New Age Islam
Mon Dec 06 2021, 07:20 PM

Urdu Section ( 28 March 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Hazrat Abdul Muttalib, Abraha and Wasim Rizvi حضرت عبدالمطلّب، ابرہہ اور وسیم رضوی

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

29 مارچ ، 2021

اترپریش وقف بورڈ کے سابق چیرمین سید وسیم رضوی  نے قرآن کی ۲۶ آیتوں  کو قرآن  سے ہٹانے  کی درخواست  کرتے ہوئے  سپریم کورٹ  میں ایک مفاد عامہ عرضی داخل کی ہے ۔ ان کی فہم کے مطابق  یہ ۲۶ آیتیں  دہشت گردی  کو فروغ دیتی ہیں اورملک کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں ۔ انہوں نے  مزید  یہ دلیل دی ہے  کہ داعش  جیسی دہشت گرد تنظیمیں  مسلم نوجوانوں  کی ان آیتوں  کی مدد سے  دہشت گردی  کی طرف مائل کرتی ہیں ۔  ان کا دعوی  ہے کہ یہ ۲۶ آیتیں  حضور ﷺ کے دور حیات میں قرآن میں شامل نہیںکی گئی تھیں بلکہ تین خلفائے راشدین حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین کے دور میں قرآن میں شامل کی گئیں ۔

وسیم رضوی  کے اس بیان  اور اس پٹیشن  نے دنیائے اسلام  میں ایک تنازع  کھڑا کردیا۔ پورے ملک کے تمام مسلمانوں  اور علمائے دین  نے وسیم رضوی  کے اس فعل کی مذمت کی۔ شیعہ  اور سنی ّ دونوں فرقوں کے علماء نے وسیم رضوی  کو مرتد قرار دیا۔ دلی ّ، لکھنؤ اور دیگر شہروں میں  احتجاجی  جلسے منعقد کئے گئے ۔ دلی ّ کی جامع مسجد میں انجمن حیدری  کے زیر اہتمام  ایک احتجاجی اجتماع ہوا  جس میں شاہی  امام احمد بخاری اور شیعہ  علماء کلب جواد نقوی کے علاوہ  دیگر علماء بھی اس احتجاج  میں شامل ہوئے ۔سپریم کورٹ کے وکیل محمود پراچہ  بھی اس احتجاج میں شامل ہوئے ۔اس جلسے  میں یہ مطالبہ کیاگیا کہ سپریم کورٹ  اس پٹیشن  کو خارج کردے اور وسیم  رضوی  کو گرفتار کیاجائے ۔

بہرحال ، یہ احتجاج  دھیرے دھیرے  متشدد ہوگیا اور مسلمانوں نے وسیم رضوی  کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی ۔ ایک وکیل امیرالحسن  زیدی  نے وسیم رضوی کا سر کاٹ کر لانے والے کے لئے ۱۱ لاکھ روپئے کے انعام کا اعلان کردیا ۔ ایک سب انسپکٹر کپل کمار  کی شکایت پر اس وکیل  کے خلاف ایک کیس  درج کرلیاگیا۔کئی لوگوں نے وسیم رضوی  کو فون پر گالیاں بھی دیں  اور اسے جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی ۔

