New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 01:25 AM

Urdu Section ( 19 May 2019, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Qazi Nazrul Islam Rebelled Against Religious Exploitation and Mullaism قاضی نذرالاسلام نے ملائیت اور مذہبی تنگ نظری کے خلاف بغاوت کی


سہیل ارشد  ، نیو ایج اسلام

قاضی نذرالالسلام بنگلہ ادب میں رابندرناتھ ٹیگور کے بعد اہم ترین شاعر و ادیب ہیں ۔ انہوں نے اپنی شعری نثری تحریروں کے ذریعہ بنگال کے عوام میں انقلابی روح پھونکی ۔ انہوں نے نہ صرف برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی بلکہ انہوں نے سماجی برائیوں ، مذہبی تعصب ، ملاّئیت اور بد عقیدگی کے خلاف بھی بغاوت کی ۔ اسی لیے انہیں باغی شاعر (بدروہی کوی ) کہاجاتاہے ۔

قاضی نذرلاسلام نے جس دور میں بنگلہ ادب میں قدم رکھا اس وقت رابندرناتھ ٹیگور کا طوطی بول رہاتھا اور بنگلہ کے شعراء رابندرناتھ کے ادبی قد کے سامنے بونے نظرآتے تھے اور انہی کے اسلوب اورزبان سے متاثر تھے ۔ رابندرناتھ ٹیگور کی شاعری صوفیانہ تھی اور ان کی زبان اور اسلوب میں نرمی ، لطافت اور نزاکت تھی ۔ لہذا، بنگلہ کے دیکگر شعراء بھی ان ہی کے اسلوب اور زبان میں شاعری رہے تھے ۔

قاضی نذرالاسلام نے اپنے دور کے تقاضوں کے مد نظر ایک مختلف زبان اور اسلوب اختیار کیا ۔ ان کے اندر برطانوی حکومت اور سرمایہ داروں کے خلاف باغیانہ جذبات فروغ پارہے تھے ۔ اس لئے انہوں نے اپنے انقلابی افکار کے اظہار کے لئے ایک ایسی زبان اختیار کی جو رابندرناتھ ٹیگور کی زبان و اسلوب سے بالکل مختلف تھی ۔ اس میں گھن گرج ، جوش وجذبہ اور لہو کو گرمادینے والی آنچ تھی ۔ انہوں نے عربی ، فارسی اور اردو کی آمیزش سے ایک ایسی زبان کو فروغ دیا جسے مسلمانی بنگلہ کہاگیا ۔ اس زبان میں کہی گئی انکی نظموں سماج کے تمام طبقے کو متاثر کرتی تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بہت جلد رابندرناتھ ٹیگور کے سائے سے نکل کر ان کے مد مقابل اپنی انفرادی شناخت قائم کرنے میٰں کامیاب ہوئے ۔

قاضی نذرالاسلام نے تئیس برس کی عمر میں نظم ’’بدروہی ‘‘ (باغی ) 1922ء میں لکھی تھی جو ہفتہ وار ’’بجلی ‘‘ میں شاءع ہوئی تھی ۔ یہ نظم اتنی مقبول ہوئی کہ اس اخبار کی تمام کاپیاں فوراً فروخت ہوگئیں اور قارئین کے اصرار پر نظم کو دوسرے شمارے میں دوبارہ شاءع کرنا پڑا ۔ اس نظم کی اشاعت پر قاضی نذرالاسلام راتوں رات مقبولیت کے آسمان پر پہنچ گیا ۔

قاضی نذرالاسلام نے وطن کو انگریزوں سے آزاد کرانے کے لئے صرف نظم میں ہی نہیں لکھیں بلکہ انہوں نے عملی سیاست میں بھی سرگرم حصہ لیا ۔ انہوں نے کمیونسٹ لیڈر مظفراحمد ، افضل الحق اور دیگر قوم پرست دانشوروں اور مجاہد آزادی کے ساتھ ملکر اپنی سیاسی پارٹی اور کئی رسائل کی ادارت کا فریضہ انجام دیا ۔

قاضی نذرالاسلام نے صرف تحریک آزادی میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ بنگال کے عوام میں بد عقیدگی ، استحصال ، مذہبی تنگ نظری ، فرقہ پرستی اور سرمایہ داری کے جبر کے خلاف بھی نبرد;207;آزمارہے اور اپنی تقریروں اور تحریروں سے بنگال کے عوام کے اندر سیاسی ، سماجی اور مذہبی بیداری لانے کی کوشش کی ۔

