ایس امین الاحسن
26 اگست 2022
قرآن شاعری نہیں ہے، مگر
شاعری سے زیادہ ہے۔ وہ تاریخ نہیں ہے اور نہ سوانح عمری ہے، مگر اس میں قوموں کے
عروج و زوال کا فلسفہ اور انسانی تاریخ سمجھنے کی وہ محکم بنیادیں ہیں جن کی روشنی
میں انسانی تاریخ کے کسی دور کا بھی جائزہ لینا ممکن ہے۔ وہ انجیل کے پہاڑی مواعظ
(Sermon on the Mount)کی طرح مجموعۂ امثال نہیں ہے، اس کے باوجود قرآن امثال کی زبان
میں انتہائی پیچیدہ اور دقیق پہلوؤں کو آسان فہم بنا دیتا ہے۔ وہ مابعد
الطبیعاتی مکالمہ نہیں ہے، مگر مابعد الطبیعاتی رازوں سے پردہ کشائی بھی کرتا ہے۔
وہ محض پند و نصائح بھی نہیں ہے جیسا کہ افلاطون کے یہاں عاقل اور نادان کی مجلسوں
میں پایا جاتا ہے۔مگر انسانوں کو وہ اپنے اعمال کے انجام سے آگاہ بھی کرتا ہے اور
دلوں کو مسخر بھی کرتا ہے۔ وہ ایک پیغمبر کی پکار ہے۔ قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہے
مگر اس میں سائنسی معلومات کی کمی بھی نہیں ہے۔ اسی طرح وہ تہذیب و تمدن کی کتاب
نہیں ہے، مگر اس میں تہذیب کی مبادیات بھی ملیں گی اور تمدن کے نشاناتِ راہ
بھی۔قرآن ایک سپاٹ کلام نہیں ہے۔ وہ اپنی بات کو قاری تک پہنچانے کے لیے مختلف
بدائع اور صنائع اختیار کرتا ہے جو تقریبا سو سے زیادہ ہیں۔ ان میں سے قصص بھی اس
کا ایک طریقہ ہے اور تمثیل بھی ایک صنعت ہے۔ قرآن میں بہت سے وہ قصے بیان کئے گئے
ہیں جو تاریخی ہیں۔ ان میں بعض وہ قصے بھی ہیں جن کی تاریخ کا سراغ لگانا مشکل ہے
اس لئے بعض دانشور انہیں تمثیل کے زمرے سے سمجھتے ہیں۔
انسان ہر زمانہ میں اپنی
حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اپنے اطراف میں پائی جانے والے قدرتی ذخائر کو
دریافت کرتا اور انہیں استعمال کرتا رہا، مگر تاریخ میں بعض اہم موڑ آئے ہیں، بعض
ایجادات ایسی ہوئی ہیں جنہیں ہم انقلاب آفریں خیال Path
Breaking Idea کہہ سکتے ہیں۔ ان میں سے چند کا ذکر قرآن میں
آیا ہے۔ یہ اس لئے کہ اسلام کی نظر میں علم کی جستجو میں لگنا عبادت ہے اور کسی
چیز کو دریافت کرنے کے بعد اس علم کو چھپانا خیانت ہے اور انسانیت کے مفاد عامہ کے
لئے کائنات کے ذخائر کو عام کرنا اس کی تعلیمات کا حصہ ہے۔
اب ہم قرآن سے چند
تمثیلات پیش کریں گے۔ قرآن مجید میں چار انبیاء کے سلسلے میں واضح طور پر یہ بات
معلوم ہوتی ہے کہ اپنے زمانے کی ترقی میں انہوں نے عظیم تر کردار ادا کیا ہے اور کچھ تمدنی سہولیات یا بہتر اور
خوش حال زندگی کے لئے ایجادات کیں۔ اس کے علاوہ اور دو شخصیات کا تذکرہ قرآن میں
ملتا ہے۔ اس طرح کل ملا کر وہ چھ شخصیات حسب ذیل ہیں:
حضرت نوح علیہ السلام
حضرت یوسف علیہ السلام
حضرت داؤد علیہ السلام
حضرت سلیمان علیہ السلام
ملکۂ سبا، اورذوالقرنین۔
ذیل میں پیش کی جانے والی
دو مثالوں سے اس بات کا بھی اندازہ ہو جائے گا کہ انبیائے کرامؑ جہاں روحانی پیشوا
تھے وہیں اپنے زمانے کی تمدنی ترقی میں بھی انہوں نے اپنا انوکھا رول ادا کیا جس
سے انہیں دین کو قائم کرنے میں مدد ملی۔
کشتی سازی
تقریباً ایک لاکھ سال کے
طویل عرصہ کومحیط انسانی تاریخ میں نامعلوم وقت سے انسان خشکی کی سواری کے لئے
جانوروں کا اور بحری سفر کے لئے کشتیوں کا استعمال کرتا رہا ہے۔ قدیم زمانے میں
انسانی آبادیاں عموماً آبی ذخائر کے آس پاس ہوا کرتی تھیں۔ نہر کے اِس پار سے
اُس پار جانے کے لئے اس نے ٹوٹ کر گرنے والے درختوں کے کھوکھلے تنوں کو کشتی کے
طور پر پہلے پہل استعمال کرنا شروع کیا۔ پھر رفتہ رفتہ اس نے مختلف مقاصد کے لئے
طرح طرح کی کشتیاں بنائیں۔ البتہ کشتی اپنی بھرپور اور ترقی یافتہ شکل میں پہلی
بار کس نے بنائی ہوگی؟ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوحؑ اس فن کے
موجد تھے۔ اس دعوے کے لئے ہمارے پاس انسانی معیار کے ٹھوس تاریخی شواہد موجود نہیں
ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہمیں ملتا ہے کہ آپؑ نے خدا کی نگرانی اور رہنمائی میں کشتی
بنائی۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ تمدن کی جتنی بھی ترقیات ہوئی ہیں کسی فرد کے
ذہن میں اس کا پہلا خاکہ بنا اور وہ خدا تعالیٰ ہی ہے جو سائنس دانوں کو اس کی
جانب الہام کرتا ہے۔
کشتی بنانے کے سلسلے میں
قرآن میں جو ذکر آیا ہے وہ اس طرح ہے:
”اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع
کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا،
یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں۔ نوح کشتی بنا رہے تھے اور ان کی قوم کے
سرداروں میں سے جو کوئی ان کے پاس سے گزرتا تھا وہ ان کا مذاق اڑاتا تھا۔ انہوں نے
کہا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں۔“
(ھود: ۳۷۔۳۸)
یہاں قرآن نے جو لفظ
استعمال کیا ہے وہ ’فلک‘ ہے۔ اس کی تشریح میں مفسرین نے بہت سی باتیں بیان کی ہیں۔
تورات کے حوالے بھی دیئے گئے ہیں جس میں حضرت نوحؑ کی کشتی بنانے کی ساری تفصیل
بیان کی گئی ہے۔ امام رازیؒ نے خوب فرمایا کہ اس قدر جان لینا کافی ہے کہ کشتی میں
اتنی گنجائش تھی کہ اس وقت کی مومن آبادی اور جانوروں کے جوڑے اس میں سما گئے
تھے۔
غرض حضرت نوحؑ نے ایک شان
دار اور وسیع کشتی بنائی تھی تاکہ اس وقت
کے مومنین اور جانوروں کے جوڑے اس پر سوار ہو سکیں۔ یہ کشتی یا جہاز کتنا بڑا تھا
اس سلسلے میں ہمارے پاس کوئی متعین معلومات نہیں ہیں۔ مؤرخین اور محققین کی طرف
سے کئی مرتبہ یہ آوازیں اٹھیں کہ نوح علیہ السلام کی کشتی پائی گئی۔
جدید تحقیقات
اسی طرح حضرت نوحؑ کے
زمانے کے سیلاب کے سلسلے میں بھی مختلف تاریخی شواہد ملتے ہیں۔ ابھی قریب میں اس
کا ثبوت کہ نوحؑ کے زمانے کے سیلاب کا جو ذکر بائبل میں ملتا ہے ڈاکٹر رابرٹ
بیلارڈ نے اے بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں تفصیل سے بتایا ہے۔ بیلارڈ زیر آب
آثار قدیمہ کے ایک مشہور ماہر ہیں۔ ثبوت کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے اپنی
تحقیقات اور اس کے نتائج کے بارے میں بات کی۔ ان کی ٹیم ترکی کے ساحل سے دور
بحیرۂ اسود کی گہرائیوں میں نوحؑ کے زمانے سے پانی کے اندر چھپی قدیم تہذیب کے
آثار کی تلاش میں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ ایک ہی سیلاب تھا جسے مختلف علاقوں
میں مختلف طریقوں سے یاد رکھا اور بیان کیا جاتا ہے۔ رابرٹ بیلارڈ، وہی ماہر ہیں
جن کا ایک ناممکن کو تلاش کرنے کا امتیاز (ٹریک ریکارڈ) مشہور ہے۔ ۱۹۸۵ء میں ریموٹ کنٹرول
کیمروں سے لیس روبوٹک آبدوز کا استعمال کرتے ہوئے بیلارڈ اور اس کے عملے نے دنیا
کے سب سے مشہور جہاز کا ملبہ دریافت کیا تھا جسے ٹائٹینک کہا جاتا ہے۔
مولانا مودودیؒ نے بھی
اپنی شہرہ آفاق تفسیر ’تفہیم القرآن‘
میں اس موضوع پر اظہار خیال کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ ایک ہی سیلاب تھا۔ لوگ
جب ایک آبادی سے نکل کر دُنیا میں پھیل گئے تو انہوں نے اسے یاد رکھا اور بیان
کیا۔ بعد والوں نے یہ سمجھ لیا کہ ان کے علاقے میں ایسا کوئی سیلاب کسی زمانے میں
آیا تھا۔ اس طوفان کی روایتیں قدیم زمانے سے مشہور ہیں حتیٰ کہ امریکہ، آسٹریلیا
اور نیوگنی جیسے دور دراز علاقوں کی پرانی روایات میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔
قدیم زمانے سے لے کر آج
تک کسی بھی تمدن کے فروغ میں کشتیوں نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے مگر حضرت نوحؑ سے
پہلے کشتیاں کیسی تھیں اسے جاننے کا کوئی ذریعہ ہمارے ماہرین آثار قدیمہ اور
مؤرخین کے پاس موجود نہیں ہے۔ مگر جو چیز حضرت نوحؑ نے بنائی وہ چونکہ خدا کی
نگرانی میں بنائی گئی تھی اس لئے کشتی بنانے کے تمام سائنسی علوم کا احاطہ اس میں
لازمی طور پر شامل رہا ہوگا۔حضرت نوحؑ نے جو کشتی بنائی اس کی نقل ماضی قریب میں
امریکہ کے ایک میوزیم میں بنائی گئی ہے۔ ۷؍جولائی
۲۰۱۶ء کو ’دی آرک انکاؤنٹر‘
شمالی کینٹکی، امریکہ میں عوام کے لئے کھولا گیا۔ اسے ایک قسم کے ’تاریخی پرکشش
تھیم‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ۸۰۰؍
ایکڑ پر مشتمل ببلیکل تھیم پارک کا مرکزی آئیٹم ’نوح کی کشتی‘ کا ایک لائف سائز
ماڈل ہے۔ یہ ۲۵؍
میٹراونچا اور ۱۶۰؍میٹر
طویل ہے۔ لمبائی میں یہ دنیا کا سب سے بڑا فری اسٹینڈنگ لکڑی کے فریم کا ڈھانچہ
ہے۔ یہ جہاز کنکریٹ کے ستونوں پر کھڑا ہے۔ اس کشتی کو بائبل میں بیان کردہ طول و
عرض کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے، جس میں قابل تجدید جنگلات سے لگ بھگ ۷۸۰۰؍
معکب میٹر لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے اور لیڈ (Leed) سے تصدیق شدہ
طریقوں پر عمل کیا گیا ہےجیسے جیوتھرمل ہیٹنگ اور بارش کے پانی کو روکنے وغیرہ
امور کے تجویز کردہ معیارات پر اس کشتی کی تعمیر کی گئی ہے۔ایک ہزار سے زیادہ
کاریگروں نے اس کشتی کی تعمیر میں حصہ لیا۔ لکڑی کے ڈھانچے کی تکنیکوں کو اپناتے
ہوئے، جہاں بھی ممکن ہوسکا، ان چیزوں کی نقل تیار کی گئی جو قدیم زمانے میں
استعمال ہوتی تھیں، جس میں لکڑی کو بھاپ کی مدد کے بجائے دستی طور پر موڑنا شامل
تھا۔ تاہم تمام مجوزہ تکنیکوں کے باوجود یہ کشتی عمارت کے معیارات پر پوری نہیں
اتری، جیسے کہ اصل منصوبہ میں اسٹیل کے بندھنوں کے بجائے لکڑی کے کھونٹوں کو
استعمال کیا جانا تھا۔اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت نوحؑ نے جو کشتی بنائی وہ
کتنی عظیم الشان رہی ہوگی۔ کشتی بنانے کے لئے کچھ علوم کا ہونا لازمی ہے اور ممکن
ہے کہ حضرت نوحؑ کو اپنے تجربے سے بھی وہ علم حاصل رہے ہوں اور خدا نے تو ان کی رہ
نمائی کی ہی تھی۔ وہ علوم یہ ہیں:
· کڑیوں کا علم جنہیں آسانی سےموڑا جا سکتا ہو اور وہ پانی میں رہ
کر خراب نہ ہوں۔
· جیومیٹری کا علم
· بحریات کا علم
· اچھال (buoyancy)کا علم
· اچھی عملی مہارت
· مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت
· ڈیڈ لائن کو پورا کرنے کی صلاحیت
· اچھے ٹیم ورک کی مہارت
· اور بہت سی خصوصی کرافٹ کی صلاحیتیں
یہ کشتی کیسے بنائی گئی
اس کا ایک لائحہ عمل کسی تختی میں لکھا ہوا پایا گیا۔ آثار قدیمہ اور کھدائی کی
ماہرین اس زبان سے واقفیت رکھتے ہیں جسے ’کیونیے فورم‘ (Cuneiform) زبان کہتے ہیں، جو ۳۲۰۰؍
قبل مسیح میں پائی جاتی تھی۔ بائبل کی تاریخ کے حساب سے کہا جاسکتا ہے کہ حضرت نوح
علیہ السلام کے بعد کے زمانے میں بھی یہ زبان پائی جاتی تھی۔
ہوسکتا ہے کہ حضرت نوحؑ
کی اس کشتی کے جودی پہاڑ پر پہنچنے کے بعد جو تمدن وجود میں آیا اس میں کسی نے اس
لائحہ عمل کو محفوظ کرلیا ہو۔ اسے The Ark Tablet کہا جاتا ہے۔
کچھ اور تختیوں کے حوالے
سے ۹۹؍
قسم کے جانور، چرند پرند اور ان کی بہت سی اقسام کی فہرست بھی ملتی ہے اور ان سب
کو کشتی میں کس طرح سے الگ الگ سطح پر کمپارٹمنٹ بنا کر رکھا گیا ہوگا، ان کے
تخیلاتی نقشے بھی ملتے ہیں۔ کشتی میں ان سب کے کھانے پینے کی ضروریات کا انتظام
بھی حیرت انگیز رہا ہوگا۔ کشتی جودی پہاڑ پر جا کر رکی۔ وہاں ایک نئی آبادی اور
ایک نیا تمدن وجود میں آیا۔
26 اگست 2022 ، بشکریہ: انقلاب،
نئی دہلی
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic
Website, African
Muslim News, Arab
World News, South
Asia News, Indian
Muslim News, World
Muslim News, Women
in Islam, Islamic
Feminism, Arab
Women, Women
In Arab, Islamophobia
in America, Muslim
Women in West, Islam
Women and Feminism