New Age Islam
Sun Apr 18 2021, 08:27 PM

Urdu Section ( 29 Sept 2019, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Prophecies of the Advent of Prophet Mohammad (Pbuh) In Religious Scriptures مذہبی صحیفوں میں پیغمبراسلام کی آمد کی پیشینگوئی


سہیل ارشد ، نیو ایج اسلام

ْقرآن میں تمام انبیاء کو یکساں درجہ دیاگیاہے۔ اگرچہ  قرآن حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا اور یہ اسلا م کی بنیادی کتاب ہے  اس میں گزشتہ انبیاء اور رسولوں کا بھی ذکر ہواہے۔ کچھ سورتیں تو دیگر انبیاء کے نام پر ہیں جیسے  سورہ یوسف  اور سورہ ابراہیم۔ ایک سورۃ حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم علیہ السلام  کے نام پر بھی ہے۔ قرآن میں چند ابنیاء جیسے حضرت موسی علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام، حضرت شعیب علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام  اور حضرت یونس علیہ السلام  کا بھی تفصیل سے ذکر ہواہے  جبکہ دیگر انبیا ء کا اختصار سے ذکرہواہے۔

 ان انبیاء  کا ذکر قرآن  میں اس لئے آیاہے  کہ وہ تمام انبیاء  ایک خدا کے پیغمبر تھے  اور توحید کی تعلیم دینے آئے تھے۔، انہوں نے شرک  اور بت پرستی  سے لوگوں کو منع کیا۔ تمام انبیاء  حضرت آدم  علیہ السلام  سے لیکر حضرت  محمد ﷺ تک ایک ہی دین کے پیغامبر تھے۔ اس لئے  قرآن ان تمام انبیاء  کی تصدیق کرتاہے  اور ان پر نازل ہونے والے صحیفوں کی بھی تصدیق کرتاہے۔ قرآن کو یاددہانی یا ذکر بھی کہاگیاہے کیونکہ یہ گزشتہ کتابوں کے پیغامات کی یاد دہانی کراتاہے۔ تمام انبیاء  کے ذکر سے قرآن  کا مقصد  تمام توحید پرست قوموں کو ایک دھاگے میں پروکر  انہیں محبت اور یکجہتی سے رہتے ہوئے  ایک صالح معاشرے کی تعمیر کی کوشش کرنے کی تلقین کرنا ہے۔

بہرحال، قرآن مٰیں جو انبیاء کا ذکر ہے  وہ یک طرفہ عمل نہیں ہے۔  چونکہ حضرت محمد ﷺ بھی انبیاء کے سلسلے کی آخری کڑی تھے  اس لئے جس طرح قرآن میں  گزشتہ انبیاء  اور  ان پر نازل ہونے والی کتابوں  کی تصدیق کی  گئی ہے  اسی طرح  قرآن سے قبل  نازل ہونے والی آسمانی کتابوں  میں بھی آنے والے پیغمبر  (حضرت محمد ﷺ)  کی بھی پیشین گوئی کی گئی ہے  تاکہ آنے والی نسلیں  انہیں آسانی سے پہچان سکیں  اور ان پر ایمان لے آئیں۔

سب سے پہلے ہم  بھوشیہ پران  میں حضرت محمد ﷺ کی آمد کی پیشین گوئی کا ذکر کرتے ہیں۔ بھوشیہ پران  ہندوؤں کی مقدس کتاب ہے جس میں مستقبل کے واقعات کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ ا س کتاب کو ہندو آسمانی کتاب سمجھتے ہیں۔ یہ سنسکرت زبان میں ہے۔ اس سے ایک اقتباس درج ہے۔

”ایک ملیچھ  (دیگر قوم سے تعلق رکھنے والا اور غیرملکی زبان بولنے والا)  اپنے ساتھیوں کے ساتھ ظاہر ہوگا۔  اس کا نام مہامد ہوگا۔  راجہ  (بھوج)   نے اس مقدس  شخصیت کو گنگا ندی  اور پنچ گویہ سے غسل کرکے  انہیں نذرانہ عقیدت پیش کیا اور فرمایا:  اے، فخر انسانیت،  عرب کے باشندے میں آپ کے آگے سر تسلیم خم کرتاہوں۔ آپ نے شیطانوں کے قتل کے لئے ایک بڑی فوج جمع کرلی ہے  اور آپ خود بھی ان شیطانوں سے محفوظ کئے گئے ہیں۔ اے خدا کے مقد س بندے، میں آپ کا غلام ہوں  مجھے  اپنے قدموں میں جگہ عنایت کیجئے۔“

ہندوؤں کی ایک اور مذہبی کتاب اتھر ووید میں بھی حضرت محمد ﷺ کی آمد کی پیشین گوئی ملتی ہے۔

