سہیل ارشد، نیو ایج اسلام
19ستمبر 2025
پاکستان اور سعودی عربیہ کے درمیان 17 ستمبر کو جو دفاعی معاہدہ ہوا ہے اس نے عالمی سطح پر سیاسی اور فوجی منظرنامے کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے سیاسی و جغرافیائی تانے بانے کو بھی متاثر کرنے کے امکانات پیدا کردئیے ہیں۔ یہ دفاعی معاہدہ ایک طرف تو حالیہ ہندوپاک فوجی تصادم اور دوسری طرف قطر پر اسرائیلی حملے کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔اس معاہدے کی رو سے کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا اور دونوں اس جارحیت کا متحدہ طور پر جواب دینگے۔۔چونکہ پاکستان کی فوجی رقابت صرف ہندوستان سے ہے اس لئے اس معاہدے کو یندوستان کے خلاف پاکستان کی۔محاذ آرائی کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔ لیکن سعودی عربیہ کو ایک بڑی فوجی طاقت کے طور پر نہیں جانا جاتا اور نہ ہی اس نے قطر پر حملے کے بعد اسرائیل کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی جبکہ وہ گلف کوآپریشن کاؤنسل کا ممبر ہے اور اس کاؤنسل کا بھی ایک دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود ہے جس کے تحت کسی بھی ایک ممبر ملک پر حملہ تمام۔ممبر ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔اس نے ممبر ملک قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل۔کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ تو پھر سعودی عربیہ ہندوپاک کے درمیان فوجی تصادم میں کسطرح مداخلت کرے گا۔ سعودی عربیہ کی لڑائی صرف یمن کے حوثیوں سے ہے جس کے ساتھ اس کی جھڑپ چلتی رہتی ہے۔اس طڑح حوثیوں کے ساتھ سعودی عرب کی جنگ میں پاکستان اسلحوں اور جنگی تکنیکوں سے مدد کرسکتا ہے جس کے لئے وہ سعودی عرب سے اچھی خاصی مالی منفعت حاصل کرسکتا ہے لیکن اس کے عوض پاکستان کو حوثیوں سے دشمنی مول لینی پڑے گی اور سمندری تجارت میں حوثیوں سے نقصان بھی اٹھانا پڑسکتا ہے۔۔
دراصل سعودی عرب ۔پاک دفاعی معاہدہ سے پاکستان کو زیادہ فائدہ حاصل ہوگا۔ پاکستان کی دیوالیہ ہوتی معیشت کے لئے یہ معاہدہ ایک نعمت سے کم نہیں۔ اب تک پاکستان سعودی عرب سے قرض مانگتا تھا اور اسے بہت سبکی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔اب وہ اس دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی فوج کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اربوں روپئے کی مدد لے سکتا ہے تاکہ وہ وقت پڑنے پر سعودی عرب کا ساتھ دے سکے۔وہ اپنی نیوکلئر طاقت کو بھی اسلامی دنیا میں شوکیس کرتا ہے اور اب وہ اپنی اس طاقت کو منفعت بخش بنانے کے لئے اسلامی دنیا میں دفاعی مارکیٹنگ کا راستہ بھی اختیار کررہا ہے۔ سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کرنے کے اگلے ہی دن 18 ستمبر کو پاکستان ائیر فورس کے میجر جنرل کھٹک نے نائیجیریا کے ائیر فورس کے ائیر مارشل سے ملاقات کی اور نائیجیریا ائیر فورس کے ساتھ بھی دفاعی معاہدہ کیا ۔ ہندوپاک تصادم کے بعد پاکستان نے ہندوستانی فضائیہ پر اپنی برتری کا جو بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کیا اس کا فائدہ پاکستانی ائیر فورس معاشی طور پر بھی اٹھانے کی کوشش کررہی ہے اور پاکستان اپنی ائیر فورس کو دنیا کی بہترین ائیرفورس کے طور پر پیش کررہا ہے۔