New Age Islam
Thu Apr 30 2026, 01:32 PM

Urdu Section ( 29 Apr 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Indo-Pak War on Social Media More Dangerous سوشل میڈیا پر یندوپاک جنگ زیادہ خطرناک

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

29 اپریل 2025

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے اور سرحدوں پر جھڑپوں کی بھی خبر ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ جنگ کا اندیشہ بھی جتایا جارہاہے۔ اس کشیدگی کے بیچ دونوں ممالک کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر دونوں ممالک کے صحافی اور بلاگر غیر ذمہ دارانہ بیانات دے کر دونوں ممالک کے عوام کے درمیان نفرت کو ہوا دے رہے ہیں اور بعض لوگ تو جنگ کے لئے اہنی اہنی حکومتوں کو اکسا بھی رہے ہیں اور یہ جتا رہے ہیں کہ جنگ سے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ وہ جنگ کے ذریعے ایک دوسرے کے ملک کو صفحہء ہستی سے مٹادینے کی خواہش کا اظہار بھی کررہے ہیں ۔ ایسے لوگ موجودہ دور میں جنگ کی کریہہ صورت اور اس کی وسیع تباہ کاریوں کو دوسرے ممالک میں دیکھتے ہوئے بھی نفرت اور تنگ ذہنی کی وجہ سے انجان بنے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہندوپاک کے درمیان اگر جنگ ہوگئی تو وہ ان جنگوں سے مختلف ہوگی اور وہ اہنے ڈرائنگ میں صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی پر کرکٹ میچ کی طرح جنگ کا حال دیکھیں گے۔ وہ جنگ ان کی زندگیوں پر کسی طرح کا اثر نہیں ڈالے گی۔

دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا ماحول تیار کرنے میں مصروف یہ پرجوش اینکر اور یوٹیوب بلاگر اس بات سے واقف ہیں کہ روس اور یوکرین کے درمیان گزشتہ تین برسوں سے جنگ جاری یے اور دونوں ممالک کی فوجی طاقت ، معیشت اور شہریوں کی زندگیاں تباہ ہوگئی ہیں اور شہر کے شہر کھنڈر بن گئے ہیں۔ان دونوں میں کس کا نقصان کم ہوا اور کس کا زیادہ یہ سوال اہم نہیں ہے۔ دونوں ممالک میں جنگ اب بھی جاری ہے اور جانی و مالی نقصان کا تخمینہ ابھی حتمی طور پر نہیں لگایا جاسکتا۔

دوسری طرف اسرائیل اور حماس کے درمیان بھی ڈیڑھ برسوں سے جنگ جارہی ہے اور اس جنگ میں پچاس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور پورا غزہ کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اسرائیل کے بھی درجنوں شہر کھنڈر بن چکے ہیں اور اس کی معیشت بھی تباہ ہوچکی ہے اور اب اسرائیل۔کے عوام بھی جنگ کا اختتام چاہتے ہیں کیونکہ انہیں بھی اس حقیقت کا ادراک عملی طور پر ہوچکا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ نئے مسئلوں کو جنم دیتی ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ اتنی طویل ہوگی کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کیونکہ اسرائیل فوج دنیا کی ایک طاقتور فوج سمجھی جاتی ہے جبکہ حماس ایک کمزور جنگجو تنظیم ہے پھر بھی دونوں کے درمیان جنگ ڈیڑھ برس کے بعد بھی کسی منطقی انجام کو نہیں پہنچ سکی۔ لہذا ، روس یوکرین جنگ اور اسرائیل حماس جنگ باہمی تنازعات میں جدید دور میں جنگوں کے جواز پر سوال اٹھاتے ہیں۔ دنیا کے ہیچیدہ سیاسی نظام میں جنگوں کا شروع کرنا تو آسان ہے لیکن اس کو انجام تک پہنچانا مشکل کیونکہ دونوں فرہقوں کو حلیف ممالک اپنے سیاسی ، معاشی اور فوجی مفادات کے پیش نظر فوجی امداد دیتے ہیں اور ان کی۔مدد سے جنگیں طویل تر ہوجاتی ہیں۔ روس یوکرین جنگ اور اسرائیل حماس جنگ میں اس سیاسی نظام کا عملی روپ دنیا نے دیکھا ہے۔