”اے لوگوں غور سے سنو۔ محمد  لوگوں کے بیچ اٹھا ئے جائینگے۔ہم آنے والے کو ساٹھ ہزار نو دشمنوں  سے اپنی پناہ میں لیتے ہیں  جن کو سواری ہے بیس اونٹ اور اونٹنیاں  اور جن کی عظمت آسمانوں کو چھوتی ہے اور انہیں بھی اپنے سامنے جھکادیتی ہے۔“

نغمہ سلیمانی میں  بھی حضرت محمد ﷺ کی آمد کی پیشین گوئی  ہے۔ نغمہ سلیمانی  توریت کا ہی ایک حصہ ہے۔

”ان کا دہن سب سے شیریں ہے۔ وہ محمد ہیں، سراپا جمال ہیں۔ وہ میرے محبوب اور میرے دوست ہیں اے یروشلم کی بیٹی۔“

(نغمہ سلیمانی: ۵؛۶۱)

توریت میں حضرت محمد ﷺ کی آمد کا ذکر یوں کیاگیاہے:

”تمہارا خدا  اور مالک  تمہارے درمیان سے ایک پیغمبر اٹھائے گاجو تمہارے برادران میں سے ہوگا سو جس طرح  تم میری اطاعت کرتے ہو اسی طرح ان کی بھی اطاعت کرنا۔“’ڈیوٹرونومی:::15))

”میں انکے درمیان ایک  پیغمبر اٹھاؤں گا جو ان کے برادران میں سے ہوگا  اور میں اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا  اور میں جو حکم دوں گا وہی کہے گا۔“’ڈیوٹرونومی: 18:))

مندرجہ بالا اقتباس میں لفظ ”تمہارے برادران“  سے مراد حضرت اسماعیل کی نسل ہے جس سے حضرت محمد ﷺ تعلق رکھتے تھے۔

بائبل میں بھی  حضرت محمد کی آمد کی پیشین گوئی ہے جو ذرا تفصیل سے ہے۔ وہ اقتباسات ملاحظہ ہوں:

”اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو میری باتوں پر عمل کروگے۔  اور میں باپ سے دعا کروں گا اور تمہیں ایک دوسرا مسیحا عطا کرے گا  جو تمہارے ساتھ ہمیشہ رہیگا۔  لیکن وہ مسیحا جو حق کی روح ہے  اور جسے با پ  میرے نام پر بھیجین گے  وہ تمہیں تمام باتوں کا درس دینگے  اور تمہیں تمام باتوں کی یاد دہانی کرائین گے جو میں نے تمہیں بتائی ہیں۔ (جان: ۴۱:۵۱)

’بہرحال، میں تمہیں بتاتاہوں حق بات۔ تمہارے حق میں ہے کہ میں رخصت ہوجاؤں  کیونکہ جب تک میں رخصت نہیں ہونگا، وہ مسیحا نہیں آئیگا۔  اور وہ جب آجائیں گے تو وہ دنیا میں نیکی اور بدی کا فیصلہ کردین گے اور عدل قائم کرینگے۔ مجھے تم سے بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر تم ان باتوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔  لہذا،  جب وہ حق کی روح تشریف لائیں گے  تو وہ تمام  باتوں کی طرف تمہاری رہنمائی کرینگے  کیونکہ وہ  اپنی طرف سے کچھ نہیں کہیں گے بلکہ  وہ جو کچھ بھی سنیں گے  وہی کہیں گے  اور وہ اآنے والے واقعات سے تمہیں آگاہ کریں گے۔“ (جان: ۶۱:۷)

برناباس کی انجیل کو تمام انجیلوں میں زیادہ معتبر سمجھاجاتاہے۔ اس میں حضرت محمد ﷺ کے متعلق کچھ اوراہم حقائق بیان کئے گئے ہیں جو مسلمانوں میں بہت مقبول ہیں اور جنہیں میلاد کے جلسوں اور دیگر مذہبی اجتاعات میں مولوی حضرات بڑے جوش و خروش کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور یہ نہیں بتاتے کہ یہ باتیں عیسائیوں کی کتاب  انجیل سے اخذ کی گئی ہیں۔ پیش ہیں وہ اقتباسات:

