New Age Islam
Thu May 21 2026, 05:37 PM

Urdu Section ( 22 Jul 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Constituent Features of the Quranic Style اسلوب قرآنی کے اجزاء

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

22 جولائی 2025

قرآن مجید کا اسلوب اسلوب الہٰی ہے اس لئے جب ساتویں صدی میں قرآن کی آیتوں کے نزول کا سلسلہ شروع ہوا تو عرب اور خصوصاً مکہ کے شعراء اور خطباء حیران رہ گئے کیونکہ قرآن کا اسلوب اک کے اسلوب سے زیادہ متمول اور تہہ دار تھا۔ساتویں صدی اور اس سے قبل پانچویں اور چھٹی صدی میں عرب میں شعراء اور خطیبوں کی ایک بڑی تعداد تھی جو اپنی شاعری اور خطابت کے لئے مشہور تھے لیکن قرآن کے اسلوب کے آگے ان کا فن اور ان کی فنکاری دھندلی پڑ گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن خیالی شاعری کی کتاب نہیں تھی بلکہ اس میں خدا کا پیغام تھا اور اس میں تاریخ ، اصول تمدن ،اسلامی شریعت اور سائنسی طرز فکر کی اشاعت حقیقت پسندانہ طور پر کی گئی تھی۔ قرآن میں اسلامی طرز فکر کی پیش کش خشک اور تکنیکی زبان میں نہیں بلکہ  لسانی آلات اور علم بیان کے اجزاء کے استعمال سے اسے دلچسپ ، بلیغ اور تہہ دار بنایا گیا تھا۔ قرآن کےاسلوب کا تجزیاتی مطالعہ کرنے پر ہمیں اس کے نمایاں اجزاء کا پتہ چلتا ہے۔ قرآن کے اسلوب کے چند نمایاں اجزاء کا مختصر جائزہ یہاں پیش کیا جاتا ہے:

1)۔ مثالیں۔ قرآن میں خدا بندوں کے فہم کے مطابق عام فہم مثالوں کے ذریعے اہم نکات اور پیغامات کی ترسیل کرتا ہے۔ ساتویں صدی کے عرب خصوصاً مکہ میں خواندگی بہت کم تھی۔ پورے مکہ میں صرف سترہ افراد خواندہ تھے۔ لہذا ، قرآن میں آداب معاشرت ، تاریخ ، مذہب اور سائنسی طرز فکر کے فروغ کے لئے قرآن میں بے شمار مثالیں پیش کی گئی ہیں تاکہ ان مثالوں کے ذریعے اسلامی تعلیمات اہل مکہ کے ذہن نشیں ہوجائیں۔ ذیل۔میں قرآن سے چند مثالیں پیش ہیں:

مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں ایسی ہے کہ جیسے ایک دانہ اس سے اگیں سات بالیں ہر بال۔میں سوسو دانے اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے واسطے چاہے۔ (البقرہ :261)

مثال ان لوگوں کی جنہوں پکڑے اللہ کو چھوڑ کر اور حمایتی جیسے مکڑی کی۔مثال بنا لیا اس نے ایک گھر اور سب گھروں میں بودا سو مکڑی کا گھر اگر ان کو سمجھ ہوتی۔ (العنکبوت : 41)

اور جن کو تم۔پکارتے ہو اس کے سوائے وہ مالک نہیں کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے۔(فاطر: 13)

قرآن میں اس طرح کی سینکڑوں ۔مثالیں ہیں جن کی مدد سے اللہ انسانوں کی ذہنی تربیت کرتا ہے۔

2۔۔ متوازیت : متوازیت بھی ایک ایسا لسانی آلہ ہے جس کی مدد سے قرآن میں بلاغت ، زور اور تہہ داری پیدا ہوگئی ہے۔ متوازیت کے تحت مترادف یا متضاد معنی رکھنے والے جملے متوازی طور پر پیش کئےجاتے ہیں جس سے کلام میں زور ہیدا ہوجاتا ہے۔ متوازیت کی کئی قسمیں ہیں مگر مترادف متوازیت اور متضاد متوازیت قابل ذکر ہیں۔ مترادف متوازیت میں ہم۔معنی جملے یا خیال ہیش کئے جاتے ہیں جبکہ متضاد متوازیت میں متخالف جملے یا خیال پیش کئے جاتے ہیں۔ قرآن میں متوازیت کا استعمال بھی بارہا کیا گیا ہے۔ ذیل میں متوازیت کی چند مثالیں ہیش ہیں:

بیشک نیک لوگ نعمتوں میں ہونگے اور بیشک بدکار لوگ جہنم میں ہونگے ۔ (الانفطار : 13 -14)

اور جس کو اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت کرے تو کھول دیتا ہے اس کا سینہ اسلام قبول کرنے کے واسطے  اور جس کو چاہتا ہے کہ گمراہ کرے کردیتا ہے اس کے سینہ کو تنگ بے نہایت تنگ گویا وہ زور سے چڑھتا ہے آسمان پر۔(الانعام : 126 )

بھلا دیکھو تو جو تم بوتے ہو کیا تم اس کو کرتے ہو کھیتی یا ہم کھیتی کردینےوالے ہیں ۔اگر ہم چاہیں تو کر ڈالیں اس کو روندا ہواگھاس۔ پھر تمسارے دن رہو باتیں۔بناتے۔ ہم۔تو قرضدار رہ گئے۔ ہم۔تو محروم عہ گئے۔ بھلا دیکھو تو پانی کو جو تم۔پیتے ہو کیا تم  نے اتارا  اس کو بادل سے یا ہم۔ہیں اتارنے والے۔اگر ہم چاہیں کردیں اس کو کھارا پھر کیوں نہیں احسان مانتے۔ بھلا دیکھو تو,آگ جس کو تم سلگاتے ہو کیا تم۔نے پیدا کیا اس کا درخت  یا ہم۔ہیں۔پدا کرنے والے۔ ہم نے ہی تو بنایا وہ درخت یاد دلانے کو اور برتنے کو جنگل والوں کے۔(الواقعہ : 63 -73)

3)۔ خطیبانہ سوال : قرآن میں خطیبانہ سوال بھی اس کے اسلوب کو دلچسپ اور بلیغ بناتے ہیں۔ خطینانہ سوال وہ جملے ہیں جن کا مقصد جواب یا معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ کسی حقیقت پر زور دینا یا مخاطب کی توجہ کسی خاص وقوعے کی طرف مبذول کرانا ہوتا ہے۔ذیل میں چند خطیبانہ سوال پیش کئے جاتے ہیں:

کیا وہ زمین کو نہیں دیکھتے کہ ہم نے اس میں کتنی ہر ایک قسم کی خاص چیزیں اگائیں۔ اس میں نشانی ہے اور ان۔میں بہت سے لوگ نہیں ماننے والے۔(الشعراء : 8)

کیا نہیں دیکھتے ہم نے بنایا رات کو کہ اس میں چین حاصل کریں اور دن بنایا دیکھنے کا۔ بیشک۔اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔(النحل : 86)

کیا تونے نہ دیکھا کہ جہاز چلتے ہیں سمندر میں اللہ کی نعمت لیکر تاکہ دکھلائے تم کو کچھ اپنی قدرتیں۔ البتہ اس میں نشانیاں ہیں یر ایک تحمل کرنے والے احسان ماننے والے کے واسطے۔(لقمن : 31)

4)۔۔صنعت تکرار : صنعت تکرار کا استعمال بھی قرآن میں زور خطابت اور حسن کلام میں اضافہ کے لئے کئی موقعوں پر کیا گیا ہے۔ صنعت تکرار اسلوب قرآنی کا ایک اہم اور پراثر جز ہے۔

قرآن میں صنعت تکرار کی سب سے نمایاں مثال سورہء الرحمٰن ہے۔ اس میں ایک آہت  "پھر تمماپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔" کو 31 بار لایا گیا ہے۔اس آیت کو سورہ۔میں ہر ایک یا دو آیتوں کے بعد لایا گیا ہے۔ اس آیت کی تکرار سے سورہء کی تاثیر اور معنویت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بہر حال ،سورہ الرحمٰن واحد,سورہ نہیں ہے جس میں تکرار کی صنعت یا صنعت تکریر استعمال کی گئی ہے۔۔قرآن میں ایسی اور بھی سورتیں ہیں جن میں صنعت تکریر کی مدد سے بات کو پراثر اور بلیغ بنایا گیا ہے۔ ایسی ہی ایک سورہ القمر ہے۔ اس سورہ میں یہ آیت چار بار لائی گئی ہے۔

"اور ہم نے آسان کریا قرآن کو سیکھنے والوں کے لئے۔ پھر ہے کوئی سوچنےبوالا۔"

سورہ المرسلٰت میں بھی تکرار سے کلام کے حسن اور معنویت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ آہت سورہ میں دس بار آئی ہے۔

"خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔"

سورہ الشعراء میں مندرجہ ذیل آہت آٹھ بار لائی گئی ہے۔

اور بیشک تیرا رب زبردست رحم۔والا ہے۔"

اس طرح کی آیتوں اور فقروں کی تکرار دوسری کئی سورتوں میں بھی آئی ہے جس سے کلام اللہ کی تاثیر ، بلاغت اور معنویت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ صنعت تکریر دوسری صنعتوں کی ہی طرح قرآن کے اسلوب کی ایک اہم خصوصیت  ہے۔ کہیں پر یہ تکرار خوش خبری کو ذہن نشیں کرانے کے لئے لائی جاتی ہے ، کہیں خدا کے عذاب سے گنہگاروں کو ڈرانے کے لئے  اور کہیں اور کہیں خدا کی عظمت اور صفت رحیمی پر ایمان لانے والوں کے ایمان کو استحکام بخشنے کے لئے۔

لہذا ، قرآن کے اسلوب کی ان چار نمایاں خصوصیات نے قرآن کی معنویت ، حسن ، تاثیر اور دلپذیری میں اضافہ کردیا ہے اور اسے پوری دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بنادیا ہے۔ پوری دنیا میں قرآن کے پیغام کے ساتھ ساتھ اس کی زبان واسلوبنے بھی ماہر لسانیات کی توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے اور ماہر لسانیات نے علم بیان کے اصول قرآن سے ہی اخذ کئے ہیں۔

--------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/constituent-features-quranic-style/d/136251

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..