New Age Islam
Fri Apr 03 2026, 09:13 PM

Urdu Section ( 19 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Quran's Idea About the Rise and Fall of Nations قوموں کے عروج وزوال کے متعلق قرآن کا نظریہ

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

19جنوری 2026

قرآن کی تفہیم کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ کسی موضوع یا مسئلے پر پورے قرآن میں مختلف مواقع اور تناظر میں درج آیتوں کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے۔ قرآن میں ایسی کئی آیتیں ہیں جن کی صراحت دوسری آیت یا آیتوں میں کی گئی ہے اور ان آیتوں کو ایک ساتھ زیر غور رکھ کر ہی   اس موضوع پرقرآن کے مؤقف کو بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ دوسری صورت میں کسی  ایک آیت کو ہی الگ سے بغیر اس کے سیاق وسباق کو پیش نظر رکھے سمجھنے کی کوشش کرنا   نہ صرف ناکافی ہوسکتا ہے بلکہ غلط نتیجے پر پہنچنے کا احتمال بھی رہتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں فرقان کا ذکر کئی موقعوں پر آیا ہے اور مختلف تناظر میں لفظ فرقان کا مفہوم مختلف ہے۔لہذا، کسی ایک آیت میں لفظ فرقان کے تناظری مفہوم کو ہی اس کا اصل اور واحد مفہوم سمجھنا غلط ہوگا۔اسی طرح قرآن میں لفظ امر مختلف موقعوں پر مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح قرآن میں ایک ہی موضوع پر دو آیتیں دو  یا زیادہ مواقع پر آتی ہیں اور ہرآیت اپنے آپ میں مکمل مفہوم رکھتی ہیں لیکن ان آیتوں کو ایک ساتھ رکھ کر غور کرنے پر قرآن کا موقف مزید واضح ہو جاتا ہے۔ ایسی ہی دو آیتیں سوری الرعد اور سورہ الانفال میں ہیں جو الگ الگ آیتوں میں ہونے کے باوجود معنوی طور پر ایک دوسرے سے مربوط ہیں ۔ وہ دو آیتیں مندرجہ ذیل ہیں:

"اللہ ۔ہیں بدلتا کسی قوم کی حالت جب تک کہ وہ خود نہ بدلیں جو ان کے جیوں میں ہے "(الرعد :11)

"اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ ہرگز بدلنے والا نہیں اس نعمت کوجو دی تھی اس نے کسی قوم کو جب تک وہی نہ بدل ڈالیں اپنے جیوں کی بات"(الانفال: 58)

سورہ الرعد کی آیت مقبول ہے اور مسلمانوں کے مذہبی اور علمی حلقوں میں خود احتسابی کے مکالموں میں نقل کی جاتی ہے۔ مولانا حالی نے اس آیت کے مفہوم کو ایک شعر میں پیش کیا ہے۔

خدا آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

لیکن سورہ الانفال کی آیت کو زیادہ نقل نہیں کیا جاتا اور اس پر بحث نہیں ہوتی جبکہ یہ آیت سورہ الرعد کی آیت میں پیش کردہ موضوع سے مربوط ہے۔ سورہ الرعد کی آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حالات میں اجتماعی طور پر  بہتری تب تک نہیں لاتا جب تک اس قوم کے افراد انفرادی طور پر اپنے طرز فکر و طرز عمل میں بہتری نہیں لاتے۔ جب تک اس قوم کے افراد اپنے نفس۔ اور طرز فکر کی تربیت فلاح اور ترقی کے لئے نہیں کرتے تب تک وہ قوم اجتماعی طور پر ترقی نہیں کرسکتی۔ اجتماعی ترقی اور خوش حالی کے لئے کسی بھی قوم کے اندر مثبت صفات پیدا کرنی ہوتی ہیں ۔ یہ صفات کسی بھی قوم کو عروج کی طرف لے جاتی ہیں۔

پھر سورہ الانفال میں کسی قوم کے زوال کی وجہ بھی بتادی گئی ہے۔ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی قوم کو زوال تب ہی آتا ہے جب اس کے اندر سے وہ صفات رفتہ رفتہ ختم ہو جاتی ہیں جن کی وجہ سے وہ قوم بام عروج پر پہنچی تھی۔ جب قوم عروج پر پہنچنے کے بعد عیش وعشرت میں ڈوب جاتی ہے اور اپنی ترجیحات میں منفی تبدیلیاں لے آتی ہے تو وہ زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس طرح قوموں کا عروج وزوال ان کی اپنی ترجیحات پر منحصر ہوتا ہے۔ اس تناظر ۔یں مسلمانوں کے عروج وزوال پر

کے اسباب پر نظر ڈالیں تو ہم پر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جب مسلمانوں نے اپنے ابتدائی ادوار میں سائنسی طرز فکر کو اپنایا تو وہ ترقی اور خوش حالی کے عروج پر پہنچ گئے۔لیکن جب انہوں نے ساینسی طرز فکر کو ترک کرکے منفی طرز فکر کو اپنایا اور دقیانوسی نظریات اور فلسفیانہ موشگافیوں میں الجھ گئے تو رفتہ رفتہ زوال کے شکار ہوگئے۔

اس طرح جب ہم دونوں آیتوں کو ایک ساتھ رکھ کر پڑھتے ہیں تو ہمیں قوموں کے عروج وزوال دونوں کے اسباب سمجھ میں آجاتے ہیں جبکہ جب ہم دونوں آیتوں کو الگ الگ پڑھتے ہیں تو ہمیں تصویر کا صرف ایک رخ دکھائی دیتا ہے ۔ان دونوں آیتوں میں ہمیں قوموں کے عروج وزوال کا اصل سبب بتادیا ہے۔جب کسی قوم کا ہر فرد فکری اور عملی طور پر مثبت نظریات اور پالیسیوں پر جدوجہد کرتا ہے تو وہ قوم اجتماعی طور پر ترقی کرتی ہے اور جب اس قوم کا ہرفرد منفی ترجیحات اور نظریات اختیار کرتا ہے تو وہ روبہ زوال ہو جاتی ہے۔

---------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/quran-idea-about-rise-fall-in-nations/d/138495

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..