New Age Islam
Sat Mar 14 2026, 02:22 PM

Urdu Section ( 21 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Quran Forbids Stereotyping of Communities قرآن اور قوموں کی اجتماعی شبیہ سازی

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

21 فروری،2026

دنیا میں قدیم زمانے سے اجتماعی شبیہ سازی کی روایت چلی آرہی ہے۔ اس اجتماعی شبیہ سازی کی بنا پر کوئی قوم خود کو برتر اور دوسروں کو کم تر قرار دیتی ہے۔ ذات پات اور اونچی نیچ اور صنفی کم تری اور برتری کا تصور بھی اسی اجتماعی شبیہ سازی کا۔ نتیجہ ہے۔ جدید دور میں بھی قوموں کی اجتماعی شبیہ سازی وسیع پیمانے پر ہوتی ہے اور اس کے پیچھے سماجی اور مذہبی محرکات کے ساتھ ساتھ قومی اور عالمی سیاسی محرکات اور نظریات بھی کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ نظریات دنیا کی مختلف قوموں کے درمیان نفرت ، علاحدگی پسندی ، تشدد اور فرقہ واریت کو فروغ دیتے ہیں اور عالمی امن کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں۔ قرآن نے دنیا کی مختلف قوموں کے درمیان  صحت مند مکالمے قائم کرنے کی تلقین کی اور نزاعی موضوعات و مسائل کو نظر انداز کرکے مشترکہ روایات کی بنیاد پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے پر زور دیا۔ اس مقصد کے تحت قرآن نے اجتماعی شبیہ سازی کے چلن کو مسترد کرکے منافرت اور فرقہ واریت کی بیخ کنی کردی۔ قرآن میں کئی مقامات پر یہ واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ کسی قوم یا مذہب کے تمام لوگ برے نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی ایک قوم میں ہی کوئی مخصوص خوبی ہوتی ہے۔اس لئے کسی قوم کی اجتماعی شبیہ سازی کرکے پوری قوم کو کم تر ، نیچ اور قابل نفرت قرار دینا مہذب معاشرے کا شیوہ نہیں ہے اور نہ ہی اس بنا پر کسی قوم کو معتوب کیا جانا چاہئے۔ قرآن میں  مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اجتماعی شبیہ سازی کے چلن کو ختم کرکے ایک مثال قائم کریں اور اقوام عالم کو گلے سے لگائیں۔ دوسری قوموں میں جو برے اور مرشد ذہن کے لوگ ہیں ان کے قول وعمل کو نظر انداز کرکے اچھے لوگوں کے ساتھ مکالمہ قائم کیا جائے اور ان کے ساتھ مل معاشرے میں اصلاح اور فلاح کے کام کئے جائیں۔

مثال کے طور پرمسلمانوں میں دوسری قوموں یعنی عیسائیوں اور یہودیوں کے متعلق یہ تصور عام ہے کہ وہ سبھی مسلمانوں کے دشمن ہیں یا خدا اور نبی کی نافرمانی کرنے والے ہیں ۔ اس بنا پر مسلمانوں نے ان قوموں کے ساتھ غلط فہمیاں  دور کرنے کی کوشش نہیں کی اور اجتماعی شبیہ سازی کے قدیم چلن کو ہی اختیار کیا جبکہ قرآن اس روئیے کی تائید نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر قرآن اہل کتاب کے متعلق کہتا ہے:

"کچھ لوگ ان میں  (اہل کتاب میں ) ہیں سیدھی راہ پر اور بہت سے ان میں برے کام کررہے ہیں۔"(المائدہ :66)

"ملعون ہوئے کافر بنی اسرائیل کے داؤد کی زبان پر اور عیسی بن مریم کی اس لئے کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے گزر گئے تھے"۔(المائدہ :78)

"اور تو پاوے گا سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں یہ اس واسطے کہ نصاری میں عالم ہیں اور درویش ہیں اور اس واسطے کہ وہ تکبر نہیں کرتے اور جب سنتے ہیں اس کو جو اترا تیرے رسول پر تو دیکھے تو ان کی آنکھوں کو ابلتی ہیں آنسووں سے کہ انہوں نے پہچان لیا حق بات کو کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے سو تو لکھ ہم کو ماننے والوں کے ساتھ۔(المائدہ :83)

