New Age Islam
Thu Mar 12 2026, 03:39 PM

Urdu Section ( 19 Oct 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Fiqhi Questions in the Quran قرآن میں فقہی سوالات

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

19 اکتوبر،2022

قرآن اسلامی شریعت کی بنیادی کتاب ہے۔ اس میں اسلامی طرز حیات کو تفصیل سے پیش کردیا گیا ہے۔ قرآن تیئس برسوں میں جستہ جستہ نازل ہوااس لئے مختلف ادوار اور حالات میں مسلمانوں کو جو مسائل پیش آئے  ان کے موافق قرآن میں طرزعمل کا تعین کردیا گیا۔ قرآن میں عقائد کے بیان کے ساتھ ساتھ فقہی مسائل پر بھی احکام ملتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر احکام وقتاًفوقتاًمسلمانوں کے سوالوں کے جواب میں نازل ہوئے ہیں۔ مختلف معاملات زندگی کے متعلق مسلمان حضور پاک ﷺ سے سوال کرتے تھے اور حضور پاک ﷺ وحی الہی کے مطابق ان سوالوں کے جواب دیتے تھے۔ ذیل میں ان سوالات کو پیش کیا گیا ہے جو وقتاًفوقتاً صحابہ کرام نے کئے اور وحی الہی کے ذریعہ جو جواب دئیے گئے۔

۔ "تجھ سے پوچھتے ہیں مہینہ حرام کو کہ اس میں لڑنا کیسا ہے۔کہہ دے لڑائی اس میں گناہ ہے۔"(البقرہ :217)..

۔"تجھ سے پوچھتے ہیں حکم شراب کا اور جوئے کا۔ کہہ دے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے۔اور فائدے بھی ہیں لوگوں کو اور ان کا گناہ بہت بڑا ہے ان کے فائدے سے۔۔" ۔(البقرہ :219)..

.۔"اور تجھ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں کہہ دے جو بچے اپنے خرچ سے۔"(219).

۔"اور تجھ سے پوچھتے ہیں یتیموں کا حکم کہہ دے سنوارنا ان کے کام کا بہتر ہے۔ ۔۔"(البقرہ :220)..

۔"اور تجھ سے پوچھتے ہیں حکم حیض کا۔ کہہ دے وہ گندگی ہے سو تم الگ رہو عورتوں سے حیض کے وقت۔"(البقرہ:222)..

۔"۔۔تجھ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں کہہ دو کہ جو کچھ تم خرچ کرو مال سو ماں باپ کے لئیے اور قرابت والوں کے لئیے اور یتیموں کے اور محتاجوں کے اور مسافروں کے اور جو کچھ تم کروگے بھلائی سو وہ بےشک اللہ کو خوب معلوم ہے۔"۔(البقرہ :215 ۔ ).

۔"تجھ سے پوچھتے ہیں حکم غنیمت کا۔ تو کہہ دے مال غنیمت اللہ کا ہے۔ اور رسول کا۔"(الانفال :١).

۔"حکم۔پوچھتے ہیں تجھ سے سو کہہ دے اللہ تم کو حکم بتاتا ہے کلالہ کا۔"(النسا : 176).

۔۔"۔تجھ سے پوچھتے ہیں کیا ان کے لئے حلال ہے کہہ دے حلال ہیں تم کو ستھری چیزیں۔ اور جو سدھاؤ شکاری جانور شکار پر دوڑانے کو کہ ان کو سکھاتے ہو اس میں سے جو اللہ نے تم۔کو سکھا یا ہے سو کھاؤ ان میں سے جو پکڑ رکھیں تمہارے واسطے اور اللہ کا نام۔لو اس پر اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ جلد لینے والا ہے حساب۔۔"(المائدہ :4).

۔"تجھ سے پوچھتے ہیں قیامت کو کہ کب ہے اس کے قائم ہونے کا وقت تو کہہ اس کی خبر تو میرے رب کے ہی پاس ہے۔ وہی کھول دکھائیگا اس کو اس کے وقت پر۔ وہ بھاری بات ہے۔ آسمانوں اور زمینوں میں۔ جب تم۔پر آئیگی تو بے خبر آئیگی۔ تجھ سے پوچھنے لگتے ہیں گویا تو اس کی تلاش میں لگا ہواہے تو کہہ دے اس کی خبر ہے خاص اللہ کے پاس لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ "۔(الاعراف :187).

۔"تجھ سے پوچھتے وہ گھڑی کب ہوگا قیام اس کا۔ تجھ کو کیا کام اس کے ذکر سے۔ تیرے رب کی طرف پہنچ ہے اس کی۔ تو تو تنبیہہ کرنے کے واسطے ہے۔ اس کو جو اس سے ڈرتا ہے۔ایسا لگے گا جس دن دیکھینگے اس کو کہ نہیں ٹھہرے تھے دنیا میں مگر ایک شام یا صبح۔۔"۔(النزعت :42۔۔46).