قاضی نذرالاسلام ایک سیکولر اور روشن دماغ شاعر و ادیب تھے ۔ انہوں نے ہندووَں اورمسلمانوں دونوں فریقوں کے مذہبی پیشواؤں کے ذریعہ غریب اور جاہل عوام کے استحصال کے خلاف بھی تحریری اور تقریری جنگ چھیڑی اور ملاّوَں اور پنڈتوں کی بے راہ روی اور دونوں فرقوں پر انکے مظالم اور استحصال کے خلاف احتجاج کرتے رہے اور وقت پڑنے پر انکے خلاف لڑائی بھی کی ۔

وہ بالخصوص مسلمانوں کے اندر پھیلی ہوئی بے دینی ، بد عقیدگی ، ملاّوَں کی بلادستی اورسچے ملیّ جذبے کے فقدان پر رنجیدہ رہتے تھے اور مسلمانون کوا پنی نظموں کے ذریعے سے اپنے شاندار ماضی اور اسلاف کی قربانیوں کو یاد دلاکر انکے اندر مایوسی اور قنوطیت کو ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔ انہوں مذہب اسلام اور اسلامی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیاتھا ۔ انکی نظموں سے اسلامی تاریخ سے انکی گہری واقفیت کا پتہ چلتاہے ۔ وہ ان اسلامی نظموں میں مسلمانوں کو انکے دینی اور ملی فراءض کا احساس کراتے ہیں اور انہیں سیاسی اور تعلیمی میدان میں آگے بڑھ کر قائدانہ کردار ادا کرنے کی تلقین کرتے ہیں ۔ علامہ اقبال کی طرح وہ نمایاں اسلامی شخصیات پر نظ میں لکھ کر مسلمانوں کو ان شخصیات کے کارناموں اور انکے نظریات سے واقف کراتے ہیں تاکہ مسلمان ان سے فیض حاصل کرکے سماج میں اونچا مقام حاصل کرسکیں ۔ انکی نظموں نے بنگال کے عوام میں جذبہ حریت تو پیداکی ہی مسلمانوں میں نئے امنگ اور حوصلے کی لہر بھی دوڑا دی ۔ انہوں نے اپنی انقلابی تحریروں سے بنگال کے مسلمانوں کے اندر ایک نئی روح پھونک دی ۔ انکی نگاہ اپنے دور کے عالمی تغیرات اور حالات پر گہری تھی اوروہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ جو واقعات و حادثات پیش آرہے تھے اس سے بخوبی واقف تھے اور ان حالات کی روشنی مین وہ بنگال کے مسلمانوں کو بھی وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر زندگی کے میدان کارزار میں جدو جہد اور قربانیوں کے لئے تیار ہونے کی تلقین کررہے تھے ۔ انہوں نے اسلامی موضوعات اور شخصیات پر جو نظ میں لکھیں ان میں سے چند کے عنوان ہیں : شہیدی عید ، خالد، صبح امید، امان اللہ ، عمر فاروق ، 1400، مبارکباد، آزاد، عید کا چاند ، محرم ، بقرعید ، مہاتما محسن ، ایک اللہ زندہ باد، شاخ نبات ، ، اذان ، مولوی صاحب ، مولانا محمد علی ، کسان کی عید ، شط العرب ، فاتحہ دوازدہم وغیرہ ۔

ان کی نظم ’خالد ‘ اسلامی فوج کے مشہور سپہ سالار حضرت خالد بن ولید پر ہے ۔ اس میں حضرت عمر اور حضرت خالد بن ;242;ولید سے متعلق ایک واقعے کو بھی بڑے پراثر طور پر بیان کیاگیاہے ۔ حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں اسلامی فوج ایک کے بعد ایک علاقے فتح کرتی جارہی تھی ۔ اس سے حضرت عمر کو یہ اندیشہ ہوا کہ عرب کے مسلمان شخصیت پرستی میں مبتلا نہ ہوجائیں اور خالد بن ولیدکی پرستش نہ کرنے لگیں ۔ وہ یہ نہ سمجھنے لگیں کہ خالد بن ولید کی وجہ سے ہی مسلمان فتحیاب ہورہے ہیں ۔ لہذا، انہوں نے خالد بن ولید کا امتحان لینے کے لئے انہوں نے انہیں سپہ سالاری سے ہٹنے اور ابن سعد کو اسلامی فوج کی قیادت سونپنے کا فرمان جاری کیا ۔ خلیفہ کے اس فرمان سے اسلامی فوج میں ہلچل مچ گئی ۔ فوجیوں میں اس فرمان سے بیحد ناراضی اور غصہ تھا مگر خالد بن ولید نے ڈسپلن اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے خندہ پیشانی سے قیادت ابن سعد کو سپر د کردی اور خود ان کی قیادت میں ایک معمولی سپاہی کی طرح لڑنے کے لئے تیار ہوگئے ۔ جب حضرت عمر نے خالد بن ولید کا یہ جذبہ دیکھا تو وہ آبدیدہ ہوگئے اور انہیں گلے سے لگاتے ہوئے فرمایا کہ تم جس طرح ایک کے بعد ایک ملک کو فتح کرتے جارہے تھے مجھے یہ فکر لاحق ہونے لگی تھی کہ کہیں عرب کے مسلمان تمہاری پرستش نہ کرنے لگیں اس لئے میں نے تمہارا امتحان لیا ۔ اس کے لئے مجھے معاف کردو اور آج سے تم تمام عالم اسلام کے سپہ سالار ہو ۔ اس کے بعد اس نظم میں نذرالاسلام موجود زمانے میں مسلمانوں کے انتشار اور شکست خوردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اورحضرت خالد بن ولید کی روح سے فریاد کرتے ہیں کہ وہ ایک بار پھر دنیا میں آکر مسلمانوں کو اس شکست خوردگی اورانتشار سے نجات دلائیں ۔

