New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 01:09 AM

Urdu Section ( 6 May 2019, NewAgeIslam.Com)

Fasting by the prophets and the tradition of Maun Vrat پیغمبروں کا روزہ اور مون ورت


سہیل ارشد  ، نیو ایج اسلام

روزہ ایک دینی فریضہ اور افضل عبادت ہے جس کے لئے بڑے ثواب کا وعدہ اللہ نے کیاہے ۔ قرآن میں روزہ کی تاکید کی گئی ہے اور حدیثوں میں بھی روزے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ قرآن میں روزوں کے متعلق کہاگیاہے کہ پچھلی تمام امتوں پر روزہ فرض کیاگیا ۔ امت محمدی کے لئے تیس روزے فرض کئے گئے جو رمضان کے مہینے میں رکھے جاتے ہیں ۔

’’اے ایمان والو! فرض کیاگیا تم پر روزہ جیسے فرض کیاگیاتھا تم سے اگلوں پر تاکہ تم پرہیز گار ہوجاوَ ۔ ‘‘(البقرہ : 185)

قرآن میں دیگر پیغمبروں کو بھی روزہ رکھنے کی تلقین کی گئی جس سے معلوم ہوتاہے کہ ان کی امتوں کے لئے بھی روزے فرض کئے گئے ۔ ذیل میں ہم ان پیغمبروں کا ذکر کریں گے جن کے روزوں کا ذکر قرآن میں ہے ۔

حضرت زکریا علیہ السلام کا مون ورت (بات کا روزہ )

حضرت زکریا علیہ السلام کو 120 برس کی عمر تک اولاد نہیں ہوئی تو انہوں نے عاجزی کے ساتھ خدا سے اولاد کے لئے دعا فرمائی ۔ خدا نے انہیں ایک اولاد (یحیی علیہ السلام ) کی بشارت دی اور اس کے لئے انہیں تین رات تک کسی سے بات کرنے سے منع فرمایا ۔ ہندوستان کے ہندووَں میں مون برت ہوتاہے جس کے دوران وہ کسی سے بات نہیں کرتے ۔

حضرت مریم علیہ السلام کا مون ورت :

جب حضرت مریم علیہ السلام کو فرشتے نے آکر ایک بیٹے کی بشارت دی اور وہ حاملہ ہوگئیں اور گوشہ نشینی اختیار کرلی تو انہیں یہ اندیشہ تھا کہ لوگ ان سے طرح طرح سے سوال کرکے پریشان کریں گے اور وہ جواب نہ دے پائیں گی تو ان کی اس پریشانی کا حل خدا نے اس طرح پیش کیا کہ انہیں ہدایت دی کہ وہ لوگوں سے کہہ دیں کہ انہوں نے رحمان کا روزہ رکھا ہے اس لئے وہ اس دوران وہ کسی سے بات نہیں کریں گی ۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت مریم علیہ السلام کے زمانے میں بھی اس طرح کے روزے کارواج تھا ۔ یہاں یہ واضح ہو کہ حضرت مریم علیہ السلام حضرت زکریا علیہ السلام کی سرپرستی میں پلی بڑھی تھیں اورحضرت زکریا علیہ السلا م کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں ۔ لہذا، وہ حضرت زکریا علیہ السلام کی امت میں سے تھیں ۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کے دور میں بھی روزہ مروج تھا ۔ ان کی امت میں مون برت بھی مروج تھا جیسا کہ حضرت مریم علیہ السلام کے سلسلے میں قرآن کہتاہے ۔

حضرت عیسٰی علیہ السلام کا روزہ

حضرت عیسی علیہ السلام کے روزوں کا ذکر قرآن میں نہیں ہے مگر انجیل میں آپ کے چالیس روزوں کا ذکر ہے ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا روزہ :

حضرت موسی علیہ السلام اللہ کے حکم سے کوہ طور پر گئے جہاں انہیں وحی ملی ۔ اس وحی سے قبل انہیں اللہ نے حکم دیا کہ وہ چالیس روزے رکھیں ۔ انہوں نے چالیس روزے رکھے اور انہیں وحی ملی اور وہ ان احکام کے ساتھ جو الواح پر نقش تھے واپس اپنی قوم میں واپس آئے ۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ اللہ نے حضرت موسی علیہ السلام کی امت کے لئے بھی روزہ مقر ر کیاتھا ۔

امت محمدی کا روزہ

حضرت محمد ﷺ کی امت پر تیس روزے فرض ہوئے جو رمضان کے مہینے میں ہرسال رکھے جاتے ہیں ۔ اس کی تاکید میں قرآن کی آیتیں بھی نازل ہوئیں اور رسول مقبول ﷺ کی احادیث بھی ہیں ۔ روزے کی روایت کی روایت بہت قدیم ہے اور خدانے اپنے بندوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت کے لئے ان پر روزے فرض کئے ۔

حضرت زکریاعلیہ السلام اور ھضرت مریم علیہ السلام سے مون ورت ثابت ہے اور یہ روایت ہندووَں میں بھی پائی جاتی ہے ۔ ان کے یہاں مون ورت رکھا جاتاہے جو عموما پندرہ دنوں کا ہوتاہے ۔ اس دوران وہ کسی سے بات نہیں کرتے سوائے بھگوان کے اشلوکوں کے پاٹھ کے ۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ ہندواؤں کے مون ورت کی روایت پیغمبر زکریاعلیہ السلام کے دور سے جاکر مل جاتاہے ۔ جین مذہب کے پیروکار بھی مون ورت رکھتے ہیں ۔ اس ورت کا مقصد زبان کے پر قابو پانا ہے جو کہ ایک بہت ہی طاقتور ہتھیار ہے ۔ اس ہتھیار سے عوام کو نفع بھی پہنچایا جاسکتاہے اور نقصان بھی ۔ ا سلئے دنیا کے تقریبا تمام مذاہب مین مراقبے اور خاموشی اختیار کرنے کو کافی اہمیت دی گئی ہے ۔

اس مختصر سے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جسمانی روزہ اور مون ورت دنیا کے تمام مذاہب میں موجود ہے اور مون ورت کا تصور حضرت زکریاعلیہ السلام اور حضرت مریم علیہ السلام کے زمانے سے ہی دنیا میں مروج ہے ۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/s-arshad,-new-age-islam/fasting-by-the-prophets-and-the-tradition-of-maun-vrat--پیغمبروں-کا-روزہ-اور-مون-ورت/d/118520

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..