New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 10:32 PM

Urdu Section ( 5 Jan 2018, NewAgeIslam.Com)

Meaning of the word 'Amr' in Urdu translations of the Quran قرآن کے اردو تراجم میں لفظ’ امر‘ کا مفہوم

 

 

 

سہیل ارشد ، نیو ایج اسلام

قرآن عربی زبان میں اترا جو چھٹی صدی عیسوی تک ایک بہت ہی ترقی یافتہ زبان بن چکی تھی۔ اس زبان میں شاعری کا فن بھی بہت ترقی یافتہ تھا اور عربی نثر بھی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے دنیا کی سب سے متمول اور ترقی یافتہ زبان تھی۔ اس وقت انگریزی زبان بھی اپنے عہد طفولیت میں تھی۔ عربی زبان میں علم بیان بھی اپنے عروج پر تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کو اللہ نے عربی میں اتارا ۔ قرآن کے اسلوب نے عربی زبان کومزید ترقی دی اور اسے مؤثر، زیادہ ٖفصیح و بلیغ اور زیادہ وقیع بنادیا۔ اور قرآن کا اسلوب عربی زبان میں مقبول اسلوب قرارپایا۔ قرآن کا اسلوب اس زمانے کی عربی زبان کے ترقی یافتہ اسلوب سے بھی بہتر اور فصیح اسلوب تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ عرب کے لوگ قرآن سن کر اس کے اسلوب اورپیغام سے متاثر ہوجاتے تھے اور مکہ کے مشرکین کہتے تھے کہ اس میں سحر یا جادو ہے ۔ قرآن کی اسی تاثیر اور مقبولیت کے متعلق مولانا اسلم جیراجپوری لکھتے ہیں :

’’گو عربی زبان پہلے ہی سے فصاحت و بلاغت و قوت و شوکت میں بلند مرتبہ رکھتی تھی لیکن قرآن نے اس کو اس سے بھی بلند ترین رتبہ پر پہنچا دیا ۔ ادیبوں کی عبارتوں اور خطیبوں کے خطبوں کے لئے اس کی آیتیں زیور ہوگئیں جن سے وہ اپنے کلام کو آراستہ کرتے تھے اور وہی کلام اہل علم کے نزدیک زیادہ بلند و پسندیدہ ہوتاتھا جس میں قرآن کی آیتیں زیادہ استعمال ہوتی کی جاتی تھیں۔ ائمہ ء فن نے فصاحت و بلاغت کے تمام تر اصول قرآن سے ہی اخذ کرکے علم معانی و بیان کو مدون کیا۔‘‘ 1

لہذا ، عربی جیسی ترقی یافتہ زبان کے مقابلے میں اردو اٹھارہوں صدی عیسوی میں بھی عہد طفولیت میں تھی۔ اس کا گرامر بھی اٹھارہویں صدی کے اواخر میں ایک انگریز جان گل کریسٹ نے مرتب کیا اور اردو زبان کو منظم کیا اور وہ اس قابل ہوئی کہ وہ 1832 میں برطانوی ہندوستان کی سرکاری زبان بن سکے ۔اس میں الفاظ کا ذخیرہ کافی کم تھا ایسی صورت میں جن علما ء نے قرآن کا ترجمہ اردو میں کیا ان کے سامنے ترسیل و ابلاغ کے مسائل تھے ۔ عربی کے وسیع المعنی الفاظ کا اردو میں مناسب متبال موجود نہیں تھا ۔ کہا جاتاہے کہ عربی میں ایک ایک لفظ کے بیس بیس متبادل ہوتے ہیں اور کبھی کبھی کچھ الفاظ متضاد معنوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے لفظ حرام اور جلوس ۔عربی میں گھوڑے کی چال کے مختلف مراحل کے لئے تقریباً سولہ الفاظ ہیں جبکہ اردو میں صرف دلکی اور سرپٹ جیسے الفاظ ہی ہیں۔

قرآن کے اردو ترجمے میں سب سے بڑا اور اہم مسئلہ یہ تھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے کسی انسان کا کلام نہیں ہے ۔ لہذا، انسان کے لئے یہ مشکل تھا کہ وہ اللہ کے ’’مافی الضمیر‘‘ کو پالے اور وہی مفہوم ظاہر کردے جو اللہ کو مقصود ہے ۔ قرآن کے ترجمے میں درپیش اسی مسئلے کے متعلق ایک انگریز مصنف فلپ لکھتاہے :

’’اسلو ب قرآن اسلو ب الہی ہے ۔یہی اس کا سب سے بڑا معجزہ ہے ۔ا س کی تجوید میں بڑی تاثیر ہے ۔ اس کا فنی جوہر اور جذبات کے تاروں کو ٹٹولنے والا پیغام ترجمے کی صورت میں اپنا کمال کھودیتاہے ۔‘‘2

