New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 08:46 PM

Urdu Section ( 21 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Sarhadi Gandhi Khan Abdul Ghaffar Khan سرحدی گاندھی خان عبدالغفار حان

 

ریاض احمد سید

20 نومبر، 2014

ماسٹرز کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں نکلا ، تو نیشنل کمیشن آن ہسٹار یکل اینڈ کلچرل ریسرچ میں بطور ریسرچ فیلو سلیکشن ہوگئی، جسے عرف عام میں ہسٹری کمیشن کہا جاتا تھا ۔ پاکستان کی تاریخ و ثقافت پر تحقیق و تدقیق کی غرض سے ذوالفقار علی بھٹو نے یہ ادارہ 1973 میں تشکیل دیا تھا ۔ عملے کے بیٹھنے  کیلئے قائد اعظم یونیورسٹی ، جسے اس زمانے میں اسلام آباد یونیورسٹی کہا جاتاتھا ، کے ایک بلاک میں انتظام ہوگیا ۔ ادارے کے سربراہی کے لئے معروف پاکستانی مورخ ڈاکٹر کے ۔ کےعزیز کو سوڈان کی خرطوم یونیورسٹی سے بطور خاص بلایا گیاتھا ۔ موصوف ان دنوں اپنی شہرہ آفاق تصنیف ( تاریخ کا قتل) مرتب کررہے تھے ۔ ایک روز راقم کو اپنے دفتر میں طلب کیا ، اور چند ٹائپ شدہ کاغذات حوالے کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پروف ریڈنگ کرنا ہے۔ تحریر  بے حد دلچسپ او رمعاملات افزاء تھی ۔ پڑھ کر واپس کردی ، تو چند دنو ں بعد مزید کچھ صفحات مل گئے ۔ اور یوں مجھے مرڈر آف ہسٹری کا کچھ حصہ کتاب چھپنے سے پہلے ہی پڑھنے کاموقع مل گیا ۔ مکمل کتاب بہت بعد میں پڑھی ۔ کتاب کامقصد یہ تھا کہ اسکولوں او رکالجوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ اور معاشرتی علوم کی نصابی  کتب میں ہم نے جو اپنی مرضی کے قصے کہانیاں شامل رکھی  ہیں، ان کی نشاندہی کی جائے ۔ ان کی میز پر درستی کتب کا ڈھیر لگاہوتا تھا ۔ او رموصوف نے نہایت عرق ریزی سے ان الف لیلوی  داستانوں کا پردہ چاک کیا ہے، جن کا تاریخ  سےکوئی تعلق نہیں  ۔ او رمحض کسی ذہن رسا کی تخلیق ہیں، جنہیں جذبات اور ‘‘ ضرورت’’ سے مغلوب ہوکر یا قومی و دینی خدمت سمجھ کر درسی کتب میں شامل کردیا گیا ہے۔ تخلیق  پاکستان اور اس کی نظریاتی بنیادوں  کی بات ہو، یا ہندوستان کے ساتھ معرکوں کا قصہ۔ مشرقی پاکستان کا المیہ ہو، یا پھر فوجی آمریت کی کہانی، عملی بد دیانتی والا ‘‘ نظریہ ضرورت’’ پورے کروفر کے ساتھ ہر جگہ دکھائی دیتا ہے ۔

