New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 02:05 AM

Urdu Section ( 18 Jan 2018, NewAgeIslam.Com)

Poetic and Philosophical diction of the Quran قرآن کا شاعرانہ اور فلسفیانہ اسلوب

 

 

 

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

قرآن پاک اسلام کا بنیادی صحیفہ ہے ۔ اس میں مسلمانوں کے لئے احکام اور ہدایتیں اور ان کے لئے ضابطہ ء حیات ہے ۔ یہ مسلمانوں کو نیک و بد کی تعلیم دیتاہے اور انہیں معروف اور منکر کا علم عطاکرتاہے ۔قرآن محض مسلمانوں کو احکام دینے والی اور شرعی قوانین کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کی فکری اور ذہنی تربیت بھی کرتاہے تاکہ وہ دنیا میں قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہوں اور زندگی کے ہرشعبے میں دوسروں سے آگے رہیں۔ا سلئے جب ہم قرآن کا باریکی سے مطالعہ کرتے ہیں تو یہ پاتے ہیں کہ اس میں صرف ہدایتیں یا احکام نہیں ہیں۔

اگر ایسا ہوتا تو قرآن کا اسلوب اور اس کی زبان خشک اور تکنیکی ہوجاتی جیسی کہ قانون کی کتابوں کی ہوتی ہے ۔ ہم قرآن کے ترجموں کے سرسری مطالعے کے دوران بھی دیکھتے ہیں کہ قرآن کی زبان اور اس کا اسلوب سپاٹ اور خشک نہیں ہے بلکہ اس میں جا بجا علامتیں ، تمثیل ، تشبیہیں اور مثالیں دی گئی ہیں جن کی وجہ سے قرآن کی باتیں دلچسپ ہوتی ہیں اور آسانی سے ذہن نشیں ہوجاتی ہیں۔ اتناہی نہیں قرآن قارئین کو زبان کے استعال کا ہنر بھی سکھاتاہے اور انہیں علم بیان کی باریکیوں سے واقف کراتاہے ۔قرآن میں اسطرح کی ترقی یافتہ اسلوب اور تشبیہوں اور استعاروں اور معنی خیز جملوں کا مقصد انسانوں کو فصاحت و بلاغت کا سبق دینابھی تھا کیونکہ ایک ترقی یافتہ زبان کے بولنے والے ذہنی اور فکری سطح پر بھی بلند ہوتے ہیں ۔دنیا کی جن زبانوں کی ساخت پیچیدہ اور گہری ہوتی ہے ان کے بولنے والے اعلی اور تیز دماغ کے حامل ہوتے ہیں اور وہ زندگی کے تمام شعبے میں دوسروں سے آگے ہوتے ہیں ۔زبان محض اظہار کا وسیلہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے بولنے والے کے ذہن کو بھی تیز اور ارفع بناتی ہے ۔زبان جتنی گہری اور ترقی یافتہ ہوگی اس کے بولنے والے بھی اتنے ہی ذہین اور طباع ہونگے ۔ اس کی مثال جاپانی زبان ہے ۔جاپانی زبان کے تین رسم الخط ہیں جبکہ دنیا کی کسی بھی زبان کا صرف ایک رسم خط ہوتاہے ۔ جاپانی میں تین رسم خط ہیرا گانا، کاتاکانا اور کانجی ہیں۔ہر جاپانی بچے کو تینوں رسم خط میں مہارت حاصل کرنی ہوتی ہے اس کی وجہ سے جاپانی لوگ بچپن سے دوسری زبان کے بولنے والوں کے مقابلے زیادہ تیز اور ذہین ہوتے ہیں ۔ جاپانی زبان کی گہرائی اور پیچیدگی کا ثمرہ ہے کہ جاپانیوں نے بہت کم عرصے میں دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کو سائنس اور تکنالوجی کے میدان میں پیچھے چھوڑ دیاہے ۔سادہ اور آسان زبان کے بولنے والے ذہنی طور پر کم تر ہوتے ہیں اور زندگی کے سبھی شعبوں میں پچھڑے ہوتے ہیں۔کیونکہ آسان زبان کو بولنے کے لئے دماغ کو زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑتی اس لئے اس کے بولنے والے ذہنی طور پر زیادہ اونچی سطح پر نہیں ہوتے ۔گلوبلائی زیشن کے عہد میں مغرب نے زبان کو زیادہ آسان بنانے پر زور دیاہے کیونکہ اس کے نزدیک زبان صرف خرید و فروخت کا ذریعہ ہے ۔ خرید وفروخت کے لئے جو اسلوب ، ذخیرہ ء الفاظ اور لہجہ معاون ہو وہی اس کے نزدیک درست ہے ۔ یہی وجہ ہے موجودہ عہد میں مخلوط زبان اور آسان اسلوب کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے مگر اس کی وجہ سے زبان کا اصل مقصد فوت ہوجاتاہے ۔