”تب خدا نے  انسان میں اپنی روح پھونکی۔ اور فرشتوں نے اللہ کی حمد وثنا کرتے ہوئے کہا”اے خدا تیرا نام پاک ہے۔“ آدم اپنے پیروں پر اٹھ کھڑے ہوئے  اور سورج سے بھی زیادہ روشن تحریر دیکھی۔ لکھا تھا، ”لا الہ الا اللہ، محمد الرسول اللہ۔“ خدا ایک ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ “آدم نے زبان کھولی اور کہا ”اے خدا  میں تیرا شکر گزار ہوں کی تونے مجھے پیدا کیا۔ مگر مجھے بتادے کہ  ”محمد الرسول اللہ“ کا کیا مطلب ہے۔ کیا مجھ سے پہلے بھی کوئی انسان موجود تھا۔؟ خدا نے جواب دیا۔ ”خوش آمدید میرے بندے  آدم۔  میں بتاتاہوں کہ  تم ہی پہلے انسان ہو جسے میں نے پیداکیا اور جس کا نام تم نے دیکھا ہے وہ  تمہاری اولاد میں سے ہیں  جو دنیا میں ایک مدت کے بعد بھیجے جائیں گے اور میرے رسول ہونگے۔انہی کے لئے میں نے تمام کائنات پیدا کی  اورجب وہ دنیا میں جائیں گے تو روشنی پھیلائیں گے۔ ان کی روح کو کائنا ت کی تخلیق سے ساٹھ ہزار سال پہلے سے  آسمانوں کے نور کے درمیان سجاکر رکھاگیاہے۔“

آدم نے اللہ سے فریاد کی۔ ”اے میرے مالک،  اس تحریر کو میرے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخن میں اتاردے۔“ تب خدا نے  اس تحریر کو ان کے انگوٹھے  پر اتاردیا۔ داہنے انگوٹھے پر ”لاالہ الااللہ“ اور بائیں انگوٹھے پر ”محمد الرسول اللہ“  اتاراگیا۔ تب پدرانہ شفقت سے  اول انسان نے دونوں الفاظ کو بوسہ لیا اور اپنی اپنی آنکھوں سے لگایا  اور بولے،”وہ دن بابرکت ہوگا جب  تم دنیا میں آؤگے۔“

(برناباس کی انجیل: 39)

اسی طرح کا ایک اور واقعہ برناباس کی انجیل میں رقم ہے؛

”تب خدا نے کہا،  دفع ہوجا ملعون میرے سامنے سے۔“ پھر شیطان چلاگیا۔ اس کے بعد خدا نے آدم اورحوا سے کہا ”تم لوگ جنت سے نکل جاؤ اور اپنے گناہوں کی تلافی کرو۔ مگر امید کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑنا۔ کیونکہ میں تمہارے بیٹے کو اس طرح سے بھیجوں گا کہ تمہارا بیج  نسل انسانی کے سر سے شیطا ن کے غلبے کو ختم کردے گا۔وہ  میرا رسول جب آئیگا تو میں اس کو ساری چیزٰیں عنایت کردونگا۔“

پھر خدا پردے میں چلاگیا ور فرشتہ میکائیل نے ددنوں کو بہشت سے نکال دیا۔ جاتے ہوئے انہوں نے مڑکر دروازے کی طرف دیکھا جہاں لکھا ہواتھا  ”لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ۔“یہ دیکھ کر انہوں نے روتے ہوئے کہا، ”خدا کرے میرے بیٹے کہ تم جلد دنیا میں آؤ اور اس مصیبت سے ہمیں نجات دلاؤ۔“

(برناباس کی انجیل: ۱۴)

ایک اور موقعے پر  عیسی علیہ السلام  حضرت محمد ﷺ کی آمد کی پیشینگوئی کرتے ہیں  اوراپنے پیروکاروں کو ان کی نشانیاں بتاتے ہیں تاکہ وہ انہیں پہچان لیں

”عیسی  نے جواب دیا۔ ”د ل میں خوف اور گھبراہٹ نہ لاؤ۔  کیونکہ  میں نے نہیں تمہیں  ہم سب کے خالق نے پیداکیاہے۔ جہاں تک میرا معاملہ ہے۔ میں دنیا میں  رسول اللہ کی آمد کی راہ ہموار کرنے کے لئے آیا ہوں  جو دنیا کو نجات دلائینگے۔  لیکن خبردار رہنا اور دھوکا نہ کھانا کیونکہ بہت سے جھوٹے نبی بھی آئینگے جو میرا کلام لے لینگے اور اس میں ملاوٹ کردینگے۔“

مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس طرح قرآن میں گزشتہ انبیاء کی تصدیق کی گئی  اور ان کے مقدس صحیفوں کا ذکر کیاگیا  اسی طرح گزشتہ آسمانی صحائف میں بھی حضرت محمد ﷺ کی ؔآمد کی پیشین گوئی کی گئی اور ان کے اللہ کے رسول ہونے کی شہادت تمام انبیا نے دی  تاکہ تمام خدا کے ماننے والے تمام انبیا ء پر ایمان لائیں اور مل جلکر توحید کے پیغام کو عام کریں۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/s-arshad,-new-age-islam/prophecies-of-the-advent-of-prophet-mohammad-(pbuh)-in-religious-scriptures--مذہبی-صحیفوں-میں-پیغمبراسلام-کی-آمد-کی-پیشینگوئی/d/119867

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..