سہیل ارشد ، نیو ایج اسلام
16 دسمبر،2022
قرآن میں شرک سے انسانوں کو
خبردار کیا گیا ہے۔۔ شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔۔ تمام انبیاء اور رسولوں
نے توحید کی تعلیم دی اور شرک سے منع کیا۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا شرک ہے۔ اللہ
کے سوا کسی دوسری قوت پر ایمان رکھنا اور اس کی عبادت کرنا اور اس سے بھلے برے کی امید
رکھنا شرک ہے۔
قدیم زمانے میں لوگ مختلف
قدرتی طاقتوں کی پوجا یا عبادت کرتے تھے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں انسانوں نے مختلف
قوتوں کو خدا سمجھ کر پوجا یا عبادت کی۔ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں لوگ پانچ
بتوں یعوق، نصر، سواع، ود اور یغوث کی عبادت کرتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے ان
کی عبادت سے اپنی قوم کو منع فرمایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم بتوں اور تماثیل
کی عبادت کرتی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو بتوں اور تمثالوں کو پوجنے سے
منع فرمایا۔ فرعون کی قوم فرعون کو خدا سمجھتی تھی اور اسے پوجتی تھی۔ سبا کی قوم سورج
کی پرستش کرتی تھی۔ عرب کے بدو ماقبل اسلام دور میں قدرتی طاقتوں کی پوجا کرتے تھے۔
انسان اپنے جہل کی وجہ سے قدرتی طاقتوں، جنوں اور بتوں کو خدا سمجھ کر پوجتے تھے۔ انبیاء
کرام نے انہیں شرک سے بچنے اور ایک خدا کی عبادت کی تلقین کی۔ ماقبل اسلام دور میں
عرب کے لوگ بتوں ، جنوں اور قدرتی طاقتوں کی پوجا کرتے تھے۔ اس لئے قرآن میں اہل عرب
کو واضح طور پر ان سب چیزوں کی عبادت سے روکا گیا ہے۔ بلکہ کچھ لوگ شیطان کی بھی پوجا
کرتے تھے۔ اس سے بھی قرآن میں منع کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ قرآن میں
ایک لفظ کا استعمال پانچ آیتوں میں کیا گیا ہے۔ انسان کو خدا کے مقابل انداد کھڑا کرنے
سے منع کیا گیا ہے۔ انداد لفظ ند کی جمع ہے جس کا معنی ہمسر، ہم پلہ ، مشابہ ہے۔ قرآن
کی پانچ آیتوں میں خدا کے مقابل انداد کھڑا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
۔"سو نہ ٹھہراؤ کسی کو اللہ کے انداد جان بوجھ کر۔"۔(البقرہ
:22)۔۔
۔"اور بعضے لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے برابر انداد ، ان
کی محبت ایسی رکھتے ہیں جیسے اللہ کی۔"۔(البقرہ : 165)۔۔
۔"اور کہنے لگے وہ لوگ جو کمزور سمجھے گئے تھے بڑائی کرنے والوں
کو کہ کوئی نہیں بلکہ فریب سے رات دن کے جب تم ہم کو حکم کیا کرتے کہ ہم۔نہ مانیں اللہ
کو اور ٹھہرائیں اس کے ساتھ انداد۔۔"( سبا : 33)۔۔
۔" اور جب آ لگے انسان کو سختی پکارے اپنے رب کو رجوع ہو کر اسی
کی طرف پھر جب بخشے اس کو نعمت اپنی طرف سے بھول جائے اس کو کہ جس کے لئے پکارا تھا
پیلے سے اور ٹھہرائے انداد اوروں کو تا کہ بہکائے اس کی راہ سے۔۔ "( الزمر:8)۔۔
۔۔"تو کہہ کیا تم منکر ہو اس سے جس نے بنائی زمین دودن میں اور
انداد ٹھہراتے ہو اس کے ساتھ اوروں کو۔۔"( حم السجدہ : 9)۔۔
ان تمام آیتوں میں انسانوں
کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ وہ اللہ کے مقابل کسی کو نہ ٹھہرائیں ، نہ نتوں کو، نہ جنوں
کو ، نہ شیطان کو، نہ سورج کو اور نہ قدرتی طاقتوں کو اس لئے قرآن نے مجموعی طور پر
تمام باطل قوتوں کو انداد کہہ دیا تا کہ فرداً فرداً تمام باطل قوتوں کا نام نہ لینا
پڑے۔ آنے والے دور میں لوگ شرک کا کوئی اور طریقہ نکال سکتے ہیں جس کے تحت ان سب سے
الگ کسی قوت پر انسان ایمان لے آئے۔ دجال جو انسان ہوگا مگر خدائی کا دعوی کرے گا اور
بہت سارے لوگ اس کو ند بنا لینگے۔ یا پھر شرک کا,کوئی اور طریقہ نکال لیں گے. لہذا،
قرآن نے انداد کے لفظ کے ذریعہ تمام باطل قوتوں کی عبادت سے جو پچھلے دور میں تھیں
اور آئندہ دور میں سائنسی طاقت کے بل پر پیدا ہوں گی روک دیا ہے۔
-------------
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism