New Age Islam
Sat May 09 2026, 03:02 PM

Urdu Section ( 6 Dec 2016, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Deoband's Fatwa against Maulvi Saad for His Wrong Views غلط افکار و نظریات کا اظہار کرنے والے مولوی سعد کے خلاف دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ جاری

 

نئی دہلی 5 دسمبر، (نواب اختر) ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر روز نامہ ‘ صحافت’ کی غیر جانبداری اور حقانیت ثابت ہوگئی ہے۔ فخر کی بات یہ ہے کہ اس بار ‘صحافت’ کی حق بیانی پر عالم اسلام کی سر فہرست اسلامی درسگاہوں میں شامل دارالعلوم دیوبند جیسے عظیم ادارے نےمہرثبت کرتے ہوئے ‘ صحافت’ کی جرأت اور ہمت کوتقویت پہنچائی ہے۔ واضح رہےکہ مرکز تبلیغ حضرت نظام الدین نے ذمہ دار اور رکن شوریٰ مولوی محمد سعد  کے گمراہ کن بیان کو شائع کر کے ادارے نے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کے تحت گمراہ کن باتوں کے خلاف باقاعدہ ایک مہم شروع کی تھی جسے ابتدا میں ہی کامیابی حاصل ہوئی اور دارالعلوم دیوبند نے قوم و ملت کی رہبری اور رہنمائی کا حق ادا کرتے ہوئے مولوی سعد کے خلاف فتویٰ جاری کرکے انہیں گمراہ قرار دیا ہے۔ ذیل میں مولوی محمد سعد سے متعلق دارالعلوم دیوبند سے جاری بیان کو لفظ بہ لفظ شائع کیا جارہا ہے جس کی اصل کاپی ‘ صحافت’ کے پاس محفوظ ہے۔

اس وقت دنیا کے بہت سے علمائے حق او رمشائخ وغیرہ کی طرف سے یہ تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ جناب محمد سعد صاحب کا ندھلوی کے نظریات اور افکار کے سلسلےمیں ‘‘دارالعلوم دیوبند’’ اپناموقف واضح کرے، حال ہی میں بنگلہ دیش کے معتمد علماء اور پڑوسی ملک کےبھی بعض علماء کی طرف سے خطوط موصول ہوئے ہیں اور اندرون ملک سے بھی ‘‘ دارالافتاء ،دارالعلوم دیوبند’’ میں کئی استفتے آئے ہوئے ہیں ۔ ہم جماعت کےداخلی انتشار و اختلاف او ر نظم وانتظام سے قطع نظریہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ گزشتہ کئی سالوں سے استفتے اور خطوط کی شکل میں مولانامحمد سعد صاحب کاندھلوی سےمتعلق جونظریات وافکار دارالعلوم کوموصول ہورہےہیں ،تحقیق کےبعداب یہ بات پا یہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ ان کے بیانات میں قرآن و حدیث کی غلط یا مر جوع تشریحات ، غلط استدلالات اور تفسیر بالرائے پائی جارہی ہے ،بعض باتوں میں انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی شان اقدس میں بے ادبی ظاہر ہوتی ہے جب کہ بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ جن میں موصوف جمہور امت اور اجماع سلف کےدائرے سےباہر نکل رہےہیں، بعض فقہی مسائل میں بھی وہ معتبر دارالافتاؤں کے متفقہ فتوے کے بر خلاف بےبنیاد رائے قائم کرکے عوام کےسامنے شدت کےساتھ بیان کررہےہیں ،نیزتبلیغی جماعت کے کام کی اہمیت وہ اس طرز پر بیان کررہے ہیں کہ جس سے دین کےدیگر شعبوں میں سخت تنقید اور ان کا استحفاف پیدا ہورہا ہے ، ان کا یہ رویہ جماعت تبلیغ کےسابقہ ذمہ داران : حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا انعام الحسن صاحب کے یکسر خلاف کہے۔

مولانا سعد صاحب کےبیانات کے جو اقتباسات ہم تک موصول ہوئے ہیں جن کی نسبت ان کی طرف ثابت ہوچکی ہے ان میں سے چند یہ ہیں:

‘‘حضرت موسی علیہ السلام قوم اور جماعت کو چھوڑ کر حق تعالیٰ کی مناجات کے لئے خلوت و عزلت میں چلے گئے ، جس سے بنی اسرائیل کے پانچ لاکھ 88 ہزارافراد گمراہ ہوگئے، اصل تو موسیٰ علیہ السلام تھے، وہی ذمہ دار تھے اصل کو رہناچاہئے ،ہارون علیہ السلام تو معاون اور شریک تھے ’’۔

‘‘ نقل و حرکت توبہ کی تکمیل و تزکیہ کے لئے ہے، توبہ کی تین شرطیں تو لوگ جانتے ہیں ، چوتھی شرط نہیں جانتے، بھول گئے ، وہ کیا ہے، خروج، اس شرط کو لوگوں نے بھلا دیا ، 99 قتل کرنے والے کی پہلی ملاقات راہب سے ہوئی، راہبنے اس کو مایوس کردیا، پھر اس کی ملاقات ایک عالم سے ہوئی ، عالم نے کہا کہ تم فلاں بستی کی طرف خروج کرو ، اس قاتل نے خروج کیا، تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کرلی، اس سے معلوم ہوا کہ توبہ کے لئے خروج  شرط ہے،  اس کےبغیر توبہ قبول نہیں ہوتی، یہ شرط لوگ بھول گئے ،توبہ کی تین شرطیں بیان کرتے ہیں، چوتھی شرط یعنی خروج بھول گئے’’۔

‘‘ ہدایت ملنے کی جگہ کے علاوہ کوئی نہیں ،وہ دینی شعبے جہاں دین پڑھایا جاتا ہے ، اگر ان کابھی تعلق مسجد سے ہے، تو خدا کی قسم اس میں بھی دین نہیں ہوگا، ہاں دین کی تعلیم ہوگی ، دین نہیں ہوگا’’ ( اس اقتباس میں مسجد کے تعلق سے ان کا منشا مسجد میں جاکر نماز پڑھنا نہیں ہے اس لئے کہ یہ بات انہوں نے مسجد کی اہمیت  اور دین کی بات مسجد میں لاکر کرنے کے سلسلے میں اپنے مخصوص نظریہ  کو بیان کرتے وقت کہی  ہے، جس کی تفصیل آڈیو میں موجود ہے ان کا نظریہ یہ بن چکا ہے کہ دین کی بات مسجد سےباہر کرنا خلاف سنت ہے وانبیا ء اور صحابہ کے طریقہ کے خلاف ہے)

‘اجرت لے کر دین کی تعلیم دینا دین کوبیچنا ہے، زنا کا ر لوگ تعلیم پر اجرت لینے والوں سے پہلے جنت میں جائیں گے۔’’

‘‘ میرے نزدیک کیمرے والاموبائل جیب میں رکھ کر نماز نہیں ہوتی، تم علماء سے جتنے چاہو فتوے لے لو کیمرے والےموبائل سے قرآن کا سننا اور پرھنا قرآن کی توہین ہے، اس میں گناہ ملے گا ، کوئی ثواب نہیں ملے گا ،اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ قرآن پر عمل کرنے سے محروم کردیں گے، جو علماء اس سلسلے میں جواز کا فتویٰ دے رہے ہیں ، میرے نزدیک وہ علماء سوء میں ان کے دل و دماغ یہود و نصاریٰ سے متاثر ہیں، وہ بالکل علماء ہیں میرے نزدیک جو عالم اس کے جواز کا فتویٰ دے ، خدا کی قسم اس کا دل اللہ کے کلام کی عظمت سے خالی ہے، یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ مجھ سے ایک بڑے عالم نے کہا کہ اس میں کیا حرج ہے؟ میں نے کہا کہ اصل میں اس عالم کا دل اللہ کی عظمت سے خالی ہے، چاہے ا س کو بخاری یا د ہو۔ بخاری توغیر مسلم کوبھی یاد ہوسکتی ہے’’۔

‘‘ہر مسلمان پر قرآن کو سمجھ کر پڑھنا واجب ہے، واجب ہے ، واجب ہے، جو اس واجب کو ترک کرے گا، اس کو ترک واجب کا گناہ ملے گا۔’’

‘‘مجھے حیرت ہے کہ پوچھا جائے کہ تمہارا اصلاح تعلق کس سے ہے؟ کیوں نہیں کہتے کہ میرا اصلاح تعلق اس کام سے ہے ، میرا اصلاحی تعلق دعوت سے ہے ، اس بات پر یقین کرو کہ اعمال دعوت و تربیت  کے لئے کاری نہیں، بلکہ ضامن ہیں، میں نے خوب غور کرلیا ، کام کرنے  والوں کے پیر اکھڑنے کی اصل وجہ یہ ہے مجھے تو غم ہے کہ ان لوگوں کا جو یہاں بیٹھ کر یہ کہتے ہیں کہ چھ نمبر پورا دین نہیں ہے،  خود اپنی دہی کو کھٹی کہنے والا بھی تجارت نہیں کرسکتا ، مجھے سخت حیرت ہوئی کہ جب ہمارے ایک ساتھی نےآکر مجھ سے کہا کہ مجھے ایک مہینے کی چھٹی چاہئے مجھے شیخ کی خدمت میں اعتکاف کےلئے جانا ہے میں نے کہا کہ اب تم لوگوں نےدعوت و عبادت کو جمع نہیں کیاتمہیں کم از کم چالیس سال تبلیغ میں ہوگئے، چالیس سال تبلیغ میں چلنے کے بعد ایک آدمی یوں کہے کہ مجھے چھٹی چاہئے، کیونکہ میں ایک مہینے اعتکاف کے لئےجانا چاہتا ہوں، میں نے کہا جو آدمی دعوت سے چھٹی مانگ رہا  عبادت کےلئے، وہ دعوت کے بغیر عبادت میں ترقی کیسے کر سکتا ہے ؟ میں صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ اعمال ولایت میں جو فرق ہے، وہ فرق صرف نقل و حرکت کے  نہ ہونے کا ہے۔ میں صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ ہم صرف دین سیکھنے کی تشکیل پر نہیں نکال رہے ہیں، اس لئے کہ دین سیکھنے کے تو اور بھی راستے ہیں، بس تبلیغ  میں نکلنا ہی کیوں ضروری ہے ، دین ہی توسیکھنا ہے، مدرسہ سے سیکھ لو، خانقاہ سے سیکھ لو۔’’

ان کے بیانات کے بعض ایسے اقتباسات بھی موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مولانامحمد سعد  صاحب کے نزدیک دعوت کے وسیع مفہوم میں صرف تبلیغی جماعت کی موجودہ ترتیب ہی داخل ہے، صرف اسی کو وہ انبیاء اور صحابہ کے طریقہ جہد  سے تعبیر کرتےہیں اور اسی خاص ترتیب کو سنت اور بعینہ انبیاء کی محنت کا مصداق قرار دیتے ہیں ، حالانکہ جمہور کا متفقہ مسلک سے کہ دعوت وتبلیغ ایک امر کلی ہے جس کی شریعت میں کوئی ایسی خاص  ترتیب لازم نہیں کئی گئی جس کےچھوڑنے سےسنت کا ترک لازم آئے، مختلف زمانوں میں دعوت و تبلیغ کی شکلیں مختلف رہی ہیں،  کسی بھی دور میں دعوت کے فریضے سے بے اعتنائی نہیں برتی گئی۔ صحابہ کے بعد تابعین، تبع، تابعین ، ائمہ ، مجتہدین، فقہاء ، محدثین ، مشائخ ، اولیا ء اللہ اور قریبی عہد کے ہمارے اکابر نےعالمی سطح پر دین کو زندہ کرنے کےلئے مختلف طریقے اختیار کئے۔

ہم نے اختصار کی وجہ سے یہ چند باتیں عرض کی ہیں، ان کے علاوہ بھی بہت ایسی باتیں موصول ہوئی ہورہی ہیں ،جو جمہور علماء سے ہٹ کر ایک نئے مخصوص  نظریہ کی غماز ہیں، ان باتوں کا غلط ہونابالکل واضح ہے، اس لئےان پر تفصیلی کلام کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔

اس سے پہلے دارالعلوم دیوبند کی طرف سے کئی بار خطوط کےذریعہ دارالعلوم میں تبلیغی اجتماع کے موقع پر ‘‘بنگلے والی مسجد’’ کےوفدکےسامنے بھی اس پر توجہ دلائی گئی تھی، خطوط کا اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

جماعت تبلیغ ایک خالص دینی جماعت ہے،جو عملاً و مسلکاًجمہور امت اور اکابر رحمہم اللہ کے طریق سے ہٹ کر محفوظ نہیں رہ پائے گئی ، انبیاء کی شان میں بےادبی ، فکری انحرافات ، تفسیر بالرائے ، احادیث و آثار کی من مانی تشریحات سے علمائے حق کبھی متفق نہیں ہوسکتے اوراس پر سکوت اختیار نہیں کیا جاسکتا ، اس لئے کہ اسی قسم کے نظریات بعد میں پوری جماعت کو راہ حق سے منحرف کردیتے ہیں ، جیسا کہ پہلے بھی اصلاحی اور دینی جماعتوں کے ساتھ یہ حادثہ پیش آچکا ہے۔

اس لئے ہم ان معروضات کی روشنی میں امت مسلمہ بالخصوص عام تبلیغی احباب کواس بات سےآگاہ کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں کہ مولوی محمد سعد صاحب  کم علمی کی بنا پر اپنے افکار و نظریات اور قرآن و حدیث کی تشریحات میں جمہور اہل سنتہ اوالجماعتہ کےراستے سےہٹتےجارہے ہیں ،جو بلاشبہ گمراہی  کا راستہ  ہے، اس لئےان باتوں پر سکوت اختیار نہیں کیا جاسکتا ، اس لئے کہ یہ نظریات اگرچہ ایک فرد کےہیں لیکن یہ چیزیں اب عوام الناس میں تیزی سے پھیلتی  جارہی ہیں۔

جماعت کے  حلقے میں اثر و رسوخ رکھنے والے معتدل مزاج اور سنجیدہ اہم ذمہ داران کوبھی متوجہ کرناچاہتے ہیں کہ اکابر کی قائم کردہ اس جماعت کوجمہوریت اور سابقہ اکابر ذمہ داران کے مسلک ومشرب پر قائم رکھنے  کی سعی کریں اور مولوی محمد سعد صاحب کے جو غلط افکار و نظریات عوام الناس میں پھیل چکے ہیں ، ان کی اصلاح کی بھرپور کوشش کریں، اگر ان پر فوری قدغن نہ لگائی گئی تو خطرہ ہےکہ آگے چل کر جماعت تبلیغ سےوابستہ امت کا ایک بڑا طبقہ گمراہی کاشکار ہو کر فرقہ ضالہ کی شکل اختیار کرلے۔

ہم سب دعاگو کہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جماعت کی حفاظت فرمائے اور اکابر کے طریق کے اخلاص کےساتھ جماعت تبلیغ کو زندہ جاوید اور پھلتاپھولتا رکھے ، آمین ثم آمین

5 دسمبر، 2016  بشکریہ : روز نامہ صحافت، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/deoband-fatwa-maulvi-saad-his/d/109301

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..