کبھی کبھی صحابہ کرام کچھ دوسرے مسائل پر بھی سوال پوچھ لیتے تھے جو براہ راست دینی مسائل سے جڑے نہیں ہوتے تھے۔ غالباًتجسس کے نتیجے میں وہ ایسے سوالات پوچھ لیتے تھے۔ جیسے پہاڑوں کے متعلق اور نئے چاند سے متعلق۔

۔" اور تجھ سے پوچھتے ہیں پہاڑوں کا حال۔ سو تو کہہ اننکو بکھیر دے گا میرا رب اڑا کر پھر کر چھوڑے گا زمین کو صاف میدان نہ دیکھے اس میں تو موڑ نہ ٹیلا۔ (طہ :107).

۔"تجھ سے پوچھتے ہیں حال نئے چاند کا۔ کہہ دے یہ اوقات مقررہ ہیں لوگوں کے واسطے۔ اور حج کے واسطے۔۔(البقرہ :189).

ایک دفعہ یہودیوں نے پوچھا تھا کہ روح کیا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری ۔۔

۔"اور تجھ سے پوچھتے ہیں روح کو۔ کہہ دے روح ہے میرے رب کے حکم سے۔اور تم کو علم دیا ہے تھوڑا سا۔" (بنی اسرائیل : 85).

اگرچہ صحابہ کے یہ سوالات پوچھ لینے سے فقہی مسائل پر ان کے ذریعہ سے آنے والے وقت میں مسلمانوں کے لئیے بہت آسانیاں ہو گئیں اور قرآن میں ان مسائل کے جواب محفوظ ہوگئے جس سے قیامت تک مسلمانوں کی رہنمائی کا سامان ہوگیا۔ پھر بھی مسلمانوں کو بہت زیادہ اور غیر ضروری سوالات سے پرہیز کرنے کی تلقین بھی کی گئی ۔ اس سلسلے میں قرآن میں حضرت موسی علیہ السلام۔کی قوم کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ جب حضرت موسی علیی السلام کو خدا کی طرف سے حکم آیا کہ اپنی قوم سے کہیں کہ وہ ایک گائے کی قربانی دیں تو انہوں نے گائے سے متعلق کئی غیر ضروری سوال کئے۔ انہوں نے پہلے پوچھا کہ اس گائے کی عمر کیا ہو۔ پھر جب حضرت موسی علیہ السلام نے خدا سے پوچھ کر بتایا کہ وہ بڑھاپے اور جوانی کے درمیان ہو تو پھر انہوں نے پوچھا کہ اس کا رنگ کیسا ہو ۔پھر حضرت موسی علیہ السلام نے خدا سے پوچھ کر بتایا کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا کہ وہ گائے کس قسم کی ہو۔ پھر حضرت موسی علیہ السلام نے خدا سے پوچھ کر بتایا کہ وہ کھیتی میں استعمال نہ ہوتی ہو اور بے عیب اور بے داغ ہو۔ اتنے سارے صفات والی گائے تلاش کرنے میں انہیں کافی مشقت کرنی پڑی۔

قرآن میں یہ واقعہ مسلمانوں کی عبرت کے لئے بیان کیا گیا تاکہ وہ بھی اپنے نبی سے اس طرح کے غیر ضروری سوال نہ کریں جس کی وجہ سے وہ مشقت میں پڑجائیں۔ قرآن میں کہا گیا۔

۔"اے ایمان والو مت پوچھو ایسی باتیں کہ اگر تم۔پر کھولی جائیں تو تم کو بری لگیں اور اگر پوچھوگے یہ باتیں ایسے وقت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائینگی۔اللہ نے ان سے درگذر کی ہے۔اور اللہ بخشنے والا تحمل والا ہے۔ ایسی باتیں پوچھ چکی ہے ایک جماعت۔ تم سے پہلے پھر ہو گئے ان باتوں سے منکر۔"(102-101).

ایک دفعہ عبداللہ بن حذافہ نے حضورپاک ﷺ سے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ میرا طبعی باپ کون ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ۔" حذافہ۔"۔ ظاہر ہے اسی طرح کے سوالات کے متعلق یہ آیت اتری ۔۔

بہر حال قرآن جو جستہ جستہ نازل ہوا تو اس کے پیچھے اللہ کی حکمت یہی تھی کہ اس میں مومنوں کے زندگی کے عملی معاملات پر ہدایت شامل ہو۔ اور وہ مختلف حالات یا پیش آنے والے معاملات کے متعلق اللہ کے احکام جان لیں۔ مولانا شبیر عثمانی اپنی تفسیر میں اس موضوع پر لکھتے ہیں:

 ایک دفعہ تمام کتاب کے نازل ہونے میں جیسا کہ اہل کتاب درخواست کرتے ہیں وہ خوبی نہیں جو حسب حاجت اور حسب موقع متفرق نازل ہونے میں ہے۔ کیونکہ ہر کوئی اپنی ضرورت کے موافق اس صورت میں سوال کر سکتا ہےاوربذریعہ وحی متلو اس کو جواب مل سکتا ہے۔ جیسا کہ اس موقع میں اور قرآن مجید کے بہت سے مواقع میں موجود ہے۔ اور یہ صورت مفید تر ہونے کے علاوہ بوجہ شرافت ذکر خداوندی وعزت خطاب عزوجل ایسے فخر عظیم پر مشتمل ہے ۔ جو کسی امت کو نصیب نہیں ہوا۔"۔

URL: https://newageislam.com/urdu-section/fiqhi-questions-quran/d/128215

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..