طویل تر ہوتی جنگوں میں فوجیوں کی کمی ایک نیا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے ۔ خاص طور پر وہ۔ممالک جہاں آبادی پہلے سے کم ہے۔ روس اور یوکرین جنگ میں یہ مسئلہ پہلی بار کھل کر سامنے آیا جب دونوں ممالک کے فوجی لڑنے سے انکار کرنے لگے اور فوجیوں کی کمی کی وجہ سے روس نے وہاں موجود ہندوستانیوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کرایا۔ یوکرین کی فوج میں بھی فوجیوں کی کمی سے اس کے لڑنے کی صلاحیت میں کمی آگئی۔ یہی مسئلہ اسرائیل کے ساتھ پیش آیا۔ جنگ طویل ہونے کی وجہ سے اسرائیلی فوجی اور رضاکار فوجی میدان جنگ میں اترنے سے انکار کرنے لگے۔

ان مسائل سے قطع نظر جنگ سے جنگ زدہ ممالک کے عوام کی معاشی حالت تناہ ہوجاتی ہے ۔گرانی ، بیروزگاری فاقہ کشی اور نفسیاتی تباہی عوام کے لئے جنگ سے بھی زیادہ مسئلہ بن جاتی ہے۔ اور یہ مسائل جنگ کے خاتمے کے بعد بھی عوام کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔

جدید جنگوں کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ جنگ کے دوران عوام اور فوجیوں میں فرق نہیں رہ جاتا۔ بموں اور میزائیل کے حملوں میں غیر محارب افراد حتی کہ بچے اور عورتیں بھی مارے جاتے ہیں ۔ روس یوکرین جنگ یا اسرائیل حماس جنگ کے درمیان اس بات کا مشاہدہ پوری دنیا نے کیا ہے۔ خصوصاً اسرائیل نے بچوں اور عورتوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا اس کے علاوہ رہائشی مکانوں ، ہسپتالوں اسکولوں ، پناہ گزیں کیمپوں اور عبادت گاہوں تک کو نہیں بخشا۔ اہسے میں ہندوستان اور پاکستان کے وہ۔لوگ جو اپنی اپنی حکومتوں کو ایک دوسرے کے خلاف جنگ کرنے پر اکسارہے ہیں وہ یا تو بے وقوفوں کی جنت میں رہتے ہیں یا پھر نفرت میں اتنے اندھے ہوچکے ہیں کہ جدید جنگ کے اس پہلو کو نظرانداز کرجاتے ہیں۔

اس طرح کے صحافی اور بلاگر ہندوستان اور پاکستان دونوں طرف موجود ہیں جو جنگ کا ماحول بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ پاکستان کے کچھ صحافی ہندوستانی لیڈروں کو گالیاں دے رہے ہیں تو کچھ ہندوستانی بلاگر بھی پاکستانی لیڈروں کو گالیاں دے رہے ہیں اور ملک میں فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے اور خانہ جنگی کی صورت حال۔پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک خاتون بلاگر نے کہا کہ پہلگام حملہ انڈیا پر حملہ۔نہیں تھا بلکہ ہندؤں پر حملہ تھا۔ وہ اس حملے کے لئے تمام ہندوستانیوں کو ذمہ دار ٹھہرارہی تھی۔ جبکہ وہ اس حقیقت سے پوری طرح واقف تھی کہ سید عادل حسین شاہ نامی کشمیری نے سیاحوں کو بچانے کے لئے دہشت گردوں کی رائفل چھیننے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ خود شہید ہوگیا۔ نزاکت علی نے چھتیس گڑھ کے ایک کنبے کو قتل ہونے سے بچایا۔ پہلگام حملہ دراصل کشمیر کی معیشت پر منصوبہ بند حملہ تھا ۔