قرآن کی ۲۶ آیتوں  کے متعلق  وسیم رضوی  کا یہ کہنا  کہ  وہ آیتیں حضور ﷺ پر نازل نہیں ہوئیں  بلکہ ان کے بعد کے تین خلفائے ر اشدین  نے اپنے دور خلافت  میں قرآن میں شامل کرلیا قابل قبول نہیں ہے ۔یہ آیتیں  تمام دوسری  آیتوں کی ہی طرح پیغمبر آخرالزماں  ﷺ پر ان کے دورحیات  میں نازل  ہوئیں ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جن آیتوں کو وہ حذف کرنے کی بات کررہے ہیں ۔ ان کا ایک تاریخی پس منظر ہے اور یہ آیتیں اسلام کے ابتدائی  دور میں نازل  ہوئیں جب مسلمانوں اور کفار مکہ  کے درمیان تصادم کا سلسلہ جاری تھا ۔ لہذا، ان آیتوں کی تشریح  و تفسیر  مفسرین  قرآن نے انہی  حالات  کے تناظر میں کی ہے یہ آیتیں  آفاقی  نوعیت کی نہیں ہیں ۔قرآن  نے واضح طور پر  یہ کہہ دیاہے کہ ایک بے گناہ  کا قتل  ساری انسانیت  کے قتل  کے مترادف ہے  اور کسی بے گناہ کی جان بچاناساری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے ۔قرآن نے یہ بھی کہہ دیاہے کہ کسی قوم کی دشمنی  میں مسلمان عدل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ قرآن  پر امن بقائے باہمی کی تعلیم دیتاہے  اور ان گروہوں اور افراد کے ساتھ ظلم و تشدد سے منع کیاہے جو مسلمانوں پر ظلم نہیں کرتے اور ان کو ان کے گھروں  سے نہیں نکالتے ۔ہاں ، یہ بات بھی درست ہے کہ ان آیات حرب کی غلط تفسیر و تشریح  کے ذریعہ  داعش  جیسی دہشت گرد  تنظیمیں  مسلم نوجوانوں  کو گمراہ کرتی ہیں  اور ملک میں فساد اور تشدد  پھیلاتی ہیں  جس کی ہر پر امن مسلمان مذمت کرتاہے ۔ان دہشت گرد تنظیموں کا اسلام سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ان تنظیموں کے غیر اسلامی افعال کی بناپر ان ۲۶ آیتوں کو قرآن سے ہٹانے کا مطالبہ کم علمی اور جہالت کا ثبوت ہے ۔وسیم رضوی کا قرآن کے خلاف پٹیشن قرآن کی غلط تفہیم اور سنیوں  کے خلاف  اس کی مسلکی  منافرت پر مبنی ہے ۔اس نے اس پٹیشن کے ذریعے سے شیعہ اور سنی فرقوں میں اختلافات کو مزید بھڑکانے کی کوشش کی ۔مگر یہ وار اس پر الٹا پڑگیااور دونوں فرقے اس کے خلاف متحد ہوگئے ہیں ۔انہوں نے سوچاتھا کہ تین خلفائے راشدین  کے خلاف الزام لگاکر وہ شیعہ فرقے کو اپنے حق میں متحد کرلیں گے مگر ایسا نہیں ہوا۔

قرآن کی مذکورہ آیتوں کو ہٹانے کا مطالبہ لیکر عدالت میں جانے کے بجائے وسیم رضوی کو ان آیتوں پر  علمائے دین اور مفسرین قرآن  سے صحت مند  مذاکرہ کرنا چاہئے تھا اور ان آیتوں کے صحیح مفہوم  اور تناظر کو سمجھنے  کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔وسیم رضوی  کا یہ دعوی ہے  کہ انہوں نے ۵۷ مسلم اداروں اور دانشوروں اور علماء  کو  خط لکھ کر ان آیتوں  سے متعلق ان سے وضاحت چاہی تھی  مگر کسی نے ان کے خط کا جواب نہیں دیا۔ شاید ایسا اس لئے ہو کہ وسیم رضوی اپنے مسلم دشمن اور سنی مخالف بیانات  کی وجہ سے مسلمانوں میں اپنا اعتبار کھوچکے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ایک خبر کے مطابق وسیم رضوی نے مسلم علماء اور دانشوروں کو جواب کے لئے صرف ایک ہفتے کا وقت دیاتھا ۔ یہ رویہ دانشورانہ نہیں بلکہ حاکمانہ تھا اس لئے اس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیںہوا۔

وسیم رضوی نے قرآن کے خلاف پٹیشن دائر کرکے نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی  جذبات کو مجروح کیا  بلکہ  دنیا کی نظر مٰیں قرآن کی ایک غلط تصویر پیش کی  ۔

اس تنازع  کا دوسرا  اور اہم پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کا ردعمل  قرآن اور سنّت  کی روح کے موافق نہیں تھا ۔ گالی گلو چ اور ، سر کاٹ لینے پر ۱۱ لاکھ روپئے کے انعام پر سپریم کورٹ کے وکیل اور ماہر قانون  فیضان مصطفی  نے کہا  کہ یہ طر زعمل غلط ہے ۔ مسلمانوں کو پرامن احتجاج کرنا چاہئے تھا۔

مسلمانوں کو یہ نکتہ  ذہن میں رکھنا چاہئے کہ وسیم رضوی  کے اس عمل کی بی جے پی  نے بھی مخالفت  اور مذمت کی ہے۔  اس معاملے میں شیعہ فرقہ بھی  اس کے ساتھ نہیںہے ۔ ہندو فرقہ اس سازش میں شامل نہیںہے ۔اس معاملے میں وسیم رضوی تنہا ہے۔ماہر قانون فیضان مصطفتے  نے اس پٹیشن کی خامیوں کی نشاندہی کی ہے جن کی بنیاد پر انہوں نے یہ پیشین گوئی کی ہے کہ یہ پٹیشن سپریم کورٹ سے ابتدائی مرحلے میں ہی خارج ہوجائے گا۔