"سو جن کو ہم نے دی ہے کتاب وہ اس کو مانتے ہیں اور مکہ والوں میں بھی بعضے ہیں جو اس کو مانتے ہیں اور ہماری باتوں سے وہی منکر ہیں جو کفر کرتے ہیں۔"(العنکبوت :47)

یہ کچھ آیتیں ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ سبھی اہل۔کتاب مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں بلکہ ان میں سے ایک طبقہ مسلمانوں سے محبت رکھتا ہے اور اللہ کا کلام سن کر  فرط عقیدت سے ان کی  آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔

وہ سب برابر نہیں اہل کتاب میں۔ ایک فرقہ ہے سیدھی راہ پر۔ پڑھتے ہیں آیتیں اللہ کی راتوں کے وقت اور وہ سجدے کرتے ہیں ایمان۔لاتے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور حکم کرتے ہیں اچھی بات کا اور منع کرتے ہیں برے کاموں سے اور دوڑتے ہیں نیک کاموں پر اور وہی لوگ نیک بخت ہیں۔ (آل عمران :113-114)

ان آیتوں کے علاوہ اور بھی آیتیں ہیں جن میں مسلمانوں کو اجتماعی شبیہ سازی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے کیونکہ اس سے قوموں کے درمیان عدم اعتبار ، فرقہ واریت اور منافرت پھیلتا ہے۔

اسی طرح قرآن میں اعراب یعنی عرب کے بدوؤں کی بھی مثال ہے  جن کے ایک طبقے کے متعلق قرآن کہتا ہے:

"گنوار  (اعراب ) بہت سخت ہیں کفر میں اور نفاق میں اور اسی لائق ہیں کہ نہ سیکھیں قاعدے (حدود) جو نازل کئے اللہ نے رسول پر۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔

 اور بعضے گنوار (اعراب) ایسے ہیں کہ شمار کرتے ہیں اپنے خرچ کرنے کو تاوان اور انتظار کرتے ہیں تم۔پر زمانہ کی گردشوں کا ۔انہی پر آئے گردش بری اور اللہ سمیع و علیم ہے۔

ان آیتوں کو محدود طور دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ قرآن تمام اعراب کو  کٹرکافر اور منافق قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے فوراً بعد قرآن میں یہ بات واضح کردی گئی  ہے کہ تمام اعراب کافر اور منافق نہیں ہیں ۔ ان میں سے ایک طبقہ اللہ پر ایمان لاتا ہے اور رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ایسا کرکے قرآن اجتماعی شبیہ سازی کے روئیے کی نفی کر دیتا ہے۔

"اور بعض گنوار (اعراب ) وہ ہیں کہ ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور شمار کرتے ہیں اپنے خرچ کرنے کو نزدیک ہونا اللہ سے اور دعا لینی رسول کی (صلوت الرسول)۔(التوبہ :97-99)

چونکہ قرآن کے نزول سے قبل کے عالمی معاشرے میں اجتماعی شبیہ سازی کا غیر مہذب اور غیرمنطقی چلن عام تھا اس بنیاد پر کمزور قوموں اور طبقات کے ساتھ امتیاز اور ناانصافی کا ارتکاب کیا جاتا تھا اس لئے قرآن نےسلمانون کو اس چلن کو ترک کرکے قوموں کے تئیں ایک منطقی اور عقلی رویہ اختیار کرنے کی تربیت دی۔اور انہیں دوسری قوموں کے ساتھ عملی اور عقلی رویہ اختیار کرنے کی ہدایت دی۔ جب مسلمان دوسری قوموں کے افراد کے غلط عقائد ، اعمال و نظریات کی بنیاد پر پوری قوم سے نفرت کرنا اور ان کو دشمن سمجھنا چھوڑ دینگے اور دوسری قومیں بھی ان کی اجتماعی شبیہ سازی نہیں کرینگی اور اس طرح مسلمانوں  اورمختلف قوموں کے درمیان اخوت اور محبت کو فروغ ہوگا۔

-------------

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/quran-forbids-stereotyping-communities/d/138953

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..