تیسرا مسئلہ یہ تھا کہ اٹھارہویں صدی میٰں جب ہندوستان میں قرآن کے تراجم کا سلسلہ شروع ہوا اس وقت اردو ترجمے کے اصول اور فن پر کتابیں دستیاب نہیں تھیں ۔ لہذا، مترجمین نے اپنے صواب دید پر قرآن کے ترجمے کئے۔ قرآن کے کئی بنیادی الفاظ کا وہ مناسب ترجمہ نہیں کرپائے اور اس کا سطحی اور لفظی ترجمہ کیا۔ اس لفظ کے تمام عواقب و عواطف اور اس کے امکانی مفہوم پر توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے وہ با محاورہ ترجمہ نہیں کرپائے اور ترجمے کا حق ادا نہیں کرسکے۔انہوں نے اپنی فہم کو قارئین پر تھوپنے کی کوشش کی او اس کے لئے انہوں نے ترجمے کے درمیان قوسین میں اپنے مفاہیم بھی ڈال دئیے اور قارئین کے ذہن کو ایک خاص سمت موڑنے کی کوشش کی یا اس لفظ کے معنی کومحدود کردیا۔ابتدائی مترجمین نے جو ترجمہ کیا وہ بعد کے مترجمین کے لئے قابل تقلید ٹھہرا ور انہوں نے سابقہ ترجموں کی خامیوں کی اصلا ح کی کوشش نہیں کی۔اس طرح کے ترجموں نے قرن کی آیتوں کے متناقص ترجموں کو اتنا مقبول بنادیا کہ اس سے مسلمانو ں کے عقائد بھی متاثر ہوئے اور ان میں دین کے معاملات میں انتہا پسندی راہ پاگئی ۔ان الفاظ میں ایک لفظ ’امر‘ ہے جس کے غیر محتاط اور لفظی ترجمے سے قارئین قرآن کے ذہن میں اس کا صحیح مفہوم واضح نہیں ہوسکا۔

عربی میں لفظ امر اسم اور فعل دونوں حیثیتوں سے مستعمل ہے ۔ دونوں حیثیتوں سے مترجمین نے اس کا معنی حکم اور حکم کرنا یا دینا مراد لیاہے ۔قرآن میں امر دونوں حیثیتوں سے استعمال ہواہے۔قرآن میں امر بحیثیت اسم کی چند مثالیں پیش ہیں۔

یدبر الامر (السجدہ : ۵) ’وہ (اللہ ) کام کی تدبیر کرتاہے ‘‘

وظہرامراللہ ( التوبتہ (48) اور غالب ہوا حکم اللہ کا

حتی یاتی اللہ بامرہ (التوبتہ : 24) یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم

و یکن لیقضی اللہ امرا کان مفعولا (42) لیکن اللہ کو منظور تھا کہ جو کام ہوکر رہنے ولا تھا اسے کرہی ڈالے ۔

اعجلتم امر ربکم (الاعراف : 150) کیوں جلد ی کی تم نے اپنے رب کے حکم میں ۔

یہ چند آیتیں پیش کی گئی ہیں جن میں امر کے معنی اللہ کی مرضی ، اس کی ہدایت اور اس کا فیصلہ اور شرعی احکام مراد لئے گئے ہیں۔ چونکہ ان آیتوں میں اللہ کی مرضی اور حکم لیاگیاہے اور مفہوم میں پیچیدگی اور ابہام نہیں پیدا ہوتا ۔ مگر امر بحیثیت فعل قرآن میں کئی مقامات پر آیا ہے ان میں بھی اس لف ظ کو حکم کرنا کے معنی میں لیاگیاہے جس سے ابہام اور ترسیل کا مسئلہ پیداہوتاہے ۔ یہی نہیں بلکہ غلط مفہوم بھی پیدا ہوتاہے ۔ پیش ہیں چند آیتیں اور ان کے ترجم

الامرون بالمعروف و النا ھون بالمنکر (التوبتہ: 112) حکم کرنے والا نیک بات کا اور منع کرنے والا بری بات سے ۔

تامرون بالمعروف و تنہون عن المنکر (آل عمران : 110) حکم کرتے ہو بھلے کاموں کا اور منع کرتے ہو برے کاموں سے

و امروا بالمعروف و نھو ا عن المنکر (الحج : 41) اور حکم کریں بھلے کام کا اور منع کریں برائی سے

والمومنون والمومنت بعضھم اولیاء بعض م یا مرون بامعروف و ینھون عن المنکر ( التوبتہ : 71) اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں حکم کرتے ہیں نیک کام کا اورمنع کرتے ہیں برے کام سے ۔

اتامرون الناس بالبر و و تنسون انفسکم (البقرہ : ۴۴) کیاتم حکم کرتے ہو لوگوں کو نیک کام کا اور بھولتے ہو اپنے کو ۔

و کان یامراہلہ بالصلوۃو الزکوۃ (مریم : ۵۵) اور و (اسمعیل )حکم کرتاتھا اپنے گھر والوں کو نماز کا اور زکوۃ کا ۔

