New Age Islam
Wed Oct 27 2021, 01:27 PM

Urdu Section ( 26 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Muslims of India divided between Madrasa and Modern Education System ہندوستان کے مسلمان مدرسے اور جدید تعلیمی نظام کے درمیان بٹے ہوئے ہیں

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

 21 ستمبر 2021

ایک جدید اسلامی تعلیمی نظام میں بنیادی اسلامی مواد اور جدید علوم شامل ہوں گے۔

اہم نکات:

1.      مدارس کے طلباء جدید علوم سے محروم ہیں اور ان کے پاس نوکری پیشہ علوم میں مہارت نہیں ہے

2.      جدید اسکول بنیادی مذہبی تعلیم فراہم نہیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ اثرات کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔

 -----

 دارالعلوم دیوبند ہندوستان کے مسلمانوں کو قرآن، حدیث اور فقہ کے علم سے آراستہ کرنے کے مشن کے ساتھ 1866 میں قائم کیا گیا تھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سائنس سمیت جدید مضامین پر زور دیا اور مذہبی علوم کو یکسر نظر انداز کر دیا۔

سر سید احمد خان نے 1875 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم کی تاکہ مسلمانوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے اور ان میں سائنسی مزاج پیدا کیا جائے۔

دوسری طرف دارالعلوم دیوبند نے قرآن، حدیث اور فقہ کے علم پر زور دیا اور سائنس سمیت جدید مضامین کو یکسر نظر انداز کر دیا۔

اس سے ہندوستان کے مسلمانوں میں دو متوازی نظام تعلیم کی روایت شروع ہوئی۔ ایک تھا مدرسہ نظام تعلیم جبکہ دوسرا تھا جدید اسکول کا نظام تعلیم جہاں سیکولر تعلیم دی جاتی ہے۔

کئی دہائیوں کے دوران تعلیم کے دو نظام مسلم معاشرے میں اس قدر گہرے ہو گئے کہ ملک میں تعلیم کے دو متوازی نظاموں کے جواز پر زیادہ غور نہیں کیا گیا۔

مسلمانوں کی اکثریت اپنے بچوں کو جدید سیکولر اسکولوں میں بھیجتی ہے جہاں وہ سائنس سمیت جدید مضامین کا علم حاصل کرتے ہیں۔ ان اسکولوں کا نصاب مذہبی علوم سے خالی ہے اور اس لیے ان جدید اسکولوں کے طلباء کو اسلام کا بنیادی علم تک نہیں ہے۔ اسلام کا جو بھی علم انہیں ملتا ہے وہ جمعہ کے خطبات سے ملتا ہے یا گھر میں پرائیویٹ اساتذہ سے جو انہیں قرآن پڑھنا سکھاتے ہیں یا مقامی میلاد کی محافل سے جہاں مقررین زیادہ تر فرقہ وارانہ مسائل پر بات کرتے ہیں۔ وہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر کم بولتے ہیں۔

بہت کم والدین اپنے بچوں کو مدرسوں میں بھیجتے ہیں جہاں وہ قرآن، احادیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن انگریزی یا کمپیوٹر یا سائنس کی تعلیم حاصل نہیں کرتے۔ وہ زیادہ تر حافظ، یا قاری یا مفتی بن جاتے ہیں اور صرف مدارس یا مساجد میں مبلغ یا اساتذہ کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ وہ ایسی نوکریاں نہیں کر سکتے جن کے لیے انگریزی یا کمپیوٹر میں مہارت درکار ہو یا انہیں وہ علم نہیں ہوتا جو سرکاری ملازمتوں میں مسابقہ جاتی امتحانات یا حکومت میں انتظامی عہدوں پر فائز ہونے کے لئے ضروری ہے۔

اگرچہ جدید اسکولوں کے فارغ التحصیل اپنی جدید تعلیم کی وجہ سے فائدہ میں ہیں کیونکہ وہ ڈاکٹر، انجینئر، بیوروکریٹ اور پیشہ ور بننے کے قابل ہوتے ہیں اور خوش حال اور باوقار زندگی گزارنے کے قابل ہوتے ہیں لیکن انہیں اپنے مذہب کا علم بہت کم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کا ایک طالب علم جو ہریانہ کے میوات سے تعلق رکھتا ہے اس نے ایک بار مجھ سے پوچھا کہ کربلا کہاں ہے؟ ایک اور نوجوان جو ایک بینک میں کام کرتا ہے اس نے میرے موقف کا رد کیا کہ کربلا عراق میں ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کربلا سعودی عرب میں ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس نے کہا کہ وہ اپنی مقامی مسجد کے امام سے اس کے بارے پوچھے گا۔ امام نے اسے فون پر بتایا کہ وہ کتابوں میں دیکھنے کے بعد اسے بتائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امام کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کربلا عراق میں ہے یا سعودی عرب میں۔ یہ بات جھوٹی لگ سکتی ہے لیکن میں اس کا گواہ ہوں۔