جب وسیم رضوی اس معاملے میں تن تنہا ہے اور حکومت اور بی جے پی بھی اس کی حمایت میں نہیںہیں اور قانونی طور پر بھی اس کا کیس بہت کمزور ہے تو پھر مسلمانوں کو  اس معاملے  میں اتنے بڑے پیمانے پر ردعمل ظاہر کرنے کی کیاضرورت تھی ۔ ہرچند کہ ان کی یہ دلیل قابل قبول ہے کہ قرآن کے معاملے میں کوئی دنیاوی عدالت کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی مگر جب کیس عدالت میں چلاگیاہے تو اب اس مسلمانوں کو قانونی کارورائی کا راستہ اپنانا چاہئے۔ اس معاملے میں ان کے سامنے دو راستے ہیں ۔ پہلا ، پٹیشن داخل کرکے سپریم کورٹ سے درخواست کرنا کہ وہ اس پٹیشن کو خارج کردے ۔ دوسرا یہ کہ اگر پٹیشن خارج نہیں ہوتا تو علماء اس پٹیشن کا عدالت میں مدلل او ر علمی جواب دینے کی  تیاری کریں ۔ اور اس کے لئے احتجاج، ہنگامہ اور دھمکیوں کے بجائے علماء سر جوڑ کر بیٹھیں اور اس کا قانونی توڑ کرنے کی تیاری کریں ۔جب بھی کوئی مقدمہ عدالتمیں subjudice  ہوتاہے تو فریقین پر کچھ قانونی ضابطوں کی پابندی لازمی ہوتی ہے ۔ مسلمان قانون سے بالاتر نہیں ہیں ۔

ابھی چند ماہ قبل بابری مسجد کا کیس سپریم کورٹ میں تھا تو اس وقت ہمارے علماء ، دانشوران اور یونیورسٹیوں کے پروفیسران نے یہ اعلان کیا تھا کہ عدالت کا فیصلہ مسلمانوں کو منظور ہوگا اور مسلمانوں سے انہوں نے اپیل کی تھی کہ وہ امن و سکون کو بنائے رکھیں اور جو بھی عدالت کا فیصلہ ہو اسے قبول کریں ۔مگر وسیم رضوی کے پٹیشن کے معاملے میں ہمارے دانشوروں اور قائدین کا طرز عمل مختلف ہے۔ ایساکیوں ؟

مسلمانوں کو یاد ہوگا کہ مئی  1985 میں چاند مل چوپڑا  نے کلکتہ ہائی کورٹ میں قرآن کے خلاف ایک پٹیشن داخل کی تھی اور قرآن کی انہی آیتوں کا حوالہ دیکر کہا تھا کہ ان سے سماج میں منافرت اور تشدد پھیلتاہے اس لئے قرآن پر پابندی لگانی چاہئے ۔اس مقدمے میں اٹارنی جنرل آف  گورنمنٹ آف انڈیا اور ایڈوکیٹ جنرل آف گورنمنٹ آف ویسٹ بنگا ل نے چاند مل چوپڑا کے خلاف دلائل دئے تھے اور عدالت نے اس کی پٹیش خارج کردی تھی ۔ اس نے جون میں اس فیصلے کے خلاف Review petition داخل کیاتھا۔ اس پٹیشن کو بھی عدالت نے خارج کردیاتھا ۔

اس معاملے میں حضرت محمد ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب  کا طرز عمل مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہوسکتاتھا ۔حضرت  عبدالمطلب  قبیلہ قریش کے سردار  اور خانہ کعبہ کے متولی تھے۔ ان کے دور میں  یمن کے عیسائی بادشاہ ابرہہ نے کعبہ کی مقبولیت سے حسد سے مغلوب ہوکر اسے ڈھادینے کا فیصلہ کیاتھا اور ساٹھ ہزار کی فوج لیکر مکہ پہنچ گیاتھا۔ اس کی فوج میں ہاتھی بھی تھے ۔ مکہ کے باہر اس نے قیام کیا۔ اس کے فوجیوں نے حضرت عبدالمطلب کے دو سو اونٹ پکڑ لئے  اور ان سے کہا کہ ابرہہ نے آپ کو بات چیت کے لئے بلایاہے  ۔ حضرت عبدالمطلب بلنداور وجیہہ  شخصیت کے مالک تھے ۔وہ جب ابرہہ کے پاس پہنچے تو وہ ان کی شخصیت سے اتنا مرعوب ہوا کہ وہ تخت سے اتر کر قالین پر ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔گفتگو شروع ہوئی تو حضرت عبدالمطلب نے کعبہ کا کوئی ذکرنہیں کیا  اورابرہہ سے صرف اتنا کہا ’’آپ کے آدمی میرے دوسو اونٹ پکڑ لائے ہیں ۔انہیں چھوڑدیجئے ۔‘‘