اسی طرح ایک دوسرے بلاگر نے ہندوستانی عوام سے کہا کہ وہ ملک میں موجود تمام پاکستانیوں کو چن چن کر نکالیں اور انہیں پاکستان واپس بھیجیں۔ خیال رہے کہ جو بھی پاکستانی ہندوستان آئےتھے وہ جائز اور قانونی دستاویزات کے ساتھ ہندوستانی حکومت کی اجازت سے آئے تھے اور انہں ہندوستان چھوڑنے کا حکومت نے حکم دے دیا ہے تو اب ان کا جانا ایک قاونی عمل ہے اور انہیں واپس بھیجنے کا عمل قانون کے دائرے میں ہوگا اور اس کے لئے سرکاری ایجنسیاں اور ادارے ذمہ دار ہیں۔ لہذا ، کسی بلاگر کا یہ کہنا کہ عوام انہیں پکڑ پکڑ کر نکالیں ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے امکانات کو بڑھانے کے مترادف ہے۔اسی طرح جوبھی ہندوستانی پاکستان گئے ہیں وہ جائز اور قانونی دستاویزات کے ساتھ پاکستان گئے ہیں وہ قانونی عمل کے تحت ہی پاکستان سے واپس آئیں گے۔لہذا ، اگر کوئی پاکستانی بلاگر وہاں گئے ہوئے ہندوستانیوں کو نکالنے کے لئے عوام کو اکسائے تو اس کا یہ عمل نہ صرف فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھانے والا ہوگا بلکہ اس سے جنگ کے امکانات اوربڑھ جائیں گے۔ اس لئے دونوں ممالک کی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ایسے صحافیوں اور بلاگروں کی نگرانی کریں اور انہیں اشتعال انگیزی سے باز رکھنے کے لئے رہنما ہدایات جاری کریں اور اشتعال انگیزی اورپروہیگنڈہ مواد کی اشاعت پر ان کے خلاف سخت کارروائی کریں۔جنگ کے دوران ملک کے تمام طبقوں کو متحد رہنا چاہئے۔۔ جو لوگ جنگ کے ماحول۔میں ملک کے اندر فرقہ پرستی اور خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ دراصل ملک کو نقصان ہہنچارہے ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان دونوں معاشی بحران سے گزرررہے ہیں اگرچہ ہندوستان کی معیشت پاکستان کے مقابلے قدرے بہتر ہے لیکن ہندوستان بھی عالمی سطح پر معاشی مسائل سے دوچار ہے۔یہاں سے لاکھوں افراد گزشتہ کئی برسوں میں ہجرت کرگئے ہیں۔ گرانی اور بے روزگاری میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح پاکستان شدید معاشی بحران سے گزررہا ہے اور دیوالیہ پن کے کگار پر ہے۔ آئی ایم۔ایف نے اسے قرض دے کر تھوڑی راحت پہنچائی ہے۔مہنگائی اور بے روزگاری آسمان چھورہی ہے۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سورش اور خانہ جنگی کی صورت حال ہے۔ عوام فاقہ کشی کے شکار ہیں ۔ ایسے میں کوئی بھی جنگ پاکستان کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی اور اس کے اتحاد اور سالمیت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔ دونوں ممالک میں جنگ سے فائدہ امریکہ ، چین ترکی اور اسرائیل کو ہوگا یہ۔ممالک دونوں کو اربوں ڈالر کے ہتھیار بیچ کر اپنی معیشت کو بہتر بنائیں گے۔اور دونوں محارب ممالک طویل مدت تک جنگ اور اس کے تباہ کن اثرات سے باہر نہیں نکل پائیں گے۔

لہذا، دونوں ممالک اپنے اختلافات باہمی مذاکرات سے دور کریں ، دہشت گردی سے مشترکہ طور پر لڑنے کے لئے میکانزم تیار کریں اور دیرہنہ تنازعات کو کھلے ذہن سے ٹیبل پر حل کرنے کی کوشش کریں نہ کہ میدان جنگ میں۔

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے

جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

آگ اور خون آج اگلے گی

بھوک اور احتیاج کل دے گی

------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/indo-pak-war-social-media-dangerous/d/135359

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..