New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 07:26 PM

Urdu Section ( 23 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Is it Islam? کیا یہی اسلام ہے؟

 

رومان ر ضوی

8 مئی ، 2013

دہشت کا ماحول ۔۔۔۔! وحشت کا سیاہ بادل ۔۔۔! ہر آن جان جانے کاخطرہ ۔۔۔! حد ہوگئی مسجد و عبادت میں خون خرابہ۔۔۔۔ ! ایک مسلمان دوسرےمسلمان  کے لہو کا پیاسہ ۔۔۔! سکون کی بستی اجڑ چکی ۔۔۔ ! اضطراب و بے چینی کا بسیرا ہے ۔۔۔۔ ! اسلام کا نام لے کر اپنی ۔ اپنی من مانی ۔۔۔! قتل و غارت گری کا بازار گرم ۔۔۔۔۔۔ ! خود کش حملے ۔۔۔۔۔۔! کیا یہی اسلام ہے؟

وہ اسلام جسے خدانے اپنامحبوب مذہب کہا اور قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ‘‘ میرے نزدیک سب سے پسندیدہ دین اسلام ہے’’ وہ اسلام جو امن و سلامتی کامذہب ہے، وہ اسلام جس کےنام سے ہی امن وامان کی خوشبو آتی ہے۔ وہ اسلام جس نے اخلاق و کردار کے ذریعہ دلوں پر حکمرانی کرنے  کا درس دیا،  وہ اسلام جس نے بھو کوں کو کھاناکھلانے، پیاسوں کو پانی پلانے ، بے گھر کو گھر دینے، بے لباس کو لباس دینے کا حکم دیا، وہ اسلام جسےحضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محنتوں سے پروان چڑھایا ۔ و ہ اسلام جس کا پیغام ہے کہ اگر کسی سے ملو تو پہلے سلام کرو۔ہم نے کبھی غور کیاکہ آخر اسلام نے ہمیں یہ حکم کیوں دیا؟ جب ہم اس حکم اسلام پر غور کریں گے کہ ہم اگر کسی سےملیں تو پہلے سلام کریں، اس کامقصد یہ ہے کہ سلام کر کے ہم اپنے سامنے والے سے عہد کرتے ہیں کہ آپ میری طرف سے امان میں ہیں چونکہ سلام کرنے والاپہلے کہتاہے کہ آپ میری طرف سے سے محفوظ ہیں تو اسلام یہاں پر کہتا ہے کہ چو نکہ سامنے والا نے تمہاری  سلامتی چاہی ہے لہٰذا تم پر واجب ہوگیا کہ تم بھی اس کی سلامتی چاہو۔ اسی لئے سلام کرنا مستحب  ہے اور جواب سلام واجب۔

جو اسلام اتنا سلامتی کا خواہاں  ہوکہ پہلی ملاقات میں تحفظ کی Gurantee  دلادے آج اسی  کے ماننے والوں کے درمیان اتنا شدید انتشار کیوں؟ آج عالم یہ ہے کہ اسی پیکر امن و امان اسلام کے ماننے والے نام نہاد مسلمان ساری دنیا میں اسلام کو بد نام کروارہےہیں جس  اسلام نے  بلاوجہ پانی بہانے کی  اجازت  کہا سےدے دے گا ۔کیسے دے گا۔ جس اسلام کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہلبیت علیھم السلام نے اپنے کردار کے ذریعے پھیلایا وہ آج تلوار کے ذریعہ کیونکر دلوں پر حکمرانی کی قدرت رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اسلام اپنی انفرادیت کے سبب اتنے سارے مذاہب کی بھیڑ میں ممتاز ہے اورلوگ اس کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ اسلام جبراً کسی کو مسلمان نہیں بناتا بلکہ اپنی خصوصیات اور کمالات کے ایسے پھول کھلاتا ہے جس کی خوشبو کی طرف خود لوگ کھینچے چلے آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کبھی یہ پسند نہیں کیا کہ کسی کو زبر دستی مسلمان بنایا جائے یا اسلام کے اصول پر عمل پیرا ہونے کے لئےمجبور کیا جائے۔بلکہ اللہ نے تو اختیار دے رکھا ہے اور سورۂ ہر میں فرماتا ہے ‘‘ کہ ہم نے تمہیں راستے کی ہدایت کردی اب چاہے نیک راستے پر چل کر شاکر بندوں میں  ہوجاؤ یا برے راستے پر چل کر کفر اختیار کرو۔’’

یا پھر دوسری جگہ سورۂ مائدہ کی 99 نمبر کی آیت میں فرماتا ہے ‘‘ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پیغام پہنچا دینے کے سواکچھ (فرض) نہیں  اور جو کچھ تم ظاہر بظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپا  کر کرتے ہو خدا سب جانتا ہے۔’’

معلوم ہوا  کہ کسی کو مجبور کرنا اسلام کاطریقہ نہیں ہے۔ آج پوری دنیا میں جو حالات چل رہے ہیں وہ ہم سب کے پیش نظر ہیں کہ کسی  طرح نام نہاد مسلمان اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور امریکہ اور اسرائیل کے اشارے پر کٹھ پتلی  کی طرح ناچ رہےہیں ۔ اور اپنے سیاہ عمل سے پوری امت  مسلمہ کو سرمشار کررہے ہیں۔ ایسے ہی  نام نہاد کچھ امریکہ اور اسرائیل کے زر خرید کارندوں نے گذشتہ دو روزقبل ایسا گناہ عظیم انجام دیا جس سے پوری دنیائے اسلامی دہل گئی اور انسانیت  شرمندہ  ہے۔

کسی بھی مسلک کا مسلمان ہو وہ کبھی گوارا نہیں کرتا کہ کسی قبر سے لاش نکالی جائے اس لئے کہ شریعت  اسلامیہ میں نبش قبر (یعنی قبر کھود کر میت باہر نکالنا  حرام ہے) اور ایک عظیم گنا ہ ہے۔ مگر ملک شام میں امریکہ  کے ڈالروں پربکے ہوئے زر خرید بے دین باغی جو اپنے کو مسلمان کہتےہیں۔ گذشتہ روز ان درندہ صنعت لوگوں نے ایسا بے ہودہ کام انجام دیا جو یقیناً خدائے قہار و جبار کو غضب ناک کرنے کےلئے کافی ہے۔ سیریا کے قبر ستان میں دفن جناب حجر بن عدی الکندی الکوفی  کے پا کیزہ جسد کو قبر سے نکال کر نا معلوم مقام پر فرار ہوگئے۔

کون حجر بن عدی الکندی الکوفی؟ قارئین کرام کی معلومات کے لئے آپ کےبارے میں چند سطور لکھنا اپنا فرض سمجھتا ہوں تاکہ ہر آدمی خود فیصلہ کرسکے کہ کیا یہی اسلام ہے؟

جناب حجر بن عدی الکندی الکوفی بزرگ، فاضل ،مستند اور مقرب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تھے ۔ کتاب کامل بہائی میں ہے کہ ان کا زہداور کثرتِ عبادت  عرب میں مشہور تھا ۔ کہتے ہیں رات دن میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے ۔ کتاب  مجالس  میں ہے کہ استیعاب نے کہا  ہے کہ حجر فضلا صحابہ  میں سے تھے ۔ اور مستجاب الدعوۃ تھے ۔ جنگ صفین میں امیر المومنین علیہ السلام  علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف سے لشکر کندہ کی کمان و امارت ان سےمتعلق  تھی اور نہرو ان کے دن امیر المومنین کے لشکر کے سپہ سالار تھے ۔ علامہ حلی فرماتے ہیں کہ حجر اصحاب جناب امیر اور ابدال میں سے تھے اور حسن بن داؤد نے ذکر کیا ہے کہ حجر عظیم صحابۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب امیر المومنین میں سے تھے ۔ حاکم شام کے ایک افسر نے انہیں حکم دیا تھا کہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام پر لعنت کرو تو ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے کہ ‘‘ وفد کا امیر مجھے حکم دیتاہے کہ علی پر لعنت کروں۔ خدا اس پر لعنت کرے۔ حجر نے اپنے کچھ ساتھیوں کےساتھ زیاد بن البیہ کی چغل خوری اور حاکم شام کے حکم سے 51 ھ میں شربت شہادت نوش فرمایا۔

بی بی عائشہ نے کہا میں نے رسول خدا سےسنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد امت کے کچھ لوگ مقام عذرا میں قتل  کیے جائیں گے کہ جن کی وجہ سے خدا اور اہل آسمان غضب ناک ہوں گے۔ یہ تھے جناب حجر بن عدی۔۔۔۔۔

افسوس کی بات ہے کہ اس مقدس صحابی کو مرنے کے بعد بھی چین سے نہ رہنے دیاگیا۔ آخر کیا نقصان تھا ان کی قبر سے ، اور کس اسلام نے یہ حکم دیاکہ قبر کھود کر لاش نکالی جائے وہ بھی ایسے مقدس صحابی رسول وعلی کی۔ مگر معجز ہ یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے دفن کی گئی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم و امیر المومنین  علیہ السلام جناب حجر بن عدی رحمۃ اللہ علیہ کی لاش جب  نکالی گئی  تودیکھنے  والوں نےکہا کہ لاش ایسی معلوم ہورہی ہے گویا آج ہی دفن کی گئی ہو۔

لمحۂ فکریہ  ہےمسلمانوں کےلئے کہ آخر چودہ سو سال کے بعدبھی  جناب حجر بن عدی رحمۃ اللہ علیہ کی لاش بالکل صحیح  و سالم کیوں؟ آخر انہوں نے ایسا کیا کار نامہ انجام دیا، وہ کسی کی راہ کےمسافر تھے، کسی کی محبت اور اطاعت میں زندگی گزاری ۔

وائے ہو ان مسلمانوں پر جو ذرّہ برابر بھی انسانیت سے قریب نہیں اور اسلام کے اصول اور تقدس کو پامال کررہے ہیں ، ان نام  نہاد مسلمانوں سے اب اللہ ہی سمجھے۔

8 مئی ، 2013  بشکریہ : روز نامہ صحافت ، ممبئی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/roman-rizwi--رومان-ر-ضوی/is-it-islam?-کیا-یہی-اسلام-ہے؟/d/11719

 

Loading..

Loading..