ابرہہ یہ سوچ رہاتھا کہ عبدالمطلب اس سے بنتی کریں گے کہ کعبہ پر حملہ نہ کریں اور واپس چلے جائیں  مگر جب انہوں نے کعبہ کے متعلق کچھ نہ کہا تو ابرہہ نے ان سے کہا۔

’’میں آپ کی شخصیت سے اتنا متاثر ہوا تھا کہ اگر آپ مجھ سے کہتے کہ میں اپنی فوج لیکر واپس چلاجاؤں تو میں واپس چلاجاتا ۔ مگر جس کعبہ کو آپ اور آپ کے آباواجداد اپنا مذہبی مرکز مانتے ہیں اور جس کی بدولت پورے عرب میں آپ کی عزت ہے اس کی آپکو کوئی فکر نہیں ہے ۔ آپ کو صرف اپنے اونٹوں کی فکر ہے ۔ اب میرے دل میں آپ کی کوئی عزت نہیں رہ گئی ہے ۔‘‘

حضرت عبدالمطلب نے بڑے سکون سے جواب دیا۔’’ میںان اونٹوں کا مالک ہوں اس لئے مجھے ان کی فکر ہے ۔ اس گھر کا جو مالک ہے وہ ا س کی حفاظت کرے گا۔‘‘

میٹنگ برخاست ہوگئی اور ابرہہ نے حضرت عبدالمطلب کے اونٹوں کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ حضرت عبدالمطلب واپس آگئے اور مکہ کے لوگوں کو پہاڑوں میں جا کر پناہ لینے کی ہدایت دی۔ وہ خانہ کعبہ میں آئے اور کعبہ کا دروازہ پکڑ کر اللہ سے گڑگڑاکر یہ دعا کی ۔’’یااللہ ہر شخص اپنے گھر کی حفاظت کرتاہے ۔ یہ تیرا گھر ہے تو اس کی حفاظت فرما۔‘‘

اس کے بعد وہ بھی یہ کہتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہاڑوں کی طرف چلے گئے ۔’’ اللہ ضرور اپنے گھر کی حفاظت کرے گا۔‘‘

اگلے روز ابرہہ کی فوج  کعبہ پر حملہ کرنے کے مقصد سے مکہ میں داخل ہوئی مگر اللہ کے حکم سے پرندوں کا غول نمودار ہوا اور انہوں نے ابرہہ کی فوج پر کنکریاں برسائیں ۔ ابرہہ اپنی فوج کے ساتھ ہلا ک ہوگیا۔

زمانہ قدیم سے ہی عربوں کا یہ راسخ عقیدہ تھا کہ کعبہ اللہ کا گھر ہے اوروہ اس کی حفاظت کرے گا ۔یہ راسخ عقیدہ حضرت عبدالمطلب کا بھی تھا ۔اسی عقیدے نے ان کو اتنا سکون عطاکیاتھا کہ جب وہ ابرہہ کے پاس گئے تو انہوں نے اس سے کعبہ کے متعلق بات کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا  کیونکہ ان کے نزدیک ابرہہ کی فوج اللہ کی طاقت کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتی تھی۔

مسلمانوں کے پاس تو قرآن ہے جس کی ایک آیت ہے

’’بے شک ہم نے اس ذکر ’(قرآن ) کو نازل کیاہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔)( سورہ ہجر:۹)

اس آیت پر مسلمانوں کا ایمان ہے کہ اللہ قیامت تک قرآن کی حفاطت کرے گا ۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ قرآن چودہ سو سال سے اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ حالیہ ثبوت 1985میٰں قرآن کے خلاف داخل کی گئی چاند مل چوپڑا کی پٹیشن ہے جس کو  عدالت نے خارج کردیاتھا ۔پھر مسلمان اتنے فکر مند کیوں ہیں ۔ وسیم رضوی نہ تو ابرہہ ہے نہ اس کے پاس اقتدار ہے اورنہ فوج ۔ پھر مسلمانوں کے پاس چاند مل چوپڑا کی عرضی اور کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی نظیر بھی موجود ہے۔ اور سب سے بڑھکر ہمارے درمیان مفسرین قرآن اور علمائے دین ہیں جو اس کے اعتراضات کا مدلل علمی جواب عدالت  میں اور عدالت کے باہر دے سکتے ہیں۔مسلمانوں کو کسی بھی آزمائش کے دور میں عدل ، سنجیدگی اور وقار کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے ۔

آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے

پھر کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/hazrat-abdul-muttalib-abraha-wasim/d/124619


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..