کو کبیر اپنے ایک دوہے میں یوں پیش کرتے ہیں۔

سب ددھرتی کاگد کروں  لیکھن سب بن رائے

سات سمند کی مسی کروں گرو گن لکھا نہ جائے

خدا کو قرآن میں ہرجگہ لطیف اور زمین اور آسمان میں ہرجگہ موجود کہاگیاہے۔ وہ ہر مخلوق کے ظاہر اور باطن مین موجود ہے۔  وہ انسان کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔

”وہ ہرچیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔“ (حم السجدہ:54)

اس مفہوم کی آیتیں قرآن میں کئی موقعوں پر ملتی ہیں۔

کبیر نے اپنے دوہوں اور شبدوں میں بھی اس حقیقت کا اظہار کیاہے۔ ایک شبد میں وہ اس حقیقت کو یوں پیش کرتے ہیں۔

وہ نہ  باہر ہے اور نہ اندر ہے۔ ہر جگہ مستقل  طور سے ہے ۔ میں نے اسے مرشد کے طفیل میں دیکھا ہے۔“

کبیر اس شبد میں کہتے ہیں کہ  وہ  (معبود حقیقی)  نہ صرف  باہر ہے اور نہ  صرف اندر ہے  بلکہ وہ مستقل طور پر ہرجگہ موجود ہے۔  اور انہوں نے معبود حقیقی کا عرفان  مرشد کی مدد سے حاصل کیاہے۔

قرآن بھی اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لئے وسیلہ یعنی   (مرشد)  کی رہنمائی حاصل کرنے کی تعلیم دیتاہے۔

”اور ڈھونڈو خدا تک پہنچنے کا وسیلہ۔“ (المائدہ: 35)

صوفیوں اور بھکتی وادیوں میں خدا کی وحدت پر عقیدہ راسخ ہوتاہے۔ اور وہ خدا کو انسانی صفات اور احتیاجات سے عاری یقین کرتے ہیں۔قرآن نے سورہ اخلاص میں اس عقیدے کو واضح طور پر پیش کردیاہے۔

  ”کہہ دو کہ اللہ ایک ہے۔ وہ بے نیازہے۔ نہ کسی کا باپ ہے نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔“

اس مفہوم کے اشلوک اپنشدوں میں بھی ہیں۔ لہذا، بھکتی وادی شاعروں کی شاعری میں اس مفہوم کے شبد اور دوہے باعث حیرت نہیں ہیں۔ کبیر کا ایک شبد ہے۔

خالق ایک ہے نافہمیدہ ہے

اس کے ماں یا باپ نہیں

خالق کے بھائی یا زوجہ نہیں

وہ دائم ہے لاتقسیم ہے

نافہمیدہ ہے  لامحدود ہے

خالق کچھ کھاتاپیتانہیں۔ نہ مرتاہے نہ زندگی گزارتاہے

خالق کی شکل و شباہت نہیں ہے۔ اس کا کوئی رنگ یا لبا س نہیں ہے۔

قرآن کئی موقعوں ر مسلمانوں سے کہتاہے کہ وہ لوگوں کو توحید کی تعلیم دیں اور انہیں نیکی پر چلنے اور بدی سے بچنے کی تلقین کریں۔  لیکن اگر ناسمجھ لوگ  ان سے جھگڑا کرنے لگیں  تو ایسے لوگوں سے  الجھنے کی بجائے  ان سے کنارہ کرلیں  اور ان کو ان کے حال پر چھوڑدیں   قرآن کی وہ آیتیں مندرجہ ذیل ہیں۔

 ”اور مشرکوں سے کنارہ کرلو۔“ (الانعام: 106)

”عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کی تلقین کرو اور جاہلوں سے کنارہ کرو۔“(الاعراف: 199)

مندرجہ بالا آیات میں مسلمانوں کو جاہل اور ناسمجھ لوگوں سے الجھنے کے بجائے ان سے کنارہ کرنے کا مشورہ دیاگیاہے کیونکہ ایسے لوگوں کو سمجھانا بیکار ہے۔ ان سے الجھنے سے فتنہ و فساد کا اندیشہ رہتاہے۔ کبیر بھی ایسے لوگوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کا ایک شبد یوں ہے۔

اگر اچھا آد می ملے تو اس سے بات کرلو

اگر خراب ؔآدمی ملے تو چپ رہو

عالم آدمی سے بات کرنے  میں فائدہ ہے

احمق  سے بات کرنا جھک مارنا ہے۔

کبیر خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتے تھے  اور خیال کی پاکیزگی اور خدا کے ذکر کو اصل مذہب تصور کرتے تھے۔ وہ انسانیت کی فلاح  اور بہتر سماج کی تشکیل کے لئے جدوجہد کو ہی  مذہب کی روح تصور کرتے تھے۔وہ ہر طرح کے تعصب سے پاک تھے اور انصاف، مساوات  پر مبنی انسانی سماج کی تعمیر کے حامی تھے۔ لہذا، ان کے افکار میں قرآن کے افکار کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/s-arshad,-new-age-islam/reflections-of-quranic-thougth-in-kabir-s-dohas-and-shabads--کبیر-کے-دوہوں--اور-شبدوں-میں-قرآنی-افکار-کی-بازگشت/d/119750

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..