حال میں Centre for Bio-Medical Research, Lucknow نے زبانوں کا ایک سروے کیاتھا جس میں یہ نتیجہ برآمد ہواکہ اردو زبان کی عبارتوں کو پڑھنے اور سمجھنے میں جو ذہنی مشقت کرنی پڑتی ہے اس سے بولنے اور پڑھنے والوں کا دماغ صیقل ہوتاہے اور ان کی قوت متخیلہ میں اضافہ ہوتاہے ۔اردو کے رسم الخط اور اس کی زبان کی گہرائی اور پیچیدگی بولنے والوں سے زیادہ ذہنی مشقت کا تقا ضہ کرتی ہے ۔اس زاوئیے سے قرآن کی زبان اور اسلوب کا مطالعہ کرنے پر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس میں شاعرانہ اور مرصع اور کبھی کبھی تمثیلی اور علامتی پیرایہ اظہار کا مقصد بھی اس کے پڑھنے والوں کی ذہنی تربیت کرنا اور انہیں دماغی سطح پر بلندی پر لے جانا ہے تاکہ وہ ایک ترقی یافتہ قوم کی طرح بات کرسکیں اور علمی اور تحقیقی میدان میں آگے جاسکیں۔

قرآن ہی نہیں بلکہ تمام دستیاب الہامی کتب مثلاً ویدوں کی زبان اور اسلوب قرآن سے ہی مشابہ ہے اورا ن میں بھی شاعرانہ اور فلسفیانہ انداز بیان ہے اگرچہ ان میں خیالی یا حقیقی موضوعات پر شاعری نہیں ہے ۔ ہندوؤں کی مذہبی کتاب گیتا میں بھی یہی زبان اور اسلوب ملتاہے ۔بھگوت گیتا کا لفظی معنی روحانی نغمہ ہے ۔اسی لئے سوامی وویکانند نے گیتا کے متعلق لکھاہے :

’’قدیم ویدوں میں ہمیں شاعری کی زیریں لہر ملتی ہے ۔افلاطون کا کہناہے کہ لوگوں کو شاعری کے ذریعہ سے ہی روحانی فیضان حاصل ہوتاہے ۔اور ایسا لگتاہے کہ ان قدیم رشیوں ، ان آشنائے حق کو حق سے آگاہ کرنے کے لئے شاعری کے توسط سے ہی انسانی سطح سے اوپراٹھایاگیا۔انہوں نے وعظ و نصیحت کی ، نہ ہی فلسفہ طرازی کی اور نہ ہی کچھ لکھا،۔موسیقی ان کے باطن سے پھوٹتی تھی۔‘‘ 1

قرآن کی آتیوں میں بھی ایک آہنگ اور حسن ترتیب ہے ۔اس کی آیتیں اکثر موقعوں پر ہم قافیہ الفاظ پر ختم ہوتی ہیں۔لیکن چونکہ قرآن کا مقصد شاعری نہیں ہے اس لئے اس میں بحروں کا التزام نہیں ہے ۔اس کا ایک اعلی اور ارفع مقصد ہے اور اپنے بیغام کو مؤثر طور پر قارئین تک پہنچادینا ہے ۔قرآن کایہ آزاد شاعرانہ اسلوب ہی مغرب کی شاعری میں verse libreکی ایجاد کا سبب بنی اور یہی اسلوب بعد میں اردو شاعری میں نظم معرا اور آزاد نظم کا مؤجب بنی۔سورہ رحمان میں ایک آیت ہر ایک یا دو آیتوں کے بعد دہرائی گئی ہے جس سے سورہ کے حسن اور تاثیر میں اضافہ ہوگیاہے ۔اگرچہ سوامی وویکانند نے کہاہے کہ قدیم رشیوں نے فلسفہ طرازی نہیں کی مگر پھر بھی ویدفلسفیانہ پیرایہء اظہار سے پوری طرح عاری نہیں ہیں۔مثال کے طور پر

تت توم اسی ۔۔۔تو ہی وہ ہے

ایم آتما برہما ۔۔۔ یہ آتما ہی برہما ہے

پرگیانم برہما ۔۔۔۔ علم ہی برہما ہے

اہم برہمن ۔۔۔ میں برہما ہوں

(یجروید)

قرآن بھی فلسفہ کوغیر اسلامی قرار نہیں دیتا۔فلسفہ وجود اور کائنات کی حقیقیت کو پانے کا ایک منطقی طرز فکر ہے ۔فلسفہ محض خیالی موشگافی یاخیالی پلاؤپکانے کے مترادف نہیں ہے ۔ فلسفہ نے بہت سی سائنسی دریافتوں اور ایجادوں کو راہ دی۔مولانا عبدالماجد دریابادی فلسفہ سے متعلق کہتے ہیں :

’’کسی ملک میں فلسفہ کا مذاق اسی وقت پیداہوسکتاہے جب قوم کی عام حسی اور عقلی سطح ایک کافی حد تک بلند ہوچکی ہے ۔‘‘

وہ مزید فرماتے ہیں :

’’فلسفہ چونکہ انسان کو رسم ورواج اور خیالات موروثی کی بندش سے آزاد کرکے اسے بجائے خود اپنے قوائے دماغی سے کام لینا سکھاتاہے اس لئے اجتہاد فکر ی کی یہ روح کسی قوم میں اس وقت تک نہیں پیدا ہوسکتی جب تک وہ قوم اپنے خیالات قدیم معتقدات سابق پر تقلیداً قائم رہنے پر قانع و مطمئن ہے ۔‘‘

چونکہ قرآن اپنے قارئین کو غور و فکر کرنے ، سوچنے اور تحقیق کرنے کی باربار تاکید کرتاہے اور انسانی وجود، کائنات کی پیدائش کے اسرار و رموز کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کرنے کی حوصلہ افزائی کرتاہے ، لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگاکہ قرآن اپنے پڑھنے والوں میں فلسفیانہ منطقی اور سائنسی طرز فکر کو فروغ دیتاہے ۔قرآن متعدد مقامات پر کہتاہے ’’کیا تم نہیں سوچتے ؟ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ کیا تم فکر نہیں کرتے ؟

سورہ رحمن میں قرآن کہتاہے : اس نے (خدا نے ) اس کو (انسان کو ) بیان (علم البیان ) یعنی فن تحریر و تقریر سکھایا۔ علم بیان میں مؤثر اور معنی خیز تقریر اور تحریر کے تمام گر اور لسانی اجزاء استعمال ہوتے ہیں اور اس میں تشبیہ ، استعارہ، علامت ، تمثیل ، مثالیں اور لہجے کے اتار چڑھاؤ سے پیدا ہونے والے تاثر شامل ہیں ۔قرآن ان تمام آلات بیان کا استعمال پراثر اور پر معنی پیرایہ اظہار کے لئے استعمال کرتاہے ۔اس کے ساتھ قرآن ان تمام لسانی اور اسلوبیاتی آلات کا استعمال اتنے توازن اور اعتدال کے ساتھ کرتاہے کہ قاری اس کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ جاتاہے ۔قرآن نے عربی اور دنیا کی بہت سی زبانوں کے اسلوب پر اثر ڈالاہے ۔ اردوپر اس نے سب سے زیادہ اثر ڈالاہے ۔ ذیل میں قرآن میں زبان وبیان کے اعلی نمونے بھرے پڑے ہیں ۔ ذیل میں ان میں سے چند پیش کئے جاتے ہیں۔

۱۔۔سراجاً منیرا (الاحزاب :46) حضور پاک ﷺ کو ایک روشن چراغ سے تشبیہ دی گئی ہے ۔

۲ ۔۔جن کی آنکھ پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے اور نہ وہ سن سکتے تھے ۔ ( الکہف : ۱۰۱)

۳۔۔ پھر چکھایا اس کو اللہ نے مزہ کہ ان کے تن کے کپڑے ہوگئے بھوک اور ڈر ۔‘‘ ( النحل : 112)

۴۔۔مثال ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر پکڑے حمایتی جیسے مکڑی کی مثال بنالیا اس نے ایک گھر اور سب گھروں میں بودا سو مکڑی کا گھر اگر ان کو سمجھ ہوتی ۔‘‘ ( العنکبوت : 41)

۵۔۔ جتنے درخت ہیں زمین میں قلم ہوں اور سمندر اس کی سیاہی اسکے پیچھے ہوں سات سمندر نہ تمام ہوں باتیں اللہ کی ۔‘‘ (لقمن : 27)

مندرجہ بالا مثالیں قرآن کے اسلوب کا ایک نمونہ ہیں ۔ قرآن نے دنیا کی شاعری اور زبان پر گہرا اثر ڈالاہے اور انسان کو طاقتور ، پرمعنی اور گہرا اسلوب بنان عطاکیاہے ۔

حوالے :َ

۱۔۔ سوامی وویکانند کی کلیات ۔۔ ادویت آشرم ، کولکاتا

۲۔۔ مبادی فلسفہ ۔ از عبدالماجد دریابادی

۔۔

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..