مندرجہ بالا تمام آیتوں میں مترجمین نے لفظ امر کے معنی حکم کرنا یا دینا لکھا ہے جبکہ ان ہر جگہ حکم کا مفہوم نہیں ہے ۔ جب مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی یعنی دوست ہیں تو وہ ایک دوسرے پر جبر یا حکم کیسے کرسکتے ہیں ۔ ایک دوسرے دوست کوبھلائی کا مشورہ دیتاہے اور اسے صحیح راہ پر چلنے کی ترغیب دیتاہے ۔ حضرت اسمعیل سے متعلق آیت میں یہ کہا جاسکتاہے کہ وہاں وہ اپنے گھر والوں کو حکم دیتے تھے کیونکہ وہ پیغمبر تھے ۔ان ترجموں سے مسلمانوں میں عقیدہ پھیل گیا کہ دین کے معاملے میں تشدد کرنا اور جبر کرنا کار ثواب ہے اور عین قرآن کے مطابق ہے ۔ لہذا، دین میں صبر اور حکمت عملی سے کام لے کر اشاعت دین کاکام کرنے کے بجائے جنگجو تنظیمیں بناکر اسلام کو پھیلانے کا رجحان پیداہوا۔ اس سے ان میں کٹر پسندی اور انتہا پسندی کو فروغ ہوا۔اسی بنیاد پر قرآن کی کے پیغام امربالمعروف و نہی عن المنکر کو انتہا پسندانہ نقطہ ء نظر سے پیش کرنے کے روئیے کو تقویت ملی اور انتہا پسند تنظیموں نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کوبنیا دبناکر دین کے نام پر تشدد اور قتل و غارتگری کو عین اسلام قراردیا۔ذیل میٰں کچھ آیتیں پیش کی جاتی ہیں جن میں امر بمعنی حکم دینا کے تصور کی نفی ہوتی ہے ۔

خذالعفو و امر بالعرف و اعرض عن الجاہلین (الاعراف ۔ 199) عادت کر درگذر کی اور حکم کر نیک کام کرنے کا اور کنارہ کر جاہلوں سے ۔

اس آیت میں وامر بالعر ف کے ساتھ درگذر کی عادت اختیار کرنے اور جاہلوں سے کنارہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ لہذا، یہاں وامر بالعرف کا معنی حکم دینا نہیں ہوسکتا بلکہ نیک کام کا مشورہ دینا اور ترغیب دینا کے معنی میں استعمال ہواہے ۔ یعنی لوگوں کو نیک کام کی طرف بلاؤ لیکن اگر وہ ڈھٹائی سے برائی پر ڈٹے رہیں تو درگذر کرو اور کنارہ کرو۔ ان پر تشدد کی راہ نہ اختیار کرو۔

المنفقون والمنفقت بعضھم من بعض و یامرون بامنکر و ینھون عن المنکر و یقبضون ایدیھیم (التوبتہ : 67)

منافق مرد اور منافق عورتیں سب کی ایک چال ہے ۔ سکھائیں حکم کریں بری بات کا اور منع کریں اچھی بات سے

الشیطن یعد کم الفقر و یامرکم بالفحشاء (البقرہ : 268)

شئطابن وعدہ دیتاہے تم کو تنگ دستی کا اور حکم کرتاہے بے حیائی کا

اس آیت میں بھی امر کا ترجمہ حکم کرنا غلط اور غیر منطقی مفہوم پیداکرتاہے ۔ شیطان کسی کا م کا انسان کو حکم نہیں کرتا بلکہ لالچ دیتاہے ، ترغیب دیتاہے یا برائی پر اکساتاہے۔قرآن ہی کہتاہے ’’اور اگر ابھارے تجھ کو شیطان کی چھیڑ تو پناہ مانگ اللہ سے (الاعراف : 300) یعنی شیطان گناہ پر اکساتاہے ۔ وہ حکم نہیں دیتا۔

ایک اور آیت اسی مفہوم کی ہے ۔

انما یامرکم بالسو ء والفحشاء (وہ تو حکم کرے گا تم کو برے کام اور بے حیائی کا۔

ظاہر ہے یہاں ترغیب دینا اور اکسانے کا محل ہے ۔ حکم کرنے کانہیں ۔

لہذا، اس مطالعے سے قرآن میں لفظ امر کے لفظی ترجمے سے پیداہونے والی غلط فہمی کو پیش کیاگیا ۔ اس کے لفظی ترجمے سے دین کے ایک بنیاد ی حکم میں شدت پسندی آگئی اور انتہاپسندی کو راہ ملی ۔ انتہا پسند تنظیموں اور گروہوں نے اس معنی کی بنیاد پر اسلام میں انتہا پسندی ، دہشت گردی اور قتل وغارتگری اور غیر مسلموں پر جبر کو جائز ٹھہرایا اور اسلام کی ایک غلط شبیہ پیش کی جس کے دور رس نتائج منفی برآمد ہورہے ہیں ۔



References:

1. Tarikhul Quran by Maulana Aslam Jairajpuri

2 .Islam ; A way of life by Phillip

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/s-arshad,-new-age-islam/meaning-of-the-word--amr--in-urdu-translations-of-the-quran--قرآن-کے-اردو-تراجم-میں-لفظ’-امر‘-کا-مفہوم/d/113838

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism


Loading..

Loading..