New Age Islam
Tue Jul 28 2026, 02:18 PM

Urdu Section ( 27 Jan 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islamic Countries and Muslim Children اسلامی ممالک میں مہاجر بچوں کی تعلیم کا مسئلہ

سہیل ارشد ، نیو ایج اسلام

27 جنوری 2023

پوری دنیا میں مہاجرین کا مسئلہ ایک بہت ہی سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ خانہ جنگی ، جنگوں اور نسل کشی کے نتیجے میں دنیا کے کئی ممالک کے عوام ہجرت کرنے اور دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں اور مہاجرین اور پناہ گزینوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق فی الحال دنیا میں مہاجرین کی کل تعداد تقریباً چار کروڑ ہےاور مہاجرین کی کل تعداد کا 70 فی صد حصہ شام، وہنیزویلا، یوکرین، افغانستان اور جنوبی سوڑان کے مہاجرین ۔پر مشتمل ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے اب یوکرین سے بھی تقریباً 55 لاکھ لوگ ہجرت کرکے پڑوسی ممالک میں پناہ گزیں ہوئے ہیں۔

ان مہاجرین میں ایک بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ کسی بھی بحران میں سب سے زیادہ نقصان اور تکلیفیں اٹھانے والاطبقہ بچوں کا ہی ہوتا ہے۔ ان کی تعلیم ، صحت اور تغذیہ کا مسئلہ بہت اہم ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں اسلامی ممالک کے مہاجرین بچوں کی تعلیم کا مسئلہ بہت سنگین ہے مگر المیہ یہ ہے کی اس مسئلے کی طرف عالمی برادری خصوصا اسلامی برادری نے بہت کم توجہ دی ہے۔

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے نتیجے میں وہاں کے مسلمان بنگلہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ فی الحال بنگلہ دیش کے رفیوجی کیمپوں میں 11 لاکھ روہنگیا مسلمان پناہ گزیں ہیں۔ ان میں سے تقریباً پانچ لاکھ 18 برس سے کم عمر کے بچے ہیں۔ ان کی تعلیم ایک اہم مسئلہ ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت کی اجازت سے فلاحی تنظیموں اور روہنگیا,رضاکاروں کے زیرانتظام تعلیمی مراکز رفیوجی کیمپوں میں چل رہے تھے۔ 3200 تعلیم مراکز میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ بچے تعلیم حاصل کررہے تھے۔ ان مراکز میں سے 2800 مراکز کی کفالت یونیسیف کررہی تھی۔ ان تعلیمی مراکز میں میانمار کے تعلیمی نصاب کے مطابق تعلیم دی جاتی تھی تاکہ جب بچے واپس میانمار جائیں تو وہاں کے اسکولی نظام میں شامل ہوجائیں اور ان کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔ رفیوجی کیمپوں میں رونگیا بچوں کے لئے تعلیمی مراکز اور مدرسے قائم کرنے کی ضرورت رونگیا لیڈروں اور رضاکاروں کو اس لئے پڑی کہ بنگلہ دیش حکومت نے روہنگیا بچوں کے بنگلہ دیش کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ نیز ان پر بنگلہ زبان سیکھنے پر بھی پابندی لگادی ہے۔ بنگلہ دیش نے رونگیا مسلمانوں پر یہ پابندی اس لئے لگائی ہے کہ اسے ڈر ہے کہ بنگلہ سیکھ کر اور بنگلہ دیش کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرکے روہنگیا بچے بنگلہ دیش کے معاشرے میں ضم ہو جائیں گے اور میانمار واپس نہیں جائیں گے ۔

لیکن اچانک مارچ 2022 میں بنگلہ دیش کی حکومت نے رفیوجی کیمپوں میں چل رہے تعلیمی مراکز اور مدرسوں کو بند کرنے کا فیصلہ لیا۔ اور ایک ایک کرکے تمام روہنگیا تعلیمی مراکز اور مدرسوں کو بند کردیا۔ اس میں سب سے بڑا تعلیمی مرکز وہ تھا جسے مقبول روہنگیا لیڈر محب اللہ نے قائم کیا تھا۔ انہیں گزشتہ سال قتل کردیا گیا تھا۔