انکی ایک نظم ’امان اللہ ‘ ہے ۔ امان اللہ خان 1919 سے 1929تک افغانستان پر حکومت کی ۔ وہ اپنے والد کی موت کے بعد تخت نشیں ہوئے تھے ۔ وہ ایک روشن خیال حکمراں تھے ۔ انکی اہلیہ ثریا طرزی تھیں ۔ وہ بھی ایک تعلیم یافتہ اورروشن خیال خاتوں تھیں ۔ اس دور میں افغانستان میں ملاؤں کا دوردورہ تھا ملا شوربازار کا عوام میں دبدبہ تھا ۔ امان اللہ خان اور انکی بیوی نے افغانستان میں کافی اصلاحات کیں اور تعلیم کو عام کرنے کے لئے کافی اقدامات کئے ۔ ثریا طرزی نے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے اسکول اور کالج کھلوائے ۔ اس اقدام سے وہاں کے ملا وَں کا طبقہ ان کا مخالف ہوگیا اور ایک قبائلی لیڈر بچہ سقہ نے بغاوت کردیا اور امان للہ خان کو افغانستان چھوڑ کر جرمنی چلاجانا پڑا ۔ غالباً وہ ہندوستان بھی آئے تھے ۔ انہی کے استقبال میں نذرالاسلام نے یہ نظم لکھی تھی ۔ اس نظم میں ٰ انہوں نے امان اللہ کے اصلاحی اقدامات کی تعریف کی ۔ وہ لکھتے ہیں کہ آپ کی حکومت میں ہندووَں کو کافر نہیں بلکہ ’برادرِ ہند ‘ کہاجاتاہے ۔ آپکی حکومت میں مندروں کی ایک اینٹ بھی نہیں توڑی گئی اور نہ ہی انکے دیوتاؤں کی مورتیاں توڑی گئیں ۔ آپ نے افغانستان کو ایک نئی پہچان دی ہے ۔ آپ نے یہ ثابت کردیا کہ افغانستان صرف ابدالی اور نادر شاہ کا ملک نہیں ہے بلکہ محبت اور مساوات کا ملک ہے ۔

قاضی نذرالاسلام ترکی کے لیڈرمصطفے کمال پاشا سے بھی بہت متاثر ہیں اور انہوں نے جو اصلاحی اقدامات کئے اور برطانوی حکومت کے خلاف جو جنگ کی اس کے لئے بھی انکے دل مین مصطفے کمال کے لئے عقیدت و احترام تھا ۔ انہوں نے ایک نظم ’مصطفے کما ل ‘ لکھی جس کا ایک مصرع تھا

کما ل تو نے کمال کیابھائی

قاضی نذرالاسلام نے خلیفہ دوئم حضرت عمر پر بھی ایک نظم ’عمر فاروق ‘ کے عنوان سے لکھی ۔ یہ ایک طویل نظم ہے جس میں انکی قائدانہ خوبیوں ، ان کی ملت پروری اور تقوی کا ذکر ہے ۔ انہوں نے ہندوستان کے ایک مجاہد آزادی مولانا محمد علی اور بنگال کی ایک عظیم سماجی شخصیت حاجی محمد محسن پر نظم ’مہاتما محسن ‘ لکھی ۔ انہوں نے اسلامی تہواروں عید ، بقرعید، محرم ، فاتحہ دوازدہم وغیرہ پر بھی نظ میں لکھیں ۔ مگر ان نظموں میں انہوں نے روایتی اور رسمی مضامین نہیں پیش کئے بلکہ اس بات پر ماتم کیاہے کہ مسلمانوں نے ان تہواروں کو محض رسم بنادیاہے ۔ ان تہواروں میں جو پیغام چھپاہواہے اور ان تہواروں کا مسلمانوں سے جو تقاضہ ہے اس سے مسلمان لاعلم ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ آج مسلمان دنیا میں شکست خوردہ اور خوار ہیں ۔ وہ عید مناتے ہیں مگر ان کے اندر اخوت ، بھائی چارہ اورآپسی محبت نہیں ہے ۔ وہ بقر عید مناتے ہیں مگر ان کے اندر قربانی کا جذبہ نہیں ہے ۔ وہ اسے صرف جانور کی قربانی کا تہوار سمجھتے ہیں ۔ وہ محرم مناتے ہیں مگر ان کے اندر ملت کے درد نہیں ہے اور نہ ہی حق و صداقت کے لئے آواز اٹھانے کا جذبہ ہے ۔ وہ فاتحہ دوازدہم مناتے ہیں مگر انہیں حضور پاک ﷺ سے محبت نہیں ہے اور وہ نبی ﷺ کی احکام کے مطابق زندگی نہیں گزارتے ۔ مختصر یہ کہ وہ اسلام کو مانتے ہیں مگر ان کے اندر سچی اسلامی اسپرٹ نہیں ہے ۔

قاضی نذرالاسلام نے مسلمانوں میں ملی بیداری کے لئے تحریک چلانے کے ساتھ ساتھ مذہب کے نام پر عوام کے استحصال کے خلاف جد وجہد کی ۔ انہوں نے مسلمانوں میں مذہب کی صحیح اسپرٹ پیدا کرنے اور انہیں مذہبی تعصب اور تنگ نظری سے نجات دلانے کی کوشش کی ۔ انہی کی تحریک کا نتیجہ تھا کہ ڈھاکہ میں مسلم ادباء و شعراء میٰں آزادی ء فکر کی تحریک کی شروعات ہوئی ۔ اور18 اپریل 1929ء کو کلکتہ کے البرٹ ہال میں ’’ملاّ کی نبارنی سنگھ ‘‘ (ملاّئیت انسداد کمیٹی ) کی تشکیل ہوئی ۔ اس کمیٹی میں کئی روشن خیال علماء اور ادباء شعراء رکن بنے ۔ اس کی قرارداد پیش کی گئی اس کا ایک اقتباس درج ذیل ہے :

’’ملاّئیت کی بنیاد اسلامی اصولوں سے انحراف پر اور ’’پروہت واد ‘‘ پرہے ۔ اور یہ ملاّ اپنے ذاتی مفاد کے لئے مسلم سماج کو جدید سائنس اور جدید علوم کی روشنی سے محروم رکھنے کیلئے حدیث اور قرآن کا غلط استعمال کرتے ہیں ۔ مسلمان سماج کو ملاّوَں کے اثر بد سے آزاد نہ کرنے سے مسلمان طبقے کو تعلیم یافتہ بنانا اور انہیں سماجی ، اقتصادی اور ادبی آزادی دلانا اور انکی ذہنی اور فکری صلاحیتوں کو فروغ دینا نا اور موجودہ دور میں انہیں سائنسی ترقی میں دوسری قوموں کے برابرلانا ممکن نہیں ہوگا ۔ اس لئے یہ تجویز پیش کی جاتی ہے کہ بنگال کے مسلمانوں کو اسلامی تعلیم کی روشنی میں انہیں ترقی کی راہ میں آگے لے جانے کے لئے انہیں ملاّ طبقے کے اثر سے نجات دلانے کے مقصد سے ایک ’’ملائیت انسداد کمیٹی ‘‘ کی تشکیل کی جائے ۔ ‘‘

قاضی نذرالاسلام کی پوری زندگی سماج میں پھیلی ہوئی برائیوں ، سماجی ، معاشی اور مذہبی استحصال کے خلاف جد وجہد میں گزری ۔ ان کے اندر قومی و ملی جذبہ کوٹ کوٹ کر بھراہواتھا ۔ مگر مذہبی جذبے نے انہیں مذہبی جنونی یا متعصب نہیں بنایا بلکہ مذہب کی صحیح تفہیم نے انہیں روشن خیال اور سیکولر مزاج بنادیا تھا ۔ وہ اسلام کے مساوات ، انصاف، محبت اور بقائے باہم کے اصول پر کاربند تھے اور زندگی بھر اس کی اشاعت کرتے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بنگال کے ہندو اور مسلمان دونوں طبقے انہیں عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/s-arshad,-new-age-islam/qazi-nazrul-islam-rebelled-against-religious-exploitation-and-mullaism--قاضی-نذرالاسلام-نے-ملائیت-اور-مذہبی-تنگ-نظری-کے-خلاف-بغاوت-کی/d/118644

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..