پچھلے دنوں راقم کو آزادی  ہند کے اہم کردار عبدالغفار حان المعروف باچاخان کے بارے میں پڑھنے اور جاننے  کا اتفاق ہوا، تو یوں لگاکہ گویا باچا خان کی زندگی بھر کی جد وجہد بھی ہمارے لکھاریوں کے اسی نظریہ ضرورت کی بھینٹ چڑھی ہے۔ اپنی سماجی زندگیوں کے ساتھ ساتھ بد قسمتی سے ہم نے عملی دنیا  میں بھی ٹیبوTaboos  تخلیق کررکھے ہیں ، کہ ان پر سرے سے بات ہی نہیں  کرنا۔ او رکچھ نوگو ایریا زبنا لئے ہیں کہ ان کے اندر داخلہ منع ہے۔ ایسے  میں تو حقائق نہیں کھلتے ۔ یوں دروازے بند کرلینے سے تو کچھ بھی منکشف نہیں ہوتا ۔ مان لیا کہ باچا خان  تخلیق پاکستان کے حق میں نہیں تھے ۔ ایسے تو او ربھی بہت سے لوگ تھے ۔ جن کی خطائیں  معاف ہوچکیں او رجنہیں ہم نے سر آنکھوں پر بٹھا رکھا ہے ۔ جب کہ بعض مسلسل کٹہرے میں ہیں ، اور لکھنے والے ان کے ساتھ انصاف کرتے دکھائی نہیں دیتے ۔ باچا خان کے خاندان کی داستان حریت بہت قدیم ہے۔ ان کے پر دادا عبیداللہ خان نے افغانستان کے درانیوں کی راہ روکی تھی اور پھانسی کی سزا پائی تھی ۔ دادا سیف اللہ خان کو انگریزوں نے رام کرنے کی بہت کوشش ، مگر وہ قابو میں نہیں آئے ۔ والد بہرام خان اور پروگریسو انسان تھے ۔ ایک طرف تعلیم کی سہولت نا پید اور دوسری طرف ایسے فتوے تھے کہ انگریزی تعلیم  حرام اور حاصل کرنے والے جہنمی ہیں ۔ مگر بہرام خان نے ہمت نہ ہاری اور اپنے دونوں بیٹوں کو پڑھا یا ۔ بڑے عبدالجبار خان المعروف ڈاکٹر خان  صاحب نے تو برطانیہ سے میڈیسن میں ڈگری اور چھوٹے عبدالغفار خان علی گڑھ تک گئے ۔

 ایک بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ باچا خان نے جد وجہد کا آغاز کیا تو ا سکا ایک ہی مقصد تھا ، کہ کسی طور پختون   خطہ میں تبدیلی آجائے ۔  اور یہ جانتے ہوئے کہ تبدیلی صرف تعلیم سے آسکتی ہے ، موصوف نے اسے باقاعدہ تحریک  کی شکل دینا چاہی ۔ سیٹلڈ اضلاع میں انگریز نے اجازت نہ دی، تو اپنے ایک دوست فضل محمود مخفی کے ہمراہ ریاست دیر میں  اسکول کھولا ۔ جو اس تیزی سے مقبول ہوا کہ نواب صاحب گھبر ا گئے اور پولیٹیکل ایجنٹ کی مدد سے نہ صرف اسکول بند کروایا، اس کی عمارت بھی گرادی ، اور باچا خان کو ساتھیوں سمیت علاقہ  بدرکر  دیا ۔ مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور کچھ ہی عرصہ بعد ہشت نگر او رگرد و نواح میں اسلامیہ مدرسہ کے نام سے کئی اسکول کھولے ۔ جن کا الحاق جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی کے ساتھ کرادیا گیا ۔ ان کے اور ڈاکٹر خان صاحب کے بچے بھی اسی مدرسہ میں پڑھتے رہے۔  اس کے علاوہ  جاہلانہ رسوم و رواج ، خاندانی  دشمنیوں ، خون خرابے او رمنشیات کے خلاف بھی تحریک چلائی ۔ انگریز کے خلاف باچا خان کی سیاسی جد وجہد کا سبب ‘‘فرنٹیئر کرائمزریگولیشن ایکٹ’’ بنا۔ جس کے تحت پولیس جسے چاہتی  چودہ برس کے لئے جیل بھجوا سکتی تھی ۔ باچا خان اور ان کے پیروکاروں نے اس کالے قانون کو کھلے بندوں چیلنج کیا اور بڑی تعداد نے قید و بند کی صعوبتیں  برداشت کیں ۔ دلوں کے بھید اللہ  جانتا ہے۔ مگر بات کہنے کا حق سبھی کو ہے اور سب کی سننا بھی چاہئے ۔ باچہ خان اپنی خود نوشت سوانح میں لکھتے ہیں کہ ‘‘فرنگی کے مظالم کےخلاف سب سےپہلا رابطہ ہم نے مسلم لیگ سے ہی کیا تھا ۔ وہاں شنوائی نہ ہوئی تو ہم  مجبوراً کانگریس کے پاس گئے۔ جس سے ہماری کوئی جان پہچان نہ تھی۔ بس ڈوبتے کو تنکے کاسہارا والی بات تھی ۔ ہم نے مدد مانگی ، تو جواب ملا کہ اس کے لئے  ہمارے ساتھ ہندوستان کی جنگ میں شریک ہونا ہوگا۔ مرتا کیا نہ کرتا ۔ معاملہ  جرگہ  میں گیا او رہم کانگریس میں شریک ہوگئے .... آزادی ہم بھی چاہتے تھے ۔ مگر تقسیم کے خلاف تھے۔ ہم کانگریس کے اتحادی تھے ، مگر ہندوستان کی تقسیم قبول کر کے اس نے بھی ہمارے ساتھ زیادتی کی ۔’’ آگے چل کر لکھتے ہیں ۔ ‘‘ زندگی کے پندرہ برس انگریز کی جیل میں گزارے اور تقریباً اتناہی عرصہ آزادی کے بعد بھی پابند سلاسل رہا ۔