عام مسلمانوں کی دینی تعلیم کا معیار یہ ہے۔ بیشتر مسلمانوں نے کربلا کے بارے میں سنا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ امام حسین اور ان کا خاندان کربلا میں شہید کیے گئے تھے لیکن انہیں اس سانحے کی تاریخ اور جغرافیہ اور خاندان کے افراد کے بارے میں کوئی خاص علم نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید اسکولوں میں اسلامی تاریخ یا دینیات کا کوئی نصاب ہی نہیں ہے۔ صرف مدرسہ بورڈ کے تحت چلنے والے اسکولوں کے نصاب میں اسلامی تاریخ یا دینیات شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر مسلمان فرقہ وارانہ وابستگی رکھتے ہیں اور اس کی وجہ وہ آدھا ادھورا علم ہے جو وہ فرقہ وارانہ تنظیموں کے ممبروں اور مبلغین سے حاصل کرتے ہیں۔ وہ مسلمان جو اسلام کا صحیح مطالعہ کرتے ہیں اور اسلام میں اپنی دلچسپی کی وجہ سے قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں وہ عقائد میں فرقہ وارانہ نظریات کو قبول نہیں کرتے۔ وہ اسلام کو سمجھنے کے لیے ایک متوازن نقطہ نظر رکھتے ہیں۔

ہم ہندوستان کے مہاراشٹر کے کلیان کے ان تین لڑکوں کے بارے میں جانتے ہیں جو 2014 میں داعش کے ساتھ جہاد میں شامل ہونے کے لیے شام فرار ہو گئے تھے۔ یہ مسلمانوں کے اس الجھے ہوئے تعلیمی نظام کی وجہ سے تھا کہ ان کے پاس اسلام کا آدھا ادھورا علم ہے۔ وہ انتہا پسند مبلغین سے رابطے کی وجہ سے انتہا پسند مذہبی نظریات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں تعلیم کے دو متوازی نظام-مدارس اور جدید اسکول --- کی حمایت کی جا سکتی ہے۔ چونکہ غیر مسلم اکثریتی ملک میں حکومت اسکولوں میں مذہبی مضامین پڑھانے کی اجازت نہیں دے گی اسی لئے مسلمانوں کی مذہبی تعلیم کے لیے مدارس کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے مسلم اکثریتی ممالک میں دو متوازی نظام تعلیم کا وجود غیر منطقی ہے، بلکہ اس کے نتائج بھی برعکس ہو سکتے ہیں کیونکہ مدرسہ نظام تعلیم جدید علوم سے خالی ہے اور جدید اسکول بنیادی دینی تعلیم سے خالی ہیں جو کہ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔

مسلم اکثریتی ممالک میں صرف ایک تعلیمی نظام تشکیل دی جانی چاہیے۔ تعلیمی اداروں میں جدید اور مذہبی دونوں مضامین شامل ہونے چاہئیں اور طلباء کو اپنا تعلیمی کورس اور مضامین کا انتخاب اپنی زندگی کے مقاصد کے مطابق کرنا چاہیے۔ ایسے اداروں میں غیر ضروری مذہبی مضامین جو صدیوں سے مدارس کا حصہ چلے آ رہے ہیں چھوڑ دیے جائیں اور طلباء فرقہ وارانہ لٹریچر کے بغیر صرف ضروری دینی تعلیم حاصل کریں۔ اس طرح کا تعلیمی نظام جدید دور کی ضروریات اور روح کے مطابق ہو گا اور ان اداروں سے فارغ التحصیل طلباء مذہب کے متوازن علم اور معاشرے کے تئیں ایک عملی نقطہ نظر کے حامل ہوں گے۔

English Article: Muslims of India divided between Madrasa and Modern Education System

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/muslims-india-madrasa-modern-education/d/125444

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..