روہنگیا تعلیمی مراکز کو بند کرنے کے لئے بنگلہ دیش حکومت نے کوئی معقول وجہ نہیں بتائی۔ صرف اتنا کہا کہ یہ تعلیمی مراکز بغیر تحریری اجازت کے چل رہے تھے اس لئے غیرقانونی تھے۔ دوئم کچھ مراکز میں بنگلہ پڑھایا جارہاتھا۔

تعلیمی مراکز کے بند ہونے سے رونگیا بچوں کا مستقبل مزید تاریک ہوگیا ہے۔ یہ بچے رفیوجی کیمپوں میں اس لئے تعلیم جاری رکھے ہوئے تھے کہ وہ اپنے وطن واپس جاکر اپنا تعلیمی سلسہ آگے بڑھائیں گے اور ڈاکٹر، انجینئر بن کر قوم کی خدمت کریں گے ۔ تعلیمی مراکز کے بند ہونے سے ان کے خواب چکناچور ہو چکے ہیں۔

بنگلہ دیش حکومت نے صرف بین الاقوامی فلاحی تنظیموں کو اجازت دی ہے کہ وہ روہنگیا بچوں کو صرف غیر رسمی یعنی نان فارمل اور ان ایکریڈیٹیڈ یعنی غیر سند یافتہ تعلیم دے سکتے ہیں اور وہ بھی صرف 14 سال تک کے بچوں کو اس کا مطلب یہ ہوا کہ روہنگیا بچے صرف نرسری تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور وہ بھی اس تعلیم کی کوئی سند ان کے پاس نہ ہو۔ یہ تعلیم حاصل کرکے روہنگیا بچے صرف لکھنا پڑھنا,سیکھ لیں گے لیکن ان کے پاس اس کی بھی سند نہیں ہوگی۔

روہنگیا بچوں پر یہ پابندیاں اور وہ بھی ایک اسلامی ملک کی طرف سے ناقابل فہم ہیں اور کسی سازش کا اشاریہ ہیں۔بنگلہ دیش حکومت روہنگیا بچوں کو ناخواندہ کیوں رکھنا چاہتی ہے اس کا کوئی منطقی جواب اس کے پاس نہیں ہے۔

لبنان میں پناہ گزیں شامی مہاجرین کے بچوں کے ساتھ بھی لبنان کی حکومت کا رویہ مخاصمانہ اور نسلی تعصب پر مبنی ہے۔2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد لاکھوں شامی افراد ہجرت کرکے لبنان میں پناہ گزیں ہوئے۔فی الحال تقریباً 8 لاکھ شامی مہاجرین لبنان میں پناہ گزیں ہیں جن میں چھ لاکھ سے زیادہ بچے ہیں۔ مہاجر بچوں کے لئے لبنان کی حکومت نے مخصوص سرکاری اسکولوں میں سہ پہر کی کلاسز کا انتظام کیا ہے۔ لیکن ان اسکولوں میں داخلے کیلئے شرائط اتنے سخت ہیں کہ بہت سے بچوں کا داخلہ ہی نہیں ہوپاتا۔ داخلے کے لیے لبنانی رہائشی دستاویز ،شامی حکومت کا جاری کردہ برتھ سرٹیفیکیٹ اور دیگر دستاویز کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ جبکہ 16 فی صد سے کم بچوں کے پاس ہی لبنانی رہائشی دستاویز ہیں۔ رہائشی دستاویز کے حصول کے لئے سالانہ 200 ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں جو زیادہ تر شامی مہاجرین کے لئے ناممکن ہے کیونکہ شامی مہاجرین کی 90 فی صد آبادی خط افلاس کے نیچے زندگی بسر کرتی ہے۔70 فی صد سے زیادہ شامی بچوں کے پاس برتھ سرٹیفیکیٹ نہیں ہے۔

اس کے علاوہ بھی کچھ ایسے قوانین ہیں جن کی وجہ سے مہاجر بچوں کا شامی اسکولوں میں داخلہ مشکل ہوتا ہے۔

اسکولوں کے اساتذہ اور پرنسپل کا رویہ بھی شامی بچوں کے ساتھ ہتک آمیز اور جارحانہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے کچھ بچے داخلہ ہونے کے باوجود خود ہی اسکول چھوڑ دیتے ہیں اور بین الاقوامی اداروں کے زیر انتظام چلنے والے تعلیمی مراکز میں داخلہ لے لیتے ہیں۔ ان اداروں میں ایک ادارہ نارویجین رفیوجی کاؤنسل ہے۔ اس ادارے کے زیر انتظام چلنے والے مراکز میں 40 ہزار شامی بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ یہاں بچوں کے ساتھ مشفقانہ سلوک کیا جاتا ہے جبکہ یہ ادارے مسلمانوں کے ذریعہ نہیں عیسائیوں کے ذریعہ چلائے جاتے ہیں۔

لبنان کے اسکولوں میں 2019 کے بعدسے تعلیمی سلسلہ منقطع تھا کیونکہ وہاں بدعنوانی کے خلاف احتجاج چل رہے تھے۔ اور کورونا کا لاک ڈاؤن بھی اس کی وجہ تھا۔ اسکولوں کے کھلنے کے بعد سے اساتذہ تنخواہ میں اضافے کے مطالبے پر ہڑتال پر ہیں۔ اس لئے لبنان کے بچوں کے لئے چلنے والےمارننگ اسکول بند کردئے گئے۔ شامی بچوں کے کلاس سہ پہر کو چلتے تھے اور ان میں پڑھانے والے اساتذہ کو تنخواہیں بین الاقوامی ڈونر یعنی عطیہ دہندگان کے عطیوں سے دی جاتی تھیں۔ لیکن حکومت لبنان نے شامی بچوں کے کلاسبز بھی یہ کہہ کر معطل کردئے کہ جب لبنانی بچے تعلیم حاصل نہیں کریں گے تو صرف شامی بچے کیسے تعلیم جاری رکھینگے۔یہ تو لبنانی بچوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

لبنان میں دو تین برسوں سے معاشی بحران اور سیاسی اتھل پتھل ہے۔ مقامی کرنسی کی قدر بہت کم ہوگئی ہے اور عوام مہنگائی اور غذائی قلت سے بے حال ہیں۔جرائم۔میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔اس لئے لبنان کے عوام شامی مہاجرین کو ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور ان کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہءں۔ اکثر شامی مہاجرین کے ساتھ لبنان کے لوگ تشدد بھی کرتے ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے بھی بہت سے بچے تعلیم چھوڑ کر والدین کے ساتھ محنت مزدوری کرتے ہیں۔ان میں لڑکیاں بھی ہوتی ہیں۔

روہنگیا مہاجرین نے ملا ئشیا میں بھی پناہ لی ہے۔ اس وقت ملائشیا میں ایک لاکھ سے زیادہ روہنگیا مہاجرین پناہ گزیں ہیں جن میں 40-45 ہزار بچے ہیں۔ملائشیا میں روہنگیا مہاجرین کو غیر قانونی درانداز مانا جاتا ہے اس لئے انہیں قانونی سہولیات حاصل نہیں ہیں۔ ان کے سر پر ہر وقت گرفتاری، ڈیپورٹیشن اور قید میں ڈالے جانے کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے ایسے ملک میں روہنگیا بچوں کی تعلیم کا قانونی نظم نہیں ہے۔روہنگیا رضاکار پناہ گزیں کیمپوں میں تعلیمی مراکز چلاتے ہیں ۔ ان مراکز کو قانونی منظوری نہیں ہے۔ انہیں انڈرگراؤنڈ اسکول کہا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر اسلامی ممالک میں مسلم۔مہاجرین کے بچوں کے لئے تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے اور اس کی وجہ اسلامی ممالک کا مہاجر بچوں کے ساتھ مخاصمانہ اور غیر ہمدردانہ رویہ ہے۔ مقامی مسلمانوں کا نسلی تعصب بھی اس مسئلے کی سنگینی میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ مہاجر مسلمانوں کو اپنے اوپر ایک بوجھ تصور کرتے ہیں ۔ اسلام نے نسل اور رنگ کا امتیاز دور کردیا تھا اور ان اقدامات کی حوصلہ افزائی کی تھی جن سے مسلمانوں میں رنگ اور نسل کا امتیاز ختم ہو لیکن آج اسلامی ملکوں میں لٹے پٹے ملک سے نکالے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ خود مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں کا سلوک اسلامی تعلیمات اور اصول کے منافی ہے اور اسلامی برادری میں مسلم بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے پر ان اسلامی ممالک کی حکومتوں سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں۔

------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/islamic-countries-muslim-children/d/128968

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..