 انگریز حکومت اگر ظلم کرتی تھی، تو وہ ہماری دشمن تھی۔ ہمارا اس کے ساتھ جھگڑا تھا ۔ مگر پاکستان کے اسلامی حکومت کو نہیں  سمجھ سکا کہ مجھے اور دیگر ہزاروں خدائی خدمت  گاروں کو جس جرم کی پاداش میں قید و بند میں ڈالا’’۔ گلہ کے انداز میں مزید لکھتے ہیں ۔‘‘بٹوارہ ہوچکا تو میں نے کہا کہ اب جب کہ پاکستان بن چکا  او رکانگریس او رمسلم لیگ نے تقسیم مان لی، تو ہم غیر مشروط طور پر ملک و ملت کی خدمت کرناچاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کے شہری  اور وفادار ہیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرناچاہتےہیں ۔ مگر حکومت پاکستان نے کوئی نوٹس نہ لیا، الٹامجھ پر الزام لگا دیا کہ میں تعمیر کی آڑ میں تخریب چاہتاہوں ۔’’گاندھی جی کی طرح غفار خان بھی عدم تشدد کے پرچارک تھے ۔ کہ کسی بھی قیمت پر برافروختہ نہیں ہونا، ہتھیار نہیں اٹھانا ۔ بہر صورت برداشت کرنا ہے، خواہ دوسرا تمہاری عزت نفس ہی مجروح  کیوں نہ کر رہا ہو۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ غفار خان کی یہ سوچ گاندھی جی سے مستعار ہے۔ مگر یہ درست نہیں ۔ اور اس کی وضاحت غفار خان  کے سوانح نگا رجے ۔ ایس۔ برائیٹ نے بھی کی ہے ۔ لکھتےہیں : ‘‘ عدم تشدد کا نظریہ غفار خان نے گاندھی  سے نہیں لیا۔  بلکہ گاندھی نے ان سے لیا ہے۔ فی الحقیقت وہ حق کی تلاش میں تھے اور قرآنی تعلیمات نے ان کی رہنمائی کی ۔ میرے خیال میں گاندھی اور نہرو کی نسبت غفار خان  روحانیت کے بلند مقام پر فائز ہے۔ یوں کہئے کہ خان جنت میں پہنچ چکا ہے۔ جب کہ نہرو زمین پر ڈٹا ہوا ہے اور گاندھی ہوا میں  معلق ہے۔ خان شیلے کی طرح جنت سے زمین پر آیا ہے۔ جبکہ گاندھی کیٹس کی طرح زمین سے آسمان کی طرف جارہا ہے۔ چنانچہ غفار خان کو سرحدی گاندھی  کہنا مناسب نہیں، البتہ  گاندھی کو انڈین خان  کہا جاسکتا ہے ۔ مغالطہ اس لئے لگا کہ گاندھی پہلے سے میدان میں تھے ۔ اور بے حدجاں پسند بھی، کچھ کچھ روحانیت بھی تھی ۔ یوں پبلسٹی زیادہ مل گئی ’’۔ آخر میں موصوف کے حوالے سے ایک دلچسپ کمنٹ  ، جو کسی غیر ملکی جریدہ میں چھپا تھا کہ اگر پختون خطہ میں سماجی تبدیلی اور تعلیم کے فروغ کا باچا خان کامشن کامیاب ہوجاتا، تو خطہ کے حالات آج یکسر مختلف ہوتے ۔ کم از کم شدت پسندی تو ہر گز نہ ہوتی ۔

20 نومبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ جدید خبر، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/reyaz-ahmed-syed/sarhadi-gandhi-khan-abdul-ghaffar-khan--سرحدی-گاندھی-خان-عبدالغفار-حان/d/100128

 

Loading..

Loading..