نائیجیریا کی فوج کے ساتھ پاکستانی فوج کا دفاعی تعاون اور شراکت جنرل۔پرویز مشرف کے دور میں ہی شروع ہوئی تھی لیکن حالیہ چندبرسوں میں اس دفاعی شراکت میں وسعت آئی ہے ۔ پاکستان نائیجیریا میں دہشت گری کے خاتمے کے لئے بھی نائیجیریا کی انسداد دہشت گردی فورس کی۔مدد کررہا ہے ۔یہ اور بات ہے کہ پاکستان اس دفاعی شراکت کوطول دینے کے لئے خود ہی نائیجیریا میں دہشت گردی کوبڑھاوا دے رہا ہے۔ چند ماہ قبل ہی چار پاکستانی داعش کے دہشت گرد وہاں دہشت گردوں کو اسلحہ اور تربیت دینے کے الزام میں پکڑے گئے۔ چونکہ نائیجیریا ایک غریب ملک ہے اس لئے اس کے ساتھ دفاعی معاہدے سے پاکستان کو کوئی زیادہ معاشی فائدہ نہیں ہورہا تھا اس لئے وہ عرب ممالک سے کسی دفاعی معاہدے کا موقع تلاش کررہا تھا۔قطر پر اسرائیلی حملے نے پاکستان کو وہ زریں موقع فراہم کردیا۔ اس نے سعودی عرب کو اسرائیل اور حوثیوں کا خوف دکھا کر اسے دفاعی معاہدے کے لئے راضی کرلیا۔اس نے نائیجیریا اور سعودی عرب کو نیوکلئیر طاقت بنانے کا سبزباغ بھی دکھایا ہے۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی بھی فوجی تصادم یا جنگ میں سعودی عرب اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا لیکن اس معاہدے کے تحت وہ پاکستانی فوج کو مزیدمضبوط بنانے اور نئے جنگی وسائل اور اسلحے خریدنے کے لئے فنڈ دے سکتا ہے۔ حالیہ تصادم میں ہندوستان کے ذریعے پاکستان کے نورخان بیس پر ہندوستان کے حملوں نے پاکستان کو اپنے نیوکلیر اثاثوں کے تحفظ کے تئیں مزید فکرمند بنادیا ہے اور وہ مستقبل کے ممکنہ حملوں کے لئے خود کو تیار کرنے کے لئے مالی استحکام کے لئے کوشاں ہے۔
ماضی میں پاکستان نے اپنی فوجی طاقت بڑھانے کے لئے اہنے ملک میں دہشت گردی کو فروغ دیا اور اس سے جنگ میں امریکا اور یوروپی ممالک کے ساتھ اشتراک کرنے کے بہانے اربوں روپئے وصول کئے۔ اس فنڈ کا استعمال اس نے اپنی فوج کو ترقی دینے کے لئے کیا۔ اس کی اس پالیسی سے پاکستانی سماج کو تو ناقابل تلافی نقصان ہوا لیکن پاکستانی فوج مالا مال ہوتی رہی اور اپنی طاقت میں اضافہ کرتی رہی۔سیریا ، افغانستان ، عراق اور دیگر ممالک میں سیاسی منظر نامہ تبدیل ہونے کے بعد اب دہشت گردی پاکستان کے لئے منفعت بخش سودا نہیں رہی لہذا ، اس نے اپنی فوجی مہارت اور نیوکلئیر حیثیت کی۔مارکیٹنگ شروع کردی ہے اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اسی پالیسی کی ایک کڑی ہے۔اس معاہدے سے سعودی عرب کو کوئی فائدہ حاصل ہو نہ ہو ، پاکستان کو بڑا فائدہ ضرور ہوگا۔سعودی عرب کے بعد خطے کے دوسرے ممالک بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرسکتے ہیں۔ اس سے خلیج میں پاکستان کے سیاسی اور فوجی رسوخ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ اس معاہدے کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہو ۔وہ پاکستان کو خلیج میں ایران کے خلاف کھڑا کرنا چاہتا ہو تاکہ سنی ممالک کو ایران کے خلاف صف آرا کرسکے۔ مجموعی طور پر سعودری عرب پاکستان دفاعی معاہدہ خلیج اور جنوبی ایشیا کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
---------------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/pakistan-saudi-defence-